بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَنَسِ بنِ مَالِك رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2170
صفحہ 89 از 109
حدیث نمبر: 13702 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حُمَيْدٌ ، الْحَسَنِ ، أَنَسٍ ، حُمَيْدٌ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، عَنِ الْحَسَنِ ، وَعَنْ أَنَسٍ ، فِيمَا يَحْسَبُ حُمَيْدٌ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" خَرَجَ وَهُوَ مُتَوَكِّئٌ عَلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، وَهُوَ مُتَوَشِّحٌ بِثَوْبِ قُطْنٍ قَدْ خَالَفَ بَيْنَ طَرَفَيْهِ، فَصَلَّى بِالنَّاسِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کا سہارا لئے باہر تشریف لائے، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے جسم اطہر پر روئی کا کپڑا تھا، جس کے دونوں کنارے مخالف سمت سے کندھے پر ڈال رکھے تھے اور پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13702]
حکم دارالسلام
إسناده حدیث أنس صحیح، وأما حدیث الحسن البصري فمرسل
الحكم: إسناده حدیث أنس صحیح، وأما حدیث الحسن البصري فمرسل
حدیث نمبر: 13703 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَفَّانٌ ، سُلَيْمَانٌ ، ابْنِ عَوْنٍ ، عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاوَرَ حَيْثُ بَلَغَهُ إِقْبَالُ أَبِي سُفْيَانَ، قَالَ: فَتَكَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ تَكَلَّمَ عُمَرُ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، فَقَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ: إِيَّانَا يُرِيدُ رَسُولُ اللَّهِ؟ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَوْ أَمَرْتَنَا أَنْ نُخِيضَهَا الْبِحَارَ، لَأَخَضْنَاهَا، وَلَوْ أَمَرْتَنَا أَنْ نَضْرِبَ أَكْبَادَهَا إِلَى بِرْكِ الْغِمَادِ، لَفَعَلْنَا، قَالَ عَفَّانٌ : قَالَ سُلَيْمَانٌ : عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ : الْغُمَادِ، فَنَدَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ، فَانْطَلَقُوا حَتَّى نَزَلُوا بَدْرًا، وَوَرَدَتْ عَلَيْهِمْ رَوَايَا قُرَيْشٍ، وَفِيهِمْ غُلَامٌ أَسْوَدُ لِبَنِي الْحَجَّاجِ، فَأَخَذُوهُ، فَكَانَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُونَهُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ وَأَصْحَابِهِ، فَيَقُولُ: مَا لِي عِلْمٌ بِأَبِي سُفْيَانَ؟ وَلَكِنْ هَذَا أَبُو جَهْلِ بْنُ هِشَامٍ وَعُتْبَةُ بْنُ رَبِيعَةَ وَشَيْبَةُ وَأُمَيَّةُ بْنُ خَلَفٍ، فَإِذَا قَالَ ذَاكَ، ضَرَبُوهُ، فَإِذَا ضَرَبُوهُ، قَالَ: نَعَمْ، أَنَا أُخْبِرُكُمْ، هَذَا أَبُو سُفْيَانَ، فَإِذَا تَرَكُوهُ، فَسَأَلُوهُ، قَالَ: مَا لِي بِأَبِي سُفْيَانَ عِلْمٌ، وَلَكِنْ هَذَا أَبُو جَهْلٍ وَعُتْبَةُ وَشَيْبَةُ وَأُمَيَّةُ فِي النَّاسِ، قَالَ: فَإِذَا قَالَ هَذَا أَيْضًا، ضَرَبُوهُ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ يُصَلِّي، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ، انْصَرَفَ، فَقَالَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنَّكُمْ لَتَضْرِبُونَهُ إِذَا صَدَقَكُمْ، وَتَتْرُكُونَهُ إِذَا كَذَبَكُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب بدر کی طرف روانہ ہوگئے تو لوگوں سے مشورہ کیا، اس کے جواب میں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے ایک مشورہ دیا، پھر دوبارہ مشورہ مانگا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک مشورہ دیا، یہ دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خاموش ہوگئے، انصار نے کہا کہ یا رسول اللہ! شاید آپ کی مراد ہم ہیں؟ حضرت مقداد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اگر آپ ہمیں حکم دیں تو سمندروں میں گھس پڑیں اور اگر آپ حکم دیں تو ہم برک الغماد تک اونٹوں کے جگر مارتے ہوئے چلے جائیں، لہٰذا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم معاملہ آپ کے ہاتھ میں ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہ کو تیار کر کے روانہ ہوگئے اور بدر میں پڑاؤ کیا، قریش کے کچھ جاسوس آئے تو ان میں بنو حجاج کا ایک سیاہ فام غلام بھی تھا، صحابہ رضی اللہ عنہ نے اسے گرفتار کرلیا اور اس سے ابوسفیان اور اس کے ساتھیوں کے متعلق پوچھا، وہ کہنے لگا کہ ابوسفیان کا تو مجھے علم نہیں ہے البتہ قریش، ابوجہل اور امیہ بن خلف آگئے ہیں، وہ لوگ جب اسے مارتے تو وہ ابوسفیان کے بارے بتانے لگتا اور جب چھوڑتے تو وہ کہتا کہ مجھے ابوسفیان کا کیا پتہ؟ البتہ قریش آگئے ہیں، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے۔ نماز سے فارغ ہو کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ جب تم سے سچ بیان کرتا ہے تو تم اسے مارتے ہو اور جب یہ جھوٹ بولتا ہے تو تم اسے چھوڑ دیتے ہو، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ان شاء اللہ کل فلاں شخص یہاں گرے گا اور فلاں شخص یہاں، چنانچہ آمنا سامنا ہونے پر مشرکین کو اللہ نے شکست سے دو چار کردیا اور واللہ ایک آدمی بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بتائی ہوئی جگہ سے نہیں ہلا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13703]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1779
الحكم: إسناده صحيح، م: 1779
حدیث نمبر: 13704 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" تَسَحَّرُوا، فَإِنَّ فِي السُّحُورِ بَرَكَةً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا سحری کھایا کرو کیونکہ سحری میں برکت ہوتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13704]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1923، م: 1095
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1923، م: 1095
حدیث نمبر: 13705 مسند احمد
عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ دَعَا بِهَا فَاسْتُجِيبَ لَهُ، وَإِنِّي اسْتَخْبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ ہر نبی کی ایک دعاء ایسی ضرور تھی جو انہوں نے مانگی اور قبول ہوگئی، جب کہ میں نے اپنی دعاء اپنی امت کی سفارش کرنے کی خاطر قیامت کے دن کے لئے محفوظ کر رکھی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13705]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 200
الحكم: إسناده صحيح، م: 200
حدیث نمبر: 13706 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَتَادَةُ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَمُرُّ بِالتَّمْرَةِ، فَمَا يَمْنَعُهُ مِنْ أَخْذِهَا إِلَّا مَخَافَةُ أَنْ تَكُونَ مِنْ صَدَقَةٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو راستے میں کھجور پڑی ہوئی ملتی اور انہیں یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ یہ صدقہ کی ہوگی تو وہ اسے کھالیتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13706]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13707 مسند احمد
عَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُخْتَارِ ، مُوسَى بْنَ أَنَسٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُخْتَارِ أَخْبَرَنَي، قَالَ: سَمِعْتُ مُوسَى بْنَ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَمَّهُ وَامْرَأَةً مِنْهُمْ، فَجَعَلَ أَنَسًا عَنْ يَمِينِهِ، وَالْمَرْأَةَ خَلْفَ ذَلِكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں اور ان کی ایک عورت کو نماز پڑھائی، انس رضی اللہ عنہ کو دائیں جانب اور ان کی خاتون کو ان کے پیچھے کھڑا کردیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13707]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 660
الحكم: إسناده صحيح، م: 660
حدیث نمبر: 13708 مسند احمد
عَفَّانُ ، عَبْدُ الْوَاحِدِ ، عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، النَّضْرُ بْنُ أَنَسٍ ، أَنَسٌ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي النَّضْرُ بْنُ أَنَسٍ ، وَأَنَسٌ يومئذ حي، قَالَ أَنَسٌ : لَوْلَا أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يَتَمَنَّيَنَّ أَحَدُكُمْ الْمَوْتَ"، لَتَمَنَّيْتُهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے نضر کہتے ہیں کہ اگر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ نہ فرمایا ہوتا کہ تم میں سے کوئی شخص موت کی تمنا نہ کرے تو میں موت کی تمنا ضرور کرتا، اس وقت حضرت انس رضی اللہ عنہ بھی حیات تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13708]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7233، م: 2680
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7233، م: 2680
حدیث نمبر: 13709 مسند احمد
عَفَّانُ ، عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، حَفْصَةُ بِنْتُ سِيرِينَ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي حَفْصَةُ بِنْتُ سِيرِينَ ، قَالَتْ: قَالَ لِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : بِمَا مَاتَ يَحْيَى بْنُ أَبِي عَمْرَةَ؟ فَقُلْتُ: بِالطَّاعُونِ، فَقَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الطَّاعُونُ شَهَادَةٌ لِكُلِّ مُسْلِمٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حفصہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ ابن ابی عمرہ کیسے فوت ہوئے؟ انہوں نے بتایا کہ طاعون کی بیماری سے، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا طاعون ہر مسلمان کے لئے شہادت ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13709]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2830، م: 1916
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2830، م: 1916
حدیث نمبر: 13710 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبَانُ الْعَطَّارُ ، قَتَادَةُ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ الْعَطَّارُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَرْفَعُونَ أَبْصَارَهُمْ إِلَى السَّمَاءِ فِي صَلَاتِهِمْ، فَاشْتَدَّ قَوْلُهُ فِي ذَلِكَ، حَتَّى قَالَ: لَيَنْتَهُنَّ عَنْ ذَلِكَ، أَوْ لَتُخْطَفَنَّ أَبْصَارُهُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ دورانِ نماز آسمان کی طرف نگاہیں اٹھا کر دیکھتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے شدت سے اس کی ممانعت کرتے ہوئے فرمایا کہ لوگ اس سے باز آجائیں، ورنہ ان کی بصارت اچک لی جائے گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13710]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 750
الحكم: إسناده صحيح، خ: 750
حدیث نمبر: 13711 مسند احمد
عَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، هِشَامُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَنَسٍ ، أَنَسًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي هِشَامُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَنَسٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا ، قَالَ:" جَاءَتْ امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهَا ابْنٌ لَهَا، فَقَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنَّكُمْ لَأَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک انصاری عورت اپنے بچے کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، تم لوگ مجھے تمام لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب ہو، یہ جملہ تین مرتبہ فرمایا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13711]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5234، م: 2509
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5234، م: 2509
حدیث نمبر: 13712 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَبُو رَبِيعَةَ ، أَنَسٍ
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو رَبِيعَةَ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا ابْتَلَى اللَّهُ الْعَبْدَ الْمُسْلِمَ بِبَلَاءٍ فِي جَسَدِهِ، قَالَ لِلْمَلَكِ: اكْتُبْ لَهُ صَالِحَ عَمَلِهِ الَّذِي كَانَ يَعْمَلُ، فَإِنْ شَفَاهُ، غَسَلَهُ وَطَهَّرَهُ، وَإِنْ قَبَضَهُ، غَفَرَ لَهُ وَرَحِمَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جب کسی بندہ مسلم کو جسمانی طور پر کسی بیماری میں مبتلاء کرتا ہے تو فرشتوں سے کہہ دیتا ہے کہ یہ جتنے نیک کام کرتا ہے ان کا ثواب برابر لکھتے رہو، پھر اگر اسے شفاء مل جائے تو اللہ اسے دھو کر پاک صاف کرچکا ہوتا ہے اور اگر اسے اپنے پاس واپس بلالے تو اس کی مغفرت کردیتا ہے اور اس پر رحم فرماتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13712]
حکم دارالسلام
صحيح لغیرہ، وھذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغیرہ، وھذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 13713 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبَانُ ، قَتَادَةُ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَذْبَحُ أُضْحِيَّتَهُ بِيَدِ نَفْسِهِ، وَيُكَبِّرُ عَلَيْهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی قربانی کا جانور اپنے ہاتھ سے ذبح کرتے تھے اور اس پر تکبیر پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13713]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5558، م: 1966
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5558، م: 1966
حدیث نمبر: 13714 مسند احمد
عَفَّانُ ، وَبَهْزٌ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، وَبَهْزٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ" يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ، يَضَعُ رِجْلَهُ عَلَى صَفْحَتَيْهِمَا، وَيَذْبَحُهُمَا بِيَدِهِ، وَيُسَمِّي، وَيُكَبِّرُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دو چتکبرے سینگ دار مینڈھے قربانی میں پیش کرتے تھے اور اللہ کا نام لے کر تکبیر کہتے تھے، میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم انہیں اپنے ہاتھ سے ذبح کرتے تھے اور ان کے پہلو پر اپنا پاؤں رکھتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13714]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5564، م: 1966
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5564، م: 1966
حدیث نمبر: 13715 مسند احمد
خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، خَالِدٌ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَسْمَرَ، وَلَمْ أَشُمَّ مِسْكَةً وَلَا عَنْبَرَةً أَطْيَبَ رِيحًا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا رنگ گندمی تھا اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مہک سے عمدہ کوئی مہک نہیں سونگھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13715]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1973، م: 2330
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1973، م: 2330
حدیث نمبر: 13716 مسند احمد
عَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ ، أَنَسًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَتَوَضَّأُ بِالْمَكُّوكِ، وَكَانَ يَغْتَسِلُ بِخَمْسِ مَكَاكِيَّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پانچ مکوک پانی سے غسل اور ایک مکوک پانی سے وضو فرما لیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13716]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 201، م: 325
الحكم: إسناده صحيح، خ: 201، م: 325
حدیث نمبر: 13717 مسند احمد
عَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، أَبِي مُعَاذٍ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونٍ ، أَنَسًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي مُعَاذٍ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا خَرَجَ لِحَاجَتِهِ، نَجِيءُ أَنَا وَغُلَامٌ مِنَّا بِإِدَاوَةٍ مِنْ مَاءٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی جب قضاء حاجت کے لئے جاتے تو میں اور ایک لڑکا پانی کا برتن پیش کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13717]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 217، م: 271
الحكم: إسناده صحيح، خ: 217، م: 271
حدیث نمبر: 13718 مسند احمد
سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، فُلَيْحٌ ، هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَا يَوْمًا، ثُمَّ رَقِيَ الْمِنْبَرَ، فَأَشَارَ بِيَدِهِ قِبَلَ قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ، ثُمَّ قَالَ:" قَدْ رَأَيْتُ أَيُّهَا النَّاسُ مُنْذُ صَلَّيْتُ لَكُمْ الصَّلَاةَ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ مُمَثَّلَتَيْنِ فِي قِبَلِ هَذَا الْجِدَارِ، فَلَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ"، يَقُولُهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی اور منبر پر بیٹھ کر قبلہ کی جانب اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے فرمایا لوگو! میں نے آج تمہیں جو نماز پڑھائی ہے اس میں جنت اور جہنم کو اپنے سامنے دیکھا کہ وہ اس دیوار میں میرے سامنے پیش کی گئی ہیں، میں نے آج جیسا بہترین اور سخت ترین دن نہیں دیکھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13718]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح، وھذا إسناد حسن، خ: 749، م: 2359
الحكم: حدیث صحیح، وھذا إسناد حسن، خ: 749، م: 2359
حدیث نمبر: 13719 مسند احمد
سُرَيْجٌ ، فُلَيْحٌ ، هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي بَعْضُ مَنْ لَا أَتَّهِمُهُ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْه وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِلَالٌ يَمْشِيَانِ بِالْبَقِيعِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا بِلَالُ، هَلْ تَسْمَعُ مَا أَسْمَعُ؟ قَالَ: لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا أَسْمَعُهُ، قَالَ:" أَلَا تَسْمَعُ أَهْلَ هَذِهِ الْقُبُورِ يُعَذَّبُونَ؟ يَعْنِي قُبُورَ الْجَاهِلِيَّةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعض ایسے صحابہ رضی اللہ عنہ نے " جنہیں میں متہم نہیں سمجھتا " بتایا کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ جنت البقیع میں جا رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بلال! جیسے میں سن رہا ہوں کیا تم بھی کوئی آواز سن رہے ہو؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! بخدا! میں تو کوئی آواز نہیں سن رہا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا تم نہیں سن رہے کہ اہل جاہلیت کو ان کی قبروں میں عذاب دیا جا رہا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13719]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح، وھذا إسناد حسن
الحكم: حدیث صحیح، وھذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 13720 مسند احمد
سُرَيْجٌ ، فُلَيْحٌ ، مُحَمَّدِ بْنِ مُسَاحِقٍ ، عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسَاحِقٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ :" مَا رَأَيْتُ إِمَامًا أَشْبَهَ صَلَاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِمَامِكُمْ هَذَا، قَالَ: وَكَانَ عُمَرُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ لَا يُطِيلُ الْقِرَاءَةَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ عنہ،، حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ کے متعلق " جب کہ وہ مدینہ منورہ میں تھے " فرماتے تھے کہ میں نے تمہارے اس امام سے زیادہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ مشابہت رکھنے والی نماز پڑھتے ہوئے کسی کو نہیں دیکھا، حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ طویل قرأت نہ کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13720]
حکم دارالسلام
حدیث حسن، وھذا إسناد ضعیف لجهالة محمد بن مساحق
الحكم: حدیث حسن، وھذا إسناد ضعیف لجهالة محمد بن مساحق
حدیث نمبر: 13721 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، شَرِيكٌ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، شَرِيكٌ ، عَاصِمٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، قَالَ: رَأَيْتُ عِنْدَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ " قَدَحًا كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ ضَبَّةُ فِضَّةٍ". حَدَّثَنَاه يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَاصِمٍ ، فَذَكَرَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حمید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کے پاس نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ایک پیالہ دیکھا جس میں چاندی کا حلقہ لگا ہوا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13721]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح، خ: 3109، وھذا إسناد ضعیف لضعف شريك النخعي، لكنه متابع
الحكم: حدیث صحیح، خ: 3109، وھذا إسناد ضعیف لضعف شريك النخعي، لكنه متابع