بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَنَسِ بنِ مَالِك رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2170
صفحہ 38 از 109
حدیث نمبر: 12681 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَالِكٌ ، ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ يَوْمَ الْفَتْحِ وَعَلَيْهِ الْمِغْفَرُ، فَجَاءَ رَجُلٌ، فَقَالَ: هَذَا ابْنُ خَطَلٍ مُتَعَلِّقٌ بِالْأَسْتَارِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اقْتُلُوهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خود پہن رکھا تھا، کسی شخص نے آکر بتایا کہ ابن اخطل خانہ کعبہ کے پردوں کے ساتھ چمٹا ہوا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پھر بھی اسے قتل کردو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12681]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1846، م: 1357
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1846، م: 1357
حدیث نمبر: 12682 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ عَلَى ظَهْرِ الْقَدَمِ، مِنْ وَجَعٍ كَانَ بِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حالت احرام میں پاؤں کے اوپر والے حصے پر درد کی وجہ سے سینگی لگوائی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12682]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12683 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، عَمَّنْ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أخبرنا سُفْيَانُ ، عَمَّنْ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أَعْمَالَكُمْ تُعْرَضُ عَلَى أَقَارِبِكُمْ وَعَشَائِرِكُمْ مِنَ الْأَمْوَاتِ، فَإِنْ كَانَ خَيْرًا، اسْتَبْشَرُوا بِهِ، وَإِنْ كَانَ غَيْرَ ذَلِكَ، قَالُوا: اللَّهُمَّ لَا تُمِتْهُمْ حَتَّى تَهْدِيَهُمْ كَمَا هَدَيْتَنَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تمہارے اعمال تمہارے فوت شدہ قریبی رشتہ داروں اور خاندان والوں کے سامنے بھی رکھے جاتے ہیں، اگر اچھے اعمال ہوں تو وہ خوش ہوتے ہیں، اگر دوسری صورت ہو تو کہتے ہیں کہ اے اللہ! انہیں اس وقت تک موت نہ دیجئے گا جب تک انہیں ہدایت نہ دے دیں۔ جیسے ہمیں عطاء فرمائی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12683]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لإبهام الواسطة بين سفيان و أنس، وهذا الحديث تفرد به الإمام أحمد
الحكم: إسناده ضعيف لإبهام الواسطة بين سفيان و أنس، وهذا الحديث تفرد به الإمام أحمد
حدیث نمبر: 12684 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، وَعَبْدُ الْأَعْلَى ، مَعْمَرٍ ، الزُّهْرِيِّ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ وَعَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دباء اور مزفت میں نبیذ پینے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12684]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5587، م: 1992
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5587، م: 1992
حدیث نمبر: 12685 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قال: لَقِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ وَبِهِ وَضَرٌ مِنْ خَلُوقٍ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَهْيَمْ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ؟" قَالَ: تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ، قَالَ:" كَمْ أَصْدَقْتَهَا؟" قَالَ: وَزْنَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ"، قَالَ أَنَسٌ: لَقَدْ رَأَيْتُهُ قَسَمَ لِكُلِّ امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِهِ بَعْدَ مَوْتِهِ مِائَةَ أَلْفِ دِينَارٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ملاقات حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے ہوئی، تو ان کے اوپر "" خلوق "" نامی خوشبو کے اثرات دکھائی دیئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا عبدالرحمن! یہ کیا ہے؟ انہوں نے عرض کہا کہ میں نے ایک انصاری خاتون سے شادی کرلی ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کہ مہر کتنا دیا؟ انہوں نے بتایا کہ کھجور کی گٹھلی کے برابر سونا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پھر ولیمہ کرو، اگرچہ ایک بکری ہی سے ہو۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کے انتقال کے بعد ان کی ہر بیوی کو وراثت کے حصے میں ایک ایک لاکھ درہم ملے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12685]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5148، م: 1427
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5148، م: 1427
حدیث نمبر: 12686 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، ثَابِتٍ ، وَأَبَانَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، وَأَبَانَ ، وَغَيْرِ وَاحِدٍ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا شِغَارَ فِي الْإِسْلَامِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اسلام میں وٹے سٹے کے نکاح کی " جس میں کوئی مہر مقرر نہ کیا گیا ہو " کوئی حیثیت نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12686]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح من جهة ثابت، وأما أبان بن أبى عياش فمتروك
الحكم: إسناده صحيح من جهة ثابت، وأما أبان بن أبى عياش فمتروك
حدیث نمبر: 12687 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَعْتَقَ صَفِيَّةَ، وَجَعَلَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ بنت حیی کو آزاد کردیا اور ان کی آزادی ہی کو ان کا مہر قرار دے دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12687]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5169، م: 1365
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5169، م: 1365
حدیث نمبر: 12688 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ " سَأَلَ أَهْلُ مَكَّةَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آيَةً، فَانْشَقَّ الْقَمَرُ بِمَكَّةَ مَرَّتَيْنِ، فَقَالَ: اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ وَإِنْ يَرَوْا آيَةً يُعْرِضُوا وَيَقُولُوا سِحْرٌ مُسْتَمِرٌّ سورة القمر آية 1 - 2.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اہل مکہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کوئی معجزہ دکھانے کی فرمائش کی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں دو مرتبہ شق قمر کا معجزہ دکھایا اور اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ " قیامت قریب آگئی اور چاند شق ہوگیا "۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12688]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3637، م: 2802
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3637، م: 2802
حدیث نمبر: 12689 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا كَانَ الْفُحْشُ فِي شَيْءٍ قَطُّ إِلَّا شَانَهُ، وَلَا كَانَ الْحَيَاءُ فِي شَيْءٍ قَطُّ إِلَّا زَانَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس چیز میں بےحیائی پائی جاتی ہو وہ اسے عیب دار کردیتی ہے اور جس چیز میں بھی حیاء پائی جاتی ہو، وہ اسے زینت بخش دیتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12689]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12690 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" مَا عَدَدْتُ فِي رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِحْيَتِهِ، إِلَّا أَرْبَعَ عَشْرَةَ شَعَرَةً بَيْضَاءَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ڈاڑھی اور سر میں صرف چودہ بال ہی سفید گنے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12690]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر: 12474
الحكم: إسناده صحيح، وانظر: 12474
حدیث نمبر: 12691 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَحَاسَدُوا، وَلَا تَقَاطَعُوا، وَلَا تَدَابَرُوا، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا، وَلَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا آپس میں قطع تعلقی، بغض، پشت پھیرنا اور حسد نہ کیا کرو اور اللہ کے بندو! بھائی بھائی بن کر رہا کرو اور کسی مسلمان کے لئے اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع کلامی کرنا حلال نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12691]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6076، م: 2559
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6076، م: 2559
حدیث نمبر: 12692 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَعْرَابِ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَتَى السَّاعَةُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَمَا أَعْدَدْتَ لَهَا؟" فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ: مَا أَعْدَدْتُ لَهَا مِنْ كَبِيرٍ أَحْمَدُ عَلَيْهِ نَفْسِي، إِلَّا أَنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَإِنَّكَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک دیہاتی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! قیامت کب قائم ہوگی؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم نے قیامت کے لئے کیا تیاری کر رکھی ہے؟ اس نے کہا کہ میں نے کوئی بہت زیادہ اعمال تو مہیا نہیں کر رکھے، البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا انسان قیامت کے دن اس شخص کے ساتھ ہوگا جس کے ساتھ وہ محبت کرتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12692]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2639
الحكم: إسناده صحيح، م: 2639
حدیث نمبر: 12693 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، أَشْعَثَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ:" كَانَ شَعَرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَنْصَافِ أُذُنَيْهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بال نصف کانوں تک ہوتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12693]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2338
الحكم: إسناده صحيح، م: 2338
حدیث نمبر: 12694 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، ثَابِتٍ ، وقَتادةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، وقَتادةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: نَظَرَ بَعْضُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضُوءًا، فَلَمْ يَجِدُوا، قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَاهُنَا مَاءٌ؟" قَالَ: فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضَعَ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ الَّذِي فِيهِ الْمَاءُ، ثُمَّ قَالَ:" تَوَضَّئُوا بِاسْمِ اللَّهِ" فَرَأَيْتُ الْمَاءَ يَفُورُ يَعْنِي بَيْنَ أَصَابِعِهِ، وَالْقَوْمُ يَتَوَضَّئُونَ، حَتَّى تَوَضَّئُوا عَنْ آخِرِهِمْ، قَالَ ثَابِتٌ قُلْتُ لِأَنَسٍ: كَمْ تُرَاهُمْ كَانُوا؟ قَالَ: نَحْوًا مِنْ سَبْعِينَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ بعض صحابہ رضی اللہ عنہ نے وضو کے لئے پانی تلاش کیا لیکن وہ انہیں مل نہ سکا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے پوچھا کیا یہاں تھوڑا پانی ہے؟ میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس برتن میں اپنا ہاتھ ڈالا اور فرمایا اللہ کا نام لے کر وضو کرو، میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی انگلیوں کے درمیان پانی ابل رہا تھا، لوگ اس سے وضو کرنے لگے حتیٰ کہ سب نے وضو کرلیا، ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اس وقت آپ کتنے لوگ تھے؟ انہوں نے بتایا کہ ستر کے قریب۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12694]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 200، م: 2279
الحكم: إسناده صحيح، خ: 200، م: 2279
حدیث نمبر: 12695 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ ، النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَوْ عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَعَدَنِي أَنْ يُدْخِلَ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي أَرْبَعَ مِائَةِ أَلْفٍ" فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: زِدْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" وَهَكَذَا" وَجَمَعَ كَفَّهُ، قَالَ: زِدْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" وَهَكَذَا" فَقَالَ عُمَرُ: حَسْبُكَ يَا أَبَا بَكْرٍ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: دَعْنِي يَا عُمَرُ، مَا عَلَيْكَ أَنْ يُدْخِلَنَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْجَنَّةَ كُلَّنَا! فَقَالَ عُمَرُ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِنْ شَاءَ أَدْخَلَ خَلْقَهُ الْجَنَّةَ بِكَفٍّ وَاحِدٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَدَقَ عُمَرُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھ سے یہ وعدہ فرمایا ہے کہ وہ میری امت کے چار لاکھ آدمیوں کو جنت میں داخل فرمائے گا، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! اس تعداد میں اضافہ کیجئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی ہتھیلی جمع کر کے فرمایا کہ اتنے افراد مزید ہوں گے، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پھر عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! اس تعداد میں اضافہ کیجئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھر اپنی ہتھیلی جمع کر کے فرمایا کہ اتنے افراد مزید ہوں گے، اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ ابوبکر! بس کیجئے، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا عمر! پیچھے ہٹو، اگر اللہ تعالیٰ ہم سب ہی کو جنت میں کلی طور پر داخل فرما دے تو تمہارا اس میں کوئی حرج نہیں ہے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر اللہ چاہے تو ایک ہی ہاتھ میں ساری مخلوق کو جنت میں داخل کر دے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا عمر سچ کہتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12695]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12696 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ نَاسًا مِنَ الْأَنْصَارِ قَالُوا: يَوْمَ حُنَيْنٍ حِينَ أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ أَمْوَالَ هَوَازِنَ، فَطَفِقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي رِجَالًا مِنْ قُرَيْشٍ الْمِائَةَ مِنَ الْإِبِلِ كُلَّ رَجُلٍ، فَقَالُوا: يَغْفِرُ اللَّهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُعْطِي قُرَيْشًا وَيَتْرُكُنَا وَسُيُوفُنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَائِهِمْ! قَالَ أَنَسٌ: فَحُدِّثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَقَالَتِهِمْ، فَأَرْسَلَ إِلَى الْأَنْصَارِ، فَجَمَعَهُمْ فِي قُبَّةٍ مِنْ أَدَمٍ، وَلَمْ يَدْعُ أَحَدًا غَيْرَهُمْ، فَلَمَّا اجْتَمَعُوا جَاءَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ" مَا حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْكُمْ؟" فَقَالَتْ الْأَنْصَارُ: أَمَّا ذَوُو رَأْيِنَا فَلَمْ يَقُولُوا شَيْئًا، وَأَمَّا نَاسٌ حَدِيثَةٌ أَسْنَانُهُمْ، فَقَالُوا: كَذَا وَكَذَا، لِلَّذِي قَالُوا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي لَأُعْطِي رِجَالًا حُدَثَاءَ عَهْدٍ بِكُفْرٍ أَتَأَلَّفُهُمْ أَوْ قَالَ أَسْتَأْلِفُهُمْ أَفَلَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالْأَمْوَالِ، وَتَرْجِعُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ إِلَى رِحَالِكُمْ؟ فَوَاللَّهِ لَمَا تَنْقَلِبُونَ بِهِ خَيْرٌ مِمَّا يَنْقَلِبُونَ بِهِ"، قَالُوا: أَجَلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ رَضِينَا، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّكُمْ سَتَجِدُونَ بَعْدِي أَثَرَةً شَدِيدَةً، فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْا اللَّهَ وَرَسُولَهُ، فَإِنِّي فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ" قَالَ أَنَسٌ: فَلَمْ نَصْبِرْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ حنین کے موقع پر اللہ نے جب بنو ہوازن کا مال غنیمت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو عطاء فرمایا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قریش کے ایک ایک یہودی کو سو سو اونٹ دینے لگے تو انصار کے کچھ لوگ کہنے لگے اللہ تعالیٰ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بخشش فرمائے، کہ وہ قریش کو دیئے جا رہے ہیں اور ہمیں نظر انداز کرر ہے ہیں جب کہ ہماری تلواروں سے ابھی تک خون کے قطرے ٹپک رہے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انصاری صحابہ رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا اور انہیں چمڑے سے بنے ہوئے ایک خیمے میں جمع کیا اور ان کے علاوہ کسی اور کو آنے کی اجازت نہ دی، جب وہ سب جمع ہوگئے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا کہ آپ کے حوالے سے مجھے کیا باتیں معلوم ہو رہی ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ ہمارے صاحب الرائے حضرات نے تو کچھ بھی نہیں کہا، باقی کچھ نوعمر لوگوں نے ایسی ایسی بات کہی ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ میں ان لوگوں کو مال دیتا ہوں جن کا زمانہ کفر قریب ہی ہے اور اس کے ذریعے میں ان کی تالیف قلب کرتا ہوں، کیا تم لوگ اس بات پر خوش نہیں ہو کہ لوگ مال و دولت لے کر چلے جائیں اور تم پیغمبر اللہ کو اپنے خیموں میں لے جاؤ، بخدا! جس چیز کو لے کر تم لوٹو گے وہ اس چیز سے بہت بہتر ہے، جو وہ لوگ لے کر واپس جائیں گے، تمام انصاری صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! ہم راضی ہیں، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا عنقریب تم میرے بعد بہت زیادہ ترجیحات دیکھو گے لیکن تم صبر کرنا یہاں تک کہ اللہ اور اس کے رسول سے آملو، کیونکہ میں اپنے حوض پر تمہارا انتظار کروں گا، حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم صبر نہیں کرسکے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12696]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3147، م: 1059
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3147، م: 1059
حدیث نمبر: 12697 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" يَطْلُعُ عَلَيْكُمْ الْآنَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ" فَطَلَعَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، تَنْطِفُ لِحْيَتُهُ مِنْ وُضُوئِهِ، قَدْ تَعَلَّقَ نَعْلَيْهِ فِي يَدِهِ الشِّمَالِ، فَلَمَّا كَانَ الْغَدُ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ ذَلِكَ، فَطَلَعَ ذَلِكَ الرَّجُلُ مِثْلَ الْمَرَّةِ الْأُولَى، فَلَمَّا كَانَ الْيَوْمُ الثَّالِثُ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ مَقَالَتِهِ أَيْضًا، فَطَلَعَ ذَلِكَ الرَّجُلُ عَلَى مِثْلِ حَالِهِ الْأُولَى، فَلَمَّا قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَبِعَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، فَقَالَ: إِنِّي لَاحَيْتُ أَبِي، فَأَقْسَمْتُ أَنْ لَا أَدْخُلَ عَلَيْهِ ثَلَاثًا، فَإِنْ رَأَيْتَ أَنْ تُؤْوِيَنِي إِلَيْكَ حَتَّى تَمْضِيَ، فَعَلْتَ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: أَنَسٌ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يُحَدِّثُ أَنَّهُ بَاتَ مَعَهُ تِلْكَ اللَّيَالِي الثَّلَاثَ، فَلَمْ يَرَهُ يَقُومُ مِنَ اللَّيْلِ شَيْئًا، غَيْرَ أَنَّهُ إِذَا تَعَارَّ وَتَقَلَّبَ عَلَى فِرَاشِهِ ذَكَرَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، وَكَبَّرَ، حَتَّى يَقُومَ لِصَلَاةِ الْفَجْرِ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ غَيْرَ أَنِّي لَمْ أَسْمَعْهُ يَقُولُ إِلَّا خَيْرًا، فَلَمَّا مَضَتْ الثَّلَاثُ لَيَالٍ، وَكِدْتُ أَنْ أَحْتَقِرَ عَمَلَهُ، قُلْتُ يَا عَبْدَ اللَّهِ، إِنِّي لَمْ يَكُنْ بَيْنِي وَبَيْنَ أَبِي غَضَبٌ وَلَا هَجْرٌ ثَمَّ، وَلَكِنْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَكَ ثَلَاثَ مِرَارٍ" يَطْلُعُ عَلَيْكُمْ الْآنَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ" فَطَلَعْتَ أَنْتَ الثَّلَاثَ مِرَارٍ، فَأَرَدْتُ أَنْ آوِيَ إِلَيْكَ، لِأَنْظُرَ مَا عَمَلُكَ فَأَقْتَدِيَ بِهِ، فَلَمْ أَرَكَ تَعْمَلُ كَثِيرَ عَمَلٍ، فَمَا الَّذِي بَلَغَ بِكَ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: مَا هُوَ إِلَّا مَا رَأَيْتَ، قَالَ: فَلَمَّا وَلَّيْتُ دَعَانِي، فَقَالَ: مَا هُوَ إِلَّا مَا رَأَيْتَ، غَيْرَ أَنِّي لَا أَجِدُ فِي نَفْسِي لِأَحَدٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ غِشًّا، وَلَا أَحْسُدُ أَحَدًا عَلَى خَيْرٍ أَعْطَاهُ اللَّهُ إِيَّاهُ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ هَذِهِ الَّتِي بَلَغَتْ بِكَ، وَهِيَ الَّتِي لَا نُطِيقُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ابھی تھوڑی دیر کے بعد تمہارے پاس ایک جنتی آئے گا، دیکھا تو ایک انصاری صحابی چلے آ رہے ہیں جن کی ڈاڑھی سے وضو کے پانی کے قطرات ٹپک رہے ہیں، انہوں نے اپنے بائیں ہاتھ میں اپنی جوتی اٹھا رکھی ہے، دوسرے دن بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہی اعلان کیا اور وہی صحابی آئے، تیسرے دن اعلان کیا تب بھی وہی صحابی رضی اللہ عنہ آئے، تیسرے دن جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم چلے گئے تو حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ ان صحابی کے پیچھے چلے گئے اور ان سے کہنے لگے کہ میں نے اپنے والد صاحب کو قسمیں دے کر اور بہت اصرار کے بعد اس بات پر آمادہ کیا ہے کہ میں تین دن تک گھر نہیں جاؤں گا، اگر آپ مجھے اپنے یہاں ٹھہرا سکتے ہیں تو آپ جو عمل کریں گے میں بھی وہی عمل کروں گا، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کو اجازت دے دی۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بتاتے ہیں کہ وہ ان تین راتوں میں ان کے ساتھ رہے لیکن کسی رات انہیں قیام کرتے ہوئے نہیں دیکھا، البتہ اتنا ضرور ہوتا تھا کہ جب وہ سو کر بیدار ہوتے اور بستر سے اٹھتے تو اللہ کا ذکر کرتے ہوئے نماز فجر کے لئے اٹھ جاتے، نیز میں نے انہیں ہمیشہ خیر ہی کی بات کرتے ہوئے دیکھا، جب تین راتیں گذر گئیں اور میں اپنی ساری محنت کو حقیر سمجھنے لگا، تو میں نے ان سے کہا کہ بندہ خدا! میرے اور والد صاحب کے درمیان کوئی ناراضگی یا قطع تعلقی نہیں ہے (جس کی وجہ سے میں یہاں رہ پڑا ہوں) لیکن میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو تین مرتبہ یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ابھی تمہارے پاس ایک جنتی آدمی آئے گا اور تینوں مرتبہ آپ ہی آئے تو مجھے یہ خواہش پیدا ہوئی کہ میں آپ کے پاس کچھ وقت گذار کر آپ کے اعمال دیکھوں اور خود بھی اس کی اقتداء کروں، لیکن میں نے آپ کو اس دوران کوئی بہت زیادہ عمل کرتے ہوئے نہیں دیکھا، پھر آپ اس مقام تک کیسے پہنچ گئے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آپ کے متعلق اتنی بڑی بات فرمائی؟ انہوں نے جواب دیا کہ عمل تو وہی ہے جو آپ نے دیکھا، پھر جب میں پلٹ کر واپس جانے لگا تو انہوں نے مجھے آواز دے کر بلایا تو کہنے لگے کہ عمل تو وہی ہیں جو آپ نے دیکھے، البتہ میں اپنے دل میں کسی مسلمان کے متعلق کوئی کینہ نہیں رکھتا اور کسی مسلمان کو ملنے والی نعمتوں اور خیر پر اس سے حسد نہیں کرتا، حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہی وہ چیز ہے جس نے آپ کو اس درجے تک پہنچایا اور جس کی ہم میں طاقت نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12697]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12698 مسند احمد
مَحْبُوبُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ هِلَالِ بْنِ أَبِي زَيْنَبَ ، خَالِدٍ يَعْنِي الْحَذَّاءَ ، مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ سِيرِينَ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مَحْبُوبُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ هِلَالِ بْنِ أَبِي زَيْنَبَ ، عَنْ خَالِدٍ يَعْنِي الْحَذَّاءَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ سِيرِينَ قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ هَلْ قَنَتَ عُمَرُ؟ قَالَ: نَعَمْ، ومَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْ عمر، رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بَعْدَ الرُّكُوعِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
امام ابن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ قنوتِ نازلہ پڑھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے بہتر ذات یعنی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی قنوت نازلہ رکوع کے بعد پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12698]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف محبوب بن الحسن
الحكم: إسناده ضعيف لضعف محبوب بن الحسن
حدیث نمبر: 12699 مسند احمد
غَسَّانُ بْنُ مُضَرَ ، سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ أَبُو مَسْلَمَةَ ، أَنَسًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا غَسَّانُ بْنُ مُضَرَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ أَبُو مَسْلَمَةَ ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسًا أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي النَّعْلَيْنِ؟ قَالَ:" نَعَمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابو مسلمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے جوتوں میں نماز پڑھ لیتے تھے؟ انہوں نے فرمایا جی ہاں! [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12699]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 386، 5850، م: 555
الحكم: إسناده صحيح، خ: 386، 5850، م: 555
حدیث نمبر: 12700 مسند احمد
غَسَّانُ بْنُ مُضَرَ ، سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ أَبُو مَسْلَمَةَ ، أَنَسًا
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا غَسَّانُ بْنُ مُضَرَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ أَبُو مَسْلَمَةَ ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسًا أَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ: بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سورة الفاتحة آية 1 أَوْ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سورة الفاتحة آية 2 فَقَالَ: إِنَّكَ لَتَسْأَلُنِي عَنْ شَيْءٍ مَا أَحْفَظُهُ، أَوْ مَا سَأَلَنِي أَحَدٌ قَبْلَكَ".