يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، قَالَ: بَلَغَنَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" صَلَّى خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ فِي وَجَعِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ قَاعِدًا مُتَوَشِّحًا بِثَوْبٍ، قَالَ: أَظُنُّهُ قَالَ: بُرْدًا، ثُمَّ دَعَا أُسَامَةَ، فَأَسْنَدَ ظَهْرَهُ إِلَى نَحْرِهِ، ثُمَّ قَالَ: يَا أُسَامَةُ، ارْفَعْنِي إِلَيْكَ، قَالَ يَزِيدُ: وَكَانَ فِي الْكِتَابَ الَّذِي مَعِي، عَنْ أَنَسٍ، فَلَمْ يَقُلْ: عَنْ أَنَسٍ، وَأَنْكَرَهُ، وَأَثْبَتَ ثَابِتًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ثابت بنانی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہمیں یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے مرض الوفات میں اپنے جسم مبارک پر ایک کپڑا لپیٹ کر بیٹھ کر حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی اقتداء میں نماز پڑھی ہے، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کو بلایا اور اپنی پشت کو ان کے سینے سے لگایا اور فرمایا اسامہ! مجھے اٹھاؤ۔ راوی یزید کہتے ہیں کہ میری کتاب میں حضرت انس رضی اللہ عنہ کا نام بھی تھا (کہ یہ روایت حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے) لیکن استاذ صاحب نے اسے منکر قرار دیا اور ثابت ہی کے نام سے اسے محفوظ قرار دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13557]
حکم دارالسلام
رجاله ثقات رجال الشیخین، فإکان أنس محفوظ فیہ فالإسناد متصل صحیح، و انظر ما قبله
الحكم: رجاله ثقات رجال الشیخین، فإکان أنس محفوظ فیہ فالإسناد متصل صحیح، و انظر ما قبله