بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَنَسِ بنِ مَالِك رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2170
صفحہ 11 از 109
حدیث نمبر: 12141 مسند احمد
يَحْيَى ، شُعْبَةَ ، قَتَادَةُ ، وَابْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، وَابْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: سَأَلَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: إِنَّ أَهْلَ الْكِتَابِ يُسَلِّمُونَ عَلَيْنَا، فَكَيْفَ نَرُدُّ عَلَيْهِمْ؟، قَالَ: فَقُولُوا: وَعَلَيْكُمْ"، وَحَجَّاجٌ مِثْلَهُ، قَالَ شُعْبَةُ: لَمْ أَسْأَلْ قَتَادَةَ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ هَلْ سَمِعْتَهُ مِنْ أَنَسٍ؟.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا کہ اہل کتاب ہمیں سلام کرتے ہیں، ہم انہیں کیا جواب دیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا صرف " وعلیکم " کہہ دیا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12141]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 6258 ، م: 2163
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 6258 ، م: 2163
حدیث نمبر: 12142 مسند احمد
يَحْيَى ، شُعْبَةَ ، قَتَادَةُ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" يَهْرَمُ ابْنُ آدَمَ وَتَبْقَى مِنْهُ اثْنَتَانِ: الْحِرْصُ، وَالْأَمَلُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا انسان تو بوڑھا ہوجاتا ہے لیکن دو چیزیں اس میں ہمیشہ رہتی ہیں، ایک حرص اور ایک امید۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12142]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 6421 ، م: 1047
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 6421 ، م: 1047
حدیث نمبر: 12143 مسند احمد
يَحْيَى ، شُعْبَةَ ، التَّيْمِيُّ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنَا التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ بَدْرٍ:" مَنْ يَنْظُرُ مَا فَعَلَ أَبُو جَهْلٍ؟" فَانْطَلَقَ ابْنُ مَسْعُودٍ، فَوَجَدَ ابْنَيْ عَفْرَاءَ قَدْ ضَرَبَاهُ حَتَّى بَرَدَ، فَأَخَذَ بِلِحْيَتِهِ، فَقَالَ: أَنْتَ أَبُو جَهْلٍ؟!، فَقَالَ: وَهَلْ فَوْقَ رَجُلٍ قَتَلْتُمُوهُ أَوْ قَتَلَهُ قَوْمُهُ؟.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ بدر کے دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کون جا کر دیکھے گا کہ ابوجہل کا کیا بنا؟ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ اس خدمت کے لئے چلے گئے، انہوں نے دیکھا کہ عفراء کے دونوں بیٹوں نے اسے مار مار کر ٹھنڈا کردیا ہے، حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ابوجہل کی ڈاڑھی پکڑ کر فرمایا کیا تو ہی ابوجہل ہے؟ اس نے کہا کیا تم نے مجھ سے بڑے بھی کسی آدمی کو قتل کیا ہے؟ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12143]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 3962 ، م: 1800
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 3962 ، م: 1800
حدیث نمبر: 12144 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ سورة آل عمران آية 92 وَ مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا سورة البقرة آية 245، قَالَ أَبُو طَلْحَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، حَائِطِي الَّذِي كَانَ بِمَكَانِ كَذَا وَكَذَا، وَاللَّهِ لَوْ اسْتَطَعْتُ أَنْ أُسِرَّهَا لَمْ أُعْلِنْهَا، فَقَالَ:" اجْعَلْهُ فِي فُقَرَاءِ أَهْلِكَ".
حدیث نمبر: 12145 مسند احمد
يَحْيَى ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ الدَّجَّالَ أَعْوَرُ الْعَيْنِ الشِّمَالِ، عَلَيْهَا ظَفَرَةٌ غَلِيظَةٌ، مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ، أو قَالَ: كُفْرٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا دجال کی بائیں آنکھ کانی ہوگی، اس پر موٹی پھیلی ہوگی اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان " کافر " لکھا ہوگا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12145]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، وانظر : 12004
الحكم: إسناده صحيح ، وانظر : 12004
حدیث نمبر: 12146 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، قَتَادَةَ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ حَدَّثَهُمْ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَرْفَعُونَ أَبْصَارَهُمْ إِلَى السَّمَاءِ فِي صَلَاتِهِمْ، فَاشْتَدَّ قَوْلُهُ فِي ذَلِكَ، حَتَّى قَالَ: لَيَنْتَهُنَّ عَنْ ذَلِكَ، أَوْ لَتُخْطَفَنَّ أَبْصَارُهُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ دوران نماز آسمان کی طرف نگاہیں اٹھا کر دیکھتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے شدت سے اس کی ممانعت کرتے ہوئے فرمایا کہ لوگ اس سے باز آجائیں ورنہ ان کی بصارت اچک لی جائے گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12146]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 750
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 750
حدیث نمبر: 12147 مسند احمد
يَحْيَى ، شُعْبَةَ ، قَتَادَةُ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" ضَحَّى بِكَبْشَيْنِ أَقْرَنَيْنِ أَمْلَحَيْنِ، لَقَدْ رَأَيْتُهُ يَذْبَحُهُمَا بِيَدِهِ وَاضِعًا عَلَى صِفَاحِهِمَا قَدَمَهُ، وَيُسَمِّي، وَيُكَبِّرُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دو چتکبرے سینگ دار مینڈھے قربانی میں پیش کرتے تھے اور اللہ کا نام لے کر تکبیر کہتے تھے، میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم انہیں اپنے ہاتھ سے ذبح کرتے تھے اور ان کے پہلو پر اپنا پاؤں رکھتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12147]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 5558 ، م: 1966
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 5558 ، م: 1966
حدیث نمبر: 12148 مسند احمد
يَحْيَى ، شُعْبَةَ ، قَتَادَةُ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَتِمُّوا الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ، فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاكُمْ مِنْ بَعْدِي، وَرُبَّمَا قَالَ: مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِي إِذَا رَكَعْتُمْ، وَإِذَا سَجَدْتُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا رکوع و سجود کو مکمل کیا کرو، کیونکہ میں واللہ تمہیں اپنی پشت کے پیچھے سے بھی دیکھ رہا ہوتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12148]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 742 ، م: 425
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 742 ، م: 425
حدیث نمبر: 12149 مسند احمد
يَحْيَى ، شُعْبَةَ ، قَتَادَةُ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" اعْتَدِلُوا فِي السُّجُودِ، وَلَا يَبْسُطْ أَحَدُكُمْ ذِرَاعَيْهِ انْبِسَاطَ الْكَلْبِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ سجدوں میں اعتدال برقرار رکھا کرو اور تم میں سے کوئی شخص کتے کی طرح اپنے ہاتھ نہ بچھائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12149]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 822 ، م: 493
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 822 ، م: 493
حدیث نمبر: 12150 مسند احمد
يَحْيَى ، هِشَامٍ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا بَعْدَ الرُّكُوعِ، يَدْعُو عَلَى حَيٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ، ثُمَّ تَرَكَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مہنے تک فجر کی نماز میں رکوع کے بعد قنوت نازلہ پڑھی اور عرب کے کچھ قبائل پر بددعاء کرتے رہے پھر اسے ترک کردیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12150]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 4089 ، م: 677
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 4089 ، م: 677
حدیث نمبر: 12151 مسند احمد
يَحْيَى ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" دَخَلْتُ الْجَنَّةَ، فَإِذَا أَنَا بِنَهْرٍ حَافَتَاهُ خِيَامُ اللُّؤْلُؤِ، فَضَرَبْتُ بِيَدِي فِي مَجْرَى الْمَاءِ، فَإِذَا مِسْكٌ أَذْفَرُ، قُلْتُ: يَا جِبْرِيلُ، مَا هَذَا؟، قَالَ: هَذَا الْكَوْثَرُ الَّذِي أَعْطَاكَ اللَّهُ أَوْ أَعْطَاكَ رَبُّكَ عَزَّ وَجَلَّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میں جنت میں داخل ہوا تو اچانک ایک نہر پر نظر پڑی جس کے دونوں کناروں پر موتیوں کے خیمے لگے ہوئے تھے، میں نے اس میں ہاتھ ڈال کر پانی میں بہنے والی چیز کو پکڑا تو وہ مہکتی ہوئی مشک تھی میں نے جبرئیل علیہ السلام سے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ تو انہوں نے بتایا کہ یہ نہر کوثر ہے جو اللہ نے آپ کو عطاء فرمائی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12151]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 4964
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 4964
حدیث نمبر: 12152 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، التَّيْمِيُّ ، أَبِي مِجْلَزٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا بَعْدَ الرُّكُوعِ، يَدْعُو عَلَى رِعْلٍ وَذَكْوَانَ، وَقَالَ: عُصَيَّةُ، عَصَتْ اللَّهَ وَرَسُولَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مہنے تک فجر کی نماز میں رکوع کے بعد قنوت نازلہ پڑھی اور رعل، ذکوان کے قبائل پر بددعاء کرتے رہے اور فرمایا کہ عصیہ نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12152]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 1003 ، م: 677
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 1003 ، م: 677
حدیث نمبر: 12153 مسند احمد
(حديث موقوف) (حديث قدسي) فَحَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" فَيَخْرُجُ مِنَ النَّارِ مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَكَانَ فِي قَلْبِهِ مِنَ الْخَيْرِ مَا يَزِنُ شَعِيرَةً، ثُمَّ يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَكَانَ فِي قَلْبِهِ مِنَ الْخَيْرِ مَا يَزِنُ بُرَّةً، ثُمَّ يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَكَانَ فِي قَلْبِهِ مِنَ الْخَيْرِ مَا يَزِنُ ذَرَّةً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن سارے مسلمان اکٹھے ہوں گے ان کے دل میں یہ بات ڈالی جائے گی اور وہ کہیں گے کہ اگر ہم اپنے پروردگار کے سامنے کسی کی سفارش لے کر جائیں تو شاید وہ ہمیں اس جگہ سے راحت عطاء فرما دے، چنانچہ وہ حضرت آدم علیہ السلام کے پاس جائیں اور ان سے کہیں گے کہ اے آدم! آپ ابو البشر ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اپنے فرشتوں سے آپ کو سجدہ کروایا اور آپ کو تمام چیزوں کے نام سکھائے، لہٰذا آپ ہمارے رب سے سفارش کردیں کہ وہ ہمیں اس جگہ سے نجات دے دے۔ حضرت آدم علیہ السلام جواب دیں گے کہ میں تو اس کا اہل نہیں ہوں اور انہیں اپنی لغزش یاد آجائے گی اور وہ اپنے رب سے حیاء کریں گے اور فرمائیں گے کہ تم حضرت نوح علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ، کیونکہ وہ پہلے رسول ہیں جنہیں اللہ نے اہل زمین کی طرف بھیجا تھا، چنانچہ وہ سب لوگ حضرت نوح علیہ السلام کے پاس جائیں گے اور ان سے کہیں گے کہ آپ اپنے پروردگار سے ہماری سفارش کر دیجئے، وہ جواب دیں گے کہ تمہارا گوہر مقصود میرے پاس نہیں ہے، تم حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ، کیونکہ اللہ نے انہیں اپنا خلیل قرار دیا ہے۔ چنانچہ وہ سب لوگ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس جائیں گے وہ بھی یہی کہیں گے کہ تمہارا گوہر مقصود میرے پاس نہیں ہے البتہ تم حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ، کیونکہ اللہ نے ان سے براہ راست کلام فرمایا ہے اور انہیں تورات دی تھی، حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی معذرت کرلیں گے کہ میں نے ایک ناحق شخص کو قتل کردیا تھا البتہ تم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ، وہ اللہ کے بندے، اس کے رسول اور اس کا کلمہ اور روح تھے لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی معذرت کرلیں گے اور فرمائیں گے کہ تم محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس چلے جاؤ، وہ تمہاری سفارش کریں گے جن کی اگلی پچھلی لغزشیں اللہ نے معاف فرما دی ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں اپنے پروردگار کے پاس حاضری کی اجازت چاہوں گا جو مجھے مل جائے گی میں اپنے رب کو دیکھ کر سجدہ ریز ہوجاؤں گا، اللہ جب تک چاہے گا مجھے سجدے ہی کی حالت میں رہنے دے گا، پھر مجھ سے کہا جائے گا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! سر اٹھائیے، آپ جو کہیں گے اس کی شنوائی ہوگی، جو مانگیں گے وہ ملے گا اور جس کی سفارش کریں گے قبول کرلی جائے گی، چنانچہ میں اپنا سر اٹھا کر اللہ کی ایسی تعریف کروں گا جو وہ خود مجھے سکھائے گا پھر میں سفارش کروں گا تو اللہ میرے لئے ایک حد مقرر فرما دے گا اور میں انہیں جنت میں داخل کروا کر دوبارہ آؤں گا، تین مرتبہ اسی طرح ہوگا، چوتھی مرتبہ میں کہوں گا کہ پروردگار! اب صرف وہی لوگ باقی بچے ہیں جنہیں قرآن نے روک رکھا ہے۔ چنانچہ وہ جہنم سے ہر اس شخص کو نکال لیا جائے گا جو لا الہ الا اللہ کہتا ہو اور اس کے دل میں جو کے دانے کے برابر بھی خیر موجود ہو، پھر جہنم سے ہر اس شخص کو نکال لیا جائے گا جو لا الہ الا اللہ کہتا ہو اور اس کے دل میں گندم کے دانے کے برابر بھی خیر موجود ہو اور جہنم سے ہر اس شخص کو نکال لیا جائے گا جو لا الہ الا اللہ کہتا ہو اور اس کے دل میں ایک ذرے کے برابر بھی خیر موجود ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12153]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 4476 ، م: 193
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 4476 ، م: 193
حدیث نمبر: 12154 مسند احمد
يَحْيَى ، التَّيْمِيِّ ، أَنَسًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ التَّيْمِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ مُتَعَمِّدًا، قَالَهُ مَرَّتَيْنِ، وَقَالَ مَرَّةً: مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص جان بوجھ کر میری طرف سے کسی بات کی جھوٹی نسبت کرے، اسے جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنالینا چاہئے۔ یہ بات دو مرتبہ فرمائی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12154]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 108 ، م فى المقدمة : 2
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 108 ، م فى المقدمة : 2
حدیث نمبر: 12155 مسند احمد
يَحْيَى ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، أَنَّ أَنَسًا حَدَّثَهُمْ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَرْفَعُونَ أَبْصَارَهُمْ فِي صَلَاتِهِمْ، قَالَ: فَاشْتَدَّ فِي ذَلِكَ حَتَّى قَالَ: لَيَنْتَهُنَّ عَنْ ذَلِكَ، أَوْ لَتُخْطَفَنَّ أَبْصَارُهُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ دورانِ نماز آسمان کی طرف نگاہیں اٹھا کر دیکھتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے شدت سے اس کی ممانعت کرتے ہوئے فرمایا کہ لوگ اس سے باز آجائیں، ورنہ ان کی بصارت اچک لی جائے گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12155]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 750
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 750
حدیث نمبر: 12156 مسند احمد
يَحْيَى ، شُعْبَةَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمَرْأَةُ مِنْ نِسَائِهِ يَغْتَسِلَانِ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ، وَكَانَ يَغْتَسِلُ بِخَمْسِ مَكَاكِيَّ، وَيَتَوَضَّأُ بِمَكُّوكٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ان کی اہلیہ محترمہ ایک ہی برتن سے غسل کیا کرتے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پانچ مکوک پانی سے غسل اور ایک مکوک پانی سے وضو فرما لیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12156]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 264، 201 ، م: 325، وانظر لزاما: 12105
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 264، 201 ، م: 325، وانظر لزاما: 12105
حدیث نمبر: 12157 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، أَنَسٍ
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَكَّلَ بِالرَّحِمِ مَلَكًا، قَالَ: أَيْ رَبِّ نُطْفَةٌ، أَيْ رَبِّ عَلَقَةٌ، أَيْ رَبِّ مُضْغَةٌ، فَإِذَا قَضَى الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ خَلْقَهَا، قَالَ: أَيْ رَبِّ أَشَقِيٌّ أَوْ سَعِيدٌ؟ ذَكَرًا أَوْ أُنْثَى؟ فَمَا الرِّزْقُ وَمَا الْأَجَلُ؟، قَالَ: فَيَكْتُبُ كَذَلِكَ فِي بَطْنِ أُمِّهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ماں کے رحم پر ایک فرشتہ مقرر کر رکھا ہے، جو اپنے اپنے وقت پر یہ کہتا رہتا ہے کہ پروردگار! اب نطفہ بن گیا، پروردگار! اب گوشت کی بوٹی بن گیا، پھر جب اللہ اسے پیدا کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو وہ پوچھتا ہے کہ پروردگار! یہ شقی ہوگا یا سعید؟ مذکر ہوگا یا مونث؟ اور عمر کتنی ہو گی؟ یہ سب چیزیں ماں کے پیٹ میں لکھ دی جاتی ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12157]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 3333 ، م: 2646
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 3333 ، م: 2646
حدیث نمبر: 12158 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَنَسٍ أَبُو مُعَاذٍ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ بِمَكَّةَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَنَسٍ أَبُو مُعَاذٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12158]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، وانظر ما قبله
الحكم: إسناده صحيح ، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 12159 مسند احمد
يَحْيَى ، شُعْبَةَ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ بَرِيرَةَ تُصُدِّقَ عَلَيْهَا بِصَدَقَةٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی باندی پر) بریرہ کے پاس صدقہ کی کوئی چیز آئی، تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ اس کے لئے صدقہ ہے اور ہمارے لئے ہدیہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12159]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 1495 ، م: 1047
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 1495 ، م: 1047
حدیث نمبر: 12160 مسند احمد
يَحْيَى ، سُفْيَانَ ، الْقَاسِمُ بْنُ شُرَيْحٍ ، ثَعْلَبَةَ ، أَنَسًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ شُرَيْحٍ ، عَنْ ثَعْلَبَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا ، يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" عَجِبْتُ لِلْمُؤْمِنِ! إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَقْضِ قَضَاءً، إِلَّا كَانَ خَيْرًا لَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مجھے تو مسلمان پر تعجب ہوتا ہے کہ اللہ اس کے لئے جو فیصلہ بھی فرماتا ہے وہ اس کے حق میں بہتر ہی ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12160]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا اسناد حسن فى المتابعات والشواهد، القاسم بن شريح لم يرو عنه غير سفيان الثوري، وذكره ابن حبان فى الثقات، وقد توبع.
الحكم: حديث صحيح، وهذا اسناد حسن فى المتابعات والشواهد، القاسم بن شريح لم يرو عنه غير سفيان الثوري، وذكره ابن حبان فى الثقات، وقد توبع.