بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَنَسِ بنِ مَالِك رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2170
صفحہ 78 از 109
حدیث نمبر: 13482 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيُّ ثُمَّ الظَّفَرِيُّ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيُّ ثُمَّ الظَّفَرِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ:" مَا كَانَ أَحَدٌ أَشَدَّ تَعَجُّلًا لِصَلَاةِ الْعَصْرِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنْ كَانَ أَبْعَدَ رَجُلَيْنِ مِنَ الْأَنْصَارِ دَارًا مِنْ مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَأَبُو لُبَابَةَ بْنُ عَبْدِ الْمُنْذِرِ أَخُو بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، وَأَبُو عَبْسِ بْنُ جَبْرٍ أَخُو بَنِي حَارِثَةَ، دَارُ أَبِي لُبَابَةَ بِقُبَاءَ، ودَارُ أَبِي عَبْسِ بْنِ جَبْرٍ فِي بَنِي حَارِثَةَ، ثُمَّ إِنْ كَانَا لَيُصَلِّيَانِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ، ثُمَّ يَأْتِيَانِ قَوْمَهُمَا وَمَا صَلَّوْهَا لِتَبْكِيرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نماز عصر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے زیادہ جلدی پڑھنے والا کوئی نہ تھا، انصار میں سے دو آدمی ایسے تھے جن کا گھر مسجد نبوی سے سب سے زیادہ دور تھا، ایک تو حضرت ابو لبابہ بن عبدالمنذر رضی اللہ عنہ تھے جن کا تعلق بنو عمرو بن عوف سے تھا اور دوسرے حضرت ابوعبس بن جبر رضی اللہ عنہ تھے جن کا تعلق بنو حارثہ سے تھا، حضرت ابولبابہ رضی اللہ عنہ کا گھر قباء میں تھا اور حضرت ابوعبس رضی اللہ عنہ کا گھر بنو حارثہ میں تھا، یہ دونوں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نماز عصر پڑھتے اور جب اپنی قوم میں واپس پہنچتے تو انہوں نے اب تک نماز عصر نہ پڑھی ہوتی تھی کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسے جلدی پڑھ لیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13482]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 13483 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، زِيَادُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، أَخْبَرَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي زِيَادُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: انْصَرَفْتُ مِنَ الظُّهْرِ أَنَا وَعُمَرُ حِينَ صَلَّاهَا هِشَامُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بِالنَّاسِ، إِذْ كَانَ عَلَى الْمَدِينَةِ، إِلَى عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ نَعُودُهُ فِي شَكْوَى لَهُ، فَمَا قَعَدْنَا مَا سَأَلْنَا عَنْهُ إِلَّا قِيَامًا، قَالَ: ثُمَّ انْصَرَفْنَا، فَدَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فِي دَارِهِ، وَهِيَ إِلَى جَنْبِ دَارِ أَبِي طَلْحَةَ، قَالَ: فَلَمَّا قَعَدْنَا أَتَتْهُ الْجَارِيَةُ، فَقَالَتْ: الصَّلَاةَ يَا أَبَا حَمْزَةَ، قَالَ: قُلْنَا: أَيُّ الصَّلَاةِ رَحِمَكَ اللَّهُ؟ قَالَ: الْعَصْرُ، قَالَ: فَقُلْنَا: إِنَّمَا صَلَّيْنَا الظُّهْرَ الْآنَ! قَالَ: فَقَالَ: إِنَّكُمْ تَرَكْتُمُ الصَّلَاةَ حَتَّى نَسَيْتُمُوهَا أَوْ قَالَ: نُسِّيتُمُوهَا حَتَّى تَرَكْتُمُوهَا، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولَ:" بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ" وَمَدَّ أُصْبُعَيْهِ السَّبَّابَةَ وَالْوُسْطَى.
حکم دارالسلام
إسناده حسن، خ: 6504، م: 2951
الحكم: إسناده حسن، خ: 6504، م: 2951
حدیث نمبر: 13484 مسند احمد
إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، أَبُو أُوَيْسٍ ، الزُّهْرِيِّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَخِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: إِنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْكَوْثَرِ، فَذَكَرَهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" أَكَلَتُهَا أَنْعَمُ مِنْهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
زیاد بن ابی زیاد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ میں اور عمر ظہر کی نماز پڑھ کر فارغ ہوئے، یہ نماز ہشام بن اسماعیل نے لوگوں کو پڑھائی تھی، کہ اس وقت مدینے کے گورنر وہی تھے، نماز پڑھ کر ہم عمرو بن عبداللہ کی مزاج پرسی کے لئے گئے، وہاں ہم بیٹھے نہیں، صرف کھڑے کھڑے ہی ان کا حال دریافت کیا، پھر حضرت انس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، ان کا گھر حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے گھر کے ساتھ تھا، ابھی ہم وہاں جا کر بیٹھے ہی تھے کہ ایک باندی ان کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ اے ابوحمزہ! نماز کا وقت ہوگیا ہے، ہم نے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمتیں آپ پر نازل ہوں، کون سی نماز؟ انہوں نے فرمایا نماز عصر ہم نے عرض کیا کہ ہم تو ظہر کی نماز ابھی پڑھ کر آئے ہیں، انہوں نے فرمایا تم نے نماز کو چھوڑ دیا یہاں تک کہ تم نے اسے بھلا دیا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مجھے اور قیامت کو ان دو انگلیوں کی طرح ایک ساتھ بھیجا گیا ہے، یہ کہہ کر اپنی شہادت والی اور درمیان والی انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے اسے دراز کیا۔ حدیث نمبر (١٣٥٠٩) اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13484]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل أبى أويس الأصبحي
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل أبى أويس الأصبحي
حدیث نمبر: 13485 مسند احمد
إِبْرَاهِيمُ ، أَبُو أُوَيْسٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ ، أَبِيهِ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ ابْنُ أَخِي الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْكَوْثَرِ، مِثْلَ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ سَوَاءً.
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد
حدیث نمبر: 13486 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيِّ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" إِذَا غَشِيَ قَرْيَةً بَيَاتًا، لَمْ يُغِرْ حَتَّى يُصْبِحَ، فَإِنْ سَمِعَ تَأْذِينًا لِلصَّلَاةِ أَمْسَك، وإِنْ لَمْ يَسْمَعَ تَأْذِينًا لِلصَّلَاةِ، أَغَارَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ہمارے پاس دستیاب نسخے میں یہاں صرف لفظ " حدثنا " لکھا ہوا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13486]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل ابن إسحاق
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل ابن إسحاق
حدیث نمبر: 13487 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، يَحْيَى بْنُ الْحَارِثِ الْجَابِرُ ، عَبْدِ الْوَارِثِ ، وَعَمْرِو بْنِ عَامِرٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ الْحَارِثِ الْجَابِرُ ، عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ مَوْلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَعَمْرِو بْنِ عَامِرٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ، وَعَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ، وَعَنِ النَّبِيذِ فِي الدُّبَّاءِ، وَالنَّقِيرِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالْمُزَفَّتِ"، قَالَ: ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ:" أَلَا إِنِّي قَدْ كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ ثَلَاثٍ، ثُمَّ بَدَا لِي فِيهِنَّ: نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ، ثُمَّ بَدَا لِي أَنَّهَا تُرِقُّ الْقَلْبَ، وَتُدْمِعُ الْعَيْنَ، وَتُذَكِّرُ الْآخِرَةَ، فَزُورُوهَا وَلَا تَقُولُوا هُجْرًا، وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ أَنْ تَأْكُلُوهَا فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ، ثُمَّ بَدَا لِي أَنَّ النَّاسَ يُتْحِفُونَ ضَيْفَهُمْ، وَيُخَبِّئُونَ لِغَائِبِهِمْ، فَأَمْسِكُوا مَا شِئْتُمْ، وَنَهَيْتُكُمْ عَنِ النَّبِيذِ فِي هَذِهِ الْأَوْعِيَةِ، فَاشْرَبُوا بِمَا شِئْتُمْ، وَلَا تَشْرَبُوا مُسْكِرًا، فَمَنْ شَاءَ أَوْكَى سِقَاءَهُ عَلَى إِثْمٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قبرستان جانے، تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے اور دباء، نقیر، حنتم اور مزفت میں نبیذ پینے سے منع فرمایا تھا، پھر کچھ عرصہ گذرنے کے بعد فرمایا کہ میں نے پہلے تمہیں تین چیزوں سے منع کیا تھا، اب ان کے بارے میں میری رائے واضح ہوگئی ہے، میں نے تمہیں قبرستان جانے سے منع کیا تھا، اب میری رائے یہ ہوئی ہے کہ اس سے دل نرم ہوتے ہیں، آنکھیں آنسو بہاتی ہیں اور آخرت کی یاد تازہ ہوتی ہے، اس لئے قبرستان جایا کرو، لیکن بےہودہ گوئی مت کرنا، اسی طرح میں نے تمہیں تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے سے منع کیا تھا، اب میری رائے یہ ہوئی ہے کہ لوگ اپنے مہمانوں کو یہ گوشت تحفے کے طور پر دیتے ہیں اور غائبین کے لئے محفوظ کر کے رکھتے ہیں، اس لئے تم جب تک چاہو، اسے رکھ سکتے ہو، نیز میں نے تمہیں ان برتنوں میں نیذ پینے سے منع کیا تھا، اب تم جس برتن میں چاہو، پی سکتے ہو، البتہ کوئی نشہ آور چیز مت پینا، اب جو چاہے وہ اپنے مشکیزے کا منہ گناہ کی چیز پر بند کرلے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13487]
حکم دارالسلام
صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف يحيي بن الحارث، وهو يحيي بن عبدالله بن الحارث
الحكم: صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف يحيي بن الحارث، وهو يحيي بن عبدالله بن الحارث
حدیث نمبر: 13488 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ التَّيْمِيُّ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ:" صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ فِي مَسْجِدِهِ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ صَلَّى بِنَا الْعَصْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ آمِنًا لَا يَخَافُ، فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ظہر کی نماز مسجد نبوی میں چار رکعت کے ساتھ پڑھی اور نماز عصر ذوالحلیفہ میں پہنچ کردو رکعتوں میں پڑھائی، اس وقت ہر طرف امن وامان تھا، حجۃ الوداع میں تو کسی قسم کا کوئی خوف نہ تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13488]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 13489 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجُمُعَةَ، ثُمَّ نَرْجِعُ إِلَى الْقَائِلَةِ، فَنَقِيلُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نماز جمعہ پڑھتے اور اس کے بعد آرام گاہ میں پہنچ کر قیلولہ کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13489]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 905
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 905
حدیث نمبر: 13490 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ كَانَ بَيْنَ نِسَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْءٌ، قَالَ: فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرُدُّ بَعْضَهُنَّ عَنْ بَعْضٍ، قَالَ: فَجَاءَهُ أَبُو بَكْرٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، احْثُ فِي أَفْوَاهِهِنَّ التُّرَابَ، وَاخْرُجْ إِلَى الصَّلَاةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نماز کا وقت قریب آگیا، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ازواجِ مطہرات کے درمیان کچھ تلخی ہو رہی تھی اور ازواجِ مطہرات ایک دوسرے کا دفاع کر رہی تھیں، اسی اثناء میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! ان کے منہ میں مٹی ڈالئے اور نماز کے لئے باہر چلئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13490]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن كسابقه
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن كسابقه
حدیث نمبر: 13491 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ، وَقُرِّبَ الْعَشَاءُ، فَابْدَءُوا بِالْعَشَاءِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب رات کا کھانا سامنے آجائے اور نماز کھڑی ہوجائے تو پہلے کھانا کھالو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13491]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 672، م: 557
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 672، م: 557
حدیث نمبر: 13492 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" رَأَيْتُ قَبَاءَ أُكَيْدِرَ حِينَ قُدِمَ بِهِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ الْمُسْلِمُونَ يَلْمِسُونَهُ بِأَيْدِيهِمْ وَيَتَعَجَّبُونَ مِنْهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَتَعْجَبُونَ مِنْ هَذَا؟ فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَمَنَادِيلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي الْجَنَّةِ، أَحْسَنُ مِنْ هَذَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اکیدر دومہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں ایک ریشمی جوڑا ہدیہ کے طور پر بھیجا، لوگ اس کی خوبصورتی پر تعجب کرنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جان ہے، سعد کے رومال " جو انہیں جنت میں دیئے گئے ہیں " وہ اس سے بہتر اور عمدہ ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13492]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2616، م: 2469
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2616، م: 2469
حدیث نمبر: 13493 مسند احمد
سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، أَبُو عُبَيْدَةَ يَعْنِي عَبْدَ الْمُؤْمِنِ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ السَّدُوسِيَّ ، أَخْشَنُ السَّدُوسِيُّ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ يَعْنِي عَبْدَ الْمُؤْمِنِ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ السَّدُوسِيَّ ، حَدَّثَنِي أَخْشَنُ السَّدُوسِيُّ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ أَوْ قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَوْ أَخْطَأْتُمْ حَتَّى تَمْلَأَ خَطَايَاكُمْ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، ثُمَّ اسْتَغْفَرْتُمْ اللَّهَ، لَغَفَرَ لَكُمْ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ أَوْ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَوْ لَمْ تُخْطِئُوا، لَجَاءَ اللَّهُ بِقَوْمٍ يُخْطِئُونَ، ثُمَّ يَسْتَغْفِرُونَ اللَّهَ، فَيَغْفِرُ لَهُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اخشن سدوسی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت انس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، اگر تم اتنے گناہ کرلو کہ تمہارے گناہوں سے زمین و آسمان کے درمیان ساری فضا بھر جائے، پھر تم اللہ تعالیٰ سے معافی مانگو تو وہ تمہیں پھر بھی معاف کر دے گا، اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جان ہے، اگر تم گناہ نہ کرو تو اللہ ایک ایسی قوم کو لے آئے گا جو گناہ کرے گی، پھر اللہ سے معافی مانگے گی اور اللہ اسے معاف کر دے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13493]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، أخشن السدوسي لم يرو عنه غير عبد المؤمن بن عبيد الله - وهو ثقة- وصرح فى روايته بسماعه من أنس، وذكره ابن حبان فى « الثقات » ويشهد للشطر الأول حديث أبى ذر فى مسلم: 2687، وللشطر الثاني حديث أبى هريرة عنده أيضاً: 2749
الحكم: صحيح لغيره، أخشن السدوسي لم يرو عنه غير عبد المؤمن بن عبيد الله - وهو ثقة- وصرح فى روايته بسماعه من أنس، وذكره ابن حبان فى « الثقات » ويشهد للشطر الأول حديث أبى ذر فى مسلم: 2687، وللشطر الثاني حديث أب
حدیث نمبر: 13494 مسند احمد
حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، سَلْمٍ الْعَلَوِيِّ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ سَلْمٍ الْعَلَوِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" لَمَّا نَزَلَتْ آيَةُ الْحِجَابِ جِئْتُ أَدْخُلُ كَمَا كُنْتُ أَدْخُلُ، قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَرَاءَكَ يَا بُنَيَّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب آیت حجاب نازل ہوگئی تب بھی میں حسب سابق ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے گھر میں داخل ہونے لگا، تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بیٹا! پیچھے رہو (اجازت لے کر اندر آؤ) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13494]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 2151
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 2151
حدیث نمبر: 13495 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، شَيْبَانُ ، يَحْيَى ، إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَنْزِلُ الدَّجَّالُ حِينَ يَنْزِلُ فِي نَاحِيَةِ الْمَدِينَةِ، فَتَرْجُفُ ثَلَاثَ رَجَفَاتٍ، فَيَخْرُجُ إِلَيْهِ كُلُّ كَافِرٍ وَمُنَافِقٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا دجال آئے گا تو مدینہ کے ایک جانب پہنچ کر اپنا خیمہ لگائے گا، اس وقت مدینہ منورہ میں تین زلزلے آئیں گے اور ہر کافر اور منافق مرد و عورت مدینہ سے نکل کر دجال سے جاملے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13495]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2124، م: 2943
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2124، م: 2943
حدیث نمبر: 13496 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، شَيْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَتَادَةَ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" يُرَى فِيهِ أَبَارِيقُ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ كَعَدَدِ نُجُومِ السَّمَاءِ، أَوْ: أَكْثَرَ مِنْ عَدَدِ نُجُومِ السَّمَاءِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا حوض کوثر پر سونے چاندی کے آبخورے آسمان کے ستارے سے بھی زیادہ ہوں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13496]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2304
الحكم: إسناده صحيح، م: 2304
حدیث نمبر: 13497 مسند احمد
حَسَنٌ ، شَيْبَانُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: لَقَدْ دُعِيَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ عَلَى خُبْزِ شَعِيرٍ، وَإِهَالَةٍ سَنِخَةٍ، قَالَ: وَلَقَدْ سَمِعْتُهُ ذَاتَ يَوْمِ الْمِرَارِ، وَهُوَ يَقُولُ:" وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، مَا أَصْبَحَ عِنْدَ آلِ مُحَمَّدٍ صَاعُ حَبٍّ، وَلَا صَاعُ تَمْرٍ"، وَإِنَّ لَهُ يَوْمَئِذٍ تِسْعَ نِسْوَةٍ. وَلَقَدْ رَهَنَ دِرْعًا لَهُ عِنْدَ يَهُودِيٍّ بِالْمَدِينَةِ، أَخَذَ مِنْهُ طَعَامًا، فَمَا وَجَدَ لَهَا مَا يَفْتَكُّهَا بِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس ایک مرتبہ وہ جو کی روٹی اور پرانا روغن لے کر آئے تھے اور میں نے ایک دن انہیں یہ فرماتے ہوئے سنا کہ آج شام کو آل محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس غلے یا گندم کا ایک صاع بھی نہیں ہے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نو ازواج مطہرات تھیں۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زرہ ایک یہودی کے پاس مدینہ منورہ میں گروی رکھی ہوئی تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے چند مہینوں کے لئے جو لئے تھے اور اسے چھڑانے کے لئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس کچھ نہ تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13497]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13498 مسند احمد
حَسَنٌ ، شَيْبَانُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَوْ أَنَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَيْنِ مِنْ مَالٍ، لَابْتَغَى وَادِيًا ثَالِثًا، وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ، وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر ابن آدم کے پاس سونے سے بھرئی ہوئی دو وادیاں بھی ہوتیں تو وہ تیسری کی تمنا کرتا اور ابن آدم کا منہ صرف قبر کی مٹی ہی بھر سکتی ہے اور جو توبہ کرتا ہے اللہ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13498]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6440، م: 1048
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6440، م: 1048
حدیث نمبر: 13499 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَمَّادُ بنُ سَلَمَةَ ، عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْمَدِينَةُ حَرَامٌ مِنْ لَدُنْ كَذَا إِلَى كَذَا، فَمَنْ أَحْدَثَ حَدَثًا، أَوْ آوَى مُحْدِثًا، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يُعْضَدُ شَجَرُهَا، قَالَ: وَقَالَ الْحَسَنُ: إِلَّا لِعَلَفِ بَعِيرٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مدینہ منورہ کو اس جگہ سے اس جگہ تک حرم قرار دیا تھا اور فرمایا تھا جو شخص یہاں کوئی بدعت ایجاد کرے یا کسی بدعتی کو ٹھکانہ دے، اس پر اللہ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے یہاں کے درخت نہ کاٹے جائیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13499]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1867، م: 1367
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1867، م: 1367
حدیث نمبر: 13500 مسند احمد
حَسَنٌ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" رَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ، فَحَتَّهَا بِيَدِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مسجد میں قبلہ کی جانب ناک کی ریزش لگی ہوئی دیکھی تو اسے اپنے ہاتھ سے صاف کردیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13500]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 405، م: 551
الحكم: إسناده صحيح، خ: 405، م: 551
حدیث نمبر: 13501 مسند احمد
حَسَنٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَبِي رَبِيعَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي رَبِيعَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَا مِنْ عَبْدٍ يَبْتَلِيهِ اللَّهُ بِبَلَاءٍ فِي جَسَدِهِ، إِلَّا قَالَ اللَّهُ لِلْمَلَكِ: اكْتُبْ لَهُ صَالِحَ عَمَلِهِ الَّذِي كَانَ يَعْمَلُهُ، فَإِنْ شَفَاهُ اللَّهُ، غَسَلَهُ وَطَهَّرَهُ، وَإِنْ قَبَضَهُ، غَفَرَ لَهُ وَرَحِمَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ جب کسی بندہ مسلم کو جسمانی طور پر کسی بیماری میں مبتلاء کرتا ہے تو فرشتوں سے کہہ دیتا ہے کہ یہ جتنے بھی نیک کام کرتا ہے ان کا ثواب برابر لکھتے رہو، پھر اگر اسے شفاء مل جائے تو اللہ اسے دھو کر پاک صاف کرچکا ہوتا ہے اور اگر اسے اپنے پاس واپس بلالے تو اس کی مغفرت کردیتا ہے اور اس پر رحم فرماتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13501]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن