بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَنَسِ بنِ مَالِك رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2170
صفحہ 108 از 109
حدیث نمبر: 14082 مسند احمد
بَهْزٌ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يُؤْمِنُ عَبْدٌ، حَتَّى يُحِبَّ لِأَخِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ مِنَ الْخَيْرِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم میں کوئی شخص اس وقت تک مسلمان نہیں ہوسکتا جب تک اپنے بھائی کے لئے وہی پسند نہ کرنے لگے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14082]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 13، م: 45
الحكم: إسناده صحيح، خ: 13، م: 45
حدیث نمبر: 14083 مسند احمد
بَهْزٌ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَا مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ أَحَدٌ يَسُرُّهُ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا وَلَهُ عَشَرَةُ أَمْثَالِهَا إِلَّا الشَّهِيدَ، فَإِنَّهُ يَوَدُّ أَنَّهُ يَرْجِعُ إِلَى الدُّنْيَا، فَاسْتُشْهِدَ عَشْرَ مَرَّاتٍ، لِمَا رَأَى مِنَ الْفَضْلِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جنت میں داخل ہونے والا کوئی شخص بھی جنت سے نکلنا کبھی پسند نہیں کرے گا سوائے شہید کے کہ جس کی خواہش یہ ہوگی کہ وہ جنت سے نکلے اور پھر اللہ کی راہ میں شہید ہو، کیونکہ اسے اس کی عزت نظر آرہی ہوگی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14083]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2817، م: 1877
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2817، م: 1877
حدیث نمبر: 14084 مسند احمد
بَهْزٌ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنَّ يَهُودِيًّا مَرَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْه وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ، فَقَالَ: السَّامُ عَلَيْكُمْ، فَرَدَّ عَلَيْهِ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا قَالَ: السَّامُ عَلَيْكُمْ، فَأُخِذَ الْيَهُودِيُّ، فَجِيءَ بِهِ، فَاعْتَرَفَ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" رُدُّوا عَلَيْهِمْ مَا قَالُوا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک یہودی نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سلام کرتے ہوئے " السام علیک " کہا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا اسے میرے پاس بلا کر لاؤ اور اس سے پوچھا کہ کیا تم نے " السام علیک " کہا تھا؟ اس نے اقرار کیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (اپنے صحابہ رضی اللہ عنہ سے) فرمایا جب تمہیں کوئی کتابی سلام کرے تو صرف " وعلیک " کہا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14084]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 14085 مسند احمد
بَهْزٌ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ دَعَاهُ خَيَّاطٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، فَإِذَا خُبْزُ شَعِيرٍ وَإِهَالَةٌ سَنِخَةٌ، قَالَ: فَإِذَا فِيهَا قَرْعٌ، قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُعْجِبُهُ الْقَرْعُ"، قَالَ فَجَعَلْتُ أُقَرِّبُهُ قُدَّامَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَنَسٌ: لَمْ أَزَلْ يُعْجِبُنِي الْقَرْعُ مُنْذُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک درزی نے کھانے پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بلایا، وہ کھانا لے کر حاضر ہوا تو اس میں پرانا روغن اور کدو تھا، میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پیالے میں کدو تلاش کر رہے ہیں، اس وقت سے مجھے بھی کدو پسند آنے لگا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14085]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2041
الحكم: إسناده صحيح، م: 2041
حدیث نمبر: 14086 مسند احمد
بَهْزٌ ، عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، عَفَّانُ ، قَتَادَةُ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، بَهْزٌ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، وَحَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ: أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، وَقَالَ بَهْزٌ : عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنَّ رَهْطًا مِنْ عُرَيْنَةَ أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: إِنَّا قَدْ اجْتَوَيْنَا الْمَدِينَةَ، فَعَظُمَتْ بُطُونُنَا، وَانْتَهَشَتْ أَعْضَاؤُنَا، فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَلْحَقُوا بِرَاعِي الْإِبِلِ، فَيَشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا، قَالَ: فَلَحِقُوا بِرَاعِي الْإِبِلِ، فَشَرِبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا، حَتَّى صَلُحَتْ بُطُونُهُمْ وَأَلْوَانُهُمْ، ثُمَّ قَتَلُوا الرَّاعِي، وَسَاقُوا الْإِبِلَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَعَثَ فِي طَلَبِهِمْ، فَجِيءَ بِهِمْ" فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ، وَسَمَرَ أَعْيُنَهُمْ"، قَالَ قَتَادَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، إِنَّمَا كَانَ هَذَا قَبْلَ أَنْ تَنْزِلَ الْحُدُودُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قبیلہ عرینہ کے کچھ لوگ مسلمان ہوگئے، لیکن انہیں مدینہ منورہ کی آب و ہوا موافق نہ آئی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اگر تم ہمارے اونٹوں کے پاس جا کر ان کا دودھ پیو تو شاید تندرست ہوجاؤ، چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا، لیکن جب وہ صحیح ہوگئے تو دوبارہ مرتد ہو کر کفر کی طرف لوٹ گئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مسلمان چرواہے کو قتل کردیا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اونٹوں کو بھگا کرلے گئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے پیچھے صحابہ کو بھیجا، انہیں پکڑ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دیئے، ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھر وادیں اور انہیں پتھریلے علاقوں میں چھوڑ دیا یہاں تک کہ وہ مرگئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14086]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5686، م: 1671
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5686، م: 1671
حدیث نمبر: 14087 مسند احمد
(حديث موقوف) (حديث مرفوع) قَالَ: ثُمَّ قَالَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَوْ رَأَيْتُمْ مَا رَأَيْتُ، لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا، وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا رَأَيْتَ؟ قَالَ: رَأَيْتُ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز سے فارغ ہو کر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا لوگو! میں تمہارا امام ہوں، لہٰذا رکوع، سجدہ، قیام، قعود اور اختتام میں مجھ سے آگے نہ بڑھا کرو، کیونکہ میں تمہیں اپنے آگے سے بھی دیکھتا ہوں اور پیچھے سے بھی اور اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، جو میں دیکھ چکا ہوں اگر تم نے وہ دیکھا ہوتا تو تم بہت تھوڑے ہنستے اور کثرت سے رویا کرتے، صحابہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! آپ نے کیا دیکھا ہے؟ فرمایا میں نے اپنی آنکھوں سے جنت اور جہنم کو دیکھا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14087]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 419، م: 426
الحكم: إسناده صحيح، خ: 419، م: 426
حدیث نمبر: 14088 مسند احمد
عَفَّانُ ، سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، ثَابِتٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: مَاتَ ابْنٌ لِأَبِي طَلْحَةَ مِنْ أُمِّ سُلَيْمٍ، قَالَ: فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ لِأَهْلِهَا: لَا تُحَدِّثُوا أَبَا طَلْحَةَ بِابْنِهِ حَتَّى أَكُونَ أَنَا أُحَدِّثُهُ، فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ بَهْزٍ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: قَالَتْ أُمِّي: يَا أَنَسُ، لَا يُطْعَمْ شَيْئًا حَتَّى تَغْدُوَ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَبَاتَ يَبْكِي وَبِتُّ مُجْتَنِحًا عَلَيْهِ أُكَالِئُهُ حَتَّى أَصْبَحْتُ، فَغَدَوْتُ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا مَعَهُ مِيسَمٌ، فَلَمَّا رَأَى الصَّبِيَّ مَعِي، قَالَ: لَعَلَّ أُمَّ سُلَيْمٍ وَلَدَتْ، قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، فَوَضَعَ الْمِيسَمَ مِنْ يَدِهِ، وَقَعَدَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا ایک بیٹا بیمار تھا، وہ فوت ہوگیا، ان کی زوجہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ نے گھر والوں سے کہہ دیا کہ تم میں سے کوئی بھی ابوطلحہ کو ان کے بیٹے کی موت کی خبر نہ دے۔۔۔۔۔۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی اور کہا انس! اسے کوئی عورت دودھ نہ پلائے، بلکہ تم پہلے اسے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس لے کر جاؤ، چنانچہ صبح کو میں اس بچے کو اٹھا کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے اونٹوں کو قطران مل رہے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے دیکھتے ہی فرمایا شاید ام سلیم کے یہاں بچہ پیدا ہوا ہے، میں نے عرض کیا جی ہاں! اور اس بچے کو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی گود میں رکھ دیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آلہ اپنے ہاتھ سے رکھ دیا اور بیٹھ گئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14088]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5470، م: 2144
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5470، م: 2144
حدیث نمبر: 14089 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" إِذَا أَكَلَ طَعَامًا لَعِقَ أَصَابِعَهُ الثَّلَاثَ، وَقَالَ: إِذَا ما وَقَعَتْ لُقْمَةُ أَحَدِكُمْ، فَلْيُمِطْ عَنْهَا الْأَذَى وَلْيَأْكُلْهَا، وَلَا يَدَعْهَا لِلشَّيْطَانِ، وَأَمَرَنَا أَنْ نَسْلِتَ الصَّحْفَةَ، وَقَالَ: إِنَّكُمْ لَا تَدْرُونَ فِي أَيِّ طَعَامِكُمْ الْبَرَكَةَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھانا کھا کر اپنی تین انگلیوں کو چاٹ لیتے تھے اور فرماتے تھے کہ جب تم میں سے کسی کے ہاتھ سے لقمہ گرجائے تو وہ اس پر لگنے والی چیز کو ہٹا دے اور اسے شیطان کے لئے نہ چھوڑے اور پیالہ اچھی طرح صاف کرلیا کرو، کیونکہ تمہیں معلوم نہیں کہ کھانے کے کس حصے میں برکت ہوتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14089]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2034
الحكم: إسناده صحيح، م: 2034
حدیث نمبر: 14090 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ" ثَمَانِينَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ هَبَطُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ مِنْ جَبَلِ التَّنْعِيمِ عِنْدَ صَلَاةِ الْفَجْرِ، فَأَخَذَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِلْمًا، فَعَفَا عَنْهُمْ، وَنَزَلَ الْقُرْآنُ: وَهُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ بَعْدِ أَنْ أَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ سورة الفتح آية 24".
حدیث نمبر: 14091 مسند احمد
عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اتَّخَذَ خَاتَمًا، وَنَقَشَ فِيهِ نَقْشًا، فَقَالَ:" إِنِّي اتَّخَذْتُ خَاتَمًا وَنَقَشْتُ فِيهِ نَقْشًا، فَلَا يَنْقُشْ أَحَدٌ عَلَى نَقْشِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے لئے ایک انگوٹھی بنوائی اور فرمایا کہ ہم نے ایک انگوٹھی بنوائی ہے اور اس پر ایک عبارت (محمد رسول اللہ) نقش کروائی ہے، لہٰذا کوئی شخص اپنی انگوٹھی پر یہ عبارت نقش نہ کروائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14091]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5874، م: 2092
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5874، م: 2092
حدیث نمبر: 14092 مسند احمد
بَهْزٌ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةُ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُحِبُّ الْقَرْعَ، أَوْ قَالَ: الدُّبَّاءَ"، قَالَ: فَرَأَيْتُهُ يَوْمًا يَأْكُلُهُ، فَجَعَلْتُ أَضَعُهُ بَيْنَ يَدَيْهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کدو بہت پسند تھا، ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں کھانا پیش کیا گیا یا کسی نے دعوت کی تو چونکہ مجھے معلوم تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کدو مرغوب ہے لہٰذا میں اسے الگ کر کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے کرتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14092]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2041
الحكم: إسناده صحيح، م: 2041
حدیث نمبر: 14093 مسند احمد
بَهْزٌ ، شُعْبَةُ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَغْتَسِلُ بِخَمْسَةِ مَكَاكِيكَ، وَيَتَوَضَّأُ بِمَكُّوكٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کدو بہت پسند تھا، ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں کھانا پیش کیا گیا یا کسی نے دعوت کی تو چونکہ مجھے معلوم تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کدو مرغوب ہے لہٰذا میں اسے الگ کر کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے کرتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14093]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 201، م: 325
الحكم: إسناده صحيح، خ: 201، م: 325
حدیث نمبر: 14094 مسند احمد
بَهْزٌ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةُ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي قَتَادَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْه وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَا بَعَثَ اللَّهُ نَبِيًّا إِلَّا أَنْذَرَ أُمَّتَهُ الدَّجَّالَ، أَلَا إِنَّهُ الْأَعْوَرُ الْكَذَّابُ، أَلَا إِنَّهُ أَعْوَرُ، وَإِنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ، مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَفَرَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی مکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا دنیا میں جو نبی بھی مبعوث ہو کر آئے، انہوں نے اپنی امت کو کانے کذاب سے ضرور ڈرایا، یاد رکھو! دجال کانا ہوگا اور تمہارا رب کانا نہیں ہے اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوگا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14094]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7131، م: 2933
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7131، م: 2933
حدیث نمبر: 14095 مسند احمد
بَهْزٌ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةُ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّهُمْ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ،" أَهْلُ الْكِتَابِ إِذَا سَلَّمُوا عَلَيْنَا، كَيْفَ نَرُدُّ عَلَيْهِمْ؟ قَالَ: قُولُوا: وَعَلَيْكُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا کہ اہل کتاب ہمیں سلام کرتے ہیں، ہم انہیں کیا جواب دیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا صرف " وعلیکم " کہہ دیا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14095]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6258، م: 2163
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6258، م: 2163
حدیث نمبر: 14096 مسند احمد
بَهْزٌ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةُ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سَوُّوا صُفُوفَكُمْ، فَإِنَّ تَسْوِيَةَ الصُّفُوفِ مِنْ تَمَامِ الصَّلَاةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا صفیں سیدھی رکھا کرو، صفوں کی درستگی نماز کا حسن ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14096]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 14097 مسند احمد
بَهْزٌ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" اعْتَدِلُوا فِي السُّجُودِ، وَلَا يَبْسُطْ أَحَدُكُمْ ذِرَاعَيْهِ كَمَا يَبْسُطُ الْكَلْبُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا سجدوں میں اعتدال برقرار رکھا کرو اور تم میں سے کوئی شخص کتے کی طرح اپنے ہاتھ نہ بچھائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14097]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 822، م: 493
الحكم: إسناده صحيح، خ: 822، م: 493
حدیث نمبر: 14098 مسند احمد
بَهْزٌ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةُ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى عَلَى رَجُلٍ يَسُوقُ بَدَنَةً، قَالَ:" ارْكَبْهَا، قَالَ: إِنَّهَا بَدَنَةٌ، قَالَ: ارْكَبْهَا، قَالَ: إِنَّهَا بَدَنَةٌ، قَالَ: وَيْحَكَ، أَوْ: وَيْلَكَ، ارْكَبْهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا گذر ایک آدمی پر ہوا جو قربانی کا جانور ہانکتے ہوئے چلا جا رہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے سوار ہونے کے لئے فرمایا: اس نے کہا کہ یہ قربانی کا جانور ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو تین مرتبہ اس سے فرمایا کہ سوار ہوجاؤ۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14098]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2754، م: 1323
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2754، م: 1323
حدیث نمبر: 14099 مسند احمد
بَهْزٌ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ، فَإِنَّهُ يُنَاجِي رَبَّهُ، فَلَا يَتْفُلَنَّ بَيْنَ يَدَيْهِ، وَلَا عَنْ يَمِينِهِ، وَلْيَتْفُلْ عَنْ يَسَارِهِ، أو: تَحْتَ قَدَمِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہوتا ہے تو وہ اپنے رب سے مناجات کر رہا ہوتا ہے، اس لئے اس حالت میں تم میں سے کوئی شخص اپنے دائیں جانب نہ تھوکا کرے بلکہ بائیں جانب یا پاؤں کے نیچے تھوکا کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14099]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 531، م: 551
الحكم: إسناده صحيح، خ: 531، م: 551
حدیث نمبر: 14100 مسند احمد
بَهْزٌ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةُ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" كَانَتْ بِالْمَدِينَةِ فَزْعَةٌ، فَاسْتَعَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَسًا لِأَبِي طَلْحَةَ، يُقَالُ لَهُ: مَنْدُوبٌ، فَرَكِبَهُ، وَقَالَ: مَا رَأَيْنَا مِنْ فَزَعٍ، وَإِنْ وَجَدْنَاهُ لَبَحْرًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رات کے وقت اہل مدینہ دشمن کے خوف سے گھبرا اٹھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمارا ایک گھوڑا " جس کا نام مندوب تھا " عاریۃً لیا اور فرمایا گھبرانے کی کوئی بات نہیں اور گھوڑے کے متعلق فرمایا کہ ہم نے اسے سمندر جیسا رواں پایا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14100]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2857، م: 2307
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2857، م: 2307
حدیث نمبر: 14101 مسند احمد
بَهْزٌ ، شُعْبَةُ ، أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ: كَانَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ ضَخْمًا لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يُصَلِّيَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْه وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي لَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أُصَلِّيَ مَعَكَ، فَصَنَعَ لَهُ طَعَامًا،" وَدَعَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ، وَبَسَطُوا لَهُ حَصِيرًا، وَنَضَحُوهُ، فَصَلَّى عَلَيْهِ رَكْعَتَيْنِ"، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ آلِ الْجَارُودِ: أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى؟ قَالَ: مَا رَأَيْتُهُ صَلَّاهَا إِلَّا يَوْمَئِذٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی بڑا بھاری کم تھا، وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھنے کے لئے بار بار نہیں آسکتا تھا، اس نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا کہ میں بار بار آپ کے ساتھ آکر نماز پڑھنے کی طاقت نہیں رکھتا، اگر آپ کسی دن میرے گھر تشریف لا کر کسی جگہ نماز پڑھ دیں تو میں وہیں پر نماز پڑھ لیا کروں گا، چنانچہ اس نے ایک مرتبہ دعوت کا اہتمام کر کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بلایا اور ایک چٹائی کے کونے پر پانی چھڑک دیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وہاں دو رکعتیں پڑھ دیں، آل جارود میں سے ایک آدمی نے یہ سن کر حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم چاشت کی نماز پڑھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو وہ نماز صرف اسی دن پڑھتے ہوئے دیکھا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14101]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 670
الحكم: إسناده صحيح، خ: 670