بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَنَسِ بنِ مَالِك رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2170
صفحہ 90 از 109
حدیث نمبر: 13722 مسند احمد
حَدَّثَنَاهُ يَحْيَى بْنُ آدَمَ: حَدَّثَنَا شَرِيكَ عَنْ عَاصِمٍ، فَذَكَرَهُ
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13722]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح، وھذا إسناد ضعیف كسابقه، وانظر ما قبله
الحكم: حدیث صحیح، وھذا إسناد ضعیف كسابقه، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 13723 مسند احمد
هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، شُعْبَةُ ، هِشَامِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَنَسٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمِرْبَدِ وَهُوَ يَسِمُ غَنَمًا، قَالَ شُعْبَةُ: حَسِبْتُهُ قَالَ: فِي آذَانِهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم باڑے میں بکری کے کان داغ رہے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13723]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5542، م: 2119
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5542، م: 2119
حدیث نمبر: 13724 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، شُعْبَةُ ، مُوسَى بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَنَتَ شَهْرًا يَدْعُو عَلَى رِعْلٍ وَذَكْوَانَ وَعُصَيَّةَ، عَصَوْا اللَّهَ وَرَسُولَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مہینے تک فجر کی نماز میں رکوع کے بعد قنوت نازلہ پڑھی اور رعل، ذکوان، عصیہ اور بنو لحیان کے قبائل پر بددعاء کرتے رہے، جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13724]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3064، م: 677
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3064، م: 677
حدیث نمبر: 13725 مسند احمد
أَسْوَدُ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَنَتَ شَهْرًا يَدْعُو، يَلْعَنُ رِعْلًا وَذَكْوَانَ وَعُصَيَّةَ، عَصَوْا اللَّهَ وَرَسُولَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مہنے تک فجر کی نماز میں رکوع کے بعد قنوت نازلہ پڑھی اور رعل، ذکوان، عصیہ اور بنو لحیان کے قبائل پر بددعاء کرتے رہے، جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13725]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4089، م: 677
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4089، م: 677
حدیث نمبر: 13726 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، شُعْبَةُ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي الدُّعَاءِ، حَتَّى يُرَى بَيَاضُ إِبْطَيْهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے ہاتھ اتنے بلند فرماتے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بغلوں کی سفیدی تک دکھائی دیتی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13726]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1031، م: 895
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1031، م: 895
حدیث نمبر: 13727 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنَّ نَاسًا سَأَلُوا أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْه وَسَلَّمَ عَنْ عِبَادَتِهِ فِي السِّرِّ، قَالَ: فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ:" مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَسْأَلُونَ عَمَّا أَصْنَعُ، أَمَّا أَنَا فَأُصَلِّي وَأَنَامُ، وَأَصُومُ وَأُفْطِرُ، وَأَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ، فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي، فَلَيْسَ مِنِّي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہ میں سے کچھ لوگوں نے ازواج مطہرات سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی انفرادی عبادت کے متعلق سوال کیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو جب یہ بات معلوم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اللہ کی حمدوثناء کے بعد فرمایا لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ ایسی ایسی باتیں کرتے ہیں، میں تو روزہ بھی رکھتا ہوں اور ناغہ بھی کرتا ہوں، نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور عورتوں سے شادی بھی کرتا ہوں، اب جو شخص میری سنت سے اعراض کرتا ہے وہ مجھ سے نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13727]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5063
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5063
حدیث نمبر: 13728 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ" يَمُرُّ بِبَيْتِ فَاطِمَةَ سِتَّةَ أَشْهُرٍ إِذَا خَرَجَ إِلَى الْفَجْرِ، فَيَقُولُ: الصَّلَاةَ يَا أَهْلَ الْبَيْتِ إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا سورة الأحزاب آية 33".
حدیث نمبر: 13729 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تُقَامُ السَّاعَةُ حَتَّى لَا يُقَالَ فِي الْأَرْضِ: اللَّهُ اللَّهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت اس دن تک قائم نہیں ہوگی، جب تک زمین میں اللہ اللہ کہنے والا کوئی شخص باقی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13729]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 148
الحكم: إسناده صحيح، م: 148
حدیث نمبر: 13730 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ" رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَعْطَاهُ غَنَمًا بَيْنَ جَبَلَيْنِ، فَأَتَى قَوْمَهُ، فَقَالَ: يَا قَوْمِ، أَسْلِمُوا، فَإِنَّ مُحَمَّدًا يُعْطِي عَطَاءَ رَجُلٍ لَا يَخَافُ الْفَاقَةَ، وَإِنْ كَانَ الرَّجُلُ لَيَجِيءُ إِلَيْهِ مَا يُرِيدُ إِلَّا الدُّنْيَا، فَمَا يُمْسِي حَتَّى يَكُونَ دِينُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنَ الدُّنْيَا بِمَا فِيهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی آیا اور اس نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کچھ مانگا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے صدقہ کی بکریوں میں سے بہت سی بکریاں " جو دو پہاڑوں کے درمیان آسکیں " دینے کا حکم دیا، وہ آدمی اپنی قوم کے پاس آکر کہنے لگا لوگو! اسلام قبول کرلو، کیونکہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اتنی بخشش دیتے ہیں کہ انسان کو فقروفاقہ کو کوئی اندیشہ نہیں رہتا، دوسری سند سے اس میں یہ اضافہ بھی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس ایک آدمی آکر صرف دنیا کا سازوسامان حاصل کرنے کے لئے اسلام قبول کرلیتا، لیکن اس دن کی شام تک دین اس کی نگاہوں میں سب سے زیادہ محبوب ہوچکا ہوتا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13730]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2312
الحكم: إسناده صحيح، م: 2312
حدیث نمبر: 13731 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، إِسْرَائِيلُ ، عُمَارَةُ بْنُ زَاذَانَ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ زَاذَانَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَائِلٌ، فَأَمَرَ لَهُ بِتَمْرَةٍ، فَوَحَشَ بِهَا، ثُمَّ جَاءَ سَائِلٌ آخَرُ، فَأَمَرَ لَهُ بِتَمْرَةٍ، فَقَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ، تَمْرَةٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ! قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْجَارِيَةِ: اذْهَبِي إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ، فَأَعْطِيهِ الْأَرْبَعِينَ دِرْهَمًا الَّتِي عِنْدَهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس ایک سائل آیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے کھجوریں دینے کا حکم دیا، لیکن اس نے انہیں ہاتھ نہ لگایا، دوسرا آیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے کھجوریں دینے کا حکم دیا، اس نے خوش ہو کر انہیں قبول کرلیا اور کہنے لگا سبحان اللہ! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف سے کھجوریں، اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی باندی سے فرمایا کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ اور اسے ان کے پاس رکھے ہوئے چالیس درہم دلوادو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13731]
حکم دارالسلام
إسنادہ ضعیف لضعف عمارۃ بن زاذان الصيدلاني
الحكم: إسنادہ ضعیف لضعف عمارۃ بن زاذان الصيدلاني
حدیث نمبر: 13732 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، إِسْرَائِيلُ ، لَيْثٍ ، يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: كَانَ فِي حِجْرِ أَبِي طَلْحَةَ يَتَامَى، فَابْتَاعَ لَهُمْ خَمْرًا،" فَلَمَّا حُرِّمَتْ الْخَمْرُ، أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَجْعَلُهُ خَلًّا؟ قَالَ: لَا، قَالَ: فَأَهْرَاقَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کی سرپرستی میں کچھ یتیم زیر پرورش تھے، انہوں نے ان کے پیسوں سے شراب خرید کر رکھ لی، جب شراب حرام ہوگئی تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ اگر یتیم بچوں کے پاس شراب ہو تو کیا ہم اسے سرکہ نہیں بناسکتے؟ فرمایا نہیں، چنانچہ انہوں نے اسے بہا دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13732]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح، م: 1983 وھذا إسناد ضعیف لضعف اللیث: وھو ابن أبي سلیم، وانظر ما بعدہ
الحكم: حدیث صحیح، م: 1983 وھذا إسناد ضعیف لضعف اللیث: وھو ابن أبي سلیم، وانظر ما بعدہ
حدیث نمبر: 13733 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، وَحُسَيْنٌ ، إِسْرَائِيلُ ، حُسَيْنٌ ، السُّدِّيِّ ، أَسْوَدُ ، السُّدِّيُّ ، يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ أَبِي هُبَيْرَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، وَحُسَيْنٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، قَالَ حُسَيْنٌ : عَنِ السُّدِّيِّ ، وَقَالَ أَسْوَدُ : حَدَّثَنَا السُّدِّيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ أَبِي هُبَيْرَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كَانَ فِي حِجْرِ أَبِي طَلْحَةَ يَتَامَى، فَابْتَاعَ لَهُمْ خَمْرًا،" فَلَمَّا حُرِّمَتْ الْخَمْرُ، أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَصْنَعُهُ خَلًّا؟ قَالَ: لَا، قَالَ: فَأَهْرَاقَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کی سرپرستی میں کچھ یتیم زیر پرورش تھے، انہوں نے ان کے پیسوں سے شراب خرید کر رکھ لی، جب شراب حرام ہوگئی تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ اگر یتیم بچوں کے پاس شراب ہو تو کیا ہم اسے سرکہ نہیں بنا سکتے؟ فرمایا نہیں، چنانچہ انہوں نے اسے بہا دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13733]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1983 وانظر ما قبله
الحكم: إسناده صحيح، م: 1983 وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 13734 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، وَحَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، عَمْرُو بْنُ عَامِرٍ الْأَنْصَارِيُّ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَامِرٍ الْأَنْصَارِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أُتِيَ بِقَدَحٍ مِنْ مَاءٍ فَتَوَضَّأَ، قَالَ عَمْرٌو: قُلْتُ لِأَنَسٍ: أَكَانَ يَتَوَضَّأُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ؟ قَالَ: نَعَمْ"، قُلْتُ: فَأَنْتُمْ؟ قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي الصَّلَوَاتِ بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ، ثُمَّ سَأَلْتُهُ بَعْدُ، فَقَالَ: مَا لَمْ نُحْدِثْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس وضو کے لئے برتن لایا گیا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے وضو فرمایا: راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہر نماز کے وقت نیا وضو فرماتے تھے؟ انہوں نے فرمایا ہاں! راوی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ لوگ کیا کرتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم بےوضو ہونے تک ایک ہی وضو سے کئی کئی نمازیں بھی پڑھ لیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13734]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 214
الحكم: إسناده صحيح، خ: 214
حدیث نمبر: 13735 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، وَعَفَّانُ ، أَبَانُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ ، أَسْوَدُ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ أَسْوَدُ : حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" رَاصُّوا صُفُوفَكُمْ، وَقَارِبُوا بَيْنَهَا، وَحَاذُوا بِالْأَعْنَاقِ، فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، إِنِّي لَأَرَى الشَّيَاطِينَ تَدْخُلُ مِنْ خَلَلِ الصَّفِّ كَأَنَّهَا الْحَذَفُ"، وَقَالَ عَفَّانُ: إِنِّي لَأَرَى الشَّيْطَانَ يَدْخُلُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا صفیں جوڑ کر اور قریب قریب ہو کر بنایا کرو، کندھے ملا لیا کرو، کیونکہ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، میں دیکھتا ہوں کہ چھوٹی بھیڑوں کی طرح شیاطین صفوں کے بیچ میں گھس جاتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13735]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13736 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، شَرِيكٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" عَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُلَامًا كَانَ يَخْدُمُهُ يَهُودِيًّا، فَقَالَ لَهُ: قُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَجَعَلَ يُنْظَرُ إِلَى أَبِيهِ، قَالَ: فَقَالَ لَهُ: قُلْ مَا يَقُولُ لَكَ، قَالَ: فَقَالَهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ: صَلُّوا عَلَى أَخِيكُمْ"، وَقَالَ غَيْرُ أَسْوَدَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، قَالَ: فَقَالَ لَهُ: قُلْ مَا يَقُولُ لَكَ مُحَمَّدٌ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی کہ ایک یہودی لڑکا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت کرتا تھا، ایک مرتبہ وہ بیمار ہوگیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کے پاس تشریف لے گئے، وہاں اس کا باپ اس کے سرہانے بیٹھا ہوا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے کلمہ پڑھنے کی تلقین کی، اس نے اپنے باپ کو دیکھا، اس نے کہا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بات مانو، چنانچہ اس لڑکے نے کلمہ پڑھ لیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اپنے بھائی کی نماز جنازہ پڑھو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13736]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح، وھذا إسناد ضعیف لضعف شريك
الحكم: حدیث صحیح، وھذا إسناد ضعیف لضعف شريك
حدیث نمبر: 13737 مسند احمد
أَسْوَدُ ، شَرِيكٌ ، عَاصِمٍ ، أَنَسٍ ، وَجَابِرٍ ، أَبِي نَضْر ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، وَجَابِرٍ ، عَنْ أَبِي نَضْر ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" كَنَّانِي بِبَقْلَةٍ كُنْتُ أَجْتَنِيهَا"، يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میری کنیت اس سبزی کے نام پر رکھی تھی جو میں چنتا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13737]
حکم دارالسلام
إسنادہ ضعیف شريك سیئ الحفظ، وجابر شیخ شريك: ھو ابن یزید الجعفي، وأبو نصر خيثمة ضعیفان
الحكم: إسنادہ ضعیف شريك سیئ الحفظ، وجابر شیخ شريك: ھو ابن یزید الجعفي، وأبو نصر خيثمة ضعیفان
حدیث نمبر: 13738 مسند احمد
أَسْوَدُ ، شَرِيكٌ ، عَاصِمٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهُ:" يَا ذَا الْأُذُنَيْنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مرتبہ مجھے " دو کانوں والے " کہہ کر مخاطب فرمایا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13738]
حکم دارالسلام
حدیث حسن، وھذا إسناد ضعیف لضعف شريك النخعي، وقد توبع
الحكم: حدیث حسن، وھذا إسناد ضعیف لضعف شريك النخعي، وقد توبع
حدیث نمبر: 13739 مسند احمد
حُسَيْنٌ ، شَيْبَانُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، حَدَّثَنَا أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا عُرِجَ بِهِ إِلَى السَّمَاءِ، قَالَ:" أَتَيْتُ عَلَى إِدْرِيسَ فِي السَّمَاءِ الرَّابِعَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا شب معراج چوتھے آسمان پر میری ملاقات حضرت ادریس علیہ السلام سے کرائی گئی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13739]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وسلفت هذه القطعة ضمن الحديث الطويل برقم: 12505
الحكم: إسناده صحيح، وسلفت هذه القطعة ضمن الحديث الطويل برقم: 12505
حدیث نمبر: 13740 مسند احمد
حُسَيْنٌ ، شَيْبَانَ ، قَتَادَةَ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ فِي تَفْسِيرِ شَيْبَانَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا أَبْصَرَهُمْ أَهْلُ الْجَنَّةِ، قَالُوا: هَؤُلَاءِ الْجَهَنَّمِيُّونَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب جنتی انہیں دیکھیں گے تو کہیں گے کہ یہ جہنمی ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13740]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7450
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7450
حدیث نمبر: 13741 مسند احمد
حُسَيْنٌ ، شَيْبَانَ ، قَتَادَةَ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ فِي تَفْسِيرِ شَيْبَانَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ: إِنَّ أُمَّ الرُّبَيِّعِ أَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ أُمُّ حَارِثَةَ بْنِ سُرَاقَةَ، فَقَالَتْ:" يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَلَا تُحَدِّثُنِي عَنْ حَارِثَةَ؟ وَكَانَ قُتِلَ يَوْمَ بَدْرٍ أَصَابَهُ سَهْمٌ غَرْبٌ، فَإِنْ كَانَ فِي الْجَنَّةِ، صَبَرْتُ، وَإِنْ كَانَ غَيْرَ ذَلِكَ، اجْتَهَدْتُ عَلَيْهِ الْبُكَاءَ، فَقَالَ: يَا أُمَّ حَارِثَةَ، إِنَّهَا جِنَانٌ فِي جَنَّةٍ، وَإِنَّ ابْنَكِ أَصَابَ الْفِرْدَوْسَ الْأَعْلَى"، قَالَ قَتَادَةُ: وَالْفِرْدَوْسُ: رَبْوَةُ الْجَنَّةِ، وَأَوْسَطُهَا، وَأَفْضَلُهَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت حارثہ رضی اللہ عنہ سیر پر نکلے، راستے میں کہیں سے ناگہانی تیر ان کے آکر لگا اور وہ شہید ہوگئے، ان کی والدہ نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! آپ جانتے ہیں کہ مجھے حارثہ سے کتنی محبت تھی، اگر تو وہ جنت میں ہے تو میں صبر کرلوں گی ورنہ پھر جو میں کروں گی وہ آپ بھی دیکھ لیں گے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اے ام حارثہ! جنت صرف ایک تو نہیں ہے، وہ تو بہت سی جنتیں ہیں اور حارثہ ان میں سب سے افضل جنت میں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13741]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2809
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2809