بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَنَسِ بنِ مَالِك رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2170
صفحہ 36 از 109
حدیث نمبر: 12641 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ: فُرِضَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَوَاتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ خَمْسِينَ، ثُمَّ نُقِصَتْ حَتَّى جُعِلَتْ خَمْسًا، ثُمَّ نُودِيَ" يَا مُحَمَّدُ، إِنَّهُ لَا يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَيَّ، وَإِنَّ لَكَ بِهَذِهِ الْخَمْسِ خَمْسِينَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ شب معراج میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر پچاس نمازیں فرض ہوئی تھیں، کم ہوتے ہوتے پانچ رہ گئیں اور پھر نداء لگائی گئی کہ اے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! ہمارے یہاں بات بدلتی نہیں، آپ کا ان پانچ پر پچاس ہی کا ثواب ملے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12641]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 349، م: 163
الحكم: إسناده صحيح، خ: 349، م: 163
حدیث نمبر: 12642 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حدثنا مَعْمَرٌ ، عَنِ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كَانَتْ الصَّلَاةُ تُقَامُ، فَيُكَلِّمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّجُلَ فِي حَاجَةٍ تَكُونُ لَهُ، فَيَقُومُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ، فَمَا يَزَالُ قَائِمًا يُكَلِّمُهُ، فَرُبَّمَا رَأَيْتُ بَعْضَ الْقَوْمِ لَيَنْعَسُ مِنْ طُولِ قِيَامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نماز کا وقت ہوجاتا تو ایک آدمی آکر اپنی کسی ضرورت کے حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ باتیں کرنے لگتا اور ان کے اور قبلہ کے درمیان کھڑا ہوجاتا اور وہ مسلسل باتیں کرتا رہتا یہاں تک کہ اس کی خاطر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زیادہ دیر کھڑے رہنے کی صورت میں بعض لوگ سو بھی جاتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12642]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر: 12633
الحكم: إسناده صحيح، وانظر: 12633
حدیث نمبر: 12643 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: حدثني أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" صَلَّى الظُّهْرَ حِينَ زَالَتْ الشَّمْسُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ظہر کی نماز زوال شمس کے وقت پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12643]
حکم دارالسلام
انظر: 12659
الحكم: انظر: 12659
حدیث نمبر: 12644 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حدثنا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ، فَيَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى الْعَوَالِي وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ"، قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَالْعَوَالِي: عَلَى مِيلَيْنِ مِنَ الْمَدِينَةِ وَثَلَاثَةٍ، أَحْسَبُهُ قَالَ: وَأَرْبَعَةٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عصر کی نماز اس وقت پڑھتے تھے کہ نماز کے بعد کوئی جانے والا عوالی جانا چاہتا تو سورج بلند ہوتا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12644]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6295، م: 2359
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6295، م: 2359
حدیث نمبر: 12645 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا قُرِّبَ الْعَشَاءُ وَنُودِيَ بِالصَّلَاةِ، فَابْدَءُوا بِالْعَشَاءِ ثُمَّ صَلُّوا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب رات کا کھانا سامنے آجائے اور نماز کھڑی ہوجائے تو پہلے کھانا کھالو پھر نماز پڑھو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12645]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7329، م: 621
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7329، م: 621
حدیث نمبر: 12646 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَعَاهَدُوا هَذِهِ الصُّفُوفَ، فَإِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ خَلْفِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا صفوں کی درستگی کا خیال رکھا کرو، کیونکہ میں تمہیں اپنے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12646]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 672، م: 557
الحكم: إسناده صحيح، خ: 672، م: 557
حدیث نمبر: 12647 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اصْطَنَعَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ، فَنَقَشَ فِيهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ، ثُمَّ قَالَ:" لَا تَنْقُشُوا عَلَيْهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے لئے ایک انگوٹھی بنوائی اور اس پر محمد رسول اللہ نقش کروایا اور فرمایا کوئی شخص اپنی انگوٹھی پر یہ عبارت نقش نہ کر وائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12647]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 725، م: 434
الحكم: إسناده صحيح، خ: 725، م: 434
حدیث نمبر: 12648 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ كَانَ اسْمُهُ زَاهِرًا، وكَانَ يُهْدِي رسول الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْهَدِيَّةَ مِنَ الْبَادِيَةِ، فَيُجَهِّزُهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ زَاهِرًا بَادِيَتُنَا، وَنَحْنُ حَاضِرُوهُ" وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّهُ، وَكَانَ رَجُلًا دَمِيمًا، فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا وَهُوَ يَبِيعُ مَتَاعَهُ، فَاحْتَضَنَهُ مِنْ خَلْفِهِ، وَهُوَ لَا يُبْصِرُهُ الرجلُ، فَقَالَ الرَّجُلُ أَرْسِلْنِي، مَنْ هَذَا؟ فَالْتَفَتَ، فَعَرَفَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ لَا يَأْلُو مَا أَلْصَقَ ظَهْرَهُ بِصَدْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ عَرَفَهُ، وَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ يَشْتَرِي الْعَبْدَ؟" فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِذًا وَاللَّهِ تَجِدُنِي كَاسِدًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَكِنْ عِنْدَ اللَّهِ لَسْتَ بِكَاسِدٍ" أَوْ قَالَ" لَكِنْ عِنْدَ اللَّهِ أَنْتَ غَالٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی "" جس کا نام زاہر تھا "" دیہات سے آتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے کوئی نہ کوئی ہدیہ لے کر آتا تھا اور جب واپس جانے لگتا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسے بہت کچھ دے کر رخصت فرماتے تھے اور ارشاد فرماتے تھے کہ زاہر ہمارا دیہات ہے اور ہم اس کا شہر ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس سے محبت فرماتے تھے گو وہ رنگت کے اعتبار سے قابل صورت نہ تھا۔ ایک دن زاہر اپنے سامان کے پاس کھڑے اسے بیچ رہے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پیچھے سے آئے اور انہیں لپٹ کر ان کی آنکھوں پر ہاتھ رکھ دیئے، وہ کہنے لگے کہ کون ہے، مجھے چھوڑ دو، انہوں نے ذرا غور کیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پہچان گئے اور اپنی پشت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سینے کے اور قریب کرنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آواز لگانے لگے کہ اس غلام کو کون خریدے گا؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! آپ مجھے کھوٹا سکہ پائیں گے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا لیکن تم اللہ کے نزدیک کھوٹا سکہ نہیں ہو، بلکہ تمہاری بڑی قیمت ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12648]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وبنحوه فى البخاري: 3106، 5878
الحكم: إسناده صحيح، وبنحوه فى البخاري: 3106، 5878
حدیث نمبر: 12649 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ:" لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، لَعِبَتْ الْحَبَشَةُ لِقُدُومِهِ بِحِرَابِهِمْ، فَرَحًا بِذَلِكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مدینہ منورہ تشریف آوری کی خوشی میں حبشیوں نے نیزے کے کرتب دکھائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12649]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12650 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْأَنْصَارَ عَيْبَتِي الَّتِي أَوَيْتُ إِلَيْهَا، فَاقْبَلُوا مِنْ مُحْسِنِهِمْ، وَاعْفُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ، فَإِنَّهُمْ قَدْ أَدَّوْا الَّذِي عَلَيْهِمْ، وَبَقِيَ الَّذِي لَهُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا انصار میرا پردہ ہیں جن کے پاس میں نے آکر ٹھکانہ حاصل کرلیا، اس لئے تم انصار کے نیکیوں کی نیکی قبول کرو اور ان کے گناہگار سے تجاوز اور درگذر کرو، کیونکہ انہوں نے اپنا فرض نبھا دیا اور ان کا حق باقی رہ گیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12650]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12651 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، مَعْمَرٌ ، أَيُّوبُ ، أَبِي قِلَابَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ، وَلِأَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ، وَلِأَبْنَاءِ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ"، قَالَ مَعْمَرٌ : وَأَخْبَرَنِي أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے اللہ! انصار، انصار کے بچوں، انصار کی بیویوں کی مغفرت فرما۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12651]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3799، م: 2510
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3799، م: 2510
حدیث نمبر: 12652 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا قَالَ الْإِمَامُ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقُولُوا: رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سجدہ یا رکوع سے سر اٹھاتے اور ان دونوں کے درمیان اتنا لمبا وقفہ کرتے کہ ہمیں یہ خیال ہونے لگتا کہ کہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھول تو نہیں گئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12652]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 805، م: 411
الحكم: إسناده صحيح، خ: 805، م: 411
حدیث نمبر: 12653 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السَّجْدَةِ أَوْ الرَّكْعَةِ، فَيَمْكُثُ بَيْنَهُمَا حَتَّى نَقُولَ أَنَسِيَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد ان جیسی خفیف اور مکمل رکوع سجدے والی نماز کسی کے پیچھے نہیں پڑھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12653]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 821، م: 473
الحكم: إسناده صحيح، خ: 821، م: 473
حدیث نمبر: 12654 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" مَا صَلَّيْتُ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةً أَخَفَّ مِنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي تَمَامِ رُكُوعٍ وَسُجُودٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد ان جیسی خفیف اور مکمل رکوع سجدے والی نماز کسی کے پیچھے نہیں پڑھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12654]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 709، م: 469
الحكم: إسناده صحيح، خ: 709، م: 469
حدیث نمبر: 12655 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، عَاصِمٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَنَتَ شَهْرًا فِي الصُّبْحِ، يَدْعُو عَلَى أَحْيَاءٍ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ، عُصَيَّةَ وَذَكْوَانَ، وَرِعْلٍ، أَوْ لِحْيَانَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مہنے تک فجر کی نماز میں رکوع کے بعد قنوت نازلہ پڑھی اور رعل، ذکوان، عصیہ اور بنو لحیان کے قبائل پر بددعاء کرتے رہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12655]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3064، م: 677
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3064، م: 677
حدیث نمبر: 12656 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: سَقَطَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فَرَسٍ فَجُحِشَ شِقُّهُ الْأَيْمَنُ، فَدَخَلُوا عَلَيْهِ، فَصَلَّى بِهِمْ قَاعِدًا، وَأَشَارَ إِلَيْهِمْ أَنْ اقْعُدُوا، فَلَمَّا سَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقُولُوا: رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا، وَإِنْ صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا أَجْمَعُونَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم گھوڑے سے گرپڑے جس سے دائیں حصے پر زخم آگیا، ہم لوگ عیادت کے لئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئے، اس دوران نماز کا وقت آگیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بیٹھ کر نماز پڑھائی اور ہم نے بھی بیٹھ کر نماز پڑھی، نماز سے فارغ ہو کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا امام تو ہوتا ہی اس لئے ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، اس لئے جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو، جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو، جب وہ سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو، جب وہ " سمع اللہ لم حمدہ، " کہے تو تم " ربنا ولک الحمد " کہو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم سب بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12656]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 805، م: 411
الحكم: إسناده صحيح، خ: 805، م: 411
حدیث نمبر: 12657 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَبُو جَعْفَرٍ يَعْنِي الرَّازِيَّ ، الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ يَعْنِي الرَّازِيَّ ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ:" مَا زَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْنُتُ فِي الْفَجْرِ حَتَّى فَارَقَ الدُّنْيَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دنیا سے رخصت ہونے تک ہمیشہ فجر کی میں ہی قنوت نازلہ پڑھا کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12657]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف الضعف أبى جعفر الرازي، وقد خالف رواية الثقات لهذا الحديث عن أنس، انظر: 12064
الحكم: إسناده ضعيف الضعف أبى جعفر الرازي، وقد خالف رواية الثقات لهذا الحديث عن أنس، انظر: 12064
حدیث نمبر: 12658 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، عَمَّنْ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَمَّنْ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا شِغَارَ فِي الْإِسْلَامِ، ولا إسْعادَ في الإسلامِ، وَلَا حِلْفَ فِي الْإِسْلَامِ، وَلَا جَلَبَ وَلَا جَنَبَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اسلام میں وٹے سٹے کے نکاح کی " جس میں کوئی مہر مقرر نہ کیا گیا ہو " کوئی حیثیت نہیں ہے، اسلام میں فرضی محبوباؤں کے نام لے کر اشعار میں تشبیہات دینے کی کوئی حیثیت نہیں، اسلام میں کسی قبیلے کا حلیف بننے کی کوئی حیثیت نہیں، زکوٰۃ وصول کرنے والے کا اچھا مال چھانٹ لینا یا لوگوں کا زکوٰۃ سے بچنے کے حیلے اختیار کرنا بھی صحیح نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12658]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف الإبهام الراوي بين سفيان الثوري وبين أنس
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف الإبهام الراوي بين سفيان الثوري وبين أنس
حدیث نمبر: 12659 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حدثنا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خَرَجَ حِينَ زَاغَتْ الشَّمْسُ، فَصَلَّى الظُّهْرَ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَذَكَرَ السَّاعَةَ، وَذَكَرَ أَنَّ بَيْنَ يَدَيْهَا أُمُورًا عِظَامًا، ثُمَّ قَالَ:" مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَسْأَلَ عَنْ شَيْءٍ فَلْيَسْأَلْ عَنْهُ، فَوَاللَّهِ لَا تَسْأَلُونِي عَنْ شَيْءٍ إِلَّا أَخْبَرْتُكُمْ بِهِ مَا دُمْتُ فِي مَقَامِي هَذَا" قَالَ أَنَسٌ: فَأَكْثَرَ النَّاسُ الْبُكَاءَ حِينَ سَمِعُوا ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَكْثَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقُولَ:" سَلُونِي"، قَالَ أَنَسٌ: فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: أَيْنَ مَدْخَلِي يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ:" النَّارُ" قَالَ: فَقَامَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُذَافَةَ، فَقَالَ: مَنْ أَبِي يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ" أَبُوكَ حُذَافَةُ"، قَالَ: ثُمَّ أَكْثَرَ رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم أَنْ يَقُولَ:" سَلُونِي" قَالَ: فَبَرَكَ عُمَرُ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، فَقَالَ: رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَسُولًا، قَالَ: فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَالَ عُمَرُ ذَلِكَ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَقَدْ عُرِضَتْ عَلَيَّ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ آنِفًا فِي عُرْضِ هَذَا الْحَائِطِ وَأَنَا أُصَلِّي، فَلَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم زوال کے بعد باہر آئے، ظہر کی نماز پڑھائی اور سلام پھیر کر منبر پر کھڑے ہوگئے اور قیامت کا ذکر فرمایا: نیز یہ کہ اس سے پہلے بڑے اہم امور پیش آئیں گے، پھر فرمایا کہ جو شخص کوئی سوال پوچھنا چاہتا ہے وہ پوچھ لے، بخدا! تم مجھ سے جس چیز کے متعلق بھی "" جب تک میں یہاں کھڑا ہوں "" سوال کرو گے میں تمہیں ضرور جواب دوں گا، یہ سن کر لوگ کثرت سے آہ وبکا کرنے لگے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بار بار یہی فرماتے رہتے کہ مجھ سے پوچھو، چنانچہ ایک آدمی نے کھڑے ہو کر پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! میں کہاں داخل ہوں؟ فرمایا جہنم میں، عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ نے پوچھ لیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! میرا باپ کون ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تمہارا باپ حذافہ ہے۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ گھٹنوں کے بل جھک کر کہنے لگے کہ ہم اللہ کو اپنا رب مان کر، اسلام کو اپنا دین قرار دے کر اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنا نبی مان کر خوش اور مطمئن ہیں، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی یہ بات سن کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خاموش ہوگئے، تھوڑی دیر بعد فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اس دیوار کی چوڑائی میں ابھی میرے سامنے جنت اور جہنم کو پیش کیا گیا تھا، جب کہ میں نماز پڑھ رہا تھا، میں نے خیر اور شر میں آج کے دن جیسا کوئی دن نہیں دیکھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12659]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 93، 7294، م: 2359
الحكم: إسناده صحيح، خ: 93، 7294، م: 2359
حدیث نمبر: 12660 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَقُومُ السَّاعَةُ عَلَى أَحَدٍ يَقُولُ اللَّهُ، اللَّهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک زمین میں اللہ اللہ کہنے والا کوئی شخص باقی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12660]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 148
الحكم: إسناده صحيح، م: 148