مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، أَيُّوبَ ، وَهِشَامٍ ، مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ سِيرِينَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، وَهِشَامٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" لَمَّا حَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ بِمِنًى، أَخَذَ شِقَّ رَأْسِهِ الْأَيْمَنَ بِيَدِهِ، فَلَمَّا فَرَغَ نَاوَلَنِي، فَقَالَ: يَا أَنَسُ، انْطَلِقْ بِهَذَا إِلَى أُمِّ سُلَيْمٍ"، فَلَمَّا رَأَى النَّاسُ مَا خَصَّهَا بِهِ مِنْ ذَلِكَ، تَنَافَسُوا فِي الشِّقِّ الْآخَرِ، هَذَا يَأْخُذُ الشَّيْءَ وَهَذَا يَأْخُذُ الشَّيْءَ، قَالَ مُحَمَّدٌ: فَحَدَّثْتُهُ عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيَّ، فَقَالَ: لَأَنْ يَكُونَ عِنْدِي مِنْهُ شَعَرَةٌ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ كُلِّ صَفْرَاءَ، وَبَيْضَاءَ، أَصْبَحَتْ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ، وَفِي بَطْنِهَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میدان منیٰ میں سر منڈوانے ک ارادہ کیا تو پہلے سر کا داہنا حصہ آگے کیا اور فارغ ہو کر وہ بال مجھے دے کر فرمایا انس! یہ ام سلیم کے پاس لے جاؤ، جب لوگوں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خصوصیت کے ساتھ اپنے بال حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ کو بھجوائے ہیں تو دوسرے حصے کے بال حاصل کرنے میں وہ ایک دوسرے سے مسابقت کرنے لگے، کسی کے حصے میں کچھ آگئے اور کسی کے حصے میں کچھ آگئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13685]
حکم دارالسلام
إسنادہ ضعیف لسوء حفظ مؤمل، وقد صح بغیر ھذا السياقة، انظر: 12092، 13508
الحكم: إسنادہ ضعیف لسوء حفظ مؤمل، وقد صح بغیر ھذا السياقة، انظر: 12092، 13508