بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَنَسِ بنِ مَالِك رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2170
صفحہ 54 از 109
حدیث نمبر: 13002 مسند احمد
بَهْزٌ ، جَرِيرٌ ، قَتَادَةَ ، لِأَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، قَالَ: قُلْتُ لِأَنَسٍ : كَيْفَ كَانَتْ قِرَاءَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ:" كَانَ يَمُدُّ صَوْتَهُ مَدًّا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قرأت کی کیفیت کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی آواز کو کھینچا کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13002]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5045
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5045
حدیث نمبر: 13003 مسند احمد
بَهْزٌ ، أَبُو كَامِلٍ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، وَحَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ قَوْلٍ لَا يُسْمَعُ، وَعَمَلٍ لَا يُرْفَعُ، وَقَلْبٍ لَا يَخْشَعُ، وَعِلْمٍ لَا يَنْفَعُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ دعاء فرمایا کرتے تھے اے اللہ! میں نہ سنی جانے والی بات، نہ بلند ہونے والے عمل، خشوع سے خالی دل اور غیر نافع علم سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13003]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13004 مسند احمد
بَهْزٌ ، وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَمَّادٌ ، قَتَادَةُ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبَرَصِ، وَالْجُنُونِ، وَالْجُذَامِ، وَمِنْ سَيِّئِ الْأَسْقَامِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ دعاء فرمایا کرتے تھے کہ (اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ الْبَرَصِ وَالْجُنُونِ وَالْجُذَامِ وَمِنْ سَيِّئِ الْأَسْقَامِ) اے اللہ! میں برص، جنون، کوڑھ اور ہر بدترین بیماری سے آپ کی پناہ مانگتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13004]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13005 مسند احمد
بَهْزٌ ، حَمَّادٌ ، قَتَادَةُ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَمُرُّ بِالتَّمْرَةِ، فَمَا يَمْنَعُهُ مِنْ أَخْذِهَا إِلَّا مَخَافَةُ أَنْ تَكُونَ صَدَقَةً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو راستے میں کھجور پڑی ہوئی ملتی اور انہیں یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ یہ صدقہ کی ہوگی تو وہ اسے کھالیتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13005]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر: 12913
الحكم: إسناده صحيح، وانظر: 12913
حدیث نمبر: 13006 مسند احمد
بَهْزٌ ، حَمَّادٌ ، قَتَادَةُ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ جَارِيَةً وُجِدَ رَأْسُهَا بَيْنَ حَجَرَيْنِ، فَقِيلَ لَهَا: مَنْ فَعَلَ بِكِ هَذَا؟ أَفُلَانٌ؟ أَفُلَانٌ؟ حَتَّى سَمَّى الْيَهُودِيَّ، فَأَوْمَأَتْ بِرَأْسِهَا نَعَمْ، فَأُخِذَ الْيَهُودِيُّ، فَاعْتَرَفَ، فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرُضَّ رَأْسُهُ بِالْحِجَارَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک یہودی نے ایک انصاری بچی کو پتھر مار مار کر اس کا سر کچل دیا، اس بچی سے پوچھا کہ کیا تمہارے ساتھ یہ سلوک فلاں نے کیا ہے، فلاں نے کیا ہے یہاں تک کہ جب اس یہودی کا نام آیا تو اس نے سر کے اشارے سے ہاں کہہ دیا، اس یہودی کو پکڑ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے لایا گیا، اس نے اپنے جرم کا اعتراف کرلیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حکم دیا اور اس کا سر بھی پتھروں سے کچل دیا گیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13006]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6885، م: 1672
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6885، م: 1672
حدیث نمبر: 13007 مسند احمد
بَهْزٌ ، أَبُو هِلَالٍ ، قَتَادَةُ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو هِلَالٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" وَعَدَنِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُدْخِلَ لي مِنْ أُمَّتِي الْجَنَّةَ مِائَةَ أَلْفٍ" فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، زِدْنَا، فقَالَ لَهُ:" وَهَكَذَا" وَأَشَارَ بِيَدِهِ، قَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، زِدْنَا، فَقَالَ:" وَهَكَذَا" وَأَشَارَ بِيَدِهِ، قَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، زِدْنَا، قَالَ:" وَهَكَذَا" فَقَالَ له عُمَرُ قَطْكَ يَا أَبَا بَكْرٍ، قَالَ: مَا لَنَا وَلَكَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ، قَالَ لَهُ عُمَرُ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَادِرٌ أَنْ يُدْخِلَ النَّاسَ الْجَنَّةَ كُلَّهُمْ بِحَفْنَةٍ وَاحِدَةٍ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَدَقَ عُمَرُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھ سے یہ وعدہ فرمایا ہے کہ وہ میری امت کے چار لاکھ آدمیوں کو جنت میں داخل فرمائے گا، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! اس تعداد میں اضافہ کیجئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی ہتھیلی جمع کر کے فرمایا کہ اتنے افراد مزید ہوں گے، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پھر عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! اس تعداد میں اضافہ کیجئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھر اپنی ہتھیلی جمع کر کے فرمایا کہ اتنے افراد مزید ہوں گے، اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ ابوبکر! بس کیجئے، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا عمر! پیچھے ہٹو، اگر اللہ تعالیٰ ہم سب ہی کو جنت میں کلی طور پر داخل فرما دے تو تمہارا اس میں کوئی حرج نہیں ہے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر اللہ چاہے تو ایک ہی ہاتھ میں ساری مخلوق کو جنت میں داخل کر دے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا عمر سچ کہتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13007]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد لأجل أبى هلال الراسبي، وقد توبع، انظر: 12695
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد لأجل أبى هلال الراسبي، وقد توبع، انظر: 12695
حدیث نمبر: 13008 مسند احمد
بَهْزٌ ، أَبُو هِلَالٍ ، قَتَادَةُ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو هِلَالٍ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَزَالُ الْعَبْدُ بِخَيْرٍ مَا لَمْ يَسْتَعْجِلْ" قَالُوا: يَا نبيَّ الله، كَيْفَ يَسْتَعْجِلُ؟ قَالَ:" يَقُولُ دَعَوْتُ رَبِّي فَلَمْ يَسْتَجِبْ لِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا بندہ اس وقت تک خیر پر رہتا ہے جب تک وہ جلد بازی سے کام نہ لے، صحابہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! جلدی سے کیا مراد ہے؟ فرمایا بندہ یوں کہنا شروع کر دے کہ میں اپنے پروردگار سے اتنی دعائیں کیں لیکن اس نے قبول ہی نہیں کی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13008]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن فى الشواهد، يشهد له حديث أبى هريرة السالف برقم: 10312
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن فى الشواهد، يشهد له حديث أبى هريرة السالف برقم: 10312
حدیث نمبر: 13009 مسند احمد
بَهْزٌ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ، لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا، وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو میں جانتا ہوں اگر تم وہ جانتے ہوتے تو تم بہت تھوڑا ہنستے اور کثرت سے رویا کرتے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13009]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4621، م: 2359، وانظر: 12859
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4621، م: 2359، وانظر: 12859
حدیث نمبر: 13010 مسند احمد
بَهْزٌ ، أَبَانُ ، قَتَادَةُ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ:" بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ" وَرَفَعَ أُصْبُعَيْهِ السَّبَّابَةَ وَالْوُسْطَى: فَضَّلَ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں اور قیامت ان دو انگلیوں کی طرح اکٹھے بھیجے گئے ہیں، یہ کہہ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے شہادت والی انگلی اور درمیانی انگلی کی طرف اشارہ فرمایا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13010]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6504، م: 2951
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6504، م: 2951
حدیث نمبر: 13011 مسند احمد
بَهْزٌ ، عَفَّانُ ، سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٌ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، وَحَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، قَالَ عَفَّانُ: حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، قَالَ أَنَسٌ : كُنَّا قد نُهِينَا فِي الْقُرْآنِ أَنْ نَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَيْءٍ، قَالَ: وَكَانَ يُعْجِبُنَا أَنْ يَجِيءَ الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ، الْعَاقِلُ، فيَسْأَلُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَجَاءَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، أَتَانَا رَسُولُكَ، وَزَعَمَ لَنَا أَنَّكَ تَزْعُمُ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَرْسَلَكَ! قَالَ:" صَدَقَ" قَالَ: فَمَنْ خَلَقَ السَّمَاءَ؟ قَالَ:" اللَّهُ" قَالَ: فَمَنْ خَلَقَ الْأَرْضَ؟ قَالَ:" اللَّهُ" قَالَ: فَمَنْ نَصَبَ هَذِهِ الْجِبَالَ؟ قَالَ:" اللَّهُ" قَالَ: فَبِالَّذِي خَلَقَ السَّمَاءَ، وَخَلَقَ الْأَرْضَ، وَنَصَبَ الْجِبَالَ، آللَّهُ أَرْسَلَكَ؟ قَالَ:" نَعَمْ" قَالَ: وَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي يَوْمِنَا وَلَيْلَتِنَا! قَالَ" صَدَقَ" قَالَ: فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ، آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا؟ قَالَ:" نَعَمْ"، قَالَ: وَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا زَكَاةً فِي أَمْوَالِنَا! قَالَ:" صَدَقَ" قَالَ: فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ، آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا؟ قَالَ:" نَعَمْ"، قَالَ: وَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا صَوْمَ شَهْرِ رَمَضَانَ فِي سَنَتِنَا! قَالَ عَفَّانُ قَالَ:" صَدَقَ" قَالَ: فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ، آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا؟ قَالَ:" نَعَمْ"، وَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا الْحَجَّ مَنْ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا! قَالَ:" صَدَقَ" قَالَ: فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ، آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا؟ قَالَ:" نَعَمْ" قَالَ عَفَّانُ: ثُمَّ وَلَّى، ثُمَّ قَالَ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، لَا أَزِيدُ وَلَا أَنْتَقِصُ مِنْهُنَّ شَيْئًا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَئِنْ صَدَقَ، لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ (چونکہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بکثرت سوال کرنے سے ہمیں قرآن میں ممانعت کردی گئی تھی، اس لئے ہم دل سے یہ خواہش مند ہوتے تھے کہ کوئی عقل مند بدوی آکر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کوئی مسئلہ دریافت کرے اور ہم سنیں، چنانچہ (ایک مرتبہ) بدوی نے حاضر ہو کر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا کہ آپ کا قاصد ہمارے پاس آیا تھا اور کہتا تھا کہ آپ فرماتے ہیں کہ اللہ نے مجھ کو پیغمبر بنایا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وہ ٹھیک کہتا تھا، بدوی بولا آسمانوں، زمینوں اور پہاڑوں کو کس نے پیدا کیا؟ آپ نے فرمایا خداوند نے، بدوی بولا آپ کو قسم ہے اس ذات پاک کی جس نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا، پہاڑوں کو قائم کیا، (یہ بتائیے کہ) کیا واقعی اللہ تعالیٰ نے آپ کو رسول بنا کر بھیجا ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں! بدوی بولا آپ کا قاصد کہتا تھا کہ ہم پر دن رات میں پانچ نمازیں فرض ہیں، حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس نے ٹھیک کہا، بدوی بولا آپ کو اس اللہ کی قسم! جس نے آپ کو رسول بنا کر بھیجا ہے (بتائیے) کیا آپ کو اللہ نے اس کا حکم دیا ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں! بدوی بولا آپ کے قاصد نے کہا تھا کہ ہم پر اپنے مال کی زکوٰۃ نکالنا فرض ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس نے سچ کہا، اس نے کہا کہ اس اللہ کی قسم جس نے آپ کو بھیجا ہے کیا اس نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں! اس نے کہا کہ آپ کے قاصد کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم پر سال میں ایک ماہ کے روزے فرض ہیں؟ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس نے سچ کہا، بدوی بولا آپ کو اس اللہ کی قسم! جس نے آپ کو پیغمبر بنایا ہے (یہ بتائیے کہ) کیا آپ کو اللہ نے اس کا حکم دیا ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں! بدوی بولا آپ کے قاصد نے یہ بھی کہا تھا کہ ہم میں سے صاحب استطاعت پر حج فرض ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس نے سچ کہا آخر کار وہ بدوی پیٹھ پھیر کر جاتے ہوئے کہنے لگا کہ اس اللہ کی قسم! جس نے آپ کو سچائی کے ساتھ مبعوث فرمایا میں اس میں ذرا بھی کمی بیشی نہیں کروں گا، حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر یہ سچا ہے تو جنت میں داخل ہوگیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13011]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 12
الحكم: إسناده صحيح، م: 12
حدیث نمبر: 13012 مسند احمد
بَهْزٌ ، وَحَجَّاجٌ ، سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، وَحَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ الْمَعْنَى، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي رَمَضَانَ، فَجِئْتُ فَقُمْتُ خَلْفَهُ، قَالَ: وَجَاءَ رَجُلٌ فَقَامَ إِلَى جَنْبِي، ثُمَّ جَاءَ آخَرُ حَتَّى كُنَّا رَهْطًا، فَلَمَّا أَحَسَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّا خَلْفَهُ تَجَوَّزَ فِي الصَّلَاةِ، ثُمَّ قَامَ، فَدَخَلَ مَنْزِلَهُ، فَصَلَّى صَلَاةً لَمْ يُصَلِّهَا عِنْدَنَا، قَالَ: فَلَمَّا أَصْبَحْنَا قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَطِنْتَ بِنَا اللَّيْلَةَ؟ قَالَ:" نَعَمْ، فَذَاكَ الَّذِي حَمَلَنِي عَلَى الَّذِي صَنَعْتُ"، قَالَ: ثُمَّ أَخَذَ يُوَاصِلُ وَذَاكَ فِي آخِرِ الشَّهْرِ، قَالَ: فَأَخَذَ رِجَالٌ يُوَاصِلُونَ مِنْ أَصْحَابِهِ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا بَالُ رِجَالٍ يُوَاصِلُونَ، إِنَّكُمْ لَسْتُمْ مِثْلِي، أَمَا وَاللَّهِ لَوْ مُدَّ لِي الشَّهْرُ لَوَاصَلْتُ وِصَالًا يَدَعُ الْمُتَعَمِّقُونَ تَعَمُّقَهُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ماہ رمضان میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز پڑھا رہے تھے، میں آکر ان کے پیچھے کھڑا ہوگیا، ایک اور آدمی آکر میرے ساتھ کھڑا ہوگیا، اسی طرح ہوتے ہوتے ایک جماعت بن گئی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو جب اپنے پیچھے میری موجودگی کا احساس ہوا تو نماز مختصر کر کے اپنے گھر چلے گئے اور وہاں ویسی نماز پڑھی جو ہمارے سامنے نہ پڑھی تھی، صبح ہوئی تو ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! رات کو آپ نے ہماری موجودگی کو بھانپ لیا تھا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں اور اسی وجہ سے میں نے ایسا کیا تھا، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مہینے کے آخر میں صوم وصال فرمایا: کچھ لوگوں نے بھی ایسا ہی کیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو خبر ہوئی تو فرمایا کہ لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ وصال کرتے ہیں، اگر یہ مہینہ لمبا ہوجاتا تو میں اتنے دن مسلسل روزہ رکھتا کہ دین میں تعمق کرنے والے اپنا تعمق چھوڑ دیتے، میں تمہاری طرح نہیں ہوں، (مجھے تو میرا رب کھلاتا پلاتا رہتا ہے) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13012]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7241، م: 1104
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7241، م: 1104
حدیث نمبر: 13013 مسند احمد
بَهْزٌ ، حَجَّاجٌ ، سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، وَحَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَا هُوَ إِلَّا أَنَا وَأُمِّي وَأُمُّ حَرَامٍ خَالَتِي، قَالَ: فَقَالَ:" قُومُوا فَلِأُصَلِّي لَكُمْ" فِي غَيْرِ وَقْتِ صَلَاةٍ قَالَ حَجَّاجٌ، قَالَ: فَصَلَّى بِنَا صَلَاةً، قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ لِثَابِتٍ أَيْنَ جَعَلَ أَنَسًا؟ قَالَ: جَعَلَهُ عَلَى يَمِينِهِ قَالَ: ثُمَّ دَعَا لَنَا أَهْلَ الْبَيْتِ بِكُلِّ خَيْرٍ مِنْ خَيْرِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، قَالَ: قَالَتْ أُمِّي: يَا رَسُولَ اللَّهِ، خُوَيْدِمُكَ، ادْعُ اللَّهَ لَهُ، قَالَ: فَدَعَا لِي بِكُلِّ خَيْرٍ، قَالَ بَهْزٌ بخير وَكَانَ فِي آخِرِ مَا دَعَا بِهِ لي، قال:" اللَّهُمَّ أَكْثِرْ مَالَهُ وَوَلَدَهُ، وَبَارِكْ لَهُ فِيهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے یہاں تشریف لائے، اس وقت گھر میں میرے والد اور میری خالہ ام حرام کے علاوہ کوئی نہ تھا، نماز کا وقت نہ تھا لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اٹھو میں تمہارے لئے نماز پڑھ دوں (چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی) راوی نے ثابت سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو کہاں کھڑا کیا تھا؟ انہوں نے کہا دائیں جانب، بہرحال! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمارے اہل خانہ کے لئے دنیا و آخرت کی تمام بھلائیاں مانگیں، پھر میری والدہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! اپنے خادم انس کے لئے دعاء کر دیجئے، اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دنیا و آخرت کی ہر خیر میرے لئے مانگی اور فرمایا اے اللہ! اسے مال اور اولاد عطاء فرما اور ان میں برکت عطاء فرما۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13013]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1982، م: 660
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1982، م: 660
حدیث نمبر: 13014 مسند احمد
بَهْزٌ ، وَعَفَّانُ ، سُلَيْمَانُ ، هَاشِمٌ ، سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَفَّانُ ، ثَابِتٌ ، أَنَسٌ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، وَحَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حدثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، قَالَ عَفَّانُ : حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وُلِدَ لِي اللَّيْلَةَ غُلَامٌ فَسَمَّيْتُهُ بِاسْمِ أَبِي إِبْرَاهِيمَ" قَالَ: ثُمَّ دَفَعَهُ إِلَى أُمِّ سَيْفٍ امْرَأَةِ قَيْنٍ يُقَالُ لَهُ: أَبُو سَيْفٍ بِالْمَدِينَةِ، قَالَ: فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِيهِ، وَانْطَلَقْتُ مَعَهُ، فَانْتَهَيْتُ إِلَى أَبِي سَيْفٍ وَهُوَ يَنْفُخُ بِكِيرِهِ، وَقَدْ امْتَلَأَ الْبَيْتُ دُخَانًا، قَالَ: فَأَسْرَعْتُ الْمَشْيَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَقُلْتُ: يَا أَبَا سَيْفٍ، جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَأَمْسَكَ، قَالَ: فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَا بِالصَّبِيِّ فَضَمَّهُ إِلَيْهِ، قَالَ أَنَسٌ: فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَكِيدُ بِنَفْسِهِ، قَالَ: فَدَمَعَتْ عَيْنَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَدْمَعُ الْعَيْنُ، وَيَحْزَنُ الْقَلْبُ، وَلَا نَقُولُ إِلَّا مَا يُرْضِي رَبَّنَا، وَاللَّهِ إِنَّا بِكَ يَا إِبْرَاهِيمُ لَمَحْزُونُونَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ آج رات میرے یہاں بچہ پیدا ہوا ہے، میں نے اس کا نام اپنے جد امجد حضرت ابراہیم علیہ السلام کے نام پر رکھا ہے، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کو دودھ پلانے کے لئے مدینہ کے ایک لوہار "" جس کا نام ابوسیف تھا "" کی بیوی ام سیف کے حوالے کردیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بچے سے ملنے کے لئے وہاں جایا کرتے تھے، میں بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ گیا ہوں، وہاں پہنچے تو ابوسیف بھٹی پھونک رہے تھے اور پورا گھر دھوئیں سے بھرا ہوا تھا، میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے آگے تیزی سے چلتا ہوا ابوسیف کے پاس پہنچا اور ان سے کہا کہ ابوسیف! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لائے ہیں، چنانچہ وہ رک گئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13014]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1303، م: 2315
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1303، م: 2315
حدیث نمبر: 13015 مسند احمد
بَهْزٌ ، هَاشِمٌ ، سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٌ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، وَحَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، قَالَ: قَالَ أَنَسٌ عَمِّي: قَالَ هَاشِمٌ: أَنَسُ بْنُ النَّضْرِ، سُمِّيتُ بِهِ لَمْ يَشْهَدْ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ بَدْرٍ، قَالَ: فَشَقَّ عَلَيْهِ، وَقَالَ: فأَوَّلِ مَشْهَدٍ شَهِدَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غِبْتُ عَنْهُ! لَئِنْ أَرَانِي اللَّهُ مَشْهَدًا فِيمَا بَعْدُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَرَيَنَّ اللَّهُ مَا أَصْنَعُ، قَالَ: فَهَابَ أَنْ يَقُولَ غَيْرَهَا، قَالَ: فَشَهِدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ، قَالَ: فَاسْتَقْبَلَ سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ، قَالَ: فَقَالَ لَهُ أَنَسٌ: يَا أَبَا عَمْرٍو، أَيْنَ؟ قَالَ: وَاهًا لِرِيحِ الْجَنَّةِ أَجِدُهُ دُونَ أُحُدٍ، قَالَ: فَقَاتَلَهُمْ حَتَّى قُتِلَ، فَوُجِدَ فِي جَسَدِهِ بِضْعٌ وَثَمَانُونَ مِنْ ضَرْبَةٍ، وَطَعْنَةٍ، وَرَمْيَةٍ، قَالَ: فَقَالَتْ أُخْتُهُ: عَمَّتِي الرُّبَيِّعُ بِنْتُ النَّضْرِ فَمَا عَرَفْتُ أَخِي إِلَّا بِبَنَانِهِ، وَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلا سورة الأحزاب آية 23، قَالَ: فَكَانُوا يَرَوْنَ أَنَّهَا نَزَلَتْ فِيهِ وَفِي أَصْحَابِهِ.
حدیث نمبر: 13016 مسند احمد
بَهْزٌ ، حَجَّاجٌ ، سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٌ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، وَحَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، قَالَ: قَالَ أَنَسٌ : إِنِّي لَقَاعِدٌ عِنْدَ الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، إِذْ قَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْمَسْجِدِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، حُبِسَ الْمَطَرُ، هَلَكَتْ الْمَوَاشِي، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَسْقِيَنَا، قَالَ أَنَسٌ فَرَفَعَ يَدَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَا أَرَى فِي السَّمَاءِ مِنْ سَحَابٍ، فَأُلِّفَ بَيْنَ السَّحَابِ، قَالَ حَجَّاجٌ: فَأَلَّفَ اللَّهُ بَيْنَ السَّحَابِ، فَوَأَلْنَا، قَالَ حَجَّاجٌ: سَعَيْنَا حَتَّى رَأَيْتُ الرَّجُلَ الشَّدِيدَ تَهُمُّهُ نَفْسُهُ أَنْ يَأْتِيَ أَهْلَهُ، فَمُطِرْنَا سَبْعًا، وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ فِي الْجُمُعَةِ الْمُقْبِلَةِ، إِذْ قَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْمَسْجِدِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تَهَدَّمَتْ الْبُيُوتُ، حُبِسَ السِّفَارُ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَرْفَعَهَا عَنَّا، قَالَ: فَرَفَعَ يَدَيْهِ، فَقَالَ:" اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا" قَالَ: فَتَقَوَّرَ مَا فَوْقَ رَأْسِنَا مِنْهَا، حَتَّى كَأَنَّا فِي إِكْلِيلٍ، يُمْطَرُ مَا حَوْلَنَا وَلَا نُمْطَرُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دعاء میں ہاتھ اٹھاتے تھے؟ تو انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ جمعہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے لوگوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! بارش رکی ہوئی ہے، زمینیں خشک پڑی ہیں اور مال تباہ ہو رہا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ سن کر اپنے ہاتھ بلند کئے کہ مجھے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مبارک بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگی اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے طلب باراں کے حوالے سے دعاء فرمائی۔ جس وقت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے دست مبارک بلند کئے تھے، اس وقت ہمیں آسمان پر کوئی بادل نظر نہیں آرہا تھا اور جب نماز سے فارغ ہوئے تو قریب کے گھر میں رہنے والے نوجوانوں کو اپنے گھر واپس پہنچنے میں دشواری ہو رہی تھی، جب اگلا جمعہ ہوا تو لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! گھروں کی عمارتیں گرگئیں اور سوار مدینہ سے باہر رکنے پر مجبور ہوگئے، یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ابن آدم کی اکتاہٹ پر مسکرا پڑے اور اللہ سے دعا کی کہ اے اللہ! یہ بارش ہمارے ارد گرد فرما، ہم پر نہ برسا، چنانچہ مدینہ سے بارش چھٹ گئی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13016]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 938، 3582، م: 897
الحكم: إسناده صحيح، خ: 938، 3582، م: 897
حدیث نمبر: 13017 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ الْأَنْصَارِيِّ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَدَحٍ مِنْ مَاءٍ فَتَوَضَّأَ، قَالَ: فَقُلْتُ لِأَنَسٍ: أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: قُلْتُ: فَأَنْتُمْ؟ قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي الصَّلَوَاتِ بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ، قَالَ: ثُمَّ سَأَلْتُهُ بَعْدَ ذَلِكَ، فَقَالَ: مَا لَمْ نُحْدِثْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس وضو کے لئے پانی کا برتن لایا گیا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے وضو فرمایا: راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہر نماز کے وقت نیا وضو فرماتے تھے؟ انہوں نے فرمایا ہاں! راوی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ لوگ کیا کرتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم بےوضو ہونے تک ایک ہی وضو سے کئی کئی نمازیں بھی پڑھ لیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13017]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 214
الحكم: إسناده صحيح، خ: 214
حدیث نمبر: 13018 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، شُعْبَةَ ، أَبِي التَّيَّاحِ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ شُعْبَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَبْلَ أَنْ يَبْنِيَ الْمَسْجِدَ يُصَلِّي فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مسجد نبوی کی تعمیر سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بکریوں کے باڑے میں بھی نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13018]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 234، م: 524
الحكم: إسناده صحيح، خ: 234، م: 524
حدیث نمبر: 13019 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْمُخْتَارِ ، مُوسَى بْنِ أَنَسٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ: شُعْبَةُ حَدَّثَنَا، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْمُخْتَارِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّهُ كَانَ هُوَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأُمُّهُ أوَ خَالَتُهُ، فَصَلَّى بِهِمْ فَجُعِلَ أَنَسٌ عَنْ يَمِينِهِ، وَأُمُّهُ أوَ خَالَتُهُ خَلْفَهُمَا"، قَالَ شُعْبَةُ: كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُخْتَارِ أَشَبَّ مِنِّي.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ، ان کی والدہ اور خالہ تھیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سب کو نماز پڑھائی، انس رضی اللہ عنہ کو دائیں جانب اور ان کی والدہ اور خالہ کو ان کے پیچھے کھڑا کردیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13019]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 660
الحكم: إسناده صحيح، م: 660
حدیث نمبر: 13020 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" لَا يَتَمَنَّى أَحَدُكُمْ الْمَوْتَ لِضُرٍّ أَصَابَهُ، فَإِنْ كَانَ لَا بُدَّ فَاعِلًا فَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مَا كَانَتْ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي، وَتَوَفَّنِي إِذَا كَانَتْ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص اپنے اوپر آنے والی کسی تکلیف کی وجہ سے موت کی تمنا نہ کرے، اگر موت کی تمنا کرنا ہی ضروری ہو تو اسے یوں کہنا چاہئے کہ اے اللہ! جب تک میرے لئے زندگی میں کوئی خیر ہے، مجھے اس وقت تک زندہ رکھ اور جب میرے لئے موت میں بہتری ہو تو مجھے موت عطاء فرما دینا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13020]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5671، م: 2680
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5671، م: 2680
حدیث نمبر: 13021 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، سُلَيْمَانُ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" خَدَمْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ سِنِينَ، وَمَا كُلُّ أَمْرِي كَمَا يُحِبُّ صَاحِبِي أَنْ يَكُونَ، مَا قَالَ لِي فِيهَا أُفٍّ، وَلَا قَالَ لِي: لِمَ فَعَلْتَ هَذَا؟ وَأَلَّا فَعَلْتَ هَذَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے دس سال سفر وحضر میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت کا شرف حاصل کیا ہے، یہ ضروری نہیں ہے کہ میرا ہر کام نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پسند ہی ہو، لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے کبھی اف تک نہیں کہا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے کبھی یہ نہیں فرمایا کہ تم نے یہ کام کیوں کیا؟ یا یہ کام کیوں نہیں کیا؟ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13021]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2768 م: 2309
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2768 م: 2309