بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَنَسِ بنِ مَالِك رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2170
صفحہ 80 از 109
حدیث نمبر: 13522 مسند احمد
أَبُو سَلَمَةَ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" َشَهِدْتُهُ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ يَوْمَ دَخَلَ عَلَيْنَا الْمَدِينَةَ، فَلَمْ أَرَ يَوْمًا أَضْوَأَ مِنْهُ، وَلَا أَحْسَنَ مِنْهُ، وَشَهِدْتُهُ يَوْمَ مَاتَ، فَلَمْ أَرَ يَوْمًا أَقْبَحَ مِنْهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اس دن سے زیادہ روشن اور حسین دن کوئی نہیں دیکھا جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ میں داخل ہوئے تھے اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دنیا سے رخصتی کا دن بھی پایا ہے اور اس دن سے زیادہ تاریک اور قبیح دن کوئی نہیں دیکھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13522]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13523 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، شَرِيكٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي نَمِرٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي نَمِرٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" مَا صَلَّيْتُ وَرَاءَ إِمَامٍ قَطُّ، أَخَفَّ صَلَاةً مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا أَتَمَّ، وَإِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ وَرَاءَهُ، فَيُخَفِّفُ، مَخَافَةَ أَنْ يَشُقَّ عَلَى أُمِّهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے زیادہ ہلکی اور مکمل نماز کسی امام کے پیچھے نہیں پڑھی، بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کسی بچے کے رونے کی آواز سن کر نماز مختصر کردیتے تھے، اس اندیشے سے کہ کہیں اس کی ماں پریشان نہ ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13523]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، خ: 708، م: 469
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، خ: 708، م: 469
حدیث نمبر: 13524 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَقُولُ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ، وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ، وَالْكَسَلِ وَالْهَرَمِ، وَضَلَعِ الدَّيْنِ وَغَلَبَةِ الْعَدُوِّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آٹھ چیزوں سے پناہ مانگا کرتے تھے، غم، پریشانی، لاچاری، سستی، بخل، بزدلی، قرضہ کا غلبہ اور دشمن کا غلبہ۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13524]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد جيد، خ: 6369
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد جيد، خ: 6369
حدیث نمبر: 13525 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ ، عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ مِنْ خَيْبَرَ،" فَلَمَّا رَأَى أُحُدًا، قَالَ: هَذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ، فَلَمَّا أَشْرَفَ عَلَى الْمَدِينَةِ، قَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا كَمَا حَرَّمَ إِبْرَاهِيمُ مَكَّةَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خیبر سے واپس آرہے تھے، جب احد پہاڑ نظر آیا تو فرمایا کہ یہ پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں، پھر جب مدینہ کے قریب پہنچے تو فرمایا اے اللہ! میں اس کے دونوں پہاڑوں کے درمیانی جگہ کو حرام قرار دیتا ہوں جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم قرار دیا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13525]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد جيد كسابقه، خ: 3367، م: 1365
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد جيد كسابقه، خ: 3367، م: 1365
حدیث نمبر: 13526 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، هَمَّامٌ ، إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لَا يَطْرُقُ أَهْلَهُ لَيْلًا، كَانَ يَدْخُلُ غُدْوَةً، أَوْ عَشِيَّةً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کو بلا اطلاع سفر سے واپسی پر اپنے گھر میں نہیں آتے تھے بلکہ صبح یا دوپہر کو تشریف لاتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13526]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1800، م: 1928
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1800، م: 1928
حدیث نمبر: 13527 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، زَائِدَةُ ، الْمُخْتَارُ بْنُ فُلْفُلٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا الْمُخْتَارُ بْنُ فُلْفُلٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَوْ رَأَيْتُمْ مَا رَأَيْتُ، لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا، وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا، قَالُوا: وَمَا رَأَيْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: رَأَيْتُ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ، وَحَضَّهُمْ عَلَى الصَّلَاةِ، وَنَهَاهُمْ أَنْ يَسْبِقُوهُ بِالرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ، وَنَهَاهُمْ أَنْ يَنْصَرِفُوا قَبْلَ انْصِرَافِهِ مِنَ الصَّلَاةِ، وَقَالَ: إِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ أَمَامِي، وَمِنْ خَلْفِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز سے فارغ ہو کر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: کیونکہ میں تمہیں اپنے آگے سے بھی دیکھتا ہوں اور پیچھے سے بھی اور اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، جو میں دیکھ چکا ہوں اگر تم نے وہ دیکھا ہوتا تو تم بہت تھوڑے ہنستے اور کثرت سے رویا کرتے، صحابہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! آپ نے کیا دیکھا ہے؟ فرمایا میں نے اپنی آنکھوں سے جنت اور جہنم کو دیکھا ہے۔ لوگو! میں تمہارا امام ہوں، لہٰذا رکوع، سجدہ، قیام، قعود اور اختتام میں مجھ سے آگے نہ بڑھا کرو۔ کیونکہ میں تمہیں اپنے آگے سے بھی دیکھتا ہوں اور پیچھے سے بھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13527]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 419، م: 426
الحكم: إسناده صحيح، خ: 419، م: 426
حدیث نمبر: 13528 مسند احمد
مُؤَمَّلٌ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ: بَلَغَ مُصْعَبَ بْنَ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَرِيفِ الْأَنْصَارِ شَيْءٌ، فَهَمَّ بِهِ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، فَقَالَ لَهُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" اسْتَوْصُوا بِالْأَنْصَارِ خَيْرًا، أَوْ قَالَ: مَعْرُوفًا، اقْبَلُوا مِنْ مُحْسِنِهِمْ، وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ"، فَأَلْقَى مُصْعَبٌ نَفْسَهُ عَنْ سَرِيرِهِ، وَأَلْزَقَ خَدَّهُ بِالْبِسَاطِ، وَقَالَ: أَمْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الرَّأْسِ وَالْعَيْنِ، فَتَرَكَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
علی بن زید کہتے ہیں کہ مصعب بن زبیر کو انصار کے ایک سردار سے کوئی ایسی چیز پہنچی جس کی بناء پر مصعب نے اس سے سمجھنے کا ارادہ کرلیا، اسی اثناء میں حضرت انس رضی اللہ عنہ وہاں تشریف لے آئے اور کہنے لگے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ انصار سے اچھا سلوک کرنے کی وصیت پر عمل کرو، ان کی نیکوں کی نیکی قبول کرو اور ان کے گناہگاروں سے درگذر کیا کرو، یہ سن کر مصعب نے اپنے آپ کو تخت پر گرا لیا اور اپنے رخسار کو تکیے سے لگا لیا اور کہنے لگا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا حکم سر آنکھوں پر اور اسے یہ کہہ کر چھوڑ دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13528]
حکم دارالسلام
المرفوع منه صحيح، وهذا إسناد ضعيف الضعف على بن زيد بن جدعان و مؤمل، لكن مؤملا قد توبع
الحكم: المرفوع منه صحيح، وهذا إسناد ضعيف الضعف على بن زيد بن جدعان و مؤمل، لكن مؤملا قد توبع
حدیث نمبر: 13529 مسند احمد
مُؤَمَّلٌ ، حَمَّادٌ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا سَيِّدَنَا وَابْنَ سَيِّدِنَا، وَيَا خَيْرَنَا وَابْنَ خَيْرِنَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ،" قُولُوا بِقَوْلِكُمْ وَلَا يَسْتَهْوِيَنَّكُمْ الشَّيْطَانُ، أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَرَسُولُ اللَّهِ، وَاللَّهِ مَا أُحِبُّ أَنْ تَرْفَعُونِي فَوْقَ مَا رَفَعَنِي اللَّهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مخاطب کر کے کہا اے ہمارے سردار ابن سردار، اے ہمارے خیر ابن خیر! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا لوگو! تقویٰ کو اپنے اوپر لازم کرلو، شیطان تم پر حملہ نہ کر دے، میں صرف محمد بن عبداللہ ہوں، اللہ کا بندہ اور اس کا پیغمبر ہوں، بخدا! مجھے یہ چیز پسند نہیں ہے کہ تم مجھے میرے مرتبے سے " جو اللہ کے یہاں ہے " بڑھا چڑھا کر بیان کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13529]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف الضعف مؤمل بن إسماعيل، وقد توبع، وانظر ما بعده
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف الضعف مؤمل بن إسماعيل، وقد توبع، وانظر ما بعده
حدیث نمبر: 13530 مسند احمد
الْأَشْيَبُ ، حَمَّادٍ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ ، وَعَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٌ
حَدَّثَنَاه الْأَشْيَبُ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ . وَعَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، وَقَال:" وَلَا يَسْتَجْرِيَنَّكُمُ الشَّيْطَانُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13530]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13531 مسند احمد
مُؤَمَّلٌ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٌ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ الْيَهُودَ دَخَلُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: السَّامُ عَلَيْكَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: السَّامُ عَلَيْكُمْ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: السَّامُ عَلَيْكُمْ يَا إِخْوَانَ الْقِرَدَةِ وَالْخَنَازِيرِ، وَلَعْنَةُ اللَّهِ وَغَضَبُهُ، فَقَالَ: يَا عَائِشَةُ، مَهْ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَمَا سَمِعْتَ مَا قَالُوا؟ قَالَ: أَوَمَا سَمِعْتِ مَا رَدَدْتُ عَلَيْهِمْ؟ يَا عَائِشَةُ،" لَمْ يَدْخُلْ الرِّفْقُ فِي شَيْءٍ إِلَّا زَانَهُ، وَلَمْ يُنْزَعْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا شَانَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کچھ یہودی ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سلام کرتے ہوئے " السام علیکم " کہا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی فرمایا " السام علیکم " حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے پیچھے سے یہودیوں کا یہ جملہ سن کر فرمایا اے بندروں اور خنزیروں کے بھائیو! سام (موت) اور اللہ کی لعنت و غضب تم ہی پر نازل ہو، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو سکون کی تلقین کی، انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! آپ نے سنا نہیں کہ انہوں نے کیا کہا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا عائشہ! میں نے انہیں جو جواب دیا ہے، کیا تم نے نہیں سنا؟ نرمی جس چیز میں بھی شامل ہوجائے، وہ اسے باعث زینت بنا دیتی ہے اور جس چیز سے چھین لی جائے اسے عیب دار بنا دیتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13531]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف الضعف مؤمل بن إسماعيل، والحديث بنحوه فى الصحيح: 6927 من رواية عائشة، وسيأتي فى المسند برقم: 24090
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف الضعف مؤمل بن إسماعيل، والحديث بنحوه فى الصحيح: 6927 من رواية عائشة، وسيأتي فى المسند برقم: 24090
حدیث نمبر: 13532 مسند احمد
مُؤَمَّلٌ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، إِذْ" سَمِعَ رَجُلًا، يَقُولُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَلَى الْفِطْرَةِ، قَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خَرَجَ هَذَا مِنَ النَّارِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کان لگا کر سنا تو ایک آدمی کے اللہ اکبر اللہ اکبر کہنے کی آواز سنائی دی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا فطرت سلیمہ پر ہے، پھر جب اس نے " اشہد ان الا الہ الا اللہ " کہا تو فرمایا کہ تو جہنم کی آگ سے نکل گیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13532]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 2944، م: 382، وهذا إسناد ضعيف الضعف مؤمل، لكنه قد توبع
الحكم: حديث صحيح، خ: 2944، م: 382، وهذا إسناد ضعيف الضعف مؤمل، لكنه قد توبع
حدیث نمبر: 13533 مسند احمد
مُؤَمَّلٌ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَمُرُّ بِالتَّمْرَةِ، فَمَا يَمْنَعُهُ أَنْ يَأْخُذَهَا، إِلَّا مَخَافَةَ أَنْ تَكُونَ مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو راستے میں کھجور پڑی ہوئی ملتی اور انہیں یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ یہ صدقہ کی ہوگی تو وہ اسے کھالیتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13533]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 13534 مسند احمد
مُؤَمَّلٌ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنَّ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ بَعْضُهُمْ: لَا أَتَزَوَّجُ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: أُصَلِّي وَلَا أَنَامُ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: أَصُومُ وَلَا أُفْطِرُ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَا بَالُ أَقْوَامٍ قَالُوا كَذَا وَكَذَا، لَكِنِّي" أَصُومُ وَأُفْطِرُ، وَأُصَلِّي وَأَنَامُ، وَأَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ، فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي، فَلَيْسَ مِنِّي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہ کے ایک گروہ میں سے کسی ایک نے یہ کہا کہ میں کبھی شادی نہیں کروں گا، دوسرے نے یہ کہہ دیا کہ میں ساری رات نماز پڑھا کروں گا اور سونے سے بچوں گا اور تیسرے نے کہہ دیا کہ میں ہمیشہ روزے رکھا کروں گا، کبھی ناغہ نہیں کروں گا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو جب یہ بات معلوم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ ایسی ایسی باتیں کرتے ہیں، میں تو روزہ بھی رکھتا ہوں اور ناغہ بھی کرتا ہوں، نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور عورتوں سے شادی بھی کرتا ہوں اب جو شخص میری سنت سے اعراض کرتا ہے وہ مجھ سے نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13534]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 5063، وهذا إسناد ضعيف لضعف مؤمل بن إسماعيل، وقد توبع
الحكم: حديث صحيح، خ: 5063، وهذا إسناد ضعيف لضعف مؤمل بن إسماعيل، وقد توبع
حدیث نمبر: 13535 مسند احمد
مُؤَمَّلٌ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: مَرَّ رَجُلٌ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ جَالِسٌ، فَقَالَ الرَّجُلُ:" وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي لَأُحِبُّ هَذَا فِي اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَخْبَرْتَهُ بِذَلِكَ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: قُمْ فَأَخْبِرْهُ، تَثْبُتْ الْمَوَدَّةُ بَيْنَكُمَا"، فَقَامَ إِلَيْهِ، فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ: إِنِّي أُحِبُّكَ فِي اللَّهِ، أَوْ قَالَ: أُحِبُّكَ لِلَّهِ، فَقَالَ الرَّجُلُ: أَحَبَّكَ الَّذِي أَحْبَبْتَنِي فِيهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مجلس میں بیٹھا ہوا تھا کہ وہاں سے ایک آدمی کا گذر ہوا، بیٹھے ہوئے لوگوں میں سے کسی نے کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! میں اس شخص سے محبت کرتا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے فرمایا کیا تم نے اسے یہ بات بتائی ہے؟ اس نے کہا نہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پھر جا کر اسے بتادو، اس پر وہ آدمی کھڑا ہوا اور جا کر اس سے کہنے لگا بھائی! میں اللہ کی رضا کے لئے آپ سے محبت کرتا ہوں، اس نے جواب دیا کہ جس ذات کی خاطر تم مجھ سے محبت کرتے ہو وہ تم سے محبت کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13535]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 13536 مسند احمد
مُؤَمَّلٌ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَسْتَسْقِي، فَبَسَطَ يَدَيْهِ ظَاهِرَهُمَا مِمَّا يَلِي السَّمَاءَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بارش کے لئے دعاء کرتے ہوئے دیکھا کہ وہ ہتھیلیوں کا اوپر والا حصہ آسمان کی جانب کر کے ہاتھ پھیلا کر دعاء کر رہے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13536]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 896، وهذا إسناد ضعيف لضعف مؤمل، لكنه متابع
الحكم: حديث صحيح، م: 896، وهذا إسناد ضعيف لضعف مؤمل، لكنه متابع
حدیث نمبر: 13537 مسند احمد
مُؤَمَّلُ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَلْقَى رَجُلًا، فَيَقُولُ: يَا فُلَانُ، كَيْفَ أَنْتَ؟ فَيَقُولُ: بِخَيْرٍ، أَحْمَدُ اللَّهَ، فَيَقُولُ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: جَعَلَكَ اللَّهُ بِخَيْرٍ، فَلَقِيَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ، فَقَالَ: كَيْفَ أَنْتَ يَا فُلَانُ؟ فَقَالَ: بِخَيْرٍ، إِنْ شَكَرْتُ، قَالَ: فَسَكَتَ عَنْهُ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنَّكَ كُنْتَ تَسْأَلُنِي، فَتَقُولُ: جَعَلَكَ اللَّهُ بِخَيْرٍ، وَإِنَّكَ الْيَوْمَ سَكَتَّ عَنِّي، فَقَالَ لَهُ:" إِنِّي كُنْتُ أَسْأَلُكَ، فَتَقُولُ: بِخَيْرٍ، أَحْمَدُ اللَّهَ، فَأَقُولُ: جَعَلَكَ اللَّهُ بِخَيْرٍ، وَإِنَّكَ الْيَوْمَ، قُلْتَ: إِنْ شَكَرْتُ، فَشَكَكْتَ، فَسَكَتُّ عَنْكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی جب بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ملتا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس سے دریافت فرماتے کہ تمہارا کیا حال ہے؟ اور وہ ہمیشہ یہی جواب دیتا کہ الحمدللہ! خیریت سے ہوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسے جواباً فرما دیتے کہ اللہ تمہیں خیریت ہی سے رکھے، ایک دن جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اس سے ملاقات ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حسب معمول اس سے سوال پوچھا کہ تمہارا کیا حال ہے؟ اس نے جواب دیا کہ خیریت سے ہوں بشرطیکہ شکر کروں، اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خاموش ہوگئے۔ اس نے پوچھا کہ اے اللہ کے نبی! پہلے تو جب آپ مجھ سے میرا حال دریافت کرتے تھے تو مجھے دعاء دیتے تھے کہ اللہ تمہیں خیریت سے رکھے، آج آپ خاموش ہوگئے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ پہلے میں تم سے سوال کرتا تھا تو تم یہ کہتے تھے کہ الحمدللہ! خیریت سے ہوں، اس لئے میں جواباً کہہ دیتا تھا کہ اللہ تمہیں خیریت سے رکھے، لیکن آج تم نے کہا کہ " اگر میں شکر کروں " تو مجھے شک ہوگیا اس لئے میں خاموش ہوگیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13537]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لسوء حفظ مؤمل بن إسماعيل، والصحيح أنه مرسل
الحكم: إسناده ضعيف لسوء حفظ مؤمل بن إسماعيل، والصحيح أنه مرسل
حدیث نمبر: 13538 مسند احمد
مُؤَمَّلٌ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، أَيُّوبُ ، أَبِي قِلَابَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: أَنَا أَعْلَمُ النَّاسِ، أَوْ: مِنْ أَعْلَمْ النَّاسِ بِآيَةِ الْحِجَابِ، تَزَوَّجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْنَبَ ابْنَةَ جَحْشٍ، فَذَبَحَ شَاةً، فَدَعَا أَصْحَابَهُ، فَأَكَلُوا وَقَعَدُوا يَتَحَدَّثُونَ، وَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ وَيَدْخُلُ وَهُمْ قُعُودٌ، ثُمَّ يَخْرُجُ فَيَمْكُثُ مَا شَاءَ اللَّهُ، وَيَرْجِعُ وَهُمْ قُعُودٌ، وَزَيْنَبُ قَاعِدَةٌ فِي نَاحِيَةِ الْبَيْتِ، وَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَحْيِي مِنْهُمْ أَنْ يَقُولَ لَهُمْ شَيْئًا، فَنَزَلَتْ: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَى طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ وَلَكِنْ إِذَا دُعِيتُمْ فَادْخُلُوا سورة الأحزاب آية 53 الْآيَاتُ إِلَى قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: فَاسْأَلُوهُنَّ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ سورة الأحزاب آية 53، قَالَ:" فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحِجَابٍ مَكَانَهُ، فَضُرِبَ".
حدیث نمبر: 13539 مسند احمد
مُؤَمَّلٌ ، عُمَارَةُ بْنُ زَاذَانَ ، ثَابِتٌ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ زَاذَانَ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ،" أَنَّ مَلَكَ الْمَطَرِ اسْتَأْذَنَ رَبَّهُ أَنْ يَأْتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَذِنَ لَهُ، فَقَالَ لِأُمِّ سَلَمَةَ: امْلِكِي عَلَيْنَا الْبَابَ، لَا يَدْخُلْ عَلَيْنَا أَحَدٌ، قَالَ: وَجَاءَ الْحُسَيْنُ لِيَدْخُلَ، فَمَنَعَتْهُ، فَوَثَبَ، فَدَخَلَ، فَجَعَلَ يَقْعُدُ عَلَى ظَهَرِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَلَى مَنْكِبِهِ، وَعَلَى عَاتِقِهِ، قَالَ: فَقَالَ الْمَلَكُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَتُحِبُّهُ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: أَمَا إِنَّ أُمَّتَكَ سَتَقْتُلُهُ، وَإِنْ شِئْتَ أَرَيْتُكَ الْمَكَانَ الَّذِي يُقْتَلُ بِهِ، فَضَرَبَ بِيَدِهِ، فَجَاءَ بِطِينَةٍ حَمْرَاءَ، فَأَخَذَتْهَا أُمُّ سَلَمَةَ فَصَرَّتْهَا فِي خِمَارِهَا"، قَالَ: قَالَ ثَابِتٌ: بَلَغَنَا أَنَّهَا كَرْبَلَاءُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ بارش کے ذمے دار فرشتے نے اللہ تعالیٰ سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت چاہی، اللہ تعالیٰ نے اسے اجازت دے دی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس موقع پر حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ دروازے کا خیال رکھو کہ ہمارے پاس کوئی اندر نہ آنے پائے، تھوڑی دیر میں حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ آئے اور گھر میں داخل ہونا چاہا، حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ نے انہیں روکا تو وہ کود کر اندر داخل ہوگئے اور جا کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پشت پر، مونڈھوں اور کندھوں پر بیٹھنے لگے، اس فرشتے نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ کیا آپ کو اس سے محبت ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں! تو فرشتے نے کہا کہ یاد رکھئے! آپ کی امت اسے قتل کر دے گی، اگر آپ چاہیں تو میں آپ کو وہ جگہ بھی دکھا سکتا ہوں جہاں یہ شہید ہوں گے، یہ کہہ کر فرشتے نے اپنا ہاتھ مارا تو اس کے ہاتھ میں سرخ رنگ کی مٹی آگئی، حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ نے وہ مٹی لے کر اپنے دوپٹے میں باندھ لی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13539]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، تفرد به عمارة بن زاذان عن ثابت، وهو يروي عن ثابت عن أنس أحاديث مناكير ، و مؤمل بن إسماعيل سيئ الحفظ، لكنه قد توبع
الحكم: إسناده ضعيف، تفرد به عمارة بن زاذان عن ثابت، وهو يروي عن ثابت عن أنس أحاديث مناكير ، و مؤمل بن إسماعيل سيئ الحفظ، لكنه قد توبع
حدیث نمبر: 13540 مسند احمد
مُؤَمَّلٌ ، حَمَّادٌ ، حُمَيْدٍ ، وَعَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، وَعَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْمَدِينَةُ حَرَامٌ مِنْ كَذَا إِلَى كَذَا، مَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا، أَوْ آوَى مُحْدِثًا، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ صَرْفًا، وَلَا عَدْلًا"، قَالَ حَمَّادٌ: وَزَادَ فِيهَا حُمَيْدٌ: لَا يُحْمَلُ فِيهَا سِلَاحٌ لِقِتَالٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مدینہ منورہ کو اس جگہ سے اس جگہ تک حرم قرار دیا تھا اور فرمایا تھا جو شخص یہاں کوئی بدعت ایجاد کرے یا کسی بدعتی کو ٹھکانہ دے، اس پر اللہ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے یہاں کے درخت نہ کاٹے جائیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13540]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف مؤمل بن إسماعيل، لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف مؤمل بن إسماعيل، لكنه توبع
حدیث نمبر: 13541 مسند احمد
مُؤَمَّلٌ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٌ ، أَنَسٍ
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَمُوتُ، فَيَشْهَدُ لَهُ أَرْبَعَةٌ أَهْلُ أَبْيَاتٍ مِنْ جِيرَانِهِ الْأَدْنَيْنَ، إِلَّا قَالَ: قَدْ قَبِلْتُ عِلْمَكُمْ فِيهِ، وَغَفَرْتُ لَهُ مَا لَا تَعْلَمُونَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اسلام کی حالت میں فوت ہوجائے اور اس کے قریبی پڑوسیوں میں سے چار گھروں کے لوگ اس کے حق میں بہتری کی گواہی دے دیں، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے اس کے متعلق تمہارے علم کو قبول کرلیا اور جو تم نہیں جانتے، اسے معاف کردیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13541]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف مؤمل بن إسماعيل ، والحديث بهذه السياقة غير محفوظ، والمحفوظ كما سيأتي برقم: 13572
الحكم: إسناده ضعيف لضعف مؤمل بن إسماعيل ، والحديث بهذه السياقة غير محفوظ، والمحفوظ كما سيأتي برقم: 13572