عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، ثَابِتٍ ، وقَتادةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، وقَتادةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: نَظَرَ بَعْضُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضُوءًا، فَلَمْ يَجِدُوا، قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَاهُنَا مَاءٌ؟" قَالَ: فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضَعَ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ الَّذِي فِيهِ الْمَاءُ، ثُمَّ قَالَ:" تَوَضَّئُوا بِاسْمِ اللَّهِ" فَرَأَيْتُ الْمَاءَ يَفُورُ يَعْنِي بَيْنَ أَصَابِعِهِ، وَالْقَوْمُ يَتَوَضَّئُونَ، حَتَّى تَوَضَّئُوا عَنْ آخِرِهِمْ، قَالَ ثَابِتٌ قُلْتُ لِأَنَسٍ: كَمْ تُرَاهُمْ كَانُوا؟ قَالَ: نَحْوًا مِنْ سَبْعِينَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ بعض صحابہ رضی اللہ عنہ نے وضو کے لئے پانی تلاش کیا لیکن وہ انہیں مل نہ سکا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے پوچھا کیا یہاں تھوڑا پانی ہے؟ میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس برتن میں اپنا ہاتھ ڈالا اور فرمایا اللہ کا نام لے کر وضو کرو، میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی انگلیوں کے درمیان پانی ابل رہا تھا، لوگ اس سے وضو کرنے لگے حتیٰ کہ سب نے وضو کرلیا، ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اس وقت آپ کتنے لوگ تھے؟ انہوں نے بتایا کہ ستر کے قریب۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12694]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 200، م: 2279
الحكم: إسناده صحيح، خ: 200، م: 2279