بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَنَسِ بنِ مَالِك رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2170
صفحہ 51 از 109
حدیث نمبر: 12942 مسند احمد
يُونُسُ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَبْدِ الْعَزِيزِ ابن صُهَيب ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ ابن صُهَيب ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرِّجَالَ عَنِ الْمُزَعْفَرِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مردوں کو زعفران کی خوشبو لگانے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12942]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5846، م: 2101
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5846، م: 2101
حدیث نمبر: 12943 مسند احمد
زَيْدُ بْنُ يَحْيَى الدِّمَشْقِيُّ ، أَبُو مُعِيدٍ ، مَكْحُولٌ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ يَحْيَى الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعِيدٍ ، حَدَّثَنَا مَكْحُولٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَتَى نَدَعُ الِائْتِمَارَ بِالْمَعْرُوفِ، وَالنَّهْيَ عَنِ الْمُنْكَرِ؟ قَالَ:" إِذَا ظَهَرَ فِيكُمْ مَا ظَهَرَ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ إِذَا كَانَتْ الْفَاحِشَةُ فِي كِبَارِكُمْ، وَالْمُلْكُ فِي صِغَارِكُمْ، وَالْعِلْمُ فِي رُذَالِكُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! ہم لوگ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کب چھوڑیں گے؟ فرمایا جب تم میں وہ چیزیں ظاہر ہوجائیں جو بنی اسرائیل میں در آئی تھیں، جب بےحیائی بڑوں میں اور حکومت چھوٹوں میں اور علم کمینوں میں آجائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12943]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 12944 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ فِي الْمَسِيرِ، وَكَانَ حَادٍ يَحْدُو بِنِسَائِهِ أَوْ سَائِقٌ قَالَ: فَكَانَ نِسَاؤُهُ يَتَقَدَّمْنَ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ:" يَا أَنْجَشَةُ، وَيْحَكَ ارْفُقْ بِالْقَوَارِيرِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سفر پر تھے اور حدی خوان امہات المومنین کی سواریوں کو ہانک رہا تھا، اس نے جانوروں کو تیزی کے ساتھ ہانکنا شروع کردیا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہنستے ہوئے فرمایا انجثہ! ان آبگینوں کو آہستہ لے کر چلو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12944]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6209، م: 2323
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6209، م: 2323
حدیث نمبر: 12945 مسند احمد
عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَدِينَةِ، فَجَعَلَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ، حَتَّى رَجَعَ، قَالَ يَحْيَى: فَقُلْتُ: لِأَنَسٍ: كَمْ أَقَامَ؟ قَالَ: عَشْرًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ سے نکلے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم واپسی تک دو دو رکعتیں پڑھتے رہے، راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سفر میں کتنے دن قیام فرمایا تھا؟ انہوں نے بتایا دس دن۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12945]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1081، م: 693
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1081، م: 693
حدیث نمبر: 12946 مسند احمد
عَبْدُ الْأَعْلَى ، يَحْيَى ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مَكَّةَ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ:" لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَحَجَّةً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ مکہ مکرمہ روانہ ہوئے، میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو حج وعمرہ کا تلبیہ اکٹھے پڑھتے ہوئے سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یوں فرما رہے تھے " لبیک عمرۃ و حجا " [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12946]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1251
الحكم: إسناده صحيح، م: 1251
حدیث نمبر: 12947 مسند احمد
عَبْدِ الْأَعْلَى ، يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عن يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: أَقْبَلْنَا مِنْ خَيْبَرَ أَنَا وَأَبُو طَلْحَةَ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه و آله وسلم وصفية رديفته، قَالَ: فَعَثَرَتْ نَاقَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصُرِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَصُرِعَتْ صَفِيَّةُ، قَالَ: فَاقْتَحَمَ أَبُو طَلْحَةَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاكَ قَالَ: أَشُكُّ قَالَ: ذَاكَ أَمْ لَا أَضُرِرْتَ؟ قَالَ:" لَا، عَلَيْكَ الْمَرْأَةَ" قَالَ: فَأَلْقَى أَبُو طَلْحَةَ عَلَى وَجْهِهِ الثَّوْبَ، فَانْطَلَقَ إِلَيْهَا فَمَدَّ ثَوْبَهُ عَلَيْهَا، ثُمَّ أَصْلَحَ لَهَا رَحْلَهَا، فَرَكِبْنَا، ثُمَّ اكْتَنَفْنَاهُ، أَحَدُنَا عَنْ يَمِينِهِ وَالْآخَرُ عَنْ شِمَالِهِ، فَلَمَّا أَشْرَفْنَا عَلَى الْمَدِينَةِ، أَوْ كُنَّا بِظَهْرِ الْحَرَّةِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" آيِبُونَ، تَائِبُونَ، عَابِدُونَ، لِرَبِّنَا حَامِدُونَ" فَلَمْ يَزَلْ يَقُولُهُنَّ حَتَّى دَخَلْنَا الْمَدِينَةَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں اور حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ خیبر سے واپس آرہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ سوار تھیں، ایک مقام پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اونٹنی پھسل گئی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ گرگئے، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ تیزی سے وہاں پہنچے اور کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! اللہ مجھے آپ پر قربان کرے، کوئی چوٹ تو نہیں آئی؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا نہیں، خاتون کی خبر لو، چنانچہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ اپنے چہرے پر کپڑا ڈال کر ان کے پاس پہنچے اور حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ پر کپڑا ڈال دیا، اس کے بعد سواری کو دوبارہ تیار کیا، پھر ہم سب سوار ہوگئے اور ہم میں سے ایک نے دائیں جانب سے اور دوسرے نے بائیں جانب سے اسے اپنے گھیرے میں لے لیا، جب ہم لوگ مدینہ منورہ کے قریب پہنچے یا پتھریلے علاقوں کی پشت پر پہنچے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا (آيِبُونَ عَابِدُونَ تَائِبُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ) ہم اللہ کی عبادت کرتے ہوئے، توبہ کرتے ہوئے اور اپنے رب کی تعریف کرتے ہوئے واپس آئے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مسلسل یہ جملے کہتے رہے تاآنکہ ہم مدینہ منورہ میں داخل ہوگئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12947]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3085، م: 1345
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3085، م: 1345
حدیث نمبر: 12948 مسند احمد
رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَجَّاجُ بْنُ حَسَّانَ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ حَسَّانَ ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، فَدَعَا بِإِنَاءٍ وَفِيهِ ثَلَاثُ ضِبَابٍ حَدِيدٍ، وَحَلْقَةٌ مِنْ حَدِيدٍ، فَأُخْرِجَ مِنْ غِلَافٍ أَسْوَدَ، وَهُوَ دُونَ الرُّبُعِ وَفَوْقَ نِصْفِ الرُّبُعِ، فَأَمَرَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ فَجُعِلَ لَنَا فِيهِ مَاءٌ، فَأُتِينَا بِهِ فَشَرِبْنَا وَصَبَبْنَا عَلَى رُءُوسِنَا وَوُجُوهِنَا، وَصَلَّيْنَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حجاج بن حسان رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت انس رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، اسی اثناء میں انہوں نے ایک برتن منگوایا جس میں لوہے کے تین ٹکڑے اور ایک حلقہ لگا ہوا تھا، انہوں نے وہ برتن ایک کالے غلاف سے نکالا تھا، جو چوتھائی سے کم اور نصف سے کچھ زیادہ تھا، حضرت انس رضی اللہ عنہ کے حکم پر اس میں ہمارے لئے پانی ڈالا گیا، ہم نے وہ پانی نوش کیا اور اپنے سر اور چہروں پر ڈالا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر درود وسلام پڑھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12948]
حکم دارالسلام
إسناده قوی
الحكم: إسناده قوی
حدیث نمبر: 12949 مسند احمد
عُبَيْدَةُ ، حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، قَالَ: سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ عَنْ رَفْعِ الْأَيْدِي، فَقَالَ: قَامَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ بَعْضُ الْمُسْلِمِينَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَحَطَ الْمَطَرُ، وَأَجْدَبَتْ الْأَرْضُ، هَلَكَ الْمَالُ، قَالَ: فَاسْتَسْقَى، فَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى رَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ، وَمَا نَرَى فِي السَّمَاءِ سَحَابَةً، فَقَامَ فَصَلَّى حَتَّى جَعَلَ يَهُمُّ الْقَرِيبُ الدَّارِ الرُّجُوعَ إِلَى أَهْلِهِ مِنْ شِدَّةِ الْمَطَرِ، قَالَ: فَمَكَثْنَا سَبْعًا، فَلَمَّا كَانَتْ الْجُمُعَةُ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تَهَدَّمَتْ الْبُيُوتُ، وَاحْتَبَسَ الرُّكْبَانُ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا" قَالَ: فَتَكَشَّفَتْ عَنِ الْمَدِينَةِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حمید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دعاء میں ہاتھ اٹھاتے تھے؟ تو انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ جمعہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے لوگوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! بارش رکی ہوئی ہے، زمینیں خشک پڑی ہیں اور مال تباہ ہو رہے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ سن کر اپنے ہاتھ بلند کئے کہ مجھے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مبارک بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگی اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے طلب باراں کے حوالے سے دعاء فرمائی، جس وقت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے دست مبارک بلند کئے تھے، اس وقت ہمیں آسمان پر کوئی بادل نظر نہیں آرہا تھا اور جب نماز سے فارغ ہوئے تو قریب کے گھر میں رہنے والے نوجوانوں کو اپنے گھر واپس پہنچنے میں دشواری ہو رہی تھی، جب اگلا جمعہ ہوا تو لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! گھروں کی عمارتیں گرگئیں اور سوار مدینہ سے باہر ہی رکنے پر مجبور ہوگئے، یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اللہ سے دعاء کی کہ اے اللہ! یہ بارش ہمارے ارد گرد فرما، ہم پر نہ برسا، چنانچہ مدینہ سے بارش چھٹ گئی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12949]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1013، م: 897
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1013، م: 897
حدیث نمبر: 12950 مسند احمد
عُبَيْدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: خَرَجَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَلَقَّتْهُ الْأَنْصَارُ بَيْنَهُمْ، فَقَالَ:" وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، إِنِّي لَأُحِبُّكُمْ، إِنَّ الْأَنْصَارَ قَدْ قَضَوْا مَا عَلَيْهِمْ، وَبَقِيَ الَّذِي عَلَيْكُمْ، فَأَحْسِنُوا إِلَى مُحْسِنِهِمْ، وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم باہر نکلے تو انصار سے ملاقات ہوگئی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جان ہے، میں تم سے محبت کرتا ہوں، تم انصار کے نیکیوں کی نیکی قبول کرو اور ان کے گناہگار سے تجاوز اور درگذر کرو، کیونکہ انہوں نے اپنا فرض نبھا دیا اور ان کا حق باقی رہ گیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12950]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3799، م: 2510
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3799، م: 2510
حدیث نمبر: 12951 مسند احمد
عُبَيْدَةُ ، حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَدَاةٍ قَرَّةٍ أَوْ بَارِدَةٍ فَإِذَا الْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ يَحْفِرُونَ الْخَنْدَقَ، فَقَالَ:" اللَّهُمَّ إِنَّ الْخَيْرَ خَيْرُ الْآخِرَهْ فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَهْ" فَأَجَابُوهُ: نَحْنُ الَّذِينَ بَايَعُوا مُحَمَّدًا عَلَى الْجِهَادِ مَا بَقِينَا أَبَدًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سردی کے ایک دن باہر نکلے تو دیکھا کہ مہاجرین و انصار خندق کھود رہے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اے اللہ! اصل خیر تو آخرت کی ہی خیر ہے، پس انصار اور مہاجرین کو معاف فرما، صحابہ رضی اللہ عنہ نے جواباً یہ شعر پڑھا کہ " ہم ہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جہاد پر بیعت کی ہے جب تک ہم زندہ ہیں۔ " [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12951]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2961، م: 1805
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2961، م: 1805
حدیث نمبر: 12952 مسند احمد
عُبَيْدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: أَعْطَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَنَائِمِ حُنَيْنٍ عُيَيْنَةَ وَالْأَقْرَعَ وَغَيْرَهُمَا، فَقَالَتْ الْأَنْصَارُ: أَيُعْطِي غَنَائِمَنَا مَنْ تَقْطُرُ سُيُوفُنَا مِنْ دِمَائِهِمْ أَوْ تَقْطُرُ دِمَاؤُهُمْ مِنْ سُيُوفِنَا، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَا الْأَنْصَارَ، فَقَالَ:" يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالدُّنْيَا، وَتَذْهَبُونَ بِمُحَمَّدٍ إِلَى دِيَارِكُمْ؟" قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا، وَسَلَكَتْ الْأَنْصَارُ شِعْبًا، لَسَلَكْتُ شِعْبَ الْأَنْصَارِ، الْأَنْصَارُ كَرِشِي وَعَيْبَتِي، وَلَوْلَا الْهِجْرَةُ، لَكُنْتُ امْرَأً مِنَ الْأَنْصَارِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ حنین کے موقع پر اللہ نے جب بنو ہوازن کا مال غنیمت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو عطاء فرمایا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عیینہ اور اقرع وغیرہ کے ایک ایک یہودی کو سو سو اونٹ دینے لگے تو انصار کے کچھ لوگ کہنے لگے اللہ تعالیٰ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بخشش فرمائے، کہ وہ قریش کو دیئے جا رہے ہیں اور ہمیں نظر انداز کر رہے ہیں جب کہ ہماری تلواروں سے ابھی تک خون کے قطرے ٹپک رہے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انصاری صحابہ رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا اور فرمایا کیا تم لوگ اس بات پر خوش نہیں ہو کہ لوگ مال و دولت لے کر چلے جائیں اور تم پیغمبر اللہ کو اپنے گھروں میں لے جاؤ، وہ کہنے لگے کیوں نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جان ہے، اگر لوگ ایک وادی میں چل رہے ہوں اور انصار دوسری جانب، تو میں انصار کی وادی اور گھاٹی کو اختیار کروں گا۔ انصار میرا پردہ ہیں اور اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار ہی کا ایک فرد ہوتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12952]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4333، م: 1059
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4333، م: 1059
حدیث نمبر: 12953 مسند احمد
عُبَيْدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أُمِّ سُلَيْمٍ، فَقَرَّبَتْ إِلَيْهِ سَمْنًا وَتَمْرًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَعِيدُوا سَمْنَكُمْ فِي سِقَائِكُمْ، وَتَمْرَكُمْ فِي وِعَائِكُمْ، فَإِنِّي صَائِمٌ" ثُمَّ قَامَ، فَصَلَّى فِي نَاحِيَةِ الْبَيْتِ، فَصَلَّيْنَا بِصَلَاتِهِ، ثُمَّ دَعَا لِأُمِّ سُلَيْمٍ وَأَهْلِهَا، ثُمَّ قَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي خُوَيْصَّةً، قَالَ:" وَمَا هِيَ؟" قَالَتْ: أَنَسٌ: قَالَ: فَمَا تَرَكَ يَوْمَئِذٍ مِنْ خَيْرِ آخِرَةٍ وَلَا دُنْيَا إِلَّا دَعَا بِهِ، مِنْ قَوْلِهِ:" اللَّهُمَّ ارْزُقْهُ مَالًا وَوَلَدًا، وَبَارِكْ لَهُ فِيهِمْ"، قَالَ: فَقَالَ أَنَسٌ: حَدَّثَتْنِي ابْنَتِي أَنَّهُ دُفِنَ مِنْ صُلْبِي عِشْرُونَ وَمِائَةٌ وَنَيِّفٌ، وَإِنِّي لَمِنْ أَكْثَرِ الْأَنْصَارِ مَالًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ کے یہاں تشریف لائے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے کھجوریں اور گھی پیش کیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس دن روزے سے تھے اس لئے فرمایا کہ کھجوریں اس کے برتن میں اور گھی اس کی بالٹی میں ڈال دو، پھر گھر کے ایک کونے میں کھڑے ہو کر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو رکعت نماز پڑھی، ہم نے بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ اور ان کے اہل خانہ کے لئے دعاء فرمائی، حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! میری ایک خاص چیز بھی ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا وہ کیا ہے؟ عرض کیا آپ کا خادم انس، اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دنیا و آخرت کی کوئی خیر ایسی نہ تھی جو میرے لئے نہ مانگی ہو اور فرمایا اے اللہ! اسے مال اور اولاد عطاء فرما اور ان میں برکت عطاء فرما، وہ خود کہتے ہیں کہ مجھے میری بیٹی نے بتایا ہے کہ میری نسل میں سے ایک سو چوبیس سے زائد آدمی فوت ہو کر دفن ہوچکے ہیں اور میں مال و دولت میں تمام انصار سے بڑھ کر ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12953]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1982، م: 2480
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1982، م: 2480
حدیث نمبر: 12954 مسند احمد
عُبَيْدَةُ ، حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: اسْتَشَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَخْرَجَهُ إِلَى بَدْرٍ، فَأَشَارَ عَلَيْهِ أَبُو بَكْرٍ، ثُمَّ اسْتَشَارَ عُمَرَ، فَأَشَارَ عَلَيْهِ عُمَرُ، ثُمَّ اسْتَشَارَهُمْ، فَقَالَ بَعْضُ الْأَنْصَارِ: إِيَّاكُمْ يُرِيدُ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ قَائِلُ الْأَنْصَارِ: تَسْتَشِيرُنَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ؟ إِنَّا لَا نَقُولُ لَكَ كَمَا قَالَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ لِمُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام: اذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا، إِنَّا هَا هُنَا قَاعِدُونَ، وَلَكِنْ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، لَوْ ضَرَبْتَ أَكْبَادَهَا إِلَى بَرْكٍ، قَالَ ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ: إِلَى بَرْكِ الْغِمَادِ لَاتَّبَعْنَاكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب بدر کی طرف روانہ ہوگئے تو لوگوں سے مشورہ کیا، اس کے جواب میں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے ایک مشورہ دیا، پھر دوبارہ مشورہ مانگا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مشورہ دے دیا، یہ دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خاموش ہوگئے، ایک انصاری نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تم سے مشورہ لینا چاہتے ہیں، اس پر انصاری صحابہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! بخدا! ہم اس طرح نہ کہیں گے جیسے بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا تھا کہ تم اور تمہارا رب جا کر لڑو، ہم یہاں بیٹھے ہیں، بلکہ اگر آپ اونٹوں کے جگر مارتے ہوئے برک الغماد تک جائیں گے تب بھی ہم آپ کے ساتھ ہوں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12954]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1779
الحكم: إسناده صحيح، م: 1779
حدیث نمبر: 12955 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي الْأَنْصَارِيَّ ، حُمَيْدٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي الْأَنْصَارِيَّ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِدَاءَ صَبِيٍّ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ، فَخَفَّفَ، فَظَنَنَّا أَنَّهُ إِنَّمَا فَعَلَ ذَلِكَ رَحْمَةً لِلصَّبِيِّ، إِذْ عَلِمَ أَنَّ أُمَّهُ مَعَهُ فِي الصَّلَاةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز پڑھاتے ہوئے کسی بچے کے رونے کی اواز سنی اور نماز ہلکی کردی، ہم لوگ سمجھ گئے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی ماں کی وجہ سے نماز کو ہلکا کردیا ہے، یہ اس پر شفقت کا اظہار تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12955]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر: 12877
الحكم: إسناده صحيح، وانظر: 12877
حدیث نمبر: 12956 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حُمَيْدٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّهُ سُئِلَ هل اخْتَضَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ:" لَمْ يَشِنْهُ الشَّيْبُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حمید کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خضاب لگاتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر بڑھاپے کا عیب نہیں آیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12956]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2341
الحكم: إسناده صحيح، م: 2341
حدیث نمبر: 12957 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْخُلُ عَلَى أُمِّ سُلَيْمٍ، وَلَهَا ابْنٌ مِنْ أَبِي طَلْحَةَ يُكْنَى أَبَا عُمَيْرٍ، وَكَانَ يُمَازِحُهُ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ، فَرَآهُ حَزِينًا، فَقَالَ:" مَا لِي أَرَى أَبَا عُمَيْرٍ حَزِينًا" فَقَالُوا: مَاتَ نُغَرُهُ الَّذِي كَانَ يَلْعَبُ بِهِ، قَالَ: فَجَعَلَ يَقُولُ: أَبَا عُمَيْرٍ، مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ؟".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا ایک بیٹا " جس کا نام ابو عمیر تھا " نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کے ساتھ ہنسی مذاق کیا کرتے تھے، ایک دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے غمگین دیکھا تو فرمایا اے ابو عمیر! کیا کیا نغیر (چڑیا، جو مرگئی تھی) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12957]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6129
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6129
حدیث نمبر: 12958 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حُمَيْدٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ وَلَدَتْ غُلَامًا مِنْ أَبِي طَلْحَةَ فَبَعَثَتْ بِهِ مَعَ ابْنِهَا أَنَسٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَنَّكَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ کے یہاں حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا بچہ پیدا ہوا، انہوں نے اپنے بیٹے انس کے ساتھ اسے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس بھیجا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے گھٹی دی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12958]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5470، م: 2119
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5470، م: 2119
حدیث نمبر: 12959 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُثَنَّى ، حُمَيْدٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: رَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ، فَشَقَّ عَلَيْهِ حَتَّى عُرِفَ ذَاكَ فِي وَجْهِهِ، فَحَكَّهُ، وَقَالَ:" إِنَّ أَحَدَكُمْ أَوْ الْمَرْءَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ، فَإِنَّهُ يُنَاجِي رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَوْ رَبَّهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ فَلْيَبْزُقْ، إِذَا بَزَقَ، عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ" وَأَوْمَأَ هَكَذَا، كَأَنَّهُ فِي ثَوْبِهِ، قَالَ: وَكُنَّا نَقُولُ لِحُمَيْدٍ: فَيَقُولُ: سُبْحَانَ اللَّهِ! مَنْ هُوَ؟ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا يَزِيدُنَا عَلَيْهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو قبلہ مسجد کی طرف تھوک لگا ہوا نظر آیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طبیعت پر یہ چیز اتنی شاق گذری کہ چہرہ مبارک پر ناگواری کے آثار واضح ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے صاف کر کے فرمایا کہ انسان جب نماز پڑھنے کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو اپنے رب سے مناجات کرتا ہے، اس لئے اسے چاہئے کہ اپنی بائیں جانب یا پاؤں کے نیچے تھوکے اور اس طرح اشارہ کیا کہ اسے کپڑے میں لے کر مل لے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12959]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 405، م: 551
الحكم: إسناده صحيح، خ: 405، م: 551
حدیث نمبر: 12960 مسند احمد
(حديث موقوف) (حديث مرفوع) ثُمَّ قَالَ:" إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ إِلَى الصَّلَاةِ، فَلْيَمْشِ عَلَى هِينَتِهِ، فَلْيُصَلِّ مَا أَدْرَكَ، وَيَقْضِ مَا سَبَقَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نماز کھڑی ہوئی اور ایک آدمی تیزی سے آیا، اس کا سانس پھولا ہوا تھا، صف تک پہنچ کر وہ کہنے لگا " الحمدللہ حمدا کثیرا طیبا مبارکا فیہ " نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز سے فارغ ہو کر پوچھا کہ تم میں سے کون بولا تھا؟ اس نے اچھی بات کہی تھی، چنانچہ وہ آدمی کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! میں بولا تھا، میں تیزی سے آرہا تھا اور صف کے قریب پہنچ کر میں نے یہ جملہ کہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں نے بارہ فرشتوں کو اس کی طرف تیزی سے بڑھتے ہوئے دیکھا کہ کون اس جملے کو پہلے اٹھاتا ہے، پھر فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز کے لئے آئے تو سکون سے چلے، جتنی نماز مل جائے سو پڑھ لے اور جو رہ جائے اسے قضاء کرلے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12960]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12961 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حُمَيْدٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: نَادَى رَجُلٌ يَا أَبَا الْقَاسِمِ، فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَمْ أَعْنِكَ، إِنَّمَا دَعَوْتُ فُلَانًا، قَالَ:" تَسَمَّوْا بِاسْمِي، وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جنت البقیع میں تھے، کہ ایک آدمی نے " ابوالقاسم " کہہ کر کسی کو آواز دی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو اس نے کہا کہ میں آپ کو مراد نہیں لے رہا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میرے نام پر تو اپنا نام رکھ سکتے ہو لیکن میری کنیت پر اپنی کنیت نہ رکھا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12961]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2121، م: 2131
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2121، م: 2131