بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَنَسِ بنِ مَالِك رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2170
صفحہ 48 از 109
حدیث نمبر: 12881 مسند احمد
يَحْيَى ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه و آله وسلم" نجي لرجل حتى نعس أو كاد ينعس بعض القوم".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نماز کا وقت ہوگیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک آدمی کے ساتھ مسجد میں تنہائی میں گفتگو فرما رہے تھے، جس وقت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز کے لئے اٹھے تو لوگ سوچکے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12881]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 643، م: 376
الحكم: إسناده صحيح، خ: 643، م: 376
حدیث نمبر: 12882 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٌ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، قَالَ: سُئِلَ أَنَسٌ عَنْ صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ، فَقَالَ:" مَا كُنَّا نَشَاءُ أَنْ نَرَاهُ مُصَلِّيًا إِلَّا رَأَيْنَاهُ، وَلَا نَائِمًا إِلَّا رَأَيْنَاهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حمید کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رات کی نماز کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ ہم رات کے جس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھنا چاہتے تھے، دیکھ سکتے تھے اور جس وقت سوتا ہوا دیکھنے کا ارادہ ہوتا تو وہ بھی دیکھ لیتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12882]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1141
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1141
حدیث نمبر: 12883 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، قَالَ: سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ عَنْ كَسْبِ الْحَجَّامِ، قَالَ: احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَجَمَهُ أَبُو طَيْبَةَ، فَأَمَرَ لَهُ بِصَاعٍ مِنْ شَعِيرٍ، وَكَلَّمَ مَوَالِيَهُ أَنْ يُخَفِّفُوا عَنْهُ مِنْ ضَرِيبَتِهِ، وَقَالَ:" أَمْثَلُ مَا تَدَاوَيْتُمْ بِهِ الْحِجَامَةُ وَالْقُسْطُ الْبَحْرِيُّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے سینگی لگوانے کی اجرت کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ ابوطیبہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سینگی لگائی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے دو صاع جَو دینے کا حکم دیا اور اس کے مالک سے بات کی تو انہوں نے اس پر تخفیف کردی۔ اور فرمایا بہترین علاج سینگی لگوانا اور قسط بحری کا استعمال ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12883]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5696 م: 1577
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5696 م: 1577
حدیث نمبر: 12884 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ عَلَى أَصْحَابِهِ، فَقَالَ:" أَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ وَتَرَاصُّوا، فَإِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ بَعْدِ ظَهْرِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نماز کھڑی ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا صفیں سیدھی کرلو اور جڑ کر کھڑے ہو کیونکہ میں تمہیں اپنے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12884]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 725، م: 434
الحكم: إسناده صحيح، خ: 725، م: 434
حدیث نمبر: 12885 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَادَ أَنْ يَكْتُبَ كتابًا لِنَاسٍ مِنَ الْأَنْصَارِ إِلَى الْبَحْرَيْنِ، فَقَالُوا: لَا إِلَّا أَنْ تَكْتُبَ لِإِخْوَانِنَا مِنَ الْمُهَاجِرِينَ مِثْلَهَا، فَدَعَاهُمْ، فَأَبَوْا، قَالَ:" أَمَا إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً، فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انصار کو بلایا تاکہ بحرین سے آئے ہوئے مال کا حصہ انہیں تقسیم کردیں، لیکن وہ کہنے لگے کہ پہلے ہمارے مہاجر بھائیوں کو ہمارے برابر حصہ الگ کیجئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے جذبہ ایثار کو دیکھ کر فرمایا میرے بعد تمہیں ترجیحات کا سامنا کرنا پڑے گا لیکن تم صبر کرنا تاآنکہ مجھ سے آملو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12885]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3794
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3794
حدیث نمبر: 12886 مسند احمد
يَحْيَى ، التَّيْمِيِّ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: ذُكِرَ لِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَلَمْ أَسْمَعْهُ مِنْهُ:" إِنَّ فِيكُمْ قَوْمًا يَعْبُدُونَ وَيَدْأَبُونَ، حَتَّى يُعْجَبَ بِهِمْ النَّاسُ، وَتُعْجِبَهُمْ نُفُوسُهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ مُرُوقَ السَّهْمِ مِنَ الرَّمِيَّةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجھ سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ فرمان بیان کیا گیا لیکن میں نے اسے خود نہیں سنا کہ تم میں ایک قوم ایسی آئے گی جو عبادت کرے گی اور دینداری پر ہوگی، حتیٰ کہ لوگ ان کی کثرت عبادت پر تعجب کیا کریں گے اور وہ خود بھی خود پسندی میں مبتلاء ہوں گے، وہ لوگ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12886]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12887 مسند احمد
يَحْيَى ، هِشَامٌ ، قَتَادَةُ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ، كَانُوا يَفْتَتِحُونَ الْقِرَاءَةَ بِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سورة الفاتحة آية 2".
حدیث نمبر: 12888 مسند احمد
يَحْيَى ، التَّيْمِيُّ ، أَنَسٍ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: كُنْتُ قَائِمًا عَلَى الْحَيِّ أَسْقِيهِمْ مِنْ فَضِيخِ تَمْرٍ، قَالَ: فَجَاءَ رَجُلٌ، فَقَالَ: إِنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ، قَالُوا: أَكْفِئْهَا يَا أَنَسُ، فَأَكْفَأْتُهَا، قُلْتُ: مَا كَانَ شَرَابُهُمْ؟ قَالَ: الْبُسْرُ وَالرُّطَبُ وقَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَنَسٍ كَانَتْ خَمْرَهُمْ يَوْمَئِذٍ، وَأَنَسٌ يَسْمَعُ، فَلَمْ يُنْكِرْهُ، وقَالَ بَعْضُ مَنْ كَانَ مَعَنَا: قَالَ أَنَسٌ: كَانَتْ خَمْرَهُمْ يَوْمَئِذٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں ایک دن کھڑا لوگوں کو فصیخ پلا رہا تھا کہ ایک شخص آیا اور کہنے لگا کہ شراب حرام ہوگئی، وہ کہنے لگے انس! تمہارے برتن میں جتنی شراب ہے سب انڈیل دو، راوی نے ان سے شراب کی تفتیش کی تو فرمایا کہ وہ تو صرف کچی اور پکی کھجور ملا کر بنائی گئی نبیذ تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12888]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5583، م: 1980
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5583، م: 1980
حدیث نمبر: 12889 مسند احمد
يَحْيَى ، حُمَيْدٍ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِرَجُلٍ وَهُوَ يُهَادَى بَيْنَ ابْنَيْهِ، قَالُوا: نَذَرَ أَنْ يَمْشِيَ، قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَغَنِيٌّ عَنْ تَعْذِيبِ هَذَا نَفْسَهُ" فَأَمَرَهُ أَنْ يَرْكَبَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک آدمی کو اپنے دو بیٹوں کے کندھوں کا سہارا لے کر چلتے ہوئے دیکھا تو پوچھا کہ یہ کیا ماجرا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے پیدل چل کر حج کرنے کی منت مانی تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ اس بات سے غنی ہے کہ یہ شخص اپنے آپ کو تکلیف میں مبتلاء کرے، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے سوار ہونے کا حکم دیا، چنانچہ وہ سوار ہوگیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12889]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1865، م: 1642
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1865، م: 1642
حدیث نمبر: 12890 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، هِشَامٍ ، قَتَادَةُ ، وَوَكِيعٌ ، هِشَامٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، وَوَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" التَّفْلُ فِي الْمَسْجِدِ خَطِيئَةٌ، وَكَفَّارَتُهُ هُوَ أَنْ يُوَارِيَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مسجد میں تھوکنا گناہ ہے اور اس کا کفارہ اسے دفن کردینا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12890]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 415، م: 552
الحكم: إسناده صحيح، خ: 415، م: 552
حدیث نمبر: 12891 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، هِشَامٌ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ مِثْلَهُ، وَقَالَ:" كَفَّارَتُهَا دَفْنُهَا".
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر ما قبله
الحكم: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 12892 مسند احمد
وَكِيعٌ ، مِسْعَرٌ ، بُكَيْرِ بْنِ الْأَخْنَسِ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَخْنَسِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: مُرَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَدِيَّةٍ أَوْ بَدَنَةٍ فَقَالَ:" ارْكَبْهَا" فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهَا هَدِيَّةٌ أَوْ بَدَنَةٌ! قَالَ:" وَإِنْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا گذر ایک آدمی پر ہوا جو قربانی کا جانور ہانکتے ہوئے چلا جارہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے سوار ہونے کے لئے فرمایا: اس نے کہا کہ یہ قربانی کا جانور ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگرچہ قربانی کا جانور ہی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12892]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1323
الحكم: إسناده صحيح، م: 1323
حدیث نمبر: 12893 مسند احمد
وَكِيعٌ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" ذَبَحَ، فَسَمَّى وَكَبَّرَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قربانی کرتے ہوئے اللہ کا نام لے کر تکبیر کہی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12893]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5558، م: 1966
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5558، م: 1966
حدیث نمبر: 12894 مسند احمد
وَكِيعٌ ، شُعْبَةَ ، قَتَادَةَ ، وَابْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، وَابْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ أَقْرَنَيْنِ أَمْلَحَيْنِ"، قَالَ: وَرَأَيْتُهُ يَذْبَحُهُمَا بِيَدِهِ، قَالَ: وَرَأَيْتُهُ وَاضِعًا قَدَمَهُ عَلَى صِفَاحِهِمَا، قَالَ: وَسَمَّى وَكَبَّرَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دو چتکبرے سینگ دار مینڈھے قربانی میں پیش کرتے تھے اور اللہ کا نام لے کر تکبیر کہتے تھے، میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم انہیں اپنے ہاتھ سے ذبح کرتے تھے اور ان کے پہلو پر اپنا پاؤں رکھتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12894]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر ما قبله
الحكم: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 12895 مسند احمد
وَكِيعٌ ، هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ " أَنَّ يَهُودِيًّا رَضَخَ رَأْسَ امْرَأَةٍ بَيْنَ حَجَرَيْنِ، فَقَتَلَهَا، فَرَضَخَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ بَيْنَ حَجَرَيْنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک یہودی نے ایک انصار بچی کو اس زیور کی خاطر قتل کردیا جو اس نے پہن رکھا تھا اور پتھر مار مار کر اس کا سر کچل دیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی قصاصاً اس کا سر دو پتھروں کے درمیان کچل دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12895]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2413، م: 1672
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2413، م: 1672
حدیث نمبر: 12896 مسند احمد
وَكِيعٌ ، حَبِيبٍ القَيْسي ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ حَبِيبٍ القَيْسي ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: مَرَّ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَلْعَبُ، فَقَالَ:" السَّلَامُ عَلَيْكُمْ يَا صِبْيَانُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
یسار کہتے ہیں کہ میں ثابت بنائی رحمہ اللہ کے ساتھ جارہا تھا، راستے میں ان کا گذر کچھ بچوں پر ہوا، انہوں نے انہیں سلام کیا اور فرمایا حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا گذر کچھ بچوں پر ہوا، جو کھیل رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں سلام کیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12896]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، وانظر: 12337
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، وانظر: 12337
حدیث نمبر: 12897 مسند احمد
وَكِيعٌ ، يَزِيدُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، وَكَانَ دَبَّاغًا، وَكَانَ حَسَنَ الْهَيْئَةِ، عِنْدَهُ أَرْبَعَةُ أَحَادِيثَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَدْخُلُ نَاسٌ الْجَحِيمَ حَتَّى إِذَا كَانُوا حُمَمًا أُخْرِجُوا، فَأُدْخِلُوا الْجَنَّةَ، فَيَقُولُ أَهْلُ الْجَنَّةِ هَؤُلَاءِ الْجَهَنَّمِيُّونَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میری امت کے کچھ لوگ جہنم میں داخل کئے جائیں گے جب وہ جل کو کوئلہ بن جائیں گے تو انہیں جنت میں داخل کردیا جائے گا، اہل جنت پوچھیں گے کہ یہ کون لوگ ہیں؟ انہیں بتایا جائے گا کہ یہ جہنمی ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12897]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7450
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7450
حدیث نمبر: 12898 مسند احمد
وَكِيعٌ ، ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَبَّيْكَ بِحَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ مَعًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حج اور عمرہ کا تلبیہ اکٹھے پڑھتے ہوئے یوں فرمایا " لبیک بحجۃ و عمرۃ معاً '' [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12898]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 1251، وهذا إسناد ضعيف، أبن أبى ليلى- وهو محمد بن عبدالرحمن - سيئ الحفظ، لكنه قد توبع فيما سيأتي برقم: 13349
الحكم: حديث صحيح، م: 1251، وهذا إسناد ضعيف، أبن أبى ليلى- وهو محمد بن عبدالرحمن - سيئ الحفظ، لكنه قد توبع فيما سيأتي برقم: 13349
حدیث نمبر: 12899 مسند احمد
وَكِيعٌ ، مُصْعَبُ بْنُ سُلَيْمٍ ، أَنَسًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ سُلَيْمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ:" أَهَلَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حج اور عمرہ کا تلبیہ اکٹھے پڑھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12899]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، وانظر ما قبله
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 12900 مسند احمد
وَكِيعٌ ، الْأَعْمَشُ ، سَهْلِ أَبِي الْأَسَدِ ، بُكَيْرٍ الْجَزَرِيِّ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ سَهْلِ أَبِي الْأَسَدِ ، عَنْ بُكَيْرٍ الْجَزَرِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: كُنَّا فِي بَيْتِ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَجَاءَ رسول الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى وَقَفَ، فَأَخَذَ بِعِضَادَةِ الْبَابِ، فَقَالَ:" الْأَئِمَّةُ مِنْ قُرَيْشٍ، وَلَهُمْ عَلَيْكُمْ حَقٌّ، وَلَكُمْ مِثْلُ ذَلِكَ، مَا إِذَا اسْتُرْحِمُوا رَحِمُوا، وَإِذَا حَكَمُوا عَدَلُوا، وَإِذَا عَاهَدُوا وَفَّوْا، فَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ مِنْهُمْ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ ایک انصاری کے گھر میں تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آئے اور کھڑے ہو کر دروازے کے کواڑ پکڑ لئے اور فرمایا امراء قریش میں سے ہوں گے اور ان کا تم پر حق بنتا ہے اور ان پر تمہارا بھی اسی طرح حق بنتا ہے، جب لوگ ان سے رحم کی درخواست کریں تو وہ ان سے رحم کا معاملہ کریں، وعدہ کریں تو پورا کریں، فیصلہ کریں تو انصاف کریں، جو شخص ایسا نہ کرے اس پر اللہ کی، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12900]
حکم دارالسلام
حديث صحيح بطرقہ وشواھدہ، وهذا إسناد ضعيف لجھالۃ بکیر الجزري
الحكم: حديث صحيح بطرقہ وشواھدہ، وهذا إسناد ضعيف لجھالۃ بکیر الجزري