بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَنَسِ بنِ مَالِك رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2170
صفحہ 52 از 109
حدیث نمبر: 12962 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حُمَيْدٌ ، أَنَسٌ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، قَالَ: سُئِلَ أَنَسٌ هَلْ اتَّخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا؟ قَالَ: نَعَمْ، أَخَّرَ لَيْلَةً صَلَاةَ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ إِلَى قُرْيبٍ مِنْ شَطْرِ اللَّيْلِ، فَلَمَّا صَلَّى، أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ، فَقَالَ:" النَّاسُ قَدْ صَلَّوْا وَنَامُوا، وَلَمْ تَزَالُوا فِي صَلَاةٍ مَا انْتَظَرْتُمُوهَا"، قَالَ أَنَسٌ: كَأَنِّي أَنْظُرُ الْآنَ إِلَى وَبِيصِ خَاتَمِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حمید کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انگوٹھی بنوائی تھی؟ انہوں نے فرمایا ہاں! ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز عشاء کو نصف رات تک مؤخر کردیا اور نماز کے بعد ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا لوگ نماز پڑھ کر سو گئے لیکن تم نے جتنی دیر تک نماز کا انتظار کیا تم نماز ہی میں شمار ہوئے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی انگوٹھی کی سفیدی اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12962]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 572
الحكم: إسناده صحيح، خ: 572
حدیث نمبر: 12963 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حُمَيْدٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ وَقْتِ صَلَاةِ الْغَدَاةِ، فَصَلَّى حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ، ثُمَّ أَسْفَرَ بِهِمْ حَتَّى أَسْفَرَ، فَقَالَ:" أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ وَقْتِ صَلَاةِ الْغَدَاةِ؟" قَالَ:" مَا بَيْنَ هَذَيْنِ وَقْتٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے فجر کا وقت پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو طلوع فجر کے وقت حکم دیا اور نماز کھڑی کردی، پھر اگلے دن خوب روشنی میں کر کے نماز پڑھائی اور فرمایا نماز فجر کا وقت پوچھنے والا کہاں ہے؟ ان دو وقتوں کے درمیان نماز فجر کا وقت ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12963]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12964 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حُمَيْدٌ ، أَنَسٍ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" كُنَّا نُصَلِّي الْمَغْرِبَ، ثُمَّ يَنْطَلِقُ الْمُنْطَلِقُ مِنَّا إِلَى بَنِي سَلِمَةَ، وَهُوَ يَرَى مَوَاقِعَ نَبْلِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھتے تھے، پھر ہم میں سے کوئی شخص بنو سلمہ کے پاس جاتا تو اس وقت بھی وہ اپنا تیر گرنے کی جگہ کو بخوبی دیکھ سکتا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12964]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12965 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ وَهُوَ أَبُو مسَلَمَةَ ، لِأَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ وَهُوَ أَبُو مسَلَمَةَ ، قَالَ: قُلْتُ لِأَنَسٍ :" أَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَعْلَيْهِ؟ قَالَ: نَعَمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سعید بن یزید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے جوتوں میں نماز پڑھ لیتے تھے؟ انہوں نے فرمایا جی ہاں!۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12965]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 386، 5850، م: 555
الحكم: إسناده صحيح، خ: 386، 5850، م: 555
حدیث نمبر: 12966 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، أَبِي قِلَابَةَ ، أَنَسٌ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، قَالَ: قَالَ أَنَسٌ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ لِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِينًا، وَإِنَّ أَمِينَنَا أَيُّتُهَا الْأُمَّةُ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے اور ابوعبیدہ اس امت کے امین ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12966]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4382، م: 2419
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4382، م: 2419
حدیث نمبر: 12967 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، حُمَيْدٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" طَافَ عَلَى نِسَائِهِ فِي لَيْلَةٍ وَاحِدَةٍ بِغُسْلٍ وَاحِدٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کبھی کبھار اپنی تمام ازواج مطہرات کے پاس ایک ہی رات میں ایک ہی غسل سے جایا کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12967]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12968 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ أَقْرَنَيْنِ، يَطَأُ عَلَى صِفَاحِهِمَا، وَيَذْبَحُهُمَا بِيَدِهِ، وَيُسَمِّي وَيُكَبِّرُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دو چتکبرے سینگ دار مینڈھے قربانی میں پیش کرتے تھے اور اللہ کا نام لے کر تکبیر کہتے تھے، میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم انہیں اپنے ہاتھ سے ذبح کرتے تھے اور ان کے پہلو پر اپنا پاؤں رکھتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12968]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5558، م: 1966
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5558، م: 1966
حدیث نمبر: 12969 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ ، أَنَسٌ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ: قَالَ أَنَسٌ : أَقْبَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَأَبُو طَلْحَةَ، وَصَفِيَّةُ رَدِيفَتُهُ عَلَى نَاقَتِهِ، فَبَيْنَمَا نَحْنُ نَسِيرُ إِذْ عَثَرَتْ نَاقَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصُرِعَ وَصُرِعَتْ الْمَرْأَةُ، فَاقْتَحَمَ أَبُو طَلْحَةَ عَنْ نَاقَتِهِ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، هَلْ ضَرَّكَ شَيْءٌ؟ قَالَ:" لَا، عَلَيْكَ بِالْمَرْأَةِ" فَأَلْقَى أَبُو طَلْحَةَ ثَوْبَهُ عَلَى وَجْهِهِ، ثُمَّ قَصَدَ قَصْدَ الْمَرْأَةَ، فَسَدَلَ الثَّوْبَ عَلَيْهَا، فَقَامَتْ فَشَدَّ لَهُمَا عَلَى رَاحِلَتِهِمَا، فَرَكِبَا، وَرَكِبْنَا نَسِيرُ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِظَهْرِ الْمَدِينَةِ قَالَ:" آيِبُونَ تَائِبُونَ، لِرَبِّنَا حَامِدُونَ" قال: فَلَمْ يَزَلْ يَقُولُ ذَلِكَ حَتَّى قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں اور حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ خیبر سے واپس آرہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ سوار تھیں، ایک مقام پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اونٹنی پھسل گئی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ گرگئے، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ تیزی سے وہاں پہنچے اور کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! اللہ مجھے آپ پر قربان کرے، کوئی چوٹ تو نہیں آئی؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا نہیں، خاتون کی خبر لو، چنانچہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ اپنے چہرے پر کپڑا ڈال کر ان کے پاس پہنچے اور حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ پر کپڑا ڈال دیا، اس کے بعد سواری کو دوبارہ تیار کیا، پھر ہم سب سوار ہوگئے اور ہم میں سے ایک نے دائیں جانب سے اور دوسرے نے بائیں جانب سے اسے اپنے گھیرے میں لے لیا، جب ہم لوگ مدینہ منورہ کے قریب پہنچے یا پتھریلے علاقوں کی پشت پر پہنچے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہم اللہ کی عبادت کرتے ہوئے، توبہ کرتے ہوئے اور اپنے رب کی تعریف کرتے ہوئے واپس آئے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مسلسل یہ جملے کہتے رہے تاآنکہ ہم مدینہ منورہ میں داخل ہوگئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12969]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3085، م: 1345
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3085، م: 1345
حدیث نمبر: 12970 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، حُمَيْدٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَامٍ بَلَغَهُ مَقْدَمُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، فَأَتَاهُ فَسَأَلَهُ عَنْ أَشْيَاءَ، قَالَ: إِنِّي سَائِلُكَ عَنْ أَشْيَاءَ لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا نَبِيٌّ، قَالَ: مَا أَوَّلُ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ؟ وَمَا أَوَّلُ طَعَامٍ يَأْكُلُهُ أَهْلُ الْجَنَّةِ؟ وَمَا بَالُ الْوَلَدِ يَنْزِعُ إِلَى أَبِيهِ، وَالْوَلَدِ يَنْزِعُ إِلَى أُمِّهِ؟ قَالَ:" أَخْبَرَنِي بِهِنَّ جِبْرِيلُ آنِفًا"، قَالَ ابْنُ سَلَامٍ فَذَلِكَ عَدُوُّ الْيَهُودِ مِنَ الْمَلَائِكَةِ، قَالَ:" أَمَّا أَوَّلُ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ، فَنَارٌ تَحْشُرُهُمْ مِنَ الْمَشْرِقِ إِلَى الْمَغْرِبِ، وَأَوَّلُ طَعَامٍ يَأْكُلُهُ أَهْلُ الْجَنَّةِ زِيَادَةُ كَبِدِ حُوتٍ، وَأَمَّا الْوَلَدُ فَإِذَا سَبَقَ مَاءُ الرَّجُلِ مَاءَ الْمَرْأَةِ، نَزَعَ الْوَلَدَ، وَإِذَا سَبَقَ مَاءُ الْمَرْأَةِ مَاءَ الرَّجُلِ، نَزَعَتْ الْوَلَدَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مدینہ منورہ تشریف آوری کے بعد حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! میں آپ سے تین باتیں پوچھتا ہوں جنہیں کسی نبی کے علاوہ کوئی نہیں جانتا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پوچھو، انہوں نے کہا کہ قیامت کی سب سے پہلی علامت کیا ہے؟ اہل جنت کا سب سے پہلا کھانا کیا چیز ہوگی؟ اور بچہ اپنے ماں باپ کے مشابہہ کیسے ہوتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ان کا جواب مجھے ابھی ابھی حضرت جبرائیل امین علیہ السلام نے بتایا ہے، عبداللہ کہنے لگے وہ تو فرشتوں میں یہودیوں کا دشمن ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قیامت کی سب سے پہلی علامت تو وہ آگ ہوگی جو مشرق سے نکل کر تمام لوگوں کو مغرب میں جمع کرلے گی اور اہل جنت کا سب سے پہلا کھانا مچھلی کا جگر ہوگا اور بچے کے اپنے ماں باپ کے ساتھ مشابہہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اگر مرد کا " پانی '' عورت کے پانی پر غالب آجائے تو وہ بچے کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے اور اگر عورت کا پانی مرد کے پانی پر غالب آجائے تو وہ بچے کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12970]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3329
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3329
حدیث نمبر: 12971 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، خَالِدٌ ، أَبِي قِلَابَةَ ، أَنَسٌ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، قال: قَالَ أَنَسٌ :" أُمِرَ بِلَالٌ أَنْ يَشْفَعَ الْأَذَانَ، وَيُوتِرَ الْإِقَامَةَ"، فَحَدَّثْتُ بِهِ أَيُّوبَ، فَقَالَ: إِلَّا الْإِقَامَةَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو یہ حکم تھا کہ اذان کے کلمات جفت عدد میں اور اقامت کے کلمات طاق عدد میں کہا کریں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12971]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 603، م: 378
الحكم: إسناده صحيح، خ: 603، م: 378
حدیث نمبر: 12972 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ: ذُكِرَ لِي أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ، وَلَمْ أَسْمَعْهُ مِنْهُ:" إِنَّ فِيكُمْ قَوْمًا يَعْبُدُونَ وَيَدْأَبُونَ يَعْنِي يُعْجِبُونَ النَّاسَ، وَتُعْجِبُهُمْ أَنْفُسُهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجھ سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ فرمان بیان کیا گیا لیکن میں نے اسے خود نہیں سنا کہ تم میں ایک قوم ایسی آئے گی جو عبادت کرے گی اور دینداری پر ہوگی، حتیٰ کہ لوگ ان کی کثرت عبادت پر تعجب کیا کریں گے اور وہ خود بھی خود پسندی میں مبتلاء ہوں گے، وہ لوگ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12972]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12973 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ: إِنِّي لَقَائِمٌ عَلَى الْحَيِّ أَسْقِيهِمْ مِنْ فَضِيخٍ لَهُمْ، إِذْ جَاءَ رَجُلٌ، فَقَالَ: إِنَّهَا حُرِّمَتْ الْخَمْرُ، فَقَالُوا: أَكْفِئْهَا يَا أَنَسُ، فَأَكْفَأْتُهَا، فَقُلْتُ لِأَنَسٍ: مَا هِيَ؟ قَالَ: بُسْرٌ وَرُطَبٌ، قَالَ: فَقَالَ أَبُو بَكْرِ ابْنُ أَنَسٍ كَانَتْ خَمْرَهُمْ يَوْمَئِذٍ"، قَالَ: وَحَدَّثَنِي رَجُلٌ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّهُ قَالَ ذَلِكَ أَيْضًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں ایک دن کھڑا لوگوں کو فصیخ پلا رہا تھا کہ ایک شخص آیا اور کہنے لگا کہ شراب حرام ہوگئی، وہ کہنے لگے انس! تمہارے برتن میں جتنی شراب ہے سب انڈیل دو، راوی نے ان سے شراب کی تفتیش کی تو فرمایا کہ وہ تو صرف کچی اور پکی کھجور ملا کر بنائی گئی نبیذ تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12973]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5583، م: 1980
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5583، م: 1980
حدیث نمبر: 12974 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ ، لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ: سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ أَخْبَرَنَا، قَالَ: قُلْتُ لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ " أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَفْتِحُ الْقِرَاءَةَ ب ْبِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سورة الفاتحة آية 1، أَوْ بْ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سورة الفاتحة آية 2؟ فَقَالَ: إِنَّكَ لَتَسْأَلُنِي عَنْ شَيْءٍ مَا سَأَلَنِي عَنْهُ أَحَدٌ".
حدیث نمبر: 12975 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنْ قَصْرِ الصَّلَاةِ، فَقَالَ: سَافَرْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ، فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ حَتَّى رَجَعْنَا، فَسَأَلْتُهُ هَلْ أَقَامَ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، أَقَمْنَا بِمَكَّةَ عَشْرًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ سے نکلے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم واپسی تک دو دو رکعتیں پڑھتے رہے، راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سفر میں کتنے دن قیام فرمایا تھا؟ انہوں نے بتایا دس دن۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12975]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1081، م: 693
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1081، م: 693
حدیث نمبر: 12976 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ الْمَدِينَةَ، آخَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ، فَقَالَ: أُقَاسِمُكَ مَالِي نِصْفَيْنِ، وَلِي امْرَأَتَانِ، فَأُطَلِّقُ إِحْدَاهُمَا، فَإِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُهَا فَتَزَوَّجْهَا، فَقَالَ: بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِي أَهْلِكَ وَمَالِكَ، دُلُّونِي عَلَى السُّوقِ، فَدَلُّوهُ، فَانْطَلَقَ، فَمَا رَجَعَ إِلَّا وَمَعَهُ شَيْءٌ مِنْ أَقِطٍ وَسَمْنٍ قَدْ اسْتَفْضَلَهُ، فَرَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ وَعَلَيْهِ وَضَرٌ مِنْ صُفْرَةٍ، فَقَالَ:" مَهْيَمْ؟" قَالَ: تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ، قَالَ:" مَا أَصْدَقْتَهَا؟" قَالَ: نَوَاةً مِنْ ذَهَبٍ، قَالَ حُمَيْدٌ: أَوْ وَزْنَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَقَالَ:" أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ میں آئے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے اور حضرت سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ کے درمیان بھائی چارہ قائم کردیا، حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں اپنا سارا مال دو حصوں میں تقسیم کرتا ہوں، نیز میری دو بیویاں ہیں، میں ان میں سے ایک کو طلاق دے دیتا ہوں، جب اس کی عدت گذر جائے تو آپ اس سے نکاح کرلیجئے، حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ تعالیٰ آپ کے مال اور اہل خانہ کو آپ کے لئے باعث برکت بنائے، مجھے بازار کا راستہ دکھا دیجئے، چنانچہ انہوں نے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو راستہ بتادیا، وہ چلے گئے، واپس آئے تو ان کے پاس کچھ پنیر اور گھی تھا جو وہ منافع میں بچا کر لائے تھے۔ کچھ عرصے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو دیکھا تو ان پر زرد رنگ کے نشانات پڑے ہوئے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا یہ نشان کیسے ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ میں نے ایک انصاری خاتون سے شادی کرلی ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کہ مہر کتنا دیا؟ انہوں نے بتایا کہ کجھور کی گٹھلی کے برابر سونا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ولیمہ کرو، اگرچہ صرف ایک بکری ہی سے ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12976]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2049، م: 1427
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2049، م: 1427
حدیث نمبر: 12977 مسند احمد
بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ أَبُو الْأَسْوَدِ الْعَمِّيُّ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَفَّانُ ، سُلَيْمُ بْنُ أَخْضَرَ ، ابْنُ عَوْنٍ ، هِشَامُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَنَسٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ أَبُو الْأَسْوَدِ الْعَمِّيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ هَوَازِنَ جَاءَتْ يَوْمَ حُنَيْنٍ بِالصِّبْيَانِ وَالنِّسَاءِ، وَالْإِبِلِ وَالنَّعَمِ، فَجَعَلُوهُمْ صُفُوفًا، يُكَثِّرُونَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا الْتَقَوْا وَلَّى الْمُسْلِمُونَ مُدْبِرِينَ، كَمَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا عِبَادَ اللَّهِ، أَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ، يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، أَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ" فَهَزَمَ اللَّهُ الْمُشْرِكِينَ قَالَ عَفَّانُ وَلَمْ يَضْرِبُوا بِسَيْفٍ وَلَمْ يَطْعَنُوا بِرُمْحٍ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ:" مَنْ قَتَلَ كَافِرًا، فَلَهُ سَلَبُهُ" فَقَتَلَ أَبُو طَلْحَةَ يَوْمَئِذٍ عِشْرِينَ رَجُلًا، وَأَخَذَ أَسْلَابَهُمْ، قَالَ: وَقَالَ أَبُو قَتَادَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ضَرَبْتُ رَجُلًا عَلَى حَبْلِ الْعَاتِقِ، وَعَلَيْهِ دِرْعٌ، فَأُجْهِضْتُ عَنْهُ، فَانْظُرْ مَنْ أَخَذَهَا، فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: أَنَا أَخَذْتُهَا، فَأَرْضِهِ مِنْهَا، وَأَعْطِنِيهَا، قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُسْأَلُ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ، أَوْ سَكَتَ، فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ عُمَرُ: لَا وَاللَّهِ، لَا يُفِيئُهَا اللَّهُ عَلَى أَسَدٍ مِنْ أُسْدِهِ وَيُعْطِيكَهَا، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ:" صَدَقَ عُمَرُ"، قَالَ: وَكَانَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ مَعَهَا خِنْجَرٌ، فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ مَا هَذَا مَعَكِ؟ قَالَتْ: اتَّخَذْتُهُ إِنْ دَنَا مِنِّي بَعْضُ الْمُشْرِكِينَ أَنْ أَبْعَجَ بِهِ بَطْنَهُ، فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا تَسْمَعُ مَا تَقُولُ أُمُّ سُلَيْمٍ؟! قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اقْتُلْ مَنْ بَعْدَنَا مِنَ الطُّلَقَاءِ، انْهَزَمُوا بِكَ، قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ قَدْ كَفَانَا وَأَحْسَنَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ"، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمُ بْنُ أَخْضَرَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، لَمَّا كَانَ يَوْمُ حُنَيْنٍ، وَجَمَعَتْ هَوَازِنُ وَغَطَفَانُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمْعًا كَثِيرًا، وَالنبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عَشْرَةِ آلَافٍ أَوْ أَكْثَرَ، وَمَعَهُ الطُّلَقَاءُ، فَجَاءُوا بِالنَّعَمِ وَالذُّرِّيَّةِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بنو ہوازن کے لوگ غزوہ حنین میں بچے، عورتیں، اونٹ اور بکریاں تک لے کر آئے تھے، انہوں نے اپنی کثرت ظاہر کرنے کے لئے ان سب کو بھی مختلف صفوں میں کھڑا کردیا، جب جنگ چھڑی تو مسلمان پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے، اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مسلمانوں کو آواز دی کہ اے اللہ کے بندو! میں اللہ کا بندہ اور رسول (یہاں) ہوں، اے گروہ انصار! میں اللہ کا بندہ اور رسول (یہاں) ہوں، اس کے بعد اللہ نے مسلمانوں کو فتح اور کافروں کو شکست سے دوچار کردیا۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس دن یہ اعلان فرمایا تھا کہ جو شخص کسی کافر کو قتل کرے گا، اس کا سارا سازوسامان قتل کرنے والے کو ملے گا، چنانچہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے نتہا اس دن بیس کافروں کو قتل کیا تھا اور ان کا سازوسامان لے لیا تھا۔ اسی طرح حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! میں نے ایک آدمی کو کندھے کی رسی پر مارا، اس نے زرہ پہن رکھی تھی، میں نے اسے بڑی مشکل سے قابو کر کے اپنی جان بچائی، آپ معلوم کرلیجئے کہ اس کا سامان کس نے لیا ہے؟ ایک آدمی نے کھڑے ہو کر عرض کیا وہ سامان میں نے لے لیا ہے، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! آپ انہیں میری طرف سے اس پر راضی کرلیجئے اور یہ سامان مجھ ہی کو دے دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عادت مبارکہ یہ تھی کہ اگر کوئی شخص کسی چیز کا سوال کرتا تو اسے عطاء فرما دیتے یا پھر سکوت فرما لیتے، اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خاموش ہوگئے، لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے بخدا! ایسا نہیں ہوسکتا کہ اللہ اپنے ایک شیر کو مال غنیمت عطاء کر دے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وہ تمہیں دے دیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مسکرا کر فرمایا عمر سچ کہہ رہے ہیں۔ غزوہ حنین ہی میں حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ کے پاس ایک خنجر تھا، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا کہ یہ تمہارے پاس کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ یہ میں نے اپنے پاس اس لئے رکھا ہے کہ اگر کوئی مشرک میرے قریب آیا تو میں اسی سے اس کا پیٹ پھاڑ دوں گی، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! آپ نے ام سلیم کی بات سنی؟ پھر وہ کہنے لگیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! جو لوگ آپ کو چھوڑ کر بھاگ گئے تھے، انہیں قتل کروا دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ام سلیم! اللہ نے ہماری کفایت خود ہی فرمائی اور ہمارے ساتھ اچھا معاملہ کیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12977]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1809
الحكم: إسناده صحيح، م: 1809
حدیث نمبر: 12978 مسند احمد
حَدَّثَنَا عَفَّانُ: حَدَّثَنَا سُلَيْمُ بْنُ أَخْضَرَ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ (۲) قَالَ: حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَنَسٍ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ حُنَيْنٍ، وَجَمَعَتْ هَوَازِنُ وَغَطَفَانُ لِرَسُولِ اللهِ صلى الله عليه و آله وسلم جَمْعًا كَثِيرًا وَ النَّبِيُّ صلى الله عليه و آله وسلم فِي عَشَرَةِ آلَافٍ أَوْ أَكْثَرَ، وَمَعَهُ الطَّلَقَاءُ، فَجَاءُوا بِالنَّعَمِ وَالذُّرِّيَّةِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12978]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4333، م: 1059
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4333، م: 1059
حدیث نمبر: 12979 مسند احمد
بَهْزٌ ، مثنَّى بْنُ سَعِيدٍ ، أَبِي التَّيَّاحِ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنِي مثنَّى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَزُورُ أُمَّ سُلَيْمٍ، وَلَهَا ابْنٌ صَغِيرٌ، يُقَالُ لَهُ: أَبُو عُمَيْرٍ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" يَا أَبَا عُمَيْرٍ، مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ؟" قَالَ: نُغَرٌ يَلْعَبُ بِهِ، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَزُورُ أُمَّ سُلَيْمٍ أَحْيَانًا، وَيَتَحَدَّثُ عِنْدَهَا، فَتُدْرِكُهُ الصَّلَاةُ، فَيُصَلِّي عَلَى بِسَاطٍ، وَهُوَ حَصِيرٌ يَنْضَحُهُ بِالْمَاءِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ کے یہاں تشریف لے جایا کرتے تھے، ان کا ایک چھوٹا بیٹا تھا جس کا نام ابو عمیر تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے فرمایا اے ابوعمیر! کیا ہوا نغیر؟ یہ ایک چڑیا تھی جس سے وہ کھیلا کرتے تھے، بعض اوقات نماز کا وقت آجاتا تو حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے جائے نماز بچھا دیتیں جس پر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پانی چھڑک کر نماز پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12979]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6129
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6129
حدیث نمبر: 12980 مسند احمد
بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثَابِتٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ " أَنَّ أُسَيْدَ بْنَ حُضَيْرٍ وَعَبَّادَ بْنَ بِشْرٍ كَانَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي لَيْلَةٍ ظَلْمَاءَ حِنْدِسٍ، قَالَ: فَلَمَّا خَرَجَا مِنْ عِنْدِهِ، أَضَاءَتْ عَصَا أَحَدِهِمَا، فَكَانَا يَمْشِيَانِ بِضَوْئِهَا، فَلَمَّا تَفَرَّقَا أَضَاءَتْ عَصَا هَذَا وَعَصَا هَذَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رات کے وقت حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ اور ایک دوسرے صاحب اپنے کسی کام سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس بیٹھے گفتگو کر رہے تھے، اس دوران رات کا کافی حصہ بیت گیا اور وہ رات بہت تاریک تھی، جب وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے رخصت ہو کر نکلے تو ان کے ہاتھ میں ایک لاٹھی تھی، ان میں سے ایک آدمی کی لاٹھی روشن ہوگئی اور وہ اس کی روشنی میں چلنے لگے، جب دونوں اپنے اپنے راستے پر جدا ہونے لگے تو دوسرے کی لاٹھی بھی روشن ہوگئی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12980]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3805 معلقا، و بنحوه برقم: 465
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3805 معلقا، و بنحوه برقم: 465
حدیث نمبر: 12981 مسند احمد
بَهْزٌ ، حَمَّادٌ ، هِشَامُ بْنُ زَيْدٍ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنْ قَامَتْ السَّاعَةُ وَبِيَدِ أَحَدِكُمْ فَسِيلَةٌ، فَإِنْ اسْتَطَاعَ أَنْ لَا يَقُومَ حَتَّى يَغْرِسَهَا، فَلْيَفْعَلْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مری ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر تم میں سے کسی پر قیامت قائم ہوجائے اور اس کے ہاتھ میں کھجور کا پودا ہو، تب بھی اگر ممکن ہو تو اسے چاہیے کہ اسے گاڑ دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12981]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح