بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَنَسِ بنِ مَالِك رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2170
صفحہ 79 از 109
حدیث نمبر: 13502 مسند احمد
حَسَنٌ ، زُهَيْرٌ ، بَيَانٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ بَيَانٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" بَنَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِامْرَأَةٍ، فَدَعَا رِجَالًا عَلَى الطَّعَامِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک خاتون سے نکاح کیا اور لوگوں کو کھانے کی دعوت پر بلا لیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13502]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5170، م: 1428
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5170، م: 1428
حدیث نمبر: 13503 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، عُمَارَةُ يَعْنِي ابْنَ زَاذَانَ ، ثَابِتٌ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ يَعْنِي ابْنَ زَاذَانَ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ :" أَنَّ الْمُؤَذِّنَ أَوْ بِلَالًا كَانَ يُقِيمُ، فَيَدْخُلُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَسْتَقْبِلُهُ الرَّجُلُ فِي الْحَاجَةِ، فَيَقُومُ مَعَهُ حَتَّى تَخْفِقَ عَامَّتُهُمْ رُؤُوسُهُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات مؤذن اقامت کہتا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مسجد میں داخل ہوتے تو سامنے سے ایک آدمی اپنے کسی کام سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آجاتا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کے ساتھ کھڑے ہوجاتے، حتیٰ کہ اکثر لوگوں کے سر اونگھ سے ہلنے لگے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13503]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل عمارة بن زاذان
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل عمارة بن زاذان
حدیث نمبر: 13504 مسند احمد
حَسَنٌ ، عُمَارَةُ ، زِيَادٌ النُّمَيْرِيُّ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ ، حَدَّثَنَا زِيَادٌ النُّمَيْرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" إِذَا عَلَا نَشْزًا مِنَ الْأَرْضِ، قَالَ: اللَّهُمَّ لَكَ الشَّرَفُ عَلَى كُلِّ شَرَفٍ، وَلَكَ الْحَمْدُ عَلَى كُلِّ حَالٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب کسی ٹیلے پر یا بلند جگہ پر چڑھتے تو یوں کہتے کہ اے اللہ! ہر بلندی پر تیری بلندی ہے اور ہر تعریف پر تیری تعریف ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13504]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف عمارة بن زاذان وزياد النميري
الحكم: إسناده ضعيف لضعف عمارة بن زاذان وزياد النميري
حدیث نمبر: 13505 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، أَبُو هِلَالٍ ، مَطَرٌ الْوَرَّاقُ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا أَبُو هِلَالٍ ، حَدَّثَنَا مَطَرٌ الْوَرَّاقُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَطُوفُ عَلَى تِسْعِ نِسْوَةٍ فِي ضَحْوَةٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کبھی کبھار اپنی تمام ازواج مطہرات کے پاس ایک ہی رات میں ایک ہی غسل سے جایا کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13505]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، مطر الوراق لم يسمع من أنس
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، مطر الوراق لم يسمع من أنس
حدیث نمبر: 13506 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، شُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ ، وَعَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، وَثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ ، وَعَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، وَثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَعْتَقَ صَفِيَّةَ، وَجَعَلَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ بنت حیی کو آزاد کردیا اور ان کی آزادی ہی کو ان کا مہر قرار دے دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13506]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 947، م: 1365
الحكم: إسناده صحيح، خ: 947، م: 1365
حدیث نمبر: 13507 مسند احمد
حَسَنٌ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، جَدِّهِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ جَدِّهِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ :" أَنَّ رَجُلًا اطَّلَعَ فِي بَعْضِ حُجَرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ، فَأَخَذَ مِشْقَصًا أَوْ مَشَاقِصَ، شَكَّ عُبَيْدُ اللَّهِ، ثُمَّ مَشَى إِلَيْهِ، فَجَعَلَ يَخْتِلُهُ، فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ، لَيَطْعَنُ بِهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے گھر میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آدمی آکر کسی سوراخ سے اندر جھانکنے لگا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی کنگھی لے کر اس کی طرف قدم بڑھائے تو وہ پیچھے ہٹنے لگا، ایسا محسوس ہوتا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وہ کنگھی اسے دے ماریں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13507]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6242، م: 2157
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6242، م: 2157
حدیث نمبر: 13508 مسند احمد
حَسَنٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" لَمَّا أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَحْلِقَ الْحَجَّامُ رَأْسَهُ، أَخَذَ أَبُو طَلْحَةَ شَعَرَ أَحَدِ شِقَّيْ رَأْسِهِ بِيَدِهِ، فَأَخَذَ شَعَرَهُ، وَجَاءَ بِهِ إِلَى أُمِّ سُلَيْمٍ، قَالَ: فَكَانَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ تَدُوفُهُ فِي طِيبِهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (حجۃ الوداع کے موقع پر) جب حلاق سے سر منڈوانے کا ارادہ کیا تو حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے سر کے ایک حصے کے بال اپنے ہاتھوں میں لے لئے، پھر وہ بال ام سلیم رضی اللہ عنہ اپنے ساتھ لے گئیں اور وہ انہیں اپنے خوشبو میں ڈال کر ہلایا کرتی تھیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13508]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13509 مسند احمد
حَسَنٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" صَلَّى فِي بَيْتِ أُمِّ سُلَيْمٍ، وَأُمُّ سُلَيْمٍ وَأُمُّ حَرَامٍ خَلْفَنَا، وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ: أَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی، یہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ کے گھر کا واقعہ ہے اور ام سلیم اور ام حرام ہمارے پیچھے کھڑی تھیں اور غالباً ٰیہ بھی فرمایا کہ مجھے اپنی دائیں جانب کھڑا کرلیا، بہرحال! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمارے اہل خانہ کے لئے دنیا و آخرت کی تمام بھلائیاں مانگیں، پھر میری والدہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! اپنے خادم انس کے لئے دعاء کر دیجئے، اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دنیا و آخرت کی ہر خیر میرے لئے مانگی اور فرمایا اے اللہ! اسے مال اور اولاد عطاء فرما اور ان میں برکت عطاء فرما۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13509]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م:660
الحكم: إسناده صحيح، م:660
حدیث نمبر: 13510 مسند احمد
حَسَنٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ ، وَالْحَسَنِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، وَالْحَسَنِ ، أن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" خَرَجَ مُتَوَكِّئًا عَلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، وَعَلَيْهِ ثَوْبُ قُطْنٍ قَدْ خَالَفَ بَيْنَ طَرَفَيْهِ، فَصَلَّى بِهِمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کا سہارا لئے باہر تشریف لائے، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے جسم اطہر پر روئی کا کپڑا تھا، جس کے دونوں کنارے مخالف سمت سے کندھے پر ڈال رکھے تھے اور پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13510]
حکم دارالسلام
إسناد حديث أنس صحيح، وأما حديث الحسن البصري فمرسل
الحكم: إسناد حديث أنس صحيح، وأما حديث الحسن البصري فمرسل
حدیث نمبر: 13511 مسند احمد
حَسَنٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" يُؤْتَى بِرَجُلٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، فَيَقُولُ اللَّهُ: يَا ابْنَ آدَمَ، كَيْفَ وَجَدْتَ مَنْزِلَكَ؟ فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ، خَيْرَ مَنْزِلٍ، فَيَقُولُ لَهُ: سَلْ وَتَمَنَّهْ، فَيَقُولُ: مَا أَسْأَلُ وَأَتَمَنَّى إِلَّا أَنْ تَرُدَّنِي إِلَى الدُّنْيَا، فَأُقْتَلَ، لِمَا رَأَى مِنْ فَضْلِ الشَّهَادَةِ، قَالَ: ثُمَّ يُؤْتَى بِرَجُلٍ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، فَيَقُولُ لَهُ: يَا ابْنَ آدَمَ، كَيْفَ وَجَدْتَ مَنْزِلَكَ؟ فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ، شَرَّ مَنْزِلٍ، فَيَقُولُ: أَتَفْتَدِي مِنْهُ بِطِلَاعِ الْأَرْضِ ذَهَبًا؟ فَيَقُولُ: نَعَمْ أَيْ رَبِّ، فَيَقُولُ: كَذَبْتَ، قَدْ سَأَلْتُكَ مَا هُوَ أَقُلُّ مِنْ ذَلِكَ، فَلَمْ تَفْعَلْ، فَيُرَدُّ إِلَى النَّارِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن اہل جنت میں سے ایک آدمی کو لایا جائے گا، اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا اے ابن آدم! تو نے اپنا ٹھکانہ کیا پایا؟ وہ جواب دے گا پروردگار! بہترین ٹھکانہ پایا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ مانگ اور تمنا ظاہر کر، وہ عرض کرے گا کہ میری درخواست اور تمنا تو صرف اتنی ہی ہے کہ آپ مجھے دنیا میں واپس بھیج دیں اور میں دسویں مرتبہ آپ کی راہ میں شہید ہوجاؤں، کیونکہ وہ شہادت کی فضیلت دیکھ چکا ہوگا۔ ایک جہنمی کو لایا جائے گا اور اللہ اس سے پوچھے گا کہ اے ابن آدم! تو نے اپنا ٹھکانہ کیسا پایا؟ وہ کہے گا پروردگار! بدترین ٹھکانہ، اللہ فرمائے گا اگر تیرے پاس روئے زمین کی ہر چیز موجود ہو تو کیا وہ سب کچھ اپنے فدیئے میں دے دے گا؟ وہ کہے گا ہاں! اللہ فرمائے گا کہ تو جھوٹ بولتا ہے، میں نے تو تجھ سے دنیا میں اس سے بھی ہلکی چیز کا مطالبہ کیا تھا، لیکن تو نے اسے پورا نہ کیا چنانچہ اسے جہنم میں لوٹا دیا جائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13511]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13512 مسند احمد
حَسَنٌ ، زُهَيْرٌ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْصَارِيُّ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْصَارِيُّ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" انْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ، وَعُمَرُ، وَنَاسٌ مِنَ الْأَعْرَابِ، حَتَّى دَخَلَ دَارَنَا، فَحُلِبَتْ لَهُ شَاةٌ، وَشُنَّ عَلَيْهِ مِنْ مَاءِ بِئْرِنَا، حَسِبْتُهُ قَالَ: فَشَرِبَ، وَأَبُو بَكْرٍ عَنْ يَسَارِهِ، وَعُمَرُ مُسْتَقْبِلُهُ، وَعَنْ يَمِينِهِ أَعْرَابِيٌّ، فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَبُو بَكْرٍ! فَأَعْطَاهُ الْأَعْرَابِيَّ، فَقَالَ:" الْأَيْمَنُونَ"، قَالَ: فَقَالَ لَنَا أَنَسٌ: فَهِيَ سُنَّةٌ، فَهِيَ سُنَّةٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو میں دس سال کا تھا، جب دنیا سے رخصت ہوئے تو بیس سال کا تھا، میری والدہ مجھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت کی ترغیب دیا کرتی تھیں، ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے گھر تشریف لائے، ہم نے ایک پالتو بکری کا دودھ دوہا اور گھر کے کنویں میں سے پانی لے کر اس میں ملایا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں پیش کردیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دائیں جانب ایک دیہاتی تھا اور بائیں جانب حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب اسے نوش فرما چکے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یہ ابوبکر کو دے دیجئے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دودھ کا وہ برتن دیہاتی کو دے دیا اور فرمایا پہلے دائیں ہاتھ والے کو، پھر اس کے بعد والے کو۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہی سنت ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13512]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2571، م: 2029
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2571، م: 2029
حدیث نمبر: 13513 مسند احمد
الْهَاشِمِيُّ ، إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرِ بْنِ حَزْمٍ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا الْهَاشِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرِ بْنِ حَزْمٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13513]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر ما قبله
الحكم: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 13514 مسند احمد
حَسَنٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" دَخَلْتُ الْجَنَّةَ، فَسَمِعْتُ خَشَفَةً، فَقُلْتُ: مَا هَذِهِ الْخَشَفَةَ؟ فَقِيلَ: هَذِهِ الرُّمَيْصَاءُ بِنْتُ مِلْحَانَ"، وَهِيَ أُمُّ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں جنت میں داخل ہوا تو اپنے آگے کسی کی آہٹ سنی، دیکھا تو وہ غمیصاء بنت ملحان تھیں (جو کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی والدہ تھیں) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13514]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13515 مسند احمد
حَسَنٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" رَأَيْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي رِجَالًا تُقْرَضُ شِفَاهُهُمْ بِمَقَارِيضَ مِنْ نَارٍ، فَقُلْتُ: يَا جِبْرِيلُ، مَنْ هَؤُلَاءِ؟ قَالَ: هَؤُلَاءِ خُطَبَاءُ مِنْ أُمَّتِكَ، يَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَيَنْسَوْنَ أَنْفُسَهُمْ، وَهُمْ يَتْلُونَ الْكِتَابَ، أَفَلَا يَعْقِلُونَ؟".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا شبِ معراج میں ایسے لوگوں کے پاس سے گذرا جن کے منہ آگ کی قینچیوں سے کاٹے جا رہے تھے، میں نے پوچھا یہ کون لوگ ہیں؟ بتایا گیا کہ یہ دنیا کے خطباء ہیں جو لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے تھے اور اپنے آپ کو بھول جاتے تھے اور کتاب کی تلاوت کرتے تھے، کیا یہ سمجھتے نہ تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13515]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد بن جدعان
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد بن جدعان
حدیث نمبر: 13516 مسند احمد
حَسَنٌ ، وَعَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، وَعَفَّانُ ، المعنى، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ لَمَّا صَوَّرَ آدَمَ، تَرَكَهُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَتْرُكَهُ، فَجَعَلَ إِبْلِيسُ يَطِيفُ بِهِ، فَلَمَّا رَآهُ أَجْوَفَ، عَرَفَ أَنَّهُ خَلْقٌ لَا يَتَمَالَكُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب اللہ نے حضرت آدم علیہ السلام کا پتلا تیار کیا تو کچھ عرصے تک اسے یونہی رہنے دیا، شیطان اس پتلے کے ارد گرد چکر لگاتا تھا اور اس پر غور کرتا تھا، جب اس نے دیکھا کہ اس مخلوق کے جسم کے درمیان پیٹ ہے تو وہ سمجھ گیا کہ یہ مخلوق اپنے اوپر قابو نہ رکھ سکے گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13516]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2611
الحكم: إسناده صحيح، م: 2611
حدیث نمبر: 13517 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ يَعْنِي الْمَخْزُومِيَّ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ يَعْنِي الْمَخْزُومِيَّ ، وحَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" صَلَاةُ الْقَاعِدِ نِصْفُ صَلَاةِ الْقَائِمِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بیٹھ کر نماز پڑھنے کا ثواب کھڑے ہو کر پڑھنے سے آدھا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13517]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13518 مسند احمد
أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ، مَالِكٌ ، الزُّهْرِيِّ بْنِ شِهَابٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ بْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" دَخَلَ يَوْمَ الْفَتْحِ وَعَلَيْهِ الْمِغْفَرُ، قَالَ: فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ ابْنَ خَطَلٍ مُتَعَلِّقٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَة، فَقَالَ: اقْتُلُوهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خود پہن رکھا تھا، جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے اتارا تو کسی شخص نے آکر بتایا کہ ابن خطل خانہ کعبہ کے پردوں کے ساتھ چمٹا ہوا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پھر بھی اسے قتل کردو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13518]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1846، م: 1357
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1846، م: 1357
حدیث نمبر: 13519 مسند احمد
أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ، سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، رَبِيعَةُ بْنُ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ : أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَنْعَتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا شَاءَ أَنْ يَنْعَتَهُ، قَالَ: ثُمَّ سَمِعْتُ أَنَسًا، يَقُولُ:" وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَبْعَةً مِنَ الْقَوْمِ، لَيْسَ بِالْقَصِيرِ وَلَا بِالطَّوِيلِ الْبَائِنِ، أَزْهَرَ لَيْسَ بِالْآدَمِ، وَلَا بِالْأَبْيَضِ، وَلَا الْأَمْهَقِ، رَجِلَ الشَّعْرِ، لَيْسَ بِالسَّبْطِ وَلَا الْجَعْدِ الْقَطَطِ، بُعِثَ عَلَى رَأْسِ أَرْبَعِينَ، أَقَامَ بِمَكَّةَ عَشْرًا، وَبِالْمَدِينَةِ عَشْرًا، وَتُوُفِّيَ عَلَى رَأْسِ سِتِّينَ سَنَةً، لَيْسَ فِي رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ عِشْرُونَ شَعَرَةً بَيْضَاءَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حلیہ مبارک کے متعلق مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم درمیانے قد کے تھے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا قد نہ بہت زیادہ چھوٹا تھا اور نہ بہت زیادہ لمبا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پیشانی روشن تھی، رنگ گندمی تھا اور نہ ہی بالکل سفید، بال ہلکے گھنگھریالے تھے، مکمل سیدھے تھے اور نہ بہت زیادہ گھنگھریالے، چالیس برس کی عمر میں مبعوث ہوئے، دس سال مکہ مکرمہ میں قیام فرمایا: دس سال مدینہ منورہ میں رہائش پذیر رہے اور ساٹھ سال کی عمر میں دنیا سے رخصت ہوگئے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سر اور ڈاڑھی میں بیس بال بھی سفید نہ تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13519]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3547، م: 2347
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3547، م: 2347
حدیث نمبر: 13520 مسند احمد
أَبُو سَلَمَةَ ، مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَرْكَبُ قَوْمٌ مِنْ أُمَّتِي ثَبَجَ الْبَحْرِ أَوْ: ثَبَجَ هَذَا الْبَحْرِ، هُمْ الْمُلُوكُ عَلَى الْأَسِرَّةِ، أَوْ: كَالْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری امت کی ایک جماعت اس سطح سمندر پر سوار ہو کر (جہاد کے لئے جائے گی، وہ لوگ ایسے محسوس ہوں گے جیسے تختوں پر بادشاہ بیٹھے ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13520]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2788، م: 1912
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2788، م: 1912
حدیث نمبر: 13521 مسند احمد
أَبُو سَلَمَةَ ، مَالِكٌ ، مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الثَّقَفِيِّ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الثَّقَفِيِّ ، أَنَّهُ سَأَلَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ وَهُمَا غَادِيَانِ إِلَى عَرَفَةَ: كَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ فِي هَذَا الْيَوْمِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: كَانَ يُهِلُّ الْمُهِلُّ مِنَّا، فَلَا يُنْكَرُ عَلَيْهِ، وَيُكَبِّرُ الْمُكَبِّرُ، فَلَا يُنْكَرُ عَلَيْهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
محمد بن ابی بکر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ عرفہ کے دن آپ لوگ کیا کر رہے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ہم میں سے کچھ لوگ تہلیل کہہ رہے تھے، ان پر بھی نکیر نہ ہوتی تھی اور بعض تکبیر کہہ رہے تھے اور ان پر بھی کوئی نکیر نہ کی گئی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13521]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 970، م: 1285
الحكم: إسناده صحيح، خ: 970، م: 1285