بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَنَسِ بنِ مَالِك رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2170
صفحہ 81 از 109
حدیث نمبر: 13542 مسند احمد
مُؤَمَّلٌ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ الْعُقَيْلِيُّ ، أَبِي ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ الْعُقَيْلِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ لِلَّهِ أَهْلِينَ مِنَ النَّاسِ، وَإِنَّ أَهْلَ الْقُرْآنِ أَهْلُ اللَّهِ وَخَاصَّتُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا لوگوں میں سے کچھ اہل اللہ ہوتے ہیں، قرآن والے، اللہ کے خاص لوگ اور اہل اللہ ہوتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13542]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف مؤمل بن إسماعيل، وقد توبع فيما سلف برقم: 12279
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف مؤمل بن إسماعيل، وقد توبع فيما سلف برقم: 12279
حدیث نمبر: 13543 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ جَدِّهِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنْ رَجُلًا اطَّلَعَ فِي بَعْضِ حُجَرِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" فَقَامَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِشْقَصٍ أَوْ مَشَاقِصَ، فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ يَخْتِلُهُ لِيَطْعَنَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے گھر میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آدمی آکر کسی سوراخ سے اندر جھانکنے لگا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی کنگھی لے کر اس کی طرف قدم بڑھائے تو وہ پیچھے ہٹنے لگا، ایسا محسوس ہوتا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وہ کنگھی اسے دے ماریں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13543]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6242، م: 2157
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6242، م: 2157
حدیث نمبر: 13544 مسند احمد
إِسْحَاقُ ، شَرِيكٌ ، عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا ذَا الْأُذُنَيْنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مرتبہ مجھے " دو کانوں والے " کہہ کر مخاطب فرمایا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13544]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك النخعي، وقد توبع
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك النخعي، وقد توبع
حدیث نمبر: 13545 مسند احمد
سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، حَمَّادُ يَعْنِي بْنُ زَيْدٍ ، ثَابِتٍ ، وَعَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ يَعْنِي بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، وَعَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" أَعْتَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَفِيَّةَ، وَجَعَلَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ بنت حیی کو آزاد کردیا اور ان کی آزادی ہی کو ان کا مہر قرار دے دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13545]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 947، م: 1365
الحكم: إسناده صحيح، خ: 947، م: 1365
حدیث نمبر: 13546 مسند احمد
سُرَيْجٌ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، ثَابِتٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" صَلَّى بِهِ، وَأُمُّ سُلَيْمٍ وَأُمُّ حَرَامٍ خَلْفَنَا عَلَى بِسَاطٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی، اس وقت ام سلیم اور ام حرام ہمارے پیچھے چٹائی پر تھیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13546]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 660
الحكم: إسناده صحيح، م: 660
حدیث نمبر: 13547 مسند احمد
يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَرْبُ بْنُ مَيْمُونٍ ، النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ مَيْمُونٍ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ: اذْهَبْ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْ: إِنْ رَأَيْتَ أَنْ تَغَدَّى عِنْدَنَا، فَافْعَلْ، قَالَ: فَجِئْتُهُ فَبَلَّغْتُهُ، فَقَالَ: وَمَنْ عِنْدِي؟ قُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ: انْهَضُوا، قَالَ: فَجِئْتُ، فَدَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سُلَيْمٍ، وَأَنَا مُدْهَشٌ لِمَنْ أَقْبَلَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ: مَا صَنَعْتَ يَا أَنَسُ؟ فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَثَرِ ذَلِكَ، قَالَ:" هَلْ عِنْدَكِ سَمْنٌ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، قَدْ كَانَ مِنْهُ عِنْدِي عُكَّةٌ، وفِيهَا شَيْءٌ مِنْ سَمْنٍ، قَالَ: فَأْتِ بِهَا، قَالَتْ: فَجِئْتُهُ بِهَا، فَفَتَحَ رِبَاطَهَا، ثُمَّ قَالَ: بِسْمِ اللَّهِ، اللَّهُمَّ أَعْظِمْ فِيهَا الْبَرَكَةَ، قَالَ: فَقَالَ: اقْلِبِيهَا، فَقَلَبْتُهَا، فَعَصَرَهَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُسَمِّي، قَالَ: فَأَخَذْتُ نَقْعَ فِدَرٌ، فَأَكَلَ مِنْهَا بِضْعٌ وَثَمَانُونَ رَجُلًا، فَفَضَلَ فِيهَا فَضْلٌ، فَدَفَعَهَا إِلَى أُمِّ سُلَيْمٍ، فَقَالَ: كُلِي وَأَطْعِمِي جِيرَانَكِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس جا کر کہو کہ اگر آپ ہمارے ساتھ کھانا کھانا چاہتے ہیں تو آجائیں، میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر پیغام دیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا آپ کے پاس بیٹھے ہوئے لوگوں کو بھی؟ میں نے کہہ دیا جی ہاں! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا اٹھو، ادھر میں جلدی سے گھر پہنچا اس وقت میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ بہت سے لوگ ہونے کی وجہ سے گھبرایا ہوا تھا، حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ نے پوچھا انس! تمہیں کیا ہوا؟ اسی وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی گھر میں تشریف لے آئے اور حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ تمہارے پاس گھی ہے؟ انہوں نے اثبات میں جواب دیا اور کہا کہ میرے پاس گھی کا ڈبہ ہے جس میں تھوڑا سا گھی موجود ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وہ میرے پاس لے آؤ۔ میں وہ ڈبہ لے کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کا ڈھکن کھولا اور بسم اللہ پڑھ کر یہ دعاء کی کہ اے اللہ! اس میں خوب برکت پیدا فرما، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اسے اٹھاؤ، انہوں نے اسے اٹھایا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس میں سے گھی نچوڑنے لگے اور اس دوران بسم اللہ پڑھتے رہے اور ایک ہنڈیا کے برابر گھی نکل آیا، اس سے اسی سے بھی زائد لوگوں نے کھانا کھالیا لیکن وہ پھر بھی بچ گیا، جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ کے حوالے کردیا اور فرمایا کہ خود بھی کھاؤ اور اپنے پڑوسیوں کو بھی کھلاؤ۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13547]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، قاله أحمد شاکر خ: 5450، م: 2040
الحكم: إسناده صحيح، قاله أحمد شاکر خ: 5450، م: 2040
حدیث نمبر: 13548 مسند احمد
سُرَيْجٌ ، ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: أَقْبَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ سَفَرٍ مِنْ بَعْضِ أَسْفَارِهِ،" فَلَمَّا بَدَا لَنَا أُحُدٌ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ. فَلَمَّا أَشْرَفَ عَلَى الْمَدِينَةِ، قَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا، مِثْلَ مَا حَرَّمَ إِبْرَاهِيمُ مَكَّةَ، اللَّهُمَّ بَارِكْ فِي مُدِّهِمْ وَصَاعِهِمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خیبر سے واپس آ رہے تھے، جب احد پہاڑ نظر آیا تو فرمایا کہ یہ پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں، پھر جب مدینہ کے قریب پہنچے تو فرمایا اے اللہ! میں اس کے دونوں پہاڑوں کے درمیانی جگہ کو حرام قرار دیتا ہوں جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم قرار دیا تھا۔ اے اللہ! ان کے صاع اور مد میں برکت عطاء فرما۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13548]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3367، م: 1365
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3367، م: 1365
حدیث نمبر: 13549 مسند احمد
سُرَيْجٌ ، سُهَيْلٌ ، ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ أَخُو ابْنِ أَبِي حَزْمٍ الْقُطَعِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ: وَمَا يَذْكُرُونَ إِلا أَنْ يَشَاءَ اللَّهُ هُوَ أَهْلُ التَّقْوَى وَأَهْلُ الْمَغْفِرَةِ سورة المدثر آية 56، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَقُولُ رَبُّكُمْ:" أَنَا أَهْلٌ أَنْ أُتَّقَى أَنْ يُجْعَلَ مَعِي إِلَهًا آخَرَ، وَمَنِ اتَّقَى أَنْ يَجْعَلَ مَعِي إِلَهًا آخَرَ، فَهُوَ أَهْلٌ لِأَنْ أَغْفِرَ لَهُ".
حدیث نمبر: 13550 مسند احمد
سُرَيْجٌ ، أَبُو عَوَانَةَ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ نَسِيَ صَلَاةً، فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا سحری کھایا کرو، کیوں کہ سحری میں برکت ہوتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13550]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 597، م: 684
الحكم: إسناده صحيح، خ: 597، م: 684
حدیث نمبر: 13551 مسند احمد
سُرَيْجٌ ، أَبُو عَوَانَةَ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَسَحَّرُوا، فَإِنَّ فِي السَّحُورِ بَرَكَةً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا سحری کیا کرو کیونکہ سحری میں برکت ہوتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13551]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1923، م: 1095
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1923، م: 1095
حدیث نمبر: 13552 مسند احمد
سُرَيْجٌ ، أَبُو عَوَانَةَ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ مَالٍ، لَابْتَغَى إِلَيْهِمَا ثَالِثًا، وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ، وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر ابن آدم کے پاس سونے سے بھری ہوئی دو وادیاں بھی ہوتیں تو وہ تیسری کی تمنا کرتا اور ابن آدم کا منہ صرف قبر کی مٹی ہی بھر سکتی ہے اور جو توبہ کرتا ہے اللہ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13552]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6440، م: 1048
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6440، م: 1048
حدیث نمبر: 13553 مسند احمد
سُرَيْجٌ ، أَبُو عَوَانَةَ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَغْرِسُ غَرْسًا، أَوْ يَزْرَعُ زَرْعًا، فَيَأْكُلَ مِنْهُ طَيْرٌ، أَوْ إِنْسَانٌ، أَوْ بَهِيْمَةٌ، إِلَّا كَانَ لَهُ بِهِ صَدَقَةٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو مسلمان کوئی کھیت اگاتا ہے، یا کوئی پودا اگاتا ہے اور اس سے کسی پرندے، انسان یا درندے کو رزق ملتا ہے تو وہ اس کے لئے صدقہ کا درجہ رکھتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13553]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2320، م: 1553
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2320، م: 1553
حدیث نمبر: 13554 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَغْرِسُ غَرْسًا، أَوْ يَزْرَعُ زَرْعًا، فَيَأْكُلَ مِنْهُ دَابَّةٌ، أَوْ إِنْسَانٌ،، إِلَّا كَانَ لَهُ بِهِ صَدَقَةٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو مسلمان کوئی کھیت اگاتا ہے، یا کوئی پودا اگاتا ہے اور اس سے کسی پرندے، انسان یا درندے کو رزق ملتا ہے تو وہ اس کے لئے صدقہ کا درجہ رکھتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13554]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر ما قبله
الحكم: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 13555 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ ، رَجُلًا ، الْحَسَنِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، وَذَكَرَ رَجُلًا عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ:" اسْتَشَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ فِي الْأُسَارَى يَوْمَ بَدْرٍ، فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَمْكَنَكُمْ مِنْهُمْ، قَالَ: فَقَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اضْرِبْ أَعْنَاقَهُمْ، قَالَ: فَأَعْرَضَ عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ثُمَّ عَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَمْكَنَكُمْ مِنْهُمْ، وَإِنَّمَا هُمْ إِخْوَانُكُمْ بِالْأَمْسِ، قَالَ: فَقَامَ عُمَرُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اضْرِبْ أَعْنَاقَهُمْ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ثُمَّ عَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِلنَّاسِ مِثْلَ ذَلِكَ، فَقَامَ أَبُو بَكْرٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَرَى أَنْ تَعْفُوَ عَنْهُمْ، وَتَقْبَلَ مِنْهُمْ الْفِدَاءَ، قَالَ: فَذَهَبَ عَنْ وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا كَانَ فِيهِ مِنَ الْغَمِّ، قَالَ: فَعَفَا عَنْهُمْ، وَقَبِلَ مِنْهُمْ الْفِدَاءَ، قَالَ: وَأَنْزَلَ اللَّهُ: لَوْلا كِتَابٌ مِنَ اللَّهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ سورة الأنفال آية 68".
حدیث نمبر: 13556 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ فِي ثَوْبٍ مُتَوَشِّحًا بِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک کپڑے میں لپٹ کر حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13556]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن عاصم
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن عاصم
حدیث نمبر: 13557 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، قَالَ: بَلَغَنَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" صَلَّى خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ فِي وَجَعِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ قَاعِدًا مُتَوَشِّحًا بِثَوْبٍ، قَالَ: أَظُنُّهُ قَالَ: بُرْدًا، ثُمَّ دَعَا أُسَامَةَ، فَأَسْنَدَ ظَهْرَهُ إِلَى نَحْرِهِ، ثُمَّ قَالَ: يَا أُسَامَةُ، ارْفَعْنِي إِلَيْكَ، قَالَ يَزِيدُ: وَكَانَ فِي الْكِتَابَ الَّذِي مَعِي، عَنْ أَنَسٍ، فَلَمْ يَقُلْ: عَنْ أَنَسٍ، وَأَنْكَرَهُ، وَأَثْبَتَ ثَابِتًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ثابت بنانی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہمیں یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے مرض الوفات میں اپنے جسم مبارک پر ایک کپڑا لپیٹ کر بیٹھ کر حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی اقتداء میں نماز پڑھی ہے، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کو بلایا اور اپنی پشت کو ان کے سینے سے لگایا اور فرمایا اسامہ! مجھے اٹھاؤ۔ راوی یزید کہتے ہیں کہ میری کتاب میں حضرت انس رضی اللہ عنہ کا نام بھی تھا (کہ یہ روایت حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے) لیکن استاذ صاحب نے اسے منکر قرار دیا اور ثابت ہی کے نام سے اسے محفوظ قرار دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13557]
حکم دارالسلام
رجاله ثقات رجال الشیخین، فإکان أنس محفوظ فیہ فالإسناد متصل صحیح، و انظر ما قبله
الحكم: رجاله ثقات رجال الشیخین، فإکان أنس محفوظ فیہ فالإسناد متصل صحیح، و انظر ما قبله
حدیث نمبر: 13558 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ ، وَخَالِدٌ ، مُحَمَّدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، وَخَالِدٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ وَقَدْ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، فَلْيَمْشِ عَلَى هِينَتِهِ، فَلْيُصَلِّ مَا أَدْرَكَ، وَلْيَقْضِ مَا سُبِقَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز کے لئے آئے تو سکون سے چلے، جتنی نماز مل جائے سو پڑھ لے اور جو رہ جائے اسے قضاء کرلے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13558]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن عاصم
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن عاصم
حدیث نمبر: 13559 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ ، أَبُو سَلَمَةَ صَاحِبُ الطَّعَامِ ، جَابِرُ بْنُ يَزِيدَ ، الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ صَاحِبُ الطَّعَامِ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ يَزِيدَ وَلَيْسَ بِجَابِرٍ الْجُعْفِيِّ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى حَلِيقٍ النَّصْرَانِيِّ لِيَبْعَثَ إِلَيْهِ بِأَثْوَابٍ إِلَى الْمَيْسَرَةِ، فَأَتَيْتُهُ، فَقُلْتُ: بَعَثَنِي إِلَيْكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِتَبْعَثَ إِلَيْهِ بِأَثْوَابٍ إِلَى الْمَيْسَرَةِ، فَقَالَ: وَمَا الْمَيْسَرَةُ؟ وَمَتَى الْمَيْسَرَةُ؟ وَاللَّهِ مَا لِمُحَمَّدٍ ثَاغِيَةٌ، وَلَا رَاغِيَةٌ، فَرَجَعْتُ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَآنِي، قَالَ:" كَذَبَ عَدُوُّ اللَّهِ، أَنَا خَيْرُ مَنْ بَايَعُ، لَأَنْ يَلْبَسَ أَحَدُكُمْ ثَوْبًا مِنْ رِقَاعٍ شَتَّى، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ بِأَمَانَتِهِ، أَوْ: فِي أَمَانَتِهِ مَا لَيْسَ عِنْدَهُ". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: وَجَدْتُ هَذَا الْحَدِيثَ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے حلیق نصرانی کے پاس یہ پیغام دے کر بھیجا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس وہ کپڑے بھیج دے جو میسرہ کی طرف ہیں، چنانچہ میں نے اس کے پاس جا کر اس سے یونہی کہہ دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے تمہارے پاس بھیجا ہے تاکہ تم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس وہ کپڑے بجھوا دو جو میسرہ کی طرف ہیں، اس نے کہا کون میسرہ؟ کب کا میسرہ؟ بخدا! محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ایک بھی بکری یا چرواہا نہیں ہے، میں یہ سن کر واپس آگیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے دیکھتے ہی فرمایا دشمن اللہ نے جھوٹ بولا ہے، میں سب سے بہترین خریدو فروخت کرنے والا ہوں، تم میں سے کوئی شخص کپڑے کی کتریں جمع کر کے ان کا کپڑا بنا کر پہن لے، یہ اس سے بہت بہتر ہے کہ کسی امانت میں سے ایسی چیز پر قبضہ کرلے جس کا اسے حق نہ ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13559]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة أبى سلمة صاحب الطعام و جابر بن يزيد، وقال أبو حاتم فى العلل: هذا حديث منكر
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة أبى سلمة صاحب الطعام و جابر بن يزيد، وقال أبو حاتم فى العلل: هذا حديث منكر
حدیث نمبر: 13560 مسند احمد
عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ، سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ:" مَنْ لَقِيَ اللَّهَ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، دَخَلَ الْجَنَّةَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے فرمایا جو شخص اللہ سے اس حال میں ملاقات کرے کہ وہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13560]
حکم دارالسلام
إسناده قوي، خ: 129
الحكم: إسناده قوي، خ: 129
حدیث نمبر: 13561 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَبِي التَّيَّاحِ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" كَانَ مَوْضِعُ مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبَنِي النَّجَّارِ، وَكَانَ فِيهِ حَرْثٌ وَنَخْلٌ وَقُبُورُ الْمُشْرِكِينَ، فَقَالَ: يَا بَنِي النَّجَّارِ، ثَامِنُونِي بِهِ، فَقَالُوا: لَا نَبْتَغِي بِهِ ثَمَنًا إِلَّا عِنْدَ اللَّهِ، قَالَ: فَقَطَعَ النَّخْلَ، وَسَوَّى الْحَرْثَ، وَنَبَشَ قُبُورَ الْمُشْرِكِينَ، قَالَ: وَكَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ يَبْنِيَ الْمَسْجِدَ يُصَلِّي حَيْثُ أَدْرَكَتْهُ الصَّلَاةُ، وَفِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ وَهُمْ يَنْقُلُونَ الصَّخْرَ لِبِنَاءِ الْمَسْجِدِ: اللَّهُمَّ إِنَّ الْخَيْرَ خَيْرُ الْآخِرَهْ، فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَهْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو مدینہ کے بالائی حصے میں بنو عمرو بن عواف کے محلے میں پڑاؤ کیا اور وہاں چودہ راتیں مقیم رہے، پھر بنو نجار کے سرداروں کو بھلا بھیجا، وہ اپنی تلواریں لٹکائے ہوئے آئے، وہ منظر اب بھی میرے سامنے ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی سواری پر تھے، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ان کے پیچھے تھے اور بنو نجار ان کے اردگرد تھے، یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے صحن میں پہنچ گئے، ابتداء میں جہاں بھی نماز کا وقت ہوجاتا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وہیں نماز پڑھ لیتے اور بکریوں کے باڑے میں بھی نماز پڑھ لیتے تھے، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مسجد تعمیر کرنے کا حکم دے دیا اور بنو نجار کے لوگوں کو بلا کر ان سے فرمایا اے بنو نجار! اپنے اس باغ کی قیمت کا معاملہ میرے ساتھ طے کرلو، وہ کہنے لگے کہ ہم تو اس کی قیمت اللہ ہی سے لیں گے، اس وقت وہاں مشرکین کی کچھ قبریں، ویرانہ اور ایک درخت تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم پر مشرکین کی قبروں کو اکھیڑ دیا گیا، ویرانہ برابر کردیا گیا اور درخت کو کاٹ دیا گیا، قبلہ مسجد کی جانب درخت لگا دیا اور اس کے دروازوں کے کواڑ پتھر کے بنا دیئے، لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اینٹیں پکڑاتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے جارہے تھے کہ اے اللہ! اصل تو آخرت کی ہے، اے اللہ! انصار اور مہاجرین کی نصرت فرما۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز کے لئے آئے تو سکون سے چلے، جتنی نماز مل جائے سو پڑھ لے اور جو رہ جائے اسے قضاء کرلے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13561]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 234، م: 524
الحكم: إسناده صحيح، خ: 234، م: 524