بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَنَسِ بنِ مَالِك رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2170
صفحہ 41 از 109
حدیث نمبر: 12741 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، سَعِيدٌ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ،" أَنَّ يَهُودِيًّا قَتَلَ جَارِيَةً عَلَى أَوْضَاحٍ لَهَا، فَقَتَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک یہودی نے ایک انصاری بچی کو اس زیور کی خاطر قتل کردیا جو اس نے پہن رکھا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قصاصاً اسے بھی قتل کروا دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12741]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 9885، م: 1672
الحكم: إسناده صحيح، خ: 9885، م: 1672
حدیث نمبر: 12742 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ بِالزَّوْرَاءِ، فَأُتِيَ بِإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ لَا يَغْمُرُ أَصَابِعَهُ، فَأَمَرَ أَصْحَابَهُ أَنْ يَتَوَضَّئُوا، فَوَضَعَ كَفَّهُ فِي الْمَاءِ، فَجَعَلَ الْمَاءُ يَنْبُعُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ، وَأَطْرَافِ أَصَابِعِهِ، حَتَّى تَوَضَّأَ الْقَوْمُ، قَالَ: فَقُلْتُ: لِأَنَسٍ كَمْ كُنْتُمْ؟ قَالَ: كُنَّا ثَلَاثَ مِائَةٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مقام زوراء میں تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس پانی کا ایک پیالہ لایا گیا جس میں آپ کی انگلی بھی مشکل سے کھلتی تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی انگلیوں کو جوڑ لیا اور اس میں سے اتنا پانی نکالا کہ سب نے وضو کرلیا، کسی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اس وقت آپ کتنے لوگ تھے؟ انہوں نے بتایا کہ ہم لوگ تین سو تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12742]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3572، م: 2279
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3572، م: 2279
حدیث نمبر: 12743 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَعْتَقَ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ، وَجَعَلَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ بنت حیی کو آزاد کردیا اور ان کی آزادی ہی کو ان کا مہر قرار دے دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12743]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5169، م: 1365
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5169، م: 1365
حدیث نمبر: 12744 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: كَانَ فَزَعٌ بِالْمَدِينَةِ، فَاسْتَعَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَسًا لَنَا، يُقَالُ لَهُ: مَنْدُوبٌ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا رَأَيْنَا مِنْ فَزَعٍ، وَإِنْ وَجَدْنَاهُ لَبَحْرًا"، قَالَ حَجَّاجٌ: يَعْنِي الْفَرَسَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رات کے وقت اہل مدینہ دشمن کے خوف سے گھبرا اٹھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارا ایک گھوڑا " جس کا نام مندوب تھا " عاریۃً لیا اور فرمایا گھبرانے کی کوئی بات نہیں اور گھوڑے کے متعلق فرمایا کہ ہم نے اسے سمندر جیسا رواں پایا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12744]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2857، م: 2307
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2857، م: 2307
حدیث نمبر: 12745 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبِي قَزَعَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي قَزَعَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" كُنْتُ رَدِيفَ أَبِي طَلْحَةَ، قَالَ: وَكَانَتْ رُكْبَةُ أَبِي طَلْحَةَ تَكَادُ أَنْ تُصِيبَ رُكْبَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهِلُّ بِهِمَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا، قریب تھا کہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا گھٹنا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے گھٹنے سے مل جاتا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حج اور عمرہ دونوں کا تلبیہ پڑھتے ہوئے جا رہے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12745]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1251
الحكم: إسناده صحيح، م: 1251
حدیث نمبر: 12746 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَحَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، هِشَامَ بْنَ زَيْدِ بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ زَيْدِ بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ جَدِّي أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ دَارَ الْحَكَمِ بْنِ أَيُّوبَ، فَإِذَا قَوْمٌ قَدْ نَصَبُوا دَجَاجَةً يَرْمُونَهَا، فَقَالَ أَنَسٌ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُصْبَرَ الْبَهَائِمُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ہشام بن زید کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنے دادا حضرت انس رضی اللہ عنہ کے ساتھ دار حکم بن ایوب میں داخل ہوا، وہاں کچھ لوگ ایک مرغی کو باندھ کر اس پر نشانہ بازی کر رہے تھے، یہ دیکھ کر حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جانور کو باندھ کر اس پر نشانہ درست کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12746]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5513، م: 1956
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5513، م: 1956
حدیث نمبر: 12747 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَحَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَحَجَّاجٌ ، قالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: مَرَرْنَا فَأَنْفَجْنَا أَرْنَبًا بِمَرِّ الظَّهْرَانِ، فَسَعَوْا عَلَيْهَا، فَلَغَبُوا، فَسَعَيْتُ حَتَّى أَدْرَكْتُهَا، فَأَتَيْتُ بِهَا أَبَا طَلْحَةَ، فَذَبَحَهَا فَبَعَثَ بِوَرِكِهَا، أَوْ فَخِذِهَا، إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَبِلَهُ، قَالَ حَجَّاجٌ: قُلْتُ لِشُعْبَةَ: فَقُلْتُ: أَكَلَهُ؟ قَالَ: نَعَمْ أَكَلَهُ، قَالَ لِي بَعْدُ: قَبِلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مرالظہران نامی جگہ پر اچانک ہمارے سامنے ایک خرگوش آیا، بچے اس کی طرف دوڑے لیکن اسے پکڑ نہ سکے یہاں تک کہ تھک گئے، میں نے اسے پکڑ لیا اور حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس لے آیا انہوں نے اسے ذبح کیا اور اس کا ایک پہلو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں میرے ہاتھ بھیج دیا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے قبول فرما لیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12747]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2572، م: 1953
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2572، م: 1953
حدیث نمبر: 12748 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَحَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ " أَنَّ يَهُودِيًّا قَتَلَ جَارِيَةً عَلَى أَوْضَاحٍ لَهَا، قَالَ: فَقَتَلَهَا بِحَجَرٍ، قَالَ: فَجِيءَ بِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبِهَا رَمَقٌ، فَقَالَ لَهَا:" قَتَلَكِ فُلَانٌ؟" فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا، أَيْ: لَا، ثُمَّ قَالَ لَهَا الثَّانِيَةَ، فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا، أَيْ لَا، ثُمَّ سَأَلَهَا الثَّالِثَةَ، فَقَالَتْ: نَعَمْ، وَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا، فَقَتَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ حَجَرَيْنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک یہودی نے ایک انصار بچی کو اس زیور کی خاطر قتل کردیا جو اس نے پہن رکھا تھا اور پتھر مار مار کر اس کا سر کچل دیا، جب اس بچی کو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس لایا گیا تو اس میں زندگی کی تھوڑی سی رمق باقی تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک آدمی کا نام لے کر اس سے پوچھا کہ تمہیں فلاں آدمی نے مارا ہے؟ اس نے سر کے اشارے سے کہا نہیں، دوسری مرتبہ بھی یہی ہوا، تیسری مرتبہ اس نے کہا ہاں! تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس یہودی کو دو پتھروں کے درمیان قتل کروا دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12748]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6879، م: 1672
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6879، م: 1672
حدیث نمبر: 12749 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لِلْأَنْصَارِ:" إِنَّكُمْ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً، فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي، فَمَوْعِدُكُمْ الْحَوْضُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انصار سے فرمایا عنقریب تم میرے بعد بہت زیادہ ترجیحات دیکھو گے لیکن تم صبر کرنا یہاں تک کہ اللہ اور اس کے رسول سے آملو، کیونکہ میں اپنے حوض پر تمہارا انتظار کروں گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12749]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3793
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3793
حدیث نمبر: 12750 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ، أَنَّ أُمَّهُ حِينَ وَلَدَتْ، انْطَلَقُوا بِالصَّبِيِّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُحَنِّكَهُ، قَالَ: فَإِذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مِرْبَدٍ يَسِمُ غَنَمًا، قَالَ شُعْبَةُ: وَأَكْبَرُ عِلْمِي أَنَّهُ قَالَ فِي آذَانِهَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں ایک بچے کو لے کر " جو میری والدہ کے یہاں ہوا تھا " نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم باڑے میں بکری کے کان داغ رہے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12750]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5542، م: 2119
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5542، م: 2119
حدیث نمبر: 12751 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبَا التَّيَّاحِ يَزِيدَ بْنَ حُمَيْدٍ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا التَّيَّاحِ يَزِيدَ بْنَ حُمَيْدٍ يُحَدِّثُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْبَرَكَةُ فِي نَوَاصِي الْخَيْلِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا گھوڑوں کی پیشانیوں میں برکت رکھ دی گئی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12751]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2851، م: 1874
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2851، م: 1874
حدیث نمبر: 12752 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبِي التَّيَّاحِ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَبِي ذَرٍّ:" اسْمَعْ وَأَطِعْ، وَلَوْ لِحَبَشِيٍّ كَأَنَّ رَأْسَهُ زَبِيبَةٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا بات سنتے اور مانتے رہو، خواہ تم پر ایک حبشی " جس کا سر کشمش کی طرح ہو " گورنر بنادیا جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12752]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 696
الحكم: إسناده صحيح، خ: 696
حدیث نمبر: 12753 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبِي التَّيَّاحِ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، قال: سمعتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَالِطُنَا حَتَّى إِنْ كَانَ لَيَقُولُ لِأَخٍ لِي:" يَا أَبَا عُمَيْرٍ، مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ؟" قَالَ: وَكَانَ إِذَا حَضَرَتْ الصَّلَاةُ، نَضَحْنَا لَهُ طَرَفَ بِسَاطٍ، ثُمَّ أَمَّنَا وَصَفَّنَا خَلْفَهُ، قَالَ شُعْبَةُ: ثُمَّ إِنَّ أَبَا التَّيَّاحِ بَعْدَمَا كَبِرَ قَالَ: ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى، وَلَمْ يَقُلْ: صَفَّنَا خَلْفَهُ، وَلَا أَمَّنَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے یہاں آتے تھے اور میرے چھوٹے بھائی کے ساتھ ہنسی مذاق کیا کرتے تھے، ایک دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے غمگین دیکھا تو فرمایا اے ابوعمیر! کیا کیا نغیر؟ چڑیا، جو مرگئی تھی اور ہمارے لئے ایک چادر بچھائی گئی جس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز پڑھائی اور ہم نے ان کے پیچھے کھڑے ہو کر صف بنالی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12753]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6129
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6129
حدیث نمبر: 12754 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ الْخَلَاءَ، فَأَحْمِلُ أَنَا وَغُلَامٌ نَحْوِي إِدَاوَةً مِنْ مَاءٍ وَعَنَزَةً، فَيَسْتَنْجِي بِالْمَاءِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب قضاء حاجت کے لئے جاتے تو میں اور میرے جیسا ایک لڑکا پانی کا برتن اور نیزہ اٹھاتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پانی سے استنجاء فرماتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12754]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 152، م: 271
الحكم: إسناده صحيح، خ: 152، م: 271
حدیث نمبر: 12755 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَلِيَّ بْنَ زَيْدٍ ، أَنَسًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ زَيْدٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَنَسًا يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" لَا يَتَمَنَّى الْمُؤْمِنُ أَوْ قَالَ أَحَدُكُمْ الْمَوْتَ، فَإِنْ كَانَ لَا بُدَّ فَاعِلًا، فَلْيَقُلْ اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مَا كَانَتْ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي، وَتَوَفَّنِي مَا كَانَتْ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص اپنے اوپر آنے والی کسی تکلیف کی وجہ سے موت کی تمنا نہ کرے، اگر موت کی تمنا کرنا ہی ضروری ہو تو اسے یوں کہنا چاہئے کہ اے اللہ! جب تک میرے لئے زندگی میں کوئی خیر ہے، مجھے اس وقت تک زندہ رکھ اور جب میرے لئے موت میں بہتری ہو تو مجھے موت عطاء فرما دینا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12755]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 6351، م: 2680، وهذا إسناد ضعيف لضعف علي بن زيد بن جدعان، ولكن تابعه جماعة من الثقات
الحكم: حديث صحيح، خ: 6351، م: 2680، وهذا إسناد ضعيف لضعف علي بن زيد بن جدعان، ولكن تابعه جماعة من الثقات
حدیث نمبر: 12756 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ قوم کا بھانجا ان ہی میں شمار ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12756]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6761، م: 1059
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6761، م: 1059
حدیث نمبر: 12757 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" اللَّهُمَّ لَا عَيْشَ إِلَّا عَيْشُ الْآخِرَهْ" قَالَ شُعْبَةُ: أَوْ قَالَ:" اللَّهُمَّ إِنَّ الْعَيْشَ عَيْشُ الْآخِرَهْ فَأَصْلِحْ الْأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَهْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرمایا کرتے تھے اصل خیر آخرت ہی کی خیر ہے، یا یہ فرماتے کہ اے اللہ! آخرت کی خیر کے علاوہ کوئی خیر نہیں، پس انصار اور مہاجرین کی اصلاح فرما۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12757]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6413، م: 1805
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6413، م: 1805
حدیث نمبر: 12758 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، خَالِدٍ ، عَمَّنْ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَمَّنْ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَجَدَ رُئِيَ أَوْ رَأَيْتُ بَيَاضَ إِبِطَيْهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سجدے میں جاتے تھے تو میری نظر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مبارک بغل کی سفیدی پر پڑجاتی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12758]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6413، م: 1805
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6413، م: 1805
حدیث نمبر: 12759 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: مَا أَوْلَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِهِ، أَكْثَرَ أَوْ أَفْضَلَ مِمَّا أَوْلَمَ عَلَى زَيْنَبَ، فَقَالَ ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ فَمَا أَوْلَمَ؟ قَالَ: أَطْعَمَهُمْ خُبْزًا وَلَحْمًا حَتَّى تَرَكُوهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت زینب رضی اللہ عنہ کے موقع پر جو ولیمہ فرمایا: اس سے زیادہ بہتر ولیمہ اپنی کسی اہلیہ سے شادی کے موقع پر نہیں فرمایا، ثابت بنانی رحمہ اللہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کیا ولیمہ فرمایا؟ انہوں نے جواب دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں روٹی گوشت کھلایا اور اتنا کھلایا کہ لوگوں نے خود ہی چھوڑا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12759]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4793، م: 1428
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4793، م: 1428
حدیث نمبر: 12760 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، ثَابِتٍ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ:" كَانَ يَنْعَتُ لَنَا صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّي، فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، قُلْنَا: قَدْ نَسِيَ مِنْ طُولِ مَا يَقُومُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سجدہ یا رکوع سے سر اٹھاتے اور ان دونوں کے درمیان اتنا لمبا وقفہ فرماتے کہ ہمیں یہ خیال ہونے لگتا کہ کہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھول تو نہیں گئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12760]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 800، م: 473
الحكم: إسناده صحيح، خ: 800، م: 473