بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَنَسِ بنِ مَالِك رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2170
صفحہ 7 از 109
حدیث نمبر: 12061 مسند احمد
ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ:" أَسْلِمْ"، قَالَ: أَجِدُنِي كَارِهًا، قَالَ:" أَسْلِمْ وَإِنْ كُنْتَ كَارِهًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک آدمی سے اسلام قبول کرنے کے لئے فرمایا: اس نے کہا کہ مجھے پسند نہیں ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پسند نہ بھی ہوتب بھی اسلام قبول کرلو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12061]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12062 مسند احمد
ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، سَعِيدٍ ، وَابْنُ جَعْفَرٍ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، وَابْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" النُّخَاعَةُ فِي الْمَسْجِدِ خَطِيئَةٌ، وَكَفَّارَتُهَا دَفْنُهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مسجد میں تھوکنا گناہ ہے اور اس کا کفارہ اسے دفن کردینا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12062]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 415 ، م: 552
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 415 ، م: 552
حدیث نمبر: 12063 مسند احمد
ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، سَعِيدٍ ، وَابْنُ جَعْفَرٍ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، وَابْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ، فَإِنَّهُ مُنَاجٍ رَبَّهُ، فَلَا يَتْفُلَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ عَنْ يَمِينِهِ"، قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ: فَلَا يَتْفُلُ أَمَامَهُ، وَلَا عَنْ يَمِينِهِ، وَلَكِنْ عَنْ يَسَارِهِ، أَوْ تَحْتَ قَدَمَيْهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہوتا ہے تو وہ اپنے رب سے مناجات کر رہا ہوتا ہے، اس لئے اس حالت میں تم میں سے کوئی شخص اپنے دائیں جانب نہ تھوکا کرے بلکہ بائیں جانب یا پاؤں کے نیچے تھوکا کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12063]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 531 ، م: 551
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 531 ، م: 551
حدیث نمبر: 12064 مسند احمد
ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، سَعِيدٍ ، وَابْنُ جَعْفَرٍ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، وَابْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْمَعْنَى، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ أَتَاهُ رِعْلٌ، وَذَكْوَانُ، وَعُصَيَّةُ، وَبَنُو لِحْيَانَ، فَزَعَمُوا أَنَّهُمْ قَدْ أَسْلَمُوا، فَاسْتَمَدُّوهُ عَلَى قَوْمِهِمْ، فَأَمَدَّهُمْ نَبِيُّ اللَّهِ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ يَوْمَئِذٍ بِسَبْعِينَ مِنَ الْأَنْصَارِ، قَالَ أَنَسٌ: كُنَّا نُسَمِّيهِمْ فِي زَمَانِهِمْ الْقُرَّاءَ، كَانُوا يَحْطِبُونَ بِالنَّهَارِ، وَيُصَلُّونَ بِاللَّيْلِ، فَانْطَلَقُوا بِهِمْ، حَتَّى إِذَا أَتَوْا بِئْرَ مَعُونَةَ غَدَرُوا بِهِمْ، فَقَتَلُوهُمْ، فَقَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ يَدْعُو عَلَى هَذِهِ الْأَحْيَاءِ رِعْلٍ، وَذَكْوَانَ، وَعُصَيَّةَ، وَبَنِي لِحْيَانَ"، قَالَ: قَالَ قَتَادَةُ: وَحَدَّثَنَا أَنَسٌ أَنَّهُمْ قَرَءُوا بِهِ قُرْآنًا، وَقَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ فِي حَدِيثِهِ: إِنَّا قَرَأْنَا بِهِمْ قُرْآنًا بَلِّغُوا عَنَّا قَوْمَنَا وَإِنَّا قَدْ لَقِينَا رَبَّنَا، فَرَضِيَ عَنَّا وَأَرْضَانَا، ثُمَّ رُفِعَ ذَلِكَ بَعْدُ، وَقَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ: ثُمَّ نُسِخَ ذَلِكَ، أَوْ رُفِعَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس قبیلہ رعل، ذکوان، عصبہ اور بنو لحیان کے کچھ لوگ آئے اور یہ ظاہر کیا کہ وہ اسلام قبول کرچکے ہیں اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اپنی قوم پر تعاون کا مطالبہ کیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے ساتھ ستر انصاری صحابہ رضی اللہ عنہ تعاون کے لئے بھیج دیئے، حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم انہیں "" قراء "" کہا کرتے تھے، یہ لوگ دن کو لکڑیاں کاٹتے اور رات کو نماز میں گذار دیتے تھے، وہ لوگ ان تمام حضرات کو لے کر روانہ ہوگئے، راستے میں جب وہ "" بیر معونہ "" کے پاس پہنچے انہوں نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ دھوکہ کیا اور انہیں شہید کردیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پتہ چلا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مہینے تک فجر کی نماز میں قنوت نازلہ پڑھی اور رعل، ذکوان، عصبہ اور بنولحیان کے قبائل پر بد دعا کرتے رہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ان صحابہ رضی اللہ عنہ کے یہ جملے کہ "" ہماری قوم کو ہماری طرف سے یہ پیغام پہنچا دو کہ ہم اپنے رب سے مل چکے، وہ ہم سے راضی ہوگیا اور ہمیں بھی راضی کردیا "" ایک عرصے تک قرآن کریم میں پڑھتے رہے، بعد میں ان کی تلاوت منسوخ ہوگئی۔" [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12064]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 3064 ، م: 677
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 3064 ، م: 677
حدیث نمبر: 12065 مسند احمد
ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، سَعِيدٍ ، وَابْنُ جَعْفَرٍ ، سَعِيدٌ ، وَالْخَفَّافُ ، سَعِيدٍ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، وَابْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، وَالْخَفَّافُ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَرْفَعُونَ أَبْصَارَهُمْ إِلَى السَّمَاءِ فِي صَلَاتِهِمْ"، وَاشْتَدَّ قَوْلُهُ فِي ذَلِكَ حَتَّى، قَالَ:" لَيَنْتَهُنَّ عَنْ ذَلِكَ، أَوْ لَتُخْطَفَنَّ أَبْصَارُهُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ دوران نماز آسمان کی طرف نگاہیں اٹھا کر دیکھتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے شدت سے اس کی ممانعت کرتے ہوئے فرمایا کہ لوگ اس سے باز آجائیں ورنہ ان کی بصارت اچک لی جائے گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12065]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 750
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 750
حدیث نمبر: 12066 مسند احمد
ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ الْخَفَّافُ ، حُمَيْدٍ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ الْخَفَّافُ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ قَالَ:" اعْتَدِلُوا فِي السُّجُودِ، وَلَا يَفْتَرِشْ أَحَدُكُمْ ذِرَاعَيْهِ كَالْكَلْبِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا سجدوں میں اعتدال برقرار رکھا کرو اور تم میں سے کوئی شخص کتے کی طرح اپنے ہاتھ نہ بچھائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12066]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 822 ، م: 493
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 822 ، م: 493
حدیث نمبر: 12067 مسند احمد
ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، سَعِيدٍ ، وَابْنُ جَعْفَرٍ ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ الْخَفَّافُ ، سَعِيدٍ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، وَابْنُ جَعْفَرٍ ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ الْخَفَّافُ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ قَالَ:" إِنِّي لَأَدْخُلُ الصَّلَاةَ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أُطِيلَهَا، فَأَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ، فَأَتَجَاوَزُ فِي صَلَاتِي، مِمَّا أَعْلَمُ مِنْ شِدَّةِ وَجْدِ أُمِّهِ مِنْ بُكَائِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بعض اوقات میں نماز شروع کرتا ہوں اور ارادہ ہوتا ہے کہ لمبی نماز پڑھاؤں، لیکن پھر کسی بچے کے رونے کی آواز آتی ہے تو میں اپنی نماز کو مختصر کردیتا ہوں، کیونکہ میں جانتا ہوں کہ اس کی ماں اس کے رونے کی وجہ سے کتنی پریشان ہو رہی ہوگی؟۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12067]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 710 ، م: 470
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 710 ، م: 470
حدیث نمبر: 12068 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، مَالِكٌ ، الزُّهْرِيِّ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ يَوْمَ الْفَتْحِ مَكَّةَ وَعَلَيْهِ الْمِغْفَرُ، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ ابْنَ خَطَلٍ مُتَعَلِّقٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اقْتُلُوهُ"، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: وَفِيمَا قَرَأْتُ عَلَيْهِ يَعْنِي مَالِكًٍا، قَالَ: وَلَمْ يَكُنْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ مُحْرِمًا، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خود پہن رکھا تھا، کسی شخص نے آکر بتایا کہ ابن خطل خانہ کعبہ کے پردوں کے ساتھ چمٹا ہوا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پھر بھی اسے قتل کر دو۔ عبدالرحمن کہتے ہیں کہ میں نے امام مالک رحمہ اللہ کے سامنے جو حدیث پڑھی تھی، اس میں یہ بھی تھا کہ اس دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حالت احرام میں نہ تھے، واللہ اعلم۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12068]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 1846 ، م: 1357
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 1846 ، م: 1357
حدیث نمبر: 12069 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٌ ، مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ كَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ فِي هَذَا الْيَوْمِ؟ يَعْنِي يَوْمَ عَرَفَةَ؟، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُهِلُّ الْمُهِلُّ مِنَّا فَلَا يُنْكِرُ عَلَيْهِ، وَيُكَبِّرُ الْمُكَبِّرُ مِنَّا، فَلَا يُنْكِرُ عَلَيْهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
محمد بن ابی بکر کہتے ہیں کہ میں نے خضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ عرفہ کے دن آپ لوگ کیا کر رہے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ہم میں سے کچھ لوگ تہلیل کہہ رہے تھے، ان پر بھی کوئی نکیر نہ ہوتی تھی اور بعض تکبیر کہہ رہے تھے اور ان پر بھی کوئی نکیر نہ کی گئی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12069]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 970 ، م: 1285
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 970 ، م: 1285
حدیث نمبر: 12070 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ ، أَبِي ، أَبَا هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةً يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي ظِلِّهَا مِائَةَ عَامٍ لَا يَقْطَعُهَا"، قَالَ: فَحَدَّثْتُ بِهِ أَبِي ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ بِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جنت میں ایک درخت ایسا ہے جس کے سائے میں اگر کوئی سوار سو سال تک چلتا رہے تب بھی اس کا سایہ ختم نہ ہوگا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12070]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3251 والقائل : «فحدثت به أبي» هو سليم بن حيان، أبوه : حيان بن بسطام الهذلي البصري، وهذا لم يرو عنه سوى ابنه، وذكره ابن حبان فى الثقات، لكن حديث أبى هريرة صحيح من غير هذا الطريق، وقد سلف برقم: 7498، وهو فى البخاري برقم: 4881
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3251 والقائل : «فحدثت به أبي» هو سليم بن حيان، أبوه : حيان بن بسطام الهذلي البصري، وهذا لم يرو عنه سوى ابنه، وذكره ابن حبان فى الثقات، لكن حديث أبى هريرة صحيح من غير هذا الطريق، وقد سل
حدیث نمبر: 12071 مسند احمد
سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنِ الدُّبَّاءِ، وَالْمُزَفَّتِ، وَأَنْ يُنْبَذَ فِيهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دباء اور مزفت سے اور اس میں پینے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12071]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 5587 ، م: 1992، وتحريم الانتباذ فى هذه الأوعية منسوخ، انظر: 13487، 13615
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 5587 ، م: 1992، وتحريم الانتباذ فى هذه الأوعية منسوخ، انظر: 13487، 13615
حدیث نمبر: 12072 مسند احمد
سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" آخِرُ نَظْرَةٍ نَظَرْتُهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ، كَشَفَ السِّتَارَةَ وَالنَّاسُ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ، فَنَظَرْتُ إِلَى وَجْهِهِ كَأَنَّهُ وَرَقَةُ مُصْحَفٍ، فَأَرَادَ النَّاسُ أَنْ يَتَحَرَّكُوا، فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ أَنْ اثْبُتُوا، وَأَلْقَى السَّجْفَ، وَتُوُفِّيَ فِي آخِرِ ذَلِكَ الْيَوْمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ آخری نظر جو میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر پیر کے دن ڈالی، وہ اس طرح تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے حجرہ مبارکہ کا پردہ ہٹایا، لوگ اس وقت حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی امامت میں نماز ادا کر رہے تھے، میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چہرہ مبارک کو دیکھا تو وہ قرآن کا ایک کھلا ہوا صفحہ محسوس ہو رہا تھا، لوگوں نے اپنی جگہ سے حرکت کرنا چاہی، لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں اشارے سے اپنی جگہ رہنے کا حکم دیا اور پردہ لٹکا لیا اور اسی دن آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دنیا سے رخصت ہوگئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12072]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 754 ، م: 419
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 754 ، م: 419
حدیث نمبر: 12073 مسند احمد
سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، سَمِعَهُ مِنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا تَقَاطَعُوا، وَلَا تَبَاغَضُوا، وَلَا تَدَابَرُوا، وَلَا تَحَاسَدُوا، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا، وَلَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا آپس میں قطع تعلقی، بغض، پشت پھیرنا اور حسد نہ کیا کرو اور اللہ کے بندو! بھائی بھائی بن کر رہا کرو اور کسی مسلمان کے لئے اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع کلامی کرنا حلال نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12073]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 6076 ، م: 2559
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 6076 ، م: 2559
حدیث نمبر: 12074 مسند احمد
سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، سَمِعَهُ مِنْ أَنَسٍ ، قَالَ: سَقَطَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فَرَسٍ فَجُحِشَ شِقُّهُ الْأَيْمَنُ، فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ نَعُودُهُ، فَحَضَرَتْ الصَّلَاةُ، فَصَلَّى قَاعِدًا، وَصَلَّيْنَا قُعُودًا، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ، قَالَ:" إِنَّمَا الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا"، وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً:" فَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقُولُوا: رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، وَإِنْ صَلَّى قَاعِدًا، فَصَلُّوا قُعُودًا أَجْمَعُونَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم گھوڑے سے گرپڑے جس سے دائیں حصے پر زخم آگیا، ہم لوگ عیادت کے لئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئے، اسی دوران نماز کا وقت آگیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بیٹھ کر نماز پڑھائی اور ہم نے بھی بیٹھ کر نماز پڑھی، نماز سے فارغ ہو کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا امام تو ہوتا ہی اس لئے ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، اس لئے جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو، جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو، (جب وہ سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو) جب وہ سمع اللہ لمن حمدہ کہے تو تم ربنا ولک الحمد کہو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم سب بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12074]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 805 ، م: 411
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 805 ، م: 411
حدیث نمبر: 12075 مسند احمد
سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ السَّاعَةِ؟، فَقَالَ:" مَا أَعْدَدْتَ لَهَا؟"، قَالَ: مَا أَعْدَدْتُ لَهَا مِنْ شَيْءٍ، وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً: مَا أَعْدَدْتُ لَهَا كَبِيرَ شَيْءٍ، وَلَكِنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، قَالَ:" الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ"، وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً أُخْرَى: أَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک دیہاتی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قیامت کب قائم ہوگی؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم نے قیامت کے لئے کیا تیاری کر رکھی ہے؟ اس نے کہا کہ میں نے کوئی بہت زیادہ اعمال تو مہیا نہیں کر رکھے، البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے محبت کرتا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ انسان قیامت کے دن اس شخص کے ساتھ ہوگا جس کے ساتھ وہ محبت کرتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12075]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2639
الحكم: إسناده صحيح، م: 2639
حدیث نمبر: 12076 مسند احمد
سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا وُضِعَ الْعَشَاءُ وَأُقِيمَتْ الصَّلَاةُ، فَابْدَءُوا بِالْعَشَاءِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب رات کا کھانا سامنے آجائے اور نماز کھڑی ہوجائے تو پہلے کھانا کھالو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12076]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 672 ، م: 557
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 672 ، م: 557
حدیث نمبر: 12077 مسند احمد
سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، سَمِعَهُ مِنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، وَأَنَا ابْنُ عَشْرٍ، وَمَاتَ وَأَنَا ابْنُ عِشْرِينَ، وَكُنَّ أُمَّهَاتِي تَحُثُّنِي عَلَى خِدْمَتِهِ، فَدَخَلَ عَلَيْنَا، فَحَلَبْنَا لَهُ مِنْ شَاةٍ دَاجِنٍ، وَشِيبَ لَهُ مِنْ بِئْرٍ فِي الدَّارِ، وَأَعْرَابِيٌّ عَنْ يَمِينِهِ، وَأَبُو بَكْرٍ عَنْ يَسَارِهِ، وَعُمَرُ نَاحِيَةً، فَشَرِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ عُمَرُ: أَعْطِ أَبَا بَكْرٍ، فَنَاوَلَ الْأَعْرَابِيَّ، وَقَالَ:" الْأَيْمَنُ فَالْأَيْمَنُ"، وقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً: الزُّهْرِيُّ، أَخْبَرَنَا أَنَسٌ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو میں دس سال کا تھا، جب دنیا سے رخصت ہوئے تو میں بیس سال کا تھا، میری والدہ مجھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت کی ترغیب دیا کرتی تھیں، ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے گھر تشریف لائے ہم نے ایک پالتو بکری کا دودھ دوہا اور گھر کے کنوئیں میں پانی لے کر اس میں ملایا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں پیش کردیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دائیں جانب ایک دیہاتی تھا اور بائیں جانب حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ تھے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی ایک کونے میں تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب اسے نوش فرما چکے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یہ ابوبکر کو دے دیجئے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دودھ کا وہ برتن دیہاتی کو دے دیا اور فرمایا پہلے دائیں ہاتھ والے کو، پھر اس کے بعد والے کو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12077]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 2352 ، م: 2029
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 2352 ، م: 2029
حدیث نمبر: 12078 مسند احمد
سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَوْلَمَ عَلَى صَفِيَّةَ بِتَمْرٍ وَسَوِيقٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ کا ولیمہ کھجوروں اور ستو سے کیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12078]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12079 مسند احمد
سُفْيَانُ ، إِبْرَاهِيمَ بْنَ مَيْسَرَةَ ، مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، أَنَسًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ بْنَ مَيْسَرَةَ ، وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، سَمِعْتُهُمَا، يَقُولَانِ: سَمِعْنَا أَنَسًا ، يَقُولُ:" صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا، وَبِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ میں چار رکعتیں اور ذوالحلیفہ میں دو رکعتیں پڑھی ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12079]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 1089 ، م: 690
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 1089 ، م: 690
حدیث نمبر: 12080 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، أَنَسًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، سَمِعَ أَنَسًا يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" يَتْبَعُ الْمَيِّتَ ثَلَاثٌ: أَهْلُهُ، وَمَالُهُ، وَعَمَلُهُ، فَيَرْجِعُ اثْنَانِ وَيَبْقَى وَاحِدٌ يَرجِع أَهْلُهُ وَمَالُهُ، وَيَبْقَى عَمَلُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا میت کے ساتھ تین چیزیں جاتی ہیں اس کے اہل خانہ، مال اور اعمال، دو چیزیں واپس آجاتی ہیں اور ایک چیز اس کے ساتھ رہ جاتی ہیں، اہل خانہ اور مال واپس آجاتا ہے اور اعمال باقی رہ جاتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12080]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 6514 ، م: 2960
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 6514 ، م: 2960