بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَنَسِ بنِ مَالِك رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2170
صفحہ 3 از 109
حدیث نمبر: 11981 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ ، قَتَادَةُ ، أَنَسًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، قَالَ: سَأَلَ قَتَادَةُ أَنَسًا : أَيُّ دَعْوَةٍ كَانَ أَكْثَرَ يَدْعُو بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، قَالَ: كَانَ أَكْثَرُ دَعْوَةٍ يَدْعُو بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللَّهُمَّ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً، وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً، وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ"، وَكَانَ أَنَسٌ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَدْعُوَ بِدَعْوَةٍ، دَعَا بِهَا، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَدْعُوَ بِدُعَاءٍ، دَعَا بِهَا فِيهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کثرت کے ساتھ کون سی دعا مانگتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اکثر یہ دعاء مانگا کرتے تھے اے اللہ! اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطاء فرما اور آخرت میں بھی بھلائی عطاء فرما اور ہمیں عذاب جہنم سے محفوظ فرما، خود خضرت انس رضی اللہ عنہ بھی یہی دعا مانگا کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11981]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 11982 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، وَقَالَ مَرَّةً: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ:" كَانَ مُعَاذٌ يَؤُمُّ قَوْمَهُ، فَدَخَلَ حَرَامٌ وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يَسْقِيَ نَخْلَهُ، فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ لِيُصَلِّيَ مَعَ الْقَوْمِ، فَلَمَّا رَأَى مُعَاذًا طَوَّلَ، تَجَوَّزَ فِي صَلَاتِهِ، وَلَحِقَ بِنَخْلِهِ يَسْقِيهِ، فَلَمَّا قَضَى مُعَاذٌ صَلَاتَهُ، قِيلَ لَهُ إِنَّ حَرَامًا دَخَلَ الْمَسْجِدَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ اپنی قوم کی امامت فرماتے تھے، ایک مرتبہ وہ نماز پڑھا رہے تھے حضرت حرام رضی اللہ عنہ جو اپنے باغ کو پانی لگانے جارہے تھے "" نماز پڑھنے کے لئے مسجد میں داخل ہوئے، جب انہوں نے دیکھا کہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ تو نماز لمبی کر رہے ہیں تو وہ اپنی نماز مختصر کر کے اپنے باغ کو پانی لگانے کے لئے چلے گئے، ادھر حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے نماز مکمل کی تو انہیں کسی نے بتایا کہ حضرت حرام رضی اللہ عنہ مسجد میں آئے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11982]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 142 ، م: 375
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 142 ، م: 375
حدیث نمبر: 11983 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ الْخَلَاءَ، قَالَ:" أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الْخُبْثِ وَالْخَبَائِثِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب بیت الخلاء میں داخل ہوتے تو یہ دعاء پڑھتے کہ اے اللہ! میں خبیث جنات مردوں اور عورتوں سے آپ کی پناء میں آتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11983]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 5553
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 5553
حدیث نمبر: 11984 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ"، قَالَ أَنَسٌ: وَأَنَا أُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دو مینڈھے قربانی میں پیش کیا کرتے تھے اور میں بھی یہی کرتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11984]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 5832 ، م: 2073
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 5832 ، م: 2073
حدیث نمبر: 11985 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ لَبِسَ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا، فَلَنْ يَلْبَسَهُ فِي الْآخِرَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص دنیا میں ریشم پہنتا ہے، وہ آخرت میں اسے ہرگز نہیں پہن سکے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11985]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 1150 ، م: 784
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 1150 ، م: 784
حدیث نمبر: 11986 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ، قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ، وَحَبْلٌ مَمْدُودٌ بَيْنَ سَارِيَتَيْنِ، فَقَالَ:" مَا هَذَا؟"، قَالُوا: لِزَيْنَبَ تُصَلِّي، فَإِذَا كَسِلَتْ أَوْ فَتَرَتْ أَمْسَكَتْ بِهِ، فَقَالَ:" حُلُّوهُ"، ثُمَّ قَالَ:" لِيُصَلِّ أَحَدُكُمْ نَشَاطَهُ , فَإِذَا كَسِلَ أَوْ فَتَرَ فَلْيَقْعُدْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک مرتبہ مسجد میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ دو ستونوں کے درمیان ایک رسی لٹک رہی ہے، پوچھا یہ کیسی رسی ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ زینب کی رسی ہے، نماز پڑھتے ہوئے جب انہیں سستی یا تھکاوٹ محسوس ہوتی ہے تو وہ اس کے ساتھ اپنے آپ کو باندھ لیتی ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اسے کھول دو، پھر فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھے تو نشاط کی کیفیت برقرار رہنے تک پڑھے اور جب سستی یا تھکاوٹ محسوس ہو تو رک جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11986]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 642 ، م: 376
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 642 ، م: 376
حدیث نمبر: 11987 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَجِيٌّ لِرَجُلٍ فِي الْمَسْجِدِ، فَمَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ حَتَّى نَامَ الْقَوْمُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نماز کا وقت ہوگیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک آدمی کے ساتھ مسجد میں تنہائی میں گفتگو فرما رہے تھے، جس وقت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز کے لئے اٹھے تو لوگ سو چکے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11987]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 2768 ، م: 2309
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 2768 ، م: 2309
حدیث نمبر: 11988 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَدِينَةِ، أَخَذَ أَبُو طَلْحَةَ بِيَدِي، فَانْطَلَقَ بِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَنَسًا غُلَامٌ كَيِّسٌ، فَلْيَخْدُمْكَ، قَالَ: فَخَدَمْتُهُ فِي السَّفَرِ، وَالْحَضَرِ، وَاللَّهِ مَا قَالَ لِي لِشَيْءٍ صَنَعْتُهُ لِمَ صَنَعْتَ هَذَا هَكَذَا؟ وَلَا لِشَيْءٍ لَمْ أَصْنَعْهُ لِمَ لَمْ تَصْنَعْ هَذَا هَكَذَا؟".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پآس لے گئے اور عرض کیا یا رسول اللہ انس سمجھدار لڑکا ہے، یہ آپ کی خدمت کیا کرے گا، چنانچہ میں نے سفر وخضر میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت کا شرف حاصل کیا ہے، میں نے اگر کوئی کام کیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے کبھی یہ نہیں فرمایا کہ تم نے یہ کام اس طرح کیوں کیا؟ اور اگر کوئی کام نہیں کیا تو کبھی یہ نہیں فرمایا کہ یہ کام تم نے کیوں نہیں کیا؟۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11988]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 5874 ، م: 2092
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 5874 ، م: 2092
حدیث نمبر: 11989 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: اصْطَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا، فَقَالَ:" إِنَّا قَدْ اصْطَنَعْنَا خَاتَمًا وَنَقَشْنَا فِيهِ نَقْشًا، فَلَا يَنْقُشُ أَحَدٌ عَلَيْهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے لئے ایک انگوٹھی بنوائی اور فرمایا کہ ہم نے ایک انگوٹھی بنوائی ہے اور اس پر ایک عبارت (محمد رسول اللہ) نقش کروائی ہے، لہٰذا کوئی شخص اپنی انگوٹھی پر یہ عبارت نقش نہ کروائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11989]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 706 ، م: 469
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 706 ، م: 469
حدیث نمبر: 11990 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُوجِزُ الصَّلَاةَ وَيُكْمِلُهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز کو مکمل اور مختصر کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11990]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 399
الحكم: إسناده صحيح، م: 399
حدیث نمبر: 11991 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَعُثْمَانَ كَانُوا يَفْتَتِحُونَ الْقِرَاءَةَ بِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سورة الفاتحة آية 2".
حدیث نمبر: 11992 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" غَزَا خَيْبَرَ، فَصَلَّيْنَا عِنْدَهَا صَلَاةَ الْغَدَاةِ بِغَلَسٍ"، فَرَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَكِبَ أَبُو طَلْحَةَ , وَأَنَا رَدِيفُ أَبِي طَلْحَةَ، فَأَجْرَى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي زُقَاقِ خَيْبَرَ، وَإِنَّ رُكْبَتَيَّ لَتَمَسُّ فَخِذَيْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَانْحَسَرَ الْإِزَارُ عَنْ فَخِذَيْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنِّي لَأَرَى بَيَاضَ فَخِذَيْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَلَمَّا دَخَلَ الْقَرْيَةَ، قَالَ:" اللَّهُ أَكْبَرُ , خَرِبَتْ خَيْبَرُ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ"، قَالَهَا ثَلَاثَ مِرَارٍ، قَالَ: وَقَدْ خَرَجَ الْقَوْمُ إِلَى أَعْمَالِهِمْ، فَقَالُوا: مُحَمَّدٌ!، قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ: وَقَالَ بَعْضُ أَصْحَابِنَا والْخَميسُ، قَالَ: فَأَصَبْنَاهَا عَنْوَةً , فَجُمِعَ السَّبْيُ , قَالَ: فَجَاءَ دِحْيَةُ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَعْطِنِي جَارِيَةً مِنَ السَّبْيِ، قَالَ:" اذْهَبْ فَخُذْ جَارِيَةً"، قَالَ: فَأَخَذَ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ، فَجَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَعْطَيْتَ دِحْيَةَ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ، سَيِّدَةَ قُرَيْظَةَ، وَالنَّضِيرِ؟! وَاللَّهِ مَا تَصْلُحُ إِلَّا لَكَ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ادْعُوهُ بِهَا"، فَجَاءَ بِهَا، فَلَمَّا نَظَرَ إِلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" خُذْ جَارِيَةً مِنَ السَّبْيِ غَيْرَهَا"، ثُمَّ إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْتَقَهَا، وَتَزَوَّجَهَا، فَقَالَ لَهُ ثَابِتٌ: يَا أَبَا حَمْزَةَ، مَا أَصْدَقَهَا؟، قَالَ: نَفْسَهَا أَعْتَقَهَا وَتَزَوَّجَهَا حَتَّى إِذَا كَانَ بِالطَّرِيقِ جَهَّزَتْهَا أُمُّ سُلَيْمٍ، فَأَهْدَتْهَا لَهُ مِنَ اللَّيْلِ، وَأَصْبَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرُوسًا، فَقَالَ:" مَنْ كَانَ عِنْدَهُ شَيْءٌ، فَلْيَجِئْ بِهِ"، وَبَسَطَ نِطَعًا، فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِالْأَقِطِ، وَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِالتَّمْرِ، وَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِالسَّمْنِ، قَالَ: وَأَحْسِبُهُ قَدْ ذَكَرَ السَّوِيقَ، قَالَ: فَحَاسُوا حَيْسًا، فَكَانَتْ وَلِيمَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم غزوہ خیبر کے لئے تشریف لے گئے، ہم نے خیبر میں فجر کی نماز منہ اندھیرے پڑھی، نماز کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی سواری پر سوار ہوئے اور حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ اپنی سواری پر، میں حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے بیٹھ گیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خیبر کی گلیوں میں چکر لگانے لگے، بعض اوقات میرا گھٹنا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ران مبارک سے چھو جاتا تھا اور بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ران مبارک سے ذرا سا تہبند کھسک جاتا تو مجھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے جسم کی سفیدی نظر آجاتی۔ الغرض! جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم شہر میں داخل ہوئے تو اللہ اکبر کہہ کر فرمایا خیبر برباد ہوگیا، جب ہم کسی قوم کے صحن میں اترتے ہیں تو ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح بڑی بدترین ہوتی ہے، یہ جملے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تین مرتبہ دہرائے، لوگ اس وقت کام پر نکلے ہوئے تھے، وہ کہنے لگے کہ محمد اور لشکر آگئے، پھر ہم نے خیبر کو بزور شمشیر فتح کرلیا اور قیدی اکٹھے کئے جانے لگے، اسی اثناء میں حضرت دحیہ رضی اللہ عنہ آئے اور کہنے لگے کہ اے اللہ کے نبی! مجھے قیدیوں میں سے کوئی باندی عطاء فرما دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جا کر ایک باندی لے لو، چنانچہ انہوں نے حضرت صفیہ بنت حیی کو لے لیا۔ یہ دیکھ کر ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! آپ نے بنو قریظہ اور بنو نضیر کی سردار صفیہ کو دحیہ کے حوالے کردیا، بخدا! وہ تو صرف آپ کے ہی لائق ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ دحیہ کو صفیہ کے ساتھ بلاؤ، چنانچہ وہ انہیں لے کر آگئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ پر ایک نظر ڈالی اور حضرت دحیہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ آپ قیدیوں میں سے کوئی اور باندی لے لو، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں آزاد کر کے ان سے نکاح کرلیا۔ راوی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اے ابوحمزہ! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں کتنا مہر دیا تھا؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کی آزادی ہی کو ان کا مہر قرار دے کر ان سے نکاح کیا تھا، حتیٰ کہ راستے میں حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ کو دلہن بنا کر تیار کیا اور رات کو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے پیش کیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وہ صبح دولہا ہونے کی حالت میں ہوئی، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس کے پاس جو کچھ ہے وہ ہمارے پاس لے آئے اور ایک دستر خوان بچھا دیا، چنانچہ کوئی پنیر لایا، کوئی کھجور لایا اور کوئی گھی لایا، لوگوں نے اس کا حلوہ بنالیا، یہی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ولیمہ تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11992]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا اسناد منقطع، فان الاعمش لم يسمع من انس، وانما رآه رؤية
الحكم: حديث صحيح، وهذا اسناد منقطع، فان الاعمش لم يسمع من انس، وانما رآه رؤية
حدیث نمبر: 11993 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، الْأَعْمَشُ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ , أَخْبَرَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" كَانَتْ دِرْعُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرْهُونَةً، مَا وَجَدَ مَا يَفْتَكُّهَا حَتَّى مَاتَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زرہ گروی کے طور پر رکھی ہوئی تھی، اتنے پیسے بھی نہ تھے کہ اسے چھڑوا سکتے حتیٰ کہ اسی حال میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دنیا سے رخصت ہوگئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11993]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 400
الحكم: إسناده صحيح، م: 400
حدیث نمبر: 11994 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، الْمُخْتَارُ بْنُ فُلْفُلٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا الْمُخْتَارُ بْنُ فُلْفُلٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْكَوْثَرُ نَهَرٌ فِي الْجَنَّةِ وَعَدَنِيهِ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا " کوثر " جنت کی ایک نہر ہے جس کا مجھ سے میرے رب نے وعدہ کیا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11994]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 7296 ، م: 136
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 7296 ، م: 136
حدیث نمبر: 11995 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَالَ لِي:" إِنَّ أُمَّتَكَ لَا يَزَالُونَ يَتَسَاءَلُونَ فِيمَا بَيْنَهُمْ، حَتَّى يَقُولُوا هَذَا اللَّهُ خَلَقَ النَّاسَ، فَمَنْ خَلَقَ اللَّهَ؟".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا ہے آپ کی امت کے لوگ آپس میں ایک دوسرے سے سوال کریں گے حتیٰ کہ یہاں تک کہنے لگیں گے کہ یہ تو اللہ نے لوگوں کو پیدا کیا ہے، پھر اللہ کو کس نے پیدا کیا ہے؟ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11995]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 400
الحكم: إسناده صحيح، م: 400
حدیث نمبر: 11996 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: أَغْفَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِغْفَاءَةً، فَرَفَعَ رَأْسَهُ مُتَبَسِّمًا، إِمَّا قَالَ لَهُمْ، وَإِمَّا قَالُوا لَهُ: لِمَ ضَحِكْتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهُ أُنْزِلَتْ عَلَيَّ آنِفًا سُورَةٌ، فَقَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ سورة الكوثر آية 1 حَتَّى خَتَمَهَا، قَالَ: هَلْ تَدْرُونَ مَا الْكَوْثَرُ؟، قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: هُوَ نَهْرٌ أَعْطَانِيهِ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فِي الْجَنَّةِ، عَلَيْهِ خَيْرٌ كَثِيرٌ تَرِدُ عَلَيْهِ أُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ، آنِيَتُهُ عَدَدُ الْكَوَاكِبِ، يُخْتَلَجُ الْعَبْدُ مِنْهُمْ، فَأَقُولُ: يَا رَبِّ، إِنَّهُ مِنْ أُمَّتِي!، فَيُقَالُ لِي: إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ".
حدیث نمبر: 11997 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، الْمُخْتَارُ بْنُ فُلْفُلٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا الْمُخْتَارُ بْنُ فُلْفُلٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ، وَقَدْ انْصَرَفَ مِنَ الصَّلَاةِ، فَأَقْبَلَ إِلَيْنَا، فَقَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي إِمَامُكُمْ فَلَا تَسْبِقُونِي بِالرُّكُوعِ، وَلَا بِالسُّجُودِ، وَلَا بِالْقِيَامِ، وَلَا بِالْقُعُودِ، وَلَا بِالِانْصِرَافِ، فَإِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ أَمَامِي وَمِنْ خَلْفِي، وَايْمُ الَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَوْ رَأَيْتُمْ مَا رَأَيْتُ، لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , وَمَا رَأَيْتَ؟، قَالَ:" رَأَيْتُ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز سے فارغ ہو کر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا لوگو! میں تمہارا امام ہوں، لہٰذا رکوع، سجدہ، قیام، قعود اور اختتام میں مجھ سے آگے نہ بڑھا کرو، کیونکہ میں تمہیں اپنے آگے سے بھی دیکھتا ہوں اور پیچھے سے بھی اور اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، جو میں دیکھ چکا ہوں اگر تم نے وہ دیکھا ہوتا تو تم بہت تھوڑے ہنستے اور کثرت سے رویا کرتے، صحابہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! آپ نے کیا دیکھا ہے؟ فرمایا میں نے اپنی آنکھوں سے جنت اور جہنم کو دیکھا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11997]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا اسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا اسناد حسن
حدیث نمبر: 11998 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، يُونُسُ بْنُ عَمْرٍو يَعْنِي يونس ابْنَ أَبِي إِسْحَاقَ ، بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَمْرٍو يَعْنِي يونس ابْنَ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلَاةً وَاحِدَةً، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ عَشْرَ صَلَوَاتٍ، وَحَطَّ عَنْهُ عَشْرَ خَطِيئَاتٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود پڑھے گا، اللہ اس پر دس رحمتیں نازل فرمائے گا اور اس کے دس گناہ معاف فرمائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11998]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 622، وهذا اسناد فيه عنعنة محمد بن اسحاق، لكنه قد توبع
الحكم: إسناده صحيح، م: 622، وهذا اسناد فيه عنعنة محمد بن اسحاق، لكنه قد توبع
حدیث نمبر: 11999 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ , عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَا، وَرَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ حِينَ صَلَّيْنَا الظُّهْرَ، فَدَعَا الْجَارِيَةَ بِوَضُوءٍ، فَقُلْنَا لَهُ: أَيُّ صَلَاةٍ تُصَلِّي؟، قَالَ: الْعَصْرَ، قَالَ: قُلْنَا: إِنَّمَا صَلَّيْنَا الظُّهْرَ الْآنَ!، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" تِلْكَ صَلَاةُ الْمُنَافِقِ، يَتْرُكُ الصَّلَاةَ حَتَّى إِذَا كَانَتْ فِي قَرْنَيْ الشَّيْطَانِ، أَوْ بَيْنَ قَرْنَيْ الشَّيْطَانِ صَلَّى لَا يَذْكُرُ اللَّهَ فِيهَا إِلَّا قَلِيلًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
علاء ابن عبدالرحمن رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ میں ایک انصاری آدمی کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھ کر حضرت انس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا کچھ ہی دیر بعد انہوں نے باندی سے وضو کا پانی منگوایا، ہم نے ان سے پوچھا کہ اس وقت کون سی نماز پڑھ رہے ہیں؟ انہوں نے فرمایا نماز عصر، ہم نے کہا کہ ہم تو ابھی ظہر پڑھ کر آئے ہیں (عصر کی نماز اتنی جلدی؟) انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے وہ منافق کی نماز ہے کہ منافق نماز کو چھوڑے رکھتا ہے، حتیٰ کہ جب سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان آجاتا ہے تو وہ نماز پڑھنے کھڑا ہوتا ہے اور اس میں اللہ کو بہت تھوڑا یاد کرتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11999]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 6281 ، م: 2331
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 6281 ، م: 2331
حدیث نمبر: 12000 مسند احمد
عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ ، أَيُّوبَ ، أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَدْخُلُ عَلَى أُمِّ سُلَيْمٍ فَتَبْسُطُ لَهُ نِطْعًا، فَيَقِيلُ عَلَيْهِ، فَتَأْخُذُ مِنْ عَرَقِهِ فَتَجْعَلُهُ فِي طِيبِهَا، وَتَبْسُطُ لَهُ الْخُمْرَةَ، فَيُصَلِّي عَلَيْهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ کے یہاں تشریف لے جایا کرتے تھے، وہ ان کے لئے چٹائی بچھاتیں اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس پر قیلولہ فرماتے، وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا پسینہ لے کر اپنی خوشبو میں شامل کرلیتیں اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے جائے نماز بچھا دیتیں، جس پر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12000]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 6281 ، م: 2331
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 6281 ، م: 2331