بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَنَسِ بنِ مَالِك رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2170
صفحہ 22 از 109
حدیث نمبر: 12361 مسند احمد
أَبُو عَامِرٍ ، هِشَامٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَيُصِيبَنَّ نَاسًا سَفْعٌ مِنَ النَّارِ، عُقُوبَةً بِذُنُوبٍ عَمِلُوهَا، ثُمَّ يُدْخِلُهُمْ اللَّهُ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ، فَيُقَالُ لَهُمْ: الْجَهَنَّمِيُّونَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کچھ لوگ اپنے گناہوں کی وجہ سے جہنم میں داخل کئے جائیں گے، جب وہ جل کر کوئلہ ہوجائیں گے تو انہیں جنت میں داخل کردیا جائے گا، (اہل جنت پوچھیں گے یہ یہ کون لوگ ہیں؟ انہیں) بتایا جائے گا کہ یہ جہنمی ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12361]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 745
الحكم: إسناده صحيح، خ: 745
حدیث نمبر: 12362 مسند احمد
أَبُو عَامِرٍ ، وأَزْهَرُ بْنُ الْقَاسِمِ ، هِشَامٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، وأَزْهَرُ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مِثْلُ مَا بَيْنَ نَاحِيَتَيْ حَوْضِي، مِثْلُ مَا بَيْنَ المدينة، وَصَنْعَاءَ، أَوْ مِثْلُ مَا بَيْنَ المدينة، وَعَمَّانَ"، وَقَالَ أَزْهَرُ: مِثْلُ، وَقَالَ: وعُمَانَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا میرے حوض کے دونوں کناروں کا درمیانی فاصلہ اتنا ہے جتنا مدینہ اور صنعاء یا مدینہ اور عمان کے درمیان ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12362]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2303
الحكم: إسناده صحيح، م: 2303
حدیث نمبر: 12363 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْحَلَّاقُ يَحْلِقُهُ، وَقَدْ أَطَافَ بِهِ أَصْحَابُهُ، مَا يُرِيدُونَ أَنْ تَقَعَ شَعَرَةٌ إِلَّا فِي يَدِ رَجُلٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو میں نے دیکھا کہ حلاق آپ کے بال کاٹ رہا ہے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ارد گرد کھڑے ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا جو بال بھی گرے وہ کسی آدمی کے ہاتھ پر ہی گرے۔ (زمین پر نہ گرے) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12363]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2325
الحكم: إسناده صحيح، م: 2325
حدیث نمبر: 12364 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، سُفْيَانُ ، عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَتَوَضَّأُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ"، قُلْتُ: فَأَنْتُمْ كَيْفَ كنتم تَصْنَعُونَ؟، قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي الصَّلَوَاتِ بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہر نماز کے وقت نیا وضو فرماتے تھے، راوی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ لوگ کیا کرتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم بےوضو ہونے تک ایک ہی وضو سے کئی کئی نمازیں بھی پڑھ لیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12364]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 214
الحكم: إسناده صحيح، خ: 214
حدیث نمبر: 12365 مسند احمد
بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ ، جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ ، قَالَ جَعْفَرٌ: لَا أَحْسَبُهُ إِلَّا عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: مُطِرْنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَخَرَجَ، فَحَسَرَ ثَوْبَهُ حَتَّى أَصَابَهُ الْمَطَرُ، قَالَ: فَقِيلَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لِمَ صَنَعْتَ هَذَا؟، قَالَ:" لِأَنَّهُ حَدِيثُ عَهْدٍ بِرَبِّهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں بارش ہوئی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے باہر نکل کر اپنے کپڑے جسم کے اوپر والے حصے سے ہٹادیئے تاکہ بارش کا پانی جسم تک بھی پہنچ سکے، کسی نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! آپ نے ایسا کیوں کیا؟ فرمایا کہ یہ بارش اپنے رب کے پاس سے تازہ تازہ آئی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12365]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 898
الحكم: إسناده صحيح، م: 898
حدیث نمبر: 12366 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ مُظَفَّرُ بْنُ مُدْرِكٍ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، سَلْمٍ الْعَلَوِيِّ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ مُظَفَّرُ بْنُ مُدْرِكٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ سَلْمٍ الْعَلَوِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يقول: لَمَّا نَزَلَتْ آيَةُ الْحِجَابِ جِئْتُ أَدْخُلُ كَمَا كُنْتُ أَدْخُلُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَرَاءَكَ يَا بُنَيَّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب آیت حجاب نازل ہوگئی تب بھی میں حسب سابق ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے گھر میں داخل ہونے لگا، تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بیٹا! پیچھے رہو (اجازت لے کر اندر آؤ) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12366]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 2151، وهذا إسناد حسن من أجل سلم العلوي
الحكم: حديث صحيح، م: 2151، وهذا إسناد حسن من أجل سلم العلوي
حدیث نمبر: 12367 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، سَلْمٍ الْعَلَوِيِّ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ سَلْمٍ الْعَلَوِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى عَلَى رَجُلٍ صُفْرَةً، فَكَرِهَهَا، قَالَ:" لَوْ أَمَرْتُمْ هَذَا أَنْ يَغْسِلَ هَذِهِ الصُّفْرَةَ"، قَالَ: وَكَانَ لَا يَكَادُ يُوَاجِهُ أَحَدًا فِي وَجْهِهِ بِشَيْءٍ يَكْرَهُهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک آدمی کے چہرے پر پیلا رنگ لگا ہوا دیکھا تو اس پر ناگواری ظاہر فرمائی اور فرمایا کہ اگر تم اس شخص کو یہ رنگ دھو دینے کا حکم دیتے تو کیا ہی اچھا ہوتا؟ اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی یہ عادت مبارکہ تھی کہ کسی کے سامنے اس طرح چہرہ لے کر نہ آتے تھے جس سے ناگواری کا اظہار ہوتا ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12367]
حکم دارالسلام
إسناده حسن كسابقه
الحكم: إسناده حسن كسابقه
حدیث نمبر: 12368 مسند احمد
بَهْزٌ ، شُعْبَةُ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَغْتَسِلُ مَعَ الْمَرْأَةِ مِنْ نِسَائِهِ مِنَ الْإِنَاءِ الْوَاحِدِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ان کی اہلیہ محترمہ ایک ہی برتن سے غسل کیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12368]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 264
الحكم: إسناده صحيح، خ: 264
حدیث نمبر: 12369 مسند احمد
بَهْزٌ ، شُعْبَةُ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ الْأَنْصَارِيُّ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ الْأَنْصَارِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يقول: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" آيَةُ النِّفَاقِ بُغْضُ الْأَنْصَارِ، وَآيَةُ الْإِيمَانِ حُبُّ الْأَنْصَارِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا نفاق کی علامت انصار سے بغض رکھنا ہے اور ایمان کی علامت انصار سے محبت کرنا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12369]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 17، م: 74
الحكم: إسناده صحيح، خ: 17، م: 74
حدیث نمبر: 12370 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ مَرَّةً، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، وَمَرَّةً عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" مَا كَانَ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ أَحَبَّ إِلَيْهِمْ شَخْصًا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانُوا إِذَا رَأَوْهُ لَا يَقُومُ لَهُ أَحَدٌ مِنْهُمْ، لِمَا يَعْلَمُونَ مِنْ كَرَاهِيَتِهِ لِذَلِكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی نگاہوں میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے زیادہ محبوب کوئی شخص نہ تھا، لیکن وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھ کر کھڑے نہ ہوتے تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسے اچھا نہیں سمجھتے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12370]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12371 مسند احمد
بَهْزٌ ، شُعْبَةُ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْكَبَائِرِ؟ أَوْ ذَكَرَهَا، قَالَ:" الشِّرْكُ، وَالْعُقُوقُ، وَقَتْلُ النَّفْسِ، وَشَهَادَةُ الزُّورِ، أَوْ قَوْلُ: الزُّورِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کبیرہ گناہوں کے متعلق پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ وہ یہ ہیں، اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا، ناحق قتل کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا اور جھوٹی بات یا جھوٹی گواہی دینا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12371]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5977، م: 88
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5977، م: 88
حدیث نمبر: 12372 مسند احمد
بَهْزٌ ، وَعَبْدُ الصَّمَدِ ، هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، قَتَادَةُ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، وَعَبْدُ الصَّمَدِ المعنى، قَالَا: حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قُلْتُ: كَمْ حَجَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، قَالَ:" حَجَّةً وَاحِدَةً، وَاعْتَمَرَ أَرْبَعَ مِرَارٍ عُمْرَتَهُ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ، وَعُمْرَتَهُ فِي ذِي الْقَعْدَةِ مِنَ المدينة، وَعُمْرَتَهُ مِنَ الْجِعْرَّانَةِ فِي ذِي الْقَعْدَةِ، حَيْثُ قَسَمَ غَنِيمَةَ حُنَيْنٍ، وَعُمْرَتَهُ مَعَ حَجَّتِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کتنے حج کئے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ حج کیا تھا اور چار مرتبہ عمرہ، ایک عمرہ تو حدیبیہ کے زمانے میں، دوسرا ذیقعدہ کے مہینے میں مدینہ سے، تیسرا عمرہ ذیقعدہ ہی کے مہینے میں جعرانہ سے جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے غزوہ حنین کا مال غنیمت تقسیم کیا تھا اور چوتھا عمرہ حج کے ساتھ کیا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12372]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1778، م: 1253
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1778، م: 1253
حدیث نمبر: 12373 مسند احمد
بَهْزٌ ، وَعَفَّانُ ، هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، قَتَادَةَ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: كُنَّا نَأْتِي أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، وَخَبَّازُهُ قَائِمٌ، قَالَ: فَقَالَ يَوْمًا:" كُلُوا، فَمَا أَعْلَمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَغِيفًا مُرَقَّقًا، وَلَا شَاةً سَمِيطًا قَطُّ"، قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ: حَتَّى لَحِقَ بِرَبِّهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا کرتے تھے، ان کے یہاں نانبائی مقرر تھا، ایک دن وہ ہم سے فرمانے لگے کھاؤ، البتہ میرے علم میں نہیں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کبھی اپنی آنکھوں سے باریک روٹی کو دیکھا بھی ہو، یا کبھی سالم بھنی ہوئی بکری کھائی ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12373]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5385
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5385
حدیث نمبر: 12374 مسند احمد
بَهْزٌ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّهَا نَزَلَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرْجِعَهُ مِنْ الْحُدَيْبِيَةِ، وَأَصْحَابُهُ يُخَالِطُونَ الْحُزْنَ، وَالْكَآبَةَ، وَقَدْ حِيلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ منَاسِكهمْ، وَنَحَرُوا الْهَدْيَ بِالْحُدَيْبِيَةِ إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا إِلَى قَوْلِهِ صِرَاطًا مُسْتَقِيمًا سورة الفتح آية 1 - 2، قَالَ:" لَقَدْ أُنْزِلَتْ عَلَيَّ آيَتَانِ، هُمَا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنَ الدُّنْيَا جَمِيعًا"، قَالَ: فَلَمَّا تَلَاهُمَا، قَالَ رَجُلٌ: هَنِيئًا مَرِيئًا يَا نَبِيَّ اللَّهِ، قَدْ بَيَّنَ اللَّهُ لَكَ مَا يَفْعَلُ بِكَ، فَمَا يَفْعَلُ بِنَا؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْآيَةَ الَّتِي بَعْدَهَا لِيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الأَنْهَارُ سورة الفتح آية 5 حَتَّى خَتَمَ الْآيَةَ.
حدیث نمبر: 12375 مسند احمد
بَهْزٌ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، يقول: فِي قِصَصِهِ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" يَخْرُجُ قَوْمٌ مِنَ النَّارِ بَعْدَ مَا يُصِيبُهُمْ سَفْعٌ مِنَ النَّارِ، فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ، فَيُسَمِّيهِمْ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَهَنَّمِيِّينَ"، قَالَ: فَكَانَ قَتَادَةُ يَتْبَعُ هَذِهِ الرِّوَايَات، وَاللَّهُ أَعْلَمُ، وَلَكِنْ أَحَقُّ مَنْ صَدَّقْتُمْ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، الَّذِي اخْتَارَهُمْ اللَّهُ لِصُحْبَةِ نَبِيِّهِ وَإِقَامَةِ دِينِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کچھ لوگ اپنے گناہوں کی وجہ سے جہنم میں داخل کئے جائیں گے، جب وہ جل کر کوئلہ ہوجائیں گے تو انہیں جنت میں داخل کردیا جائے گا، اہل جنت ان کا نام رکھ دیں گے کہ یہ جہنمی ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12375]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6559
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6559
حدیث نمبر: 12376 مسند احمد
بَهْزٌ ، وَعَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةً قَدْ دَعَا بِهَا، فَاسْتُجِيبَ لَهُ، وَإِنِّي اسْتَخَْبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ ہر نبی کی ایک دعاء ایسی ضرور تھی جو انہوں نے مانگی اور قبول ہوگئی، جب کہ میں نے اپنی دعاء اپنی امت کی سفارش کرنے کی خاطر قیامت کے دن کے لئے محفوظ کر رکھی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12376]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 200
الحكم: إسناده صحيح، م: 200
حدیث نمبر: 12377 مسند احمد
بَهْزٌ ، وَعَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، لِأَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، قَالَ: قُلْتُ: لِأَنَسٍ أَيُّ اللِّبَاسِ كَانَ أَعْجَبَ، قَالَ عَفَّانُ: أَوْ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، قَالَ: الْحِبَرَةُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کون سا لباس پسند تھا؟ انہوں نے فرمایا کہ دھاری دار یمنی چادر۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12377]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5812، م: 2079
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5812، م: 2079
حدیث نمبر: 12378 مسند احمد
بَهْزٌ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى أَنْ يُنْبَذَ الْبُسْرُ وَالتَّمْرُ جَمِيعًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کچی اور پکی کھجور کو اکٹھا کر کے نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12378]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1981
الحكم: إسناده صحيح، م: 1981
حدیث نمبر: 12379 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، أَيُّوبَ ، أَبِي قِلَابَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَتَبَاهَى النَّاسُ فِي الْمَسَاجِدِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک لوگ مساجد کے بارے میں ایک دوسرے پر فخر نہ کرنے لگیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12379]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12380 مسند احمد
بَهْزٌ ، وَعَفَّانُ ، أَبَانُ ، قَتَادَةُ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبَانُ ، قَالَ بَهْزُ: ابْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، حَدَّثَنَا أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَزَالُ جَهَنَّمُ تَقُولُ هَلْ مِنْ مَزِيدٍ؟، قَالَ: فَيُدَلِّي فِيهَا رَبُّ الْعَالَمِينَ قَدَمَهُ، قَالَ: فَيَنْزَوِي بَعْضُهَا إِلَى بَعْضٍ، وَتَقُولُ: قَطْ قَطْ بِعِزَّتِكَ، وَلَا يَزَالُ فِي الْجَنَّةِ فَضْلٌ، حَتَّى يُنْشِئَ اللَّهُ لَهَا خَلْقًا آخَرَ فَيُسْكِنَهُ فِي فُضُولِ الْجَنَّةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جہنم مسلسل یہ کہتی رہے گی کہ کوئی اور بھی ہے تو لے آؤ، یہاں تک کہ پروردگار عالم اس میں اپنا پاؤں لٹکا دے گا، اس وقت اس کے حصے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر سکڑ جائیں گے اور وہ کہے گی کہ تیری عزت کی قسم! بس بس اسی طرح جنت میں بھی جگہ زائد بچ جائے گی حتیٰ کہ اللہ اس کے لئے ایک اور مخلوق کو پیدا کرکے جنت کے باقی ماندہ حصے میں اسے آباد کر دے گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12380]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7384 معلقا، م: 2848
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7384 معلقا، م: 2848