بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَنَسِ بنِ مَالِك رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2170
صفحہ 88 از 109
حدیث نمبر: 13682 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" رُخِّصَ أَوْ: أَرْخَصَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَالزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ فِي لُبْسِ الْحَرِيرِ، مِنْ حِكَّةٍ كَانَتْ بِهِمَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ اور حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کو جوؤں کی وجہ سے ریشمی کپڑے پہننے کی اجازت مرحمت فرما دی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13682]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2920، م: 2076
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2920، م: 2076
حدیث نمبر: 13683 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، إِمْلَاءً عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ" رِعْلًا وَعُصَيَّةَ وَذَكْوَانَ وَبَنِي لَحْيَانَ أَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرُوهُ أَنَّهُمْ قَدْ أَسْلَمُوا، وَاسْتَمَدُّوا عَلَى قَوْمِهِمْ، فَأَمَدَّهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعِينَ مِنَ الْأَنْصَارِ، قَالَ: كُنَّا نُسَمِّيهِمْ الْقُرَّاءَ فِي زَمَانِهِمْ، كَانُوا يَحْتَطِبُونَ بِالنَّهَارِ، وَيُصَلُّونَ بِاللَّيْلِ، حَتَّى إِذَا كَانُوا بِبِئْرِ مَعُونَةَ غَدَرُوا بِهِمْ، فَقَتَلُوهُمْ، فَقَنَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا يَدْعُو عَلَى هَذِهِ الْأَحْيَاءِ: عُصَيَّةَ وَرِعْلٍ وَذَكْوَانَ وَبَنِي لَحْيَانَ، وحَدَّثَنَا أَنَسٌ: أَنَّا قَرَأْنَا بِهِمْ قُرْآنًا:" بَلِّغُوا عَنَّا قَوْمَنَا أَنَّا قَدْ لَقِينَا رَبَّنَا فَرَضِيَ عَنَّا وَأَرْضَانَا"، ثُمَّ نُسِخَ، أَوْ رُفِعَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس قبیلہ رعل، ذکوان، عصیہ اور بنو لحیان کے کچھ لوگ آئے اور یہ ظاہر کیا کہ وہ اسلام قبول کرچکے ہیں اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اپنی قوم پر تعاون کا مطالبہ کیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے ساتھ ستر انصاری صحابہ رضی اللہ عنہ تعاون کے لئے بھیج دیئے، حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم انہیں " قراء " کہا کرتے تھے، یہ لوگ دن کو لکڑیاں کاٹتے اور رات کو نماز میں گذار دیتے تھے، وہ لوگ ان تمام حضرات کو لے کر روانہ ہوگئے، راستے میں جب بیر معونہ کے پاس پہنچے تو انہوں نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ دھوکہ کیا اور انہیں شہید کردیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پتہ چلا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مہینے تک فجر کی نماز میں قنوت نازلہ پڑھی اور رعل، ذکوان، عصیہ اور بنو لحیان کے قبائل پر دعاء کرتے رہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ان صحابہ رضی اللہ عنہ کے یہ جملے کہ " ہماری قوم کو ہماری طرف سے یہ پیغام پہنچا دو کہ ہم اپنے رب سے مل چکے، وہ ہم سے راضی ہوگیا اور ہمیں بھی راضی کردیا " ایک عرصے تک قرآن کریم میں پڑھتے رہے، بعد میں ان کی تلاوت منسوخ ہوگئی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13683]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3064، م: 677
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3064، م: 677
حدیث نمبر: 13684 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، مَنْصُورٍ ، سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي حَتَّى انْتَهَى إِلَى الْمَسْجِدِ، أَوْ قَرِيبًا مِنْهُ، أَتَاهُ شَيْخٌ، أَوْ رَجُلٌ، فَقَالَ:" مَتَى السَّاعَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَمَا أَعْدَدْتَ لَهَا؟ قَالَ الرَّجُلُ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ نَبِيًّا، مَا أَعْدَدْتُ لَهَا مِنْ كَبِيرِ عَمَلٍ صَلَاةٍ وَلَا صِيَامٍ، وَلَكِنِّي أَحَبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ. قَالَ: أَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک آدمی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! قیامت کب قائم ہوگی؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم نے قیامت کے لئے کیا تیاری کر رکھی ہے؟ اس نے کہا میں نے کوئی بہت زیادہ اعمال، نماز، روزہ تو مہیا نہیں کر رکھے، البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن تم اسی کے ساتھ ہوگے جس سے تم محبت کرتے ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13684]
حکم دارالسلام
حدیث صحيح، وھذا إسناد حسن، م: 2639
الحكم: حدیث صحيح، وھذا إسناد حسن، م: 2639
حدیث نمبر: 13685 مسند احمد
مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، أَيُّوبَ ، وَهِشَامٍ ، مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ سِيرِينَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، وَهِشَامٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" لَمَّا حَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ بِمِنًى، أَخَذَ شِقَّ رَأْسِهِ الْأَيْمَنَ بِيَدِهِ، فَلَمَّا فَرَغَ نَاوَلَنِي، فَقَالَ: يَا أَنَسُ، انْطَلِقْ بِهَذَا إِلَى أُمِّ سُلَيْمٍ"، فَلَمَّا رَأَى النَّاسُ مَا خَصَّهَا بِهِ مِنْ ذَلِكَ، تَنَافَسُوا فِي الشِّقِّ الْآخَرِ، هَذَا يَأْخُذُ الشَّيْءَ وَهَذَا يَأْخُذُ الشَّيْءَ، قَالَ مُحَمَّدٌ: فَحَدَّثْتُهُ عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيَّ، فَقَالَ: لَأَنْ يَكُونَ عِنْدِي مِنْهُ شَعَرَةٌ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ كُلِّ صَفْرَاءَ، وَبَيْضَاءَ، أَصْبَحَتْ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ، وَفِي بَطْنِهَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میدان منیٰ میں سر منڈوانے ک ارادہ کیا تو پہلے سر کا داہنا حصہ آگے کیا اور فارغ ہو کر وہ بال مجھے دے کر فرمایا انس! یہ ام سلیم کے پاس لے جاؤ، جب لوگوں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خصوصیت کے ساتھ اپنے بال حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ کو بھجوائے ہیں تو دوسرے حصے کے بال حاصل کرنے میں وہ ایک دوسرے سے مسابقت کرنے لگے، کسی کے حصے میں کچھ آگئے اور کسی کے حصے میں کچھ آگئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13685]
حکم دارالسلام
إسنادہ ضعیف لسوء حفظ مؤمل، وقد صح بغیر ھذا السياقة، انظر: 12092، 13508
الحكم: إسنادہ ضعیف لسوء حفظ مؤمل، وقد صح بغیر ھذا السياقة، انظر: 12092، 13508
حدیث نمبر: 13686 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَبْدُ اللَّهِ ، حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" خَدَمْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعَ سِنِينَ، فَمَا قَالَ لِي قَطُّ لِشَيْءٍ صَنَعْتُهُ قَطُّ: أَسَأْتَ، وَلَا بِئْسَ مَا صَنَعْتَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نو سال تک نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت کی، میں نے جس کام کو کرلیا ہو، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کبھی مجھ سے یہ نہیں فرمایا کہ تم نے بہت برا کیا، یا غلط کیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13686]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2768، م: 2309
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2768، م: 2309
حدیث نمبر: 13687 مسند احمد
عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسًا : كَمِ اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ:" اعْتَمَرَ أَرْبَعًا: عُمْرَتَهُ الَّتِي صَدَّهُ الْمُشْرِكُونَ عَنْهَا فِي ذِي الْقَعْدَةِ، وَعُمْرَتَهُ أَيْضًا مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ فِي ذِي الْقَعْدَةِ، وَعُمْرَتَهُ حَيْثُ قَسَمَ غَنَائِمَ حُنَيْنٍ مِنَ الْجِعِرَّانَةِ فِي ذِي الْقَعْدَةِ، وَعُمْرَتَهُ مَعَ حَجَّتِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کتنے حج کئے ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ چار مرتبہ، ایک عمرہ تو حدیبیہ کے زمانے میں، دوسرا ذیقعدہ کے مہینے میں مدینہ سے، تیسرا عمرہ ذیقعدہ ہی کے مہینے میں جعرانہ سے جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے غزوہ حنین کا مال غنیمت تقسیم کیا تھا اور چوتھا عمرہ حج کے ساتھ کیا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13687]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1778، م: 1253
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1778، م: 1253
حدیث نمبر: 13688 مسند احمد
عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَقَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَاذَا تَرَى؟ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ، قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ قَالَ: لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ سورة آل عمران آية 92، وَإِنَّهُ لَيْسَ لِي مَالٌ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ أَرْضِي بَيْرُحَاءَ، وَإِنِّي أَتَقَرَّبُ بِهَا إِلَى اللَّهِ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بَخٍ بَخٍ، بَيْرُحَاءُ خَيْرٌ رَابِحٌ، فَقَسَمَهَا بَيْنَهُمْ حَدَائِقَ".
حدیث نمبر: 13689 مسند احمد
عَفَّانُ ، سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ ، الزُّبَيْرُ بْنُ الْخِرِّيتِ ، أَبِي لَبِيدٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الزُّبَيْرُ بْنُ الْخِرِّيتِ ، عَنْ أَبِي لَبِيدٍ ، قَالَ: أُرْسِلَتْ الْخَيْلُ زَمَنَ الْحَجَّاجِ وَالْحَكَمُ بْنُ أَيُّوبَ أَمِيرٌ عَلَى الْبَصْرَةِ، قَالَ: فَأَتَيْنَا الرِّهَانَ، فَلَمَّا جَاءَتْ الْخَيْلُ، قُلْنَا: لَوْ مِلْنَا إِلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، فَسَأَلْنَاهُ: أَكُنْتُمْ تُرَاهِنُونَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَأَتَيْنَاهُ وَهُوَ فِي قَصْرِهِ فِي الزَّاوِيَةِ، فَسَأَلْنَاهُ: فَقُلْنَا: يَا أَبَا حَمْزَةَ، أَكُنْتُمْ تُرَاهِنُونَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ أََكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرَاهِنُ؟ قَالَ: نَعَمْ وَاللَّهِ، لَقَدْ" رَاهَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى فَرَسٍ لَهُ، يُقَالُ لَهُ: سَبْحَةٌ، فَسَبَقَ النَّاسَ، فَانْتَشَى لِذَلِكَ وَأَعْجَبَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابولبید رحمہ اللہ نے مازہ بن زیار رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ میں نے حجاج بن یوسف کے زمانے میں اپنے گھوڑے کو بھیجا اور سوچا کہ ہم بھی گھڑ دوڑ کی شرط میں حصہ لیتے ہیں، پھر ہم نے سوچا کہ پہلے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے جا کر پوچھ لیتے ہیں کہ کیا آپ لوگ بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانے میں گھڑ دوڑ پر شرط لگایا کرتے تھے؟ چنانچہ ہم نے ان کے پاس آکر ان سے پوچھا تو انہوں نے جواب دیا ہاں! ایک مرتبہ انہوں نے اپنے ایک گھوڑے پر " جس کا نام سبحہ تھا " گھڑ دوڑ میں حصہ لیا تھا اور وہ سب سے آگے نکل گیا تھا، جس سے انہیں تعجب ہوا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13689]
حکم دارالسلام
إسنادہ حسن
الحكم: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 13690 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٌ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" رَأَى فِي الْمَسْجِدِ حَبْلًا مَمْدُودًا بَيْنَ سَارِيَتَيْنِ، فَقَالَ: مَا هَذَا الْحَبْلُ؟ فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لِحَمْنَةَ بِنْتِ جَحْشٍ تُصَلِّي، فَإِذَا أَعْيَتْ تَعَلَّقَتْ بِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لِتُصَلِّ مَا أَطَاقَتْ، فَإِذَا أَعْيَتْ، فَلْتَجْلِسْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک مرتبہ مسجد میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ دو ستونوں کے درمیان ایک رسی لٹک رہی ہے، پوچھا یہ کیسی رسی ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ زینب کی رسی ہے، نماز پڑھتے ہوئے جب انہیں سستی یا تھکاوٹ محسوس ہوتی ہے تو وہ اس کے ساتھ اپنے آپ کو باندھ لیتی ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اسے کھول دو، پھر فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھے تو نشاط کی کیفیت برقرار رہنے تک پڑھے اور جب سستی یا تھکاوٹ محسوس ہو تو رک جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13690]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، و إسناده ھنا مرسل، وانظر ما بعده و ما سلف برقم: 12915
الحكم: إسناده صحيح، و إسناده ھنا مرسل، وانظر ما بعده و ما سلف برقم: 12915
حدیث نمبر: 13691 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13691]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر ما قبله، و ما سلف برقم: 12916
الحكم: إسناده صحيح، وانظر ما قبله، و ما سلف برقم: 12916
حدیث نمبر: 13692 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ ، حُمَيْدٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ كأنه يعني النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْإِزَارُ إِلَى نِصْفِ السَّاقِ، فَشَقَّ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ: أَوْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ، وَلَا خَيْرَ فِي أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تہبند نصف پنڈلی تک ہونا چاہئے، جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دیکھا کہ مسلمانوں کو اس سے پریشانی ہو رہی ہے تو فرمایا ٹخنوں تک کرلو، اس سے نیچے ہونے میں کوئی خیر نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13692]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13693 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَبْدُ اللَّهِ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيُّ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ: أَصَابَ النَّاسَ سَنَةٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَبَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، قَامَ أَعْرَابِيٌّ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلَكَ الْمَالُ، وَجَاعَ الْعِيَالُ، فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَسْقِيَنَا،" فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ وَمَا تُرَى فِي السَّمَاءِ قَزَعَةٌ، فَثَارَ سَحَابٌ أَمْثَالُ الْجِبَالِ، ثُمَّ لَمْ يَنْزِلْ عَنْ مِنْبَرِهِ حَتَّى رَأَيْنَا الْمَطَرَ يَتَحَادَرُ عَلَى لِحْيَتِهِ"، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں ایک مرتبہ قحط سالی ہوئی، جمعہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خطبہ دے رہے تھے کہ ایک دیہاتی کھڑا ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! مال تباہ ہو رہے ہیں اور بچے بھوکے ہیں، اللہ سے دعاء کر دیجئے کہ وہ ہمیں پانی سے سیراب کر دے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ سن کر اپنے ہاتھ بلند کئے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے طلب باراں کے حوالے سے دعاء فرمائی، جس وقت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے دست مبارک بلند کئے تھے اس وقت ہمیں آسمان پر کوئی بادل نظر نہیں آرہا تھا، اس وقت پہاڑوں جیسے بادل آئے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم منبر سے نیچے اترنے بھی نہیں پائے تھے کہ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ڈاڑھی مبارک پر بارش کا پانی ٹپکتے ہوئے دیکھا۔۔۔۔۔۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13693]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1033، م: 897
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1033، م: 897
حدیث نمبر: 13694 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" يَهْرَمُ ابْنُ آدَمَ وَيَشِبُّ مِنْهُ اثْنَتَانِ: الْحِرْصُ عَلَى الْمَالِ، وَالْحِرْصُ عَلَى الْعُمُرِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا انسان تو بوڑھا ہوجاتا ہے لیکن دو چیزیں اس میں ہمیشہ رہتی ہیں، ایک حرص اور ایک امید۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13694]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6421، م: 1047
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6421، م: 1047
حدیث نمبر: 13695 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، حُمَيْدٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ الْبُرْهَةَ مِنْ عُمُرِهِ بِالْعَمَلِ الَّذِي لَوْ مَاتَ عَلَيْهِ، دَخَلَ الْجَنَّةَ، فَإِذَا كَانَ قَبْلَ مَوْتِهِ، تَحَوَّلَ فَعَمِلَ عَمَلَ أَهْلِ النَّارِ، فَمَاتَ، فَدَخَلَ النَّارَ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ الْبُرْهَةَ مِنْ عُمُرِهِ بِالْعَمَلِ الَّذِي لَوْ مَاتَ عَلَيْهِ دَخَلَ النَّارَ، فَإِذَا كَانَ قَبْلَ مَوْتِهِ تَحَوَّلَ، فَعَمِلَ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، فَمَاتَ، فَدَخَلَ الْجَنَّةَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بعض اوقات ایک شخص ساری زندگی یا ایک طویل عرصہ تک اپنے نیک اعمال پر گذار دیتا ہے کہ اگر اسی حال میں فوت ہوجائے تو جنت میں داخل ہوجائے لیکن پھر اس میں تبدیلی پیدا ہوتی ہے اور وہ گناہوں میں مبتلاء ہوجاتا ہے، اسی طرح ایک آدمی ایک طویل عرصے تک ایسے گناہوں میں مبتلاء رہتا ہے کہ اگر اسی حال میں مرجائے تو جہنم میں داخل ہو، لیکن پھر اس میں تبدیلی پیدا ہوجاتی ہے اور وہ نیک اعمال میں مصروف ہوجاتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13695]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13696 مسند احمد
عَفَّانُ ، عَبْدُ الْوَاحِدِ ، سُلَيْمَانُ بْنُ مِهْرَانَ ، أَبِي سُفْيَانَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مِهْرَانَ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ: يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ، ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ، فَقَالَ لَهُ أَصْحَابُهُ وَأَهْلُهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتَخَافُ عَلَيْنَا وَقَدْ آمَنَّا بِكَ وَبِمَا جِئْتَ بِهِ؟ قَالَ: إِنَّ الْقُلُوبَ بِيَدِ اللَّهِ يُقَلِّبُهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بکثرت یہ دعاء مانگا کرتے تھے، کہ اے دلوں کے پھیرنے والے، میرے دل کو اپنے دین پر ثابت قدمی عطاء فرما، ایک مرتبہ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! ہم آپ پر اور آپ کی تعلیمات پر ایمان لائے ہیں، کیا آپ کو ہمارے متعلق کسی چیز سے خطرہ ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا دل اللہ کی انگلیوں میں سے صرف دو انگلیوں کے درمیان ہے، وہ جیسے چاہتا ہے انہیں بدل دیتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13696]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 13697 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، فَذَكَرَ حَدِيثًا، قَالَ: وَأَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" هَذَا ابْنُ آدَمَ، وَهَذَا أَجَلُهُ، وَثَمَّ أَمَلُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے زمین پر اپنی انگلیاں رکھ کر فرمایا: یہ ابن آدم ہے پھر انہیں اٹھا کر تھوڑا سا پیچھے رکھا اور فرمایا یہ اس کی موت ہے، پھر اپنا ہاتھ آگے کر کے تین مرتبہ فرمایا کہ یہ اس کی امیدیں ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13697]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13698 مسند احمد
عَفَّانُ ، سُلَيْمَانُ ، ثَابِتٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُعْجِبُهُ الرُّؤْيَا الْحَسَنَةُ، فَرُبَّمَا قَالَ: رَأَى أَحَدٌ مِنْكُمْ رُؤْيَا؟ فَإِذَا رَأَى الرُّؤْيَا الرَّجُلُ الَّذِي لَا يَعْرِفُهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَأَلَ عَنْهُ، فَإِنْ كَانَ لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ، كَانَ أَعْجَبَ لِرُؤْيَاهُ إِلَيْهِ، فَجَاءَتِ امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَأَيْتُ كَأَنِّي دَخَلْتُ الْجَنَّةَ، فَسَمِعْتُ وَجْبَةً ارْتَجَّتْ لَهَا الْجَنَّةُ، فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ، وَفُلَانُ بْنُ فُلَانٍ، حَتَّى عَدَّتْ اثْنَيْ عَشَرَ رَجُلًا، فَجِيءَ بِهِمْ عَلَيْهِمْ ثِيَابٌ طُلْسٌ، تَشْخَبُ أَوْدَاجُهُمْ دَمًا، فَقِيلَ: اذْهَبُوا بِهِمْ إِلَى نَهَرِ الْبَيْذَخِ، أَوْ الْبَيْدَحِ، فَغُمِسُوا فِيهِ، فَخَرَجُوا مِنْهُ وُجُوهُهُمْ مِثْلُ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، ثُمَّ أُتُوا بِكَرَاسِيَّ مِنْ ذَهَبٍ، فَقَعَدُوا عَلَيْهَا، وَأُتُوا بِصَحْفَةٍ، فَأَكَلُوا مِنْهَا، فَمَا يَقْلِبُونَهَا لِشِقٍّ إِلَّا أَكَلُوا فَاكِهَةً مَا أَرَادُوا، وَجَاءَ الْبَشِيرُ مِنْ تِلْكَ السَّرِيَّةِ، فَقَالَ: كَانَ مِنْ أَمْرِنَا كَذَا وَكَذَا، وَأُصِيبَ فُلَانٌ وَفُلَانٌ، حَتَّى عَدَّ اثْنَيْ عَشَرَ رَجُلًا الَّذِينَ عَدَّتِ الْمَرْأَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَلَيَّ بِالْمَرْأَةِ، قُصِّي عَلَى هَذَا رُؤْيَاكِ، فَقَصَّتْ، فَقَالَ: هُوَ كَمَا قَالَتْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اچھے خوابوں سے خوش ہوتے تھے اور بعض اوقات پوچھتے تھے کہ تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے؟ اگر کسی نے کوئی خواب دیکھا ہوتا تو وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کی تعبیر دریافت کرلیتا، اگر اس میں کوئی پریشانی کی بات نہ ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس سے بھی خوش ہوتے، اسی تناظر میں ایک عورت آئی اور کہنے لگی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا میں جنت میں داخل ہوئی ہوں، میں نے وہاں ایک آواز سنی جس سے جنت بھی ہلنے لگی، اچانک میں نے دیکھا کہ فلاں بن فلاں اور فلاں بن فلاں کو لایا جارہا ہے، یہ کہتے ہوئے اس نے بارہ آدمیوں کے نام گنوائے جنہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے پہلے ایک سریہ میں روانہ فرمایا تھا۔ اس خاتون نے بیان کیا کہ جب انہیں وہاں لایا گیا تو ان کے جسم پر جو کپڑے تھے وہ کالے ہوچکے تھے اور ان کی رگیں پھولی ہوئی تھیں، کسی نے ان سے کہا کہ ان لوگوں کو نہر سدخ یا نہر بیدخ میں لے جاؤ، چنانچہ انہوں نے اس میں غوطہ لگایا اور جب باہر نکلے تو ان کے چہرے چودہویں رات کے چاند کی طرح چمک رہے تھے، پھر سونے کی کرسیاں لائی گئیں، وہ ان پر بیٹھ گئے، پھر ایک تھالی لائی گئی جس میں کچی کھجوریں تھیں، وہ ان کھجوروں کو کھانے لگے، اس دوران وہ جس کھجور کو پلٹتے تھے تو حسب منشاء میوہ کھانے کو ملتا تھا اور میں بھی ان کے ساتھ کھاتی رہی۔ کچھ عرصے کے بعد اس لشکر سے ایک آدمی فتح کی خوشخبری لے کر آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! ہمارے ساتھ ایسا ایسا معاملہ پیش آیا اور فلاں فلاں آدمی شہید ہوگئے، یہ کہتے ہوئے اس نے انہی بارہ آدمیوں کے نام گنوا دیئے جو عورت نے بتائے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس عورت کو میرے پاس دوبارہ بلا کر لاؤ، وہ آئی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ اپنا خواب اس آدمی کے سامنے بیان کرو، اس نے بیان کیا تو وہ کہنے لگا کہ اس نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جس طرح بیان کیا ہے حقیقت بھی اسی طرح ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13698]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13699 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بن الْأَصَمُّ ، أَنَسٌ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بن الْأَصَمُّ ، قَالَ: سُئِلَ أَنَسٌ عَنِ التَّكْبِيرِ فِي الصَّلَاةِ، وَأَنَا أَسْمَعُ، فَقَالَ" يُكَبِّرُ إِذَا رَكَعَ، وَإِذَا سَجَدَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ، وَإِذَا قَامَ بَيْنَ الرَّكْعَتَيْنِ"، قَالَ: فَقَالَ لَهُ حَكِيمٌ: عَمَّنْ تَحْفَظُ هَذَا؟ قَالَ: عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ، ثُمَّ سَكَتَ، فَقَالَ لَهُ حَكِيمٌ، وَعُثْمَانَ؟ قَالَ: وَعُثْمَانَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن اصم کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نماز میں تکبیر کا حکم پوچھا تو میں نے انہیں یہ جواب دیتے ہوئے سنا کہ انسان جب رکوع سجدہ کرے، سجدے سے سر اٹھائے اور دو رکعتوں کے درمیان کھڑا ہو تو تکبیر کہے، حکیم نے ان سے پوچھا کہ آپ کو یہ حدیث کس کے حوالے سے یاد ہے؟ انہوں نے فرمایا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور حضرات ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے، پھر وہ خاموش ہوگئے، حکیم نے ان سے پوچھا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے حوالے سے بھی؟ انہوں نے فرمایا جی ہاں! [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13699]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13700 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَبْدُ اللَّهِ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ وَهُوَ يَخْطُبُ، فَذَكَرَهُ" فَرَفَعَ يَدَيْهِ، وَأَشَارَ عَبْدُ الْعَزِيزِ، فَجَعَلَ ظَهْرَهُمَا مِمَّا يَلِي وَجْهَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حدیث استسقاء اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13700]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 932، م: 897
الحكم: إسناده صحيح، خ: 932، م: 897
حدیث نمبر: 13701 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، وَحُمَيْدٌ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، وَحُمَيْدٍ ، وَثَابِتٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، وَحُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" جَوَّزَ ذَاتَ يَوْمٍ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لِمَ تَجَوَّزْتَ؟ قَالَ: سَمِعْتُ بُكَاءَ صَبِيٍّ، فَظَنَنْتُ أَنَّ أُمَّهُ مَعَنَا تُصَلِّي، فَأَرَدْتُ أَنْ أُفْرِغَ لَهُ أُمَّهُ"، وَقَدْ قَالَ حَمَّادٌ أَيْضًا: فَظَنَنْتُ أَنَّ أُمَّهُ تُصَلِّي مَعَنَا، فَأَرَدْتُ أَنْ أُفْرِغَ لَهُ أُمَّهُ، قَالَ عَفَّانُ: فَوَجَدْتُهُ عِنْدِي فِي غَيْرِ مَوْضِعٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، وَحُمَيْدٍ ، وَثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز فجر پڑھاتے ہوئے نماز ہلکی کردی، کسی نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! آپ نے نماز کیوں مختصر کردی؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں نے ایک بچے کے رونے کی آواز سنی، میں سمجھا کہ ہوسکتا ہے اس کی ماں ہمارے ساتھ نماز پڑھ رہی ہو، اس لئے میں نے چاہا کہ اس کی ماں کو فارغ کر دوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13701]
حکم دارالسلام
إسناده من جهة حمید و ثابت صحيح، و أما من جهة علي بن زید - وھو ابن جدعان - فضعیف
الحكم: إسناده من جهة حمید و ثابت صحيح، و أما من جهة علي بن زید - وھو ابن جدعان - فضعیف