بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 12067
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 12067
حدیث نمبر: 12067 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، سَعِيدٍ ، وَابْنُ جَعْفَرٍ ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ الْخَفَّافُ ، سَعِيدٍ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، وَابْنُ جَعْفَرٍ ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ الْخَفَّافُ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ قَالَ:" إِنِّي لَأَدْخُلُ الصَّلَاةَ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أُطِيلَهَا، فَأَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ، فَأَتَجَاوَزُ فِي صَلَاتِي، مِمَّا أَعْلَمُ مِنْ شِدَّةِ وَجْدِ أُمِّهِ مِنْ بُكَائِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بعض اوقات میں نماز شروع کرتا ہوں اور ارادہ ہوتا ہے کہ لمبی نماز پڑھاؤں، لیکن پھر کسی بچے کے رونے کی آواز آتی ہے تو میں اپنی نماز کو مختصر کردیتا ہوں، کیونکہ میں جانتا ہوں کہ اس کی ماں اس کے رونے کی وجہ سے کتنی پریشان ہو رہی ہوگی؟۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12067]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 710 ، م: 470
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 710 ، م: 470
← پچھلی حدیث (12066) باب پر واپس اگلی حدیث (12068) →