بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَنَسِ بنِ مَالِك رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2170
صفحہ 69 از 109
حدیث نمبر: 13302 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، إِسْرَائِيلُ ، عَبْدِ الْأَعْلَى ، بِلَالِ بْنِ أَبِي مُوسَى ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنْ بِلَالِ بْنِ أَبِي مُوسَى ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: أَرَادَ الْحَجَّاجُ أَنْ يَجْعَلَ ابْنَهُ عَلَى قَضَاءِ الْبَصْرَةِ، قَالَ: فَقَالَ أَنَسٌ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ طَلَبَ الْقَضَاءَ وَاسْتَعَانَ عَلَيْهِ، وُكِلَ إِلَيْهِ، وَمَنْ لَمْ يَطْلُبْهُ وَلَمْ يَسْتَعِنْ عَلَيْهِ، أَنْزَلَ اللَّهُ مَلَكًا يُسَدِّدُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
بلال بن ابی موسیٰ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حجاج نے اپنے بیٹے کو بصرہ کا قاضی مقرر کرنا چاہا تو حضرت انس رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص عہدہ قضا کو طلب کرتا ہے، اسے اس کے حوالے کردیا جاتا ہے اور جسے زبردستی عہدہ قضا دے دیا جائے، اس پر ایک فرشتہ نازل ہوتا ہے جو اسے سیدھی راہ پر گامزن رکھتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13302]
حکم دارالسلام
إسنادہ ضعیف لضعف عبدالأعلی الثعلبی، وضعف بلال بن أبی موسی: وھو ابن مرداس
الحكم: إسنادہ ضعیف لضعف عبدالأعلی الثعلبی، وضعف بلال بن أبی موسی: وھو ابن مرداس
حدیث نمبر: 13303 مسند احمد
عَبْدُ الْوَهَّابِ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ :" أَنَّ أَهْلَ مَكَّةَ سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُرِيَهُمْ آيَةً، قَالَ: فَأَرَاهُمْ انْشِقَاقَ الْقَمَرِ مَرَّتَيْنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اہل مکہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کوئی معجزہ دکھانے کی فرمائش کی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں دو مرتبہ شق قمر کا معجزہ دکھایا اور اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ قیامت قریب آگئی اور چاند شق ہوگیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13303]
حکم دارالسلام
حدیث صحيح، خ: 3637، م: 2802، وهذا إسناد قوي
الحكم: حدیث صحيح، خ: 3637، م: 2802، وهذا إسناد قوي
حدیث نمبر: 13304 مسند احمد
مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي هِنْدٍ ، عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَثِيرًا مَا كَانَ يَدْعُو بِهَؤُلَاءِ الدَّعَوَاتِ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ، وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ، وَضَلَعِ الدَّيْنِ، وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کثرت سے یہ کہتا ہوا سنتا تھا کہ اے اللہ! میں پریشانی، غم، لاچاری، سستی، بزدلی، قرضوں کے بوجھ اور لوگوں کے غلبے سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13304]
حکم دارالسلام
حدیث صحيح، وهذا إسناد جید
الحكم: حدیث صحيح، وهذا إسناد جید
حدیث نمبر: 13305 مسند احمد
إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الطَّالْقَانِيُّ ، عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُبَارَكٍ ، عَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الطَّالْقَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُبَارَكٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الطَّاعُونُ شَهَادَةٌ لِكُلِّ مُسْلِمٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا طاعون ہر مسلمان کے لئے شہادت ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13305]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2830، م: 1916
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2830، م: 1916
حدیث نمبر: 13306 مسند احمد
أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ، لَيْثٌ ، يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ الْهَادِ ، عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ، أَخْبَرَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ الْهَادِ ، عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" سُئِلَ عَنِ الْكَوْثَرِ، فَقَالَ: نَهَرٌ أَعْطَانِيهِ رَبِّي، أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ، وَفِيهِ طَيْرٌ كَأَعْنَاقِ الْجُزُرِ"، فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ تِلْكَ لَطَيْرٌ نَاعِمَةٌ، فَقَالَ:" أَكَلَتُهَا أَنْعَمُ مِنْهَا يَا عُمَرُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے " کوثر " کے متعلق پوچھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ایک نہر کا نام ہے جو میرے رب نے مجھے عطاء فرمائی ہے، اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہوگا اور اس میں اونٹوں کی گردنوں کے برابر پرندے ہوں گے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! پھر تو وہ پرندے خوب صحت مند ہوں گے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا عمر! انہیں کھانے والے ان سے بھی زیادہ صحت مند ہوں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13306]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13307 مسند احمد
فَزَارَةُ بْنُ عُمَرَ ، وَيُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، فُلَيْحٌ ، مُحَمَّدِ بْنِ مُسَاحِقٍ ، عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا فَزَارَةُ بْنُ عُمَرَ وَيُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسَاحِقٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" مَا رَأَيْتُ إِمَامًا أَشْبَهَ صَلَاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِمَامِكُمْ، لِعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ"، قَالَ: وَكَانَ عُمَرُ لَا يُطِيلُ الْقِرَاءَةَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ عنہ، حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ کے متعلق " جب کہ وہ مدینہ منورہ میں تھے " فرماتے تھے کہ میں نے تمہارے اس امام سے زیادہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ مشابہت رکھنے والی نماز پڑھتے ہوئے کسی کو نہیں دیکھا، حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ طویل قرأت نہ کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13307]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعیف لجهالة محمد بن مساحق و فزارۃ بن عمر
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعیف لجهالة محمد بن مساحق و فزارۃ بن عمر
حدیث نمبر: 13308 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُثَنَّى ، ثُمَامَةَ بْنَ أَنَسٍ ، أَنَسًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ: سَمِعْتُ ثُمَامَةَ بْنَ أَنَسٍ يَذْكُرُ، أَنَّ أَنَسًا كَانَ إِذَا تَكَلَّمَ تَكَلَّمَ ثَلَاثًا، وَيَذْكُرُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" إِذَا تَكَلَّمَ تَكَلَّمَ ثَلَاثًا، وَكَانَ يَسْتَأْذِنُ ثَلَاثًا"، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: وَحَدَّثَنَا بَعْدَ ذَلِكَ بِهَذَا الْحَدِيثِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَسْتَأْذِنُ ثَلَاثًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب کوئی بات کہتے تو تین مرتبہ اسے دہراتے تھے اور جب کسی قوم کے پاس جاتے تو تین مرتبہ اجازت لیتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13308]
حکم دارالسلام
إسنادہ حسن
الحكم: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 13309 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ ، سَلَمَةُ بْنُ وَرْدَانَ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ وَرْدَانَ ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ صَاحِبَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَ رَجُلًا مِنْ صَحَابَتِهِ، فَقَالَ:" أَيْ فُلَانُ، هَلْ تَزَوَّجْتَ؟ قَالَ: لَا، وَلَيْسَ عِنْدِي مَا أَتَزَوَّجُ بِهِ، قَالَ: أَلَيْسَ مَعَكَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ سورة الإخلاص آية 1؟ قَالَ: بَلَى، قَالَ: رُبْعُ الْقُرْآنِ، قَالَ: أَلَيْسَ مَعَكَ قُلْ يَأَيُّهَا الْكَافِرُونَ؟ قَالَ: بَلَى، قَالَ: رُبْعُ الْقُرْآنِ، قَالَ: أَلَيْسَ مَعَكَ إِذَا زُلْزِلَتْ الْأَرْضُ؟ قَالَ: بَلَى، قَالَ: رُبْعُ الْقُرْآنِ، قَالَ: أَلَيْسَ مَعَكَ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ؟ قَالَ: بَلَى، قَالَ: رُبْعُ الْقُرْآنِ، قَالَ: أَلَيْسَ مَعَكَ آيَةُ الْكُرْسِيِّ اللَّهُ لا إِلَهَ إِلا هُوَ سورة البقرة آية 255؟ قَالَ: بَلَى، قَالَ: رُبْعُ الْقُرْآنِ، قَالَ: تَزَوَّجْ، تَزَوَّجْ، تَزَوَّجْ" ثَلَاثَ مَرَّاتٍ.
حدیث نمبر: 13310 مسند احمد
حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى ، عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي سَلَمَةَ الْمَاجِشُونَ ، إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي سَلَمَةَ الْمَاجِشُونَ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ بَيْتَ أُمِّ سُلَيْمٍ، فَيَنَامُ عَلَى فِرَاشِهَا وَلَيْسَتْ فِيهِ، قَالَ: فَجَاءَ ذَاتَ يَوْمٍ فَنَامَ عَلَى فِرَاشِهَا، فَأُتِيَتْ، فَقِيلَ لَهَا: هَذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَائِمٌ فِي بَيْتِكِ عَلَى فِرَاشِكِ، قَالَ: فَجَاءَتْ وَقَدْ عَرِقَ، وَاسْتَنْقَعَ عَرَقُهُ عَلَى قِطْعَةِ أَدِيمٍ عَلَى الْفِرَاشِ، قَالَ: فَفَتَحَتْ عَتِيدَتَهَا، قَالَ: فَجَعَلَتْ تُنَشِّفُ ذَلِكَ الْعَرَقَ، فَتَعْصِرُهُ فِي قَوَارِيرِهَا، فَفَزِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَا تَصْنَعِينَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ؟ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَرْجُو بَرَكَتَهُ لِصِبْيَانِنَا، قَالَ: أَصَبْتِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ کے گھر تشریف لا کر ان کے بستر پر سو جاتے تھے، وہ وہاں ہوتی تھیں، ایک دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حسب معمول آئے اور ان کے بستر پر سو گئے، کسی نے انہیں جا کر بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تمہارے گھر میں تمہارے بستر پر سو رہے ہیں، چنانچہ وہ گھر آئیں تو دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پسینے میں بھیگے ہوئے ہیں اور وہ پسینہ بستر پر بچھے ہوئے چمڑے کے ایک ٹکڑے پر گر رہا ہے، انہوں نے اپنا دوپٹہ کھولا اور اس پسینے کو اس میں جذب کر کے ایک شیشی میں نچوڑنے لگیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم گھبرا کر اٹھ بیٹھے اور فرمایا ام سلیم! یہ کیا کر رہی ہو؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! ہم اس سے اپنے بچوں کے لئے برکت کی امید رکھتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم نے صحیح کیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13310]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2331
الحكم: إسناده صحيح، م: 2331
حدیث نمبر: 13311 مسند احمد
سَيَّارُ بْنُ حَاتِمٍ ، جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيُّ ، ثَابِتٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سَيَّارُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيُّ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ طَيْرَ الْجَنَّةِ كَأَمْثَالِ الْبُخْتِ، تَرْعَى فِي شَجَرِ الْجَنَّةِ. فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ هَذِهِ لَطَيْرٌ نَاعِمَةٌ، فَقَالَ: أَكَلَتُهَا أَنْعَمُ مِنْهَا، قَالَهَا ثَلَاثًا، وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونَ مِمَّنْ يَأْكُلُ مِنْهَا يَا أَبَا بَكْرٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جنت میں اونٹوں کی گردنوں کے برابر پرندے ہوں گے، جو درختوں میں چرتے پھریں گے، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! پھر تو وہ پرندے خوب صحت مند ہوں گے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا انہیں کھانے والے ان سے بھی زیادہ صحت مند ہوں گے اور ابوبکر! مجھے امید ہے کہ آپ بھی انہیں کھانے والوں میں سے ہوں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13311]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف سیار بن حاتم
الحكم: صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف سیار بن حاتم
حدیث نمبر: 13312 مسند احمد
سَيَّارٌ ، جَعْفَرٌ ، ثَابِتٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سَيَّارٌ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" لَمَّا كَانَ الْيَوْمُ الَّذِي دَخَلَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، أَضَاءَ مِنَ الْمَدِينَةِ كُلُّ شَيْءٍ، فَلَمَّا كَانَ الْيَوْمُ الَّذِي مَاتَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَظْلَمَ مِنَ الْمَدِينَةِ كُلُّ شَيْءٍ، وَمَا فَرَغْنَا مِنْ دَفْنِهِ حَتَّى أَنْكَرْنَا قُلُوبَنَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مدینہ منورہ میں داخل ہوئے تھے تو مدینہ کی ہر چیز روشن ہوگئی تھی اور جب دنیا سے رخصت ہوئے تو مدینہ کی ہر چیز تاریک ہوگئی اور ابھی ہم تدفین سے فارغ نہیں ہوئے تھے کہ ہم نے اپنے دلوں کی حالت کو تبدیل پایا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13312]
حکم دارالسلام
حدیث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف سیار بن حاتم، وقد توبع
الحكم: حدیث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف سیار بن حاتم، وقد توبع
حدیث نمبر: 13313 مسند احمد
حَسَنٌ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، وَأَبِي عِمْرَان الْجَوْنِي ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، وَأَبِي عِمْرَان الْجَوْنِي ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ أَرْبَعَةٌ يُعْرَضُونَ عَلَى اللَّهِ، فَيَأْمُرُ بِهِمْ إِلَى النَّارِ، فَيَلْتَفِتُ أَحَدُهُمْ، فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ، قَدْ كُنْتُ أَرْجُو إِنْ أَخْرَجْتَنِي مِنْهَا، أَنْ لَا تُعِيدَنِي فِيهَا، فَيَقُولُ: فَلَا تعُودُ فِيهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جہنم سے چار آدمیوں کو نکالا جائے گا، انہیں اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کیا جائے گا، اللہ تعالیٰ دوبارہ انہیں جہنم میں بھیجنے کا حکم دے دے گا، ان میں سے ایک شخص اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو کر کہے گا کہ پروردگار! مجھے تو یہ امید ہوگئی تھی کہ اگر تو مجھے جہنم سے نکال رہا ہے تو اس میں دوبارہ واپس نہ لوٹائے گا؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ پھر تو اس میں دوبارہ واپس نہ جائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13313]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 192
الحكم: إسناده صحيح، م: 192
حدیث نمبر: 13314 مسند احمد
حَسَنٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى أَنْ تُبَاعَ الثَّمَرَةُ حَتَّى تَزْهُوَ، وَعَنِ الْعِنَبِ حَتَّى يَسْوَدَّ، وَعَنِ الْحَبِّ حَتَّى يَشْتَدَّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ پھل پکنے سے پہلے، کشمش (انگور) سیاہ ہونے سے پہلے اور گندم کا دانہ سخت ہونے سے پہلے بیچا جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13314]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر: 12638
الحكم: إسناده صحيح، وانظر: 12638
حدیث نمبر: 13315 مسند احمد
حَسَنٌ ، عُمَارَةُ ، ثَابِتٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ :" أَنَّ مَلِكَ ذِي يَزَنَ أَهْدَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُلَّةً قَدْ أَخَذَهَا بِثَلَاثَةٍ وَثَلَاثِينَ بَعِيرًا، أَوْ ثَلَاثٍ وَثَلَاثِينَ نَاقَةً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ذی یزن بادشاہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں ایک جوڑا بھیجا جو اس نے ٣٣ اونٹ یا اونٹنیوں کے عوض لیا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13315]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، عمارة - وه ابن زاذان- يروي عن ثابت عن أنس أحاديث مناکير، والمحفوظ عن أنس أن الذي بعث بحلۃ هدية إلى النبي صلى الله عليه و آله وسلم ھو أكیدر دومة، انظر: 12093
الحكم: إسناده ضعيف، عمارة - وه ابن زاذان- يروي عن ثابت عن أنس أحاديث مناکير، والمحفوظ عن أنس أن الذي بعث بحلۃ هدية إلى النبي صلى الله عليه وسلم ھو أكیدر دومة، انظر: 12093
حدیث نمبر: 13316 مسند احمد
هَاشِمٌ ، سُلَيْمَانُ ، ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الرَّجُلُ يُحِبُّ الرَّجُلَ، وَلَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَعْمَلَ كَعَمَلِهِ! فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ"، قَالَ أَنَسٌ: فَمَا رَأَيْتُ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرِحُوا بِشَيْءٍ قَطُّ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ الإسلام، مَا فَرِحُوا بِهَذَا مِنْ قَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَنَسٌ: فَنَحْنُ نُحِبُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا نَسْتَطِيعُ أَنْ نَعْمَلَ كَعَمَلِهِ، فَإِذَا كُنَّا مَعَهُ، فَحَسْبُنَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! ایک آدمی کسی قوم سے محبت کرتا ہے لیکن ان کے اعمال تک نہیں پہنچتا، تو کیا حکم ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا انسان اسی کے ساتھ ہوگا جس کے ساتھ وہ محبت کرتا ہے، حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اسلام کے بعد میں نے صحابہ رضی اللہ عنہ کو اس بات سے زیادہ کسی بات پر خوش ہوتے نہیں دیکھا، ہم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے محبت کرتے ہیں، اگرچہ ان جیسے اعمال کی طاقت نہیں رکھتے، جب ہم ان کے ساتھ ہوں گے تو یہی ہمارے لئے کافی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13316]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13317 مسند احمد
هَاشِمٌ ، سُلَيْمَانُ ، ثَابِتٌ ، أَنَسٌ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، قَالَ أَنَسٌ :" مَا شَمِمْتُ شَيْئًا، عَنْبَرًا قَطُّ، وَلَا مِسْكًا قَطُّ، وَلَا شَيْئًا قَطُّ، أَطْيَبَ مِنْ رِيحِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا مَسِسْتُ شَيْئًا قَطُّ، دِيبَاجًا وَلَا حَرِيرًا، أَلْيَنَ مَسًّا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ". قَالَ ثَابِتٌ: فَقُلْتُ: قَالَ ثَابِتٌ: فَقُلْتُ: يَا أَبَا حَمْزَةَ، أَلَسْتَ كَأَنَّكَ تَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَأَنَّكَ تَسْمَعُ إِلَى نَغَمَتِهِ؟ فَقَالَ: بَلَى وَاللَّهِ، إِنِّي " لَأَرْجُو أَنْ أَلْقَاهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَأَقُولَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، خُوَيْدِمُكَ" قَالَ:" خَدَمْتُهُ عَشْرَ سِنِينَ بِالْمَدِينَةِ وَأَنَا غُلَامٌ، لَيْسَ كُلُّ أَمْرِي كَمَا يَشْتَهِي صَاحِبِي أَنْ يَكُونَ، مَا قَالَ لِي فِيهَا: أُفٍّ، وَمَا قَالَ لِي: لِمَ فَعَلْتَ هَذَا؟ أوْ: أَلَّا فَعَلْتَ هَذَا"
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے کوئی عنبر اور مشک یا کوئی دوسری خوشبو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مہک سے زیادہ عمدہ نہیں سونگھی اور میں نے کوئی ریشم و دیبا، یا کوئی دوسری چیز نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے زیادہ نرم نہیں چھوئی، (ثابت کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے ابوحمزہ! کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا یا ان کی آواز نہیں سنی؟ آپ کا چھوٹا سا خادم حاضر ہے) میں نے مدینہ منورہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دس سال کی خدمت کی ہے، میں اس وقت لڑکا تھا، یہ ممکن نہیں ہے کہ میرا ہر کام دوسرے کی خواہش کے مطابق ہی ہو، لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے کبھی بھی " اف " تک نہیں کہا اور نہ ہی کبھی یہ فرمایا کہ تم نے یہ کام کیوں کیا؟ یا یہ کام کیوں نہیں کیا؟ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13317]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1973، م: 2330.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1973، م: 2330.
حدیث نمبر: 13318 مسند احمد
هَاشِمٌ ، سُلَيْمَانُ ، ثَابِتٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" إِنِّي لَأَسْعَى فِي الْغِلْمَانِ، يَقُولُونَ: جَاءَ مُحَمَّدٌ، فَأَسْعَى، فَلَا أَرَى شَيْئًا، ثُمَّ يَقُولُونَ: جَاءَ مُحَمَّدٌ، فَأَسْعَى، فَلَا أَرَى شَيْئًا، قَالَ: حَتَّى جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَصَاحِبُهُ أَبُو بَكْرٍ، فَكَمَنَا فِي بَعْضِ حِرَارِ الْمَدِينَةِ، ثُمَّ بَعَثَا رَجُلًا مِنْ أَهْلِ البادية لِيُؤْذِنَ بِهِمَا الْأَنْصَارَ، فَاسْتَقْبَلَهُمَا زُهَاءَ خَمْسِ مِائَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ حَتَّى انْتَهَوْا إِلَيْهِمَا، فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ: انْطَلِقَا آمِنَيْنِ مُطَاعَيْنِ، فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَاحِبُهُ بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ، فَخَرَجَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ، حَتَّى إِنَّ الْعَوَاتِقَ لَفَوْقَ الْبُيُوتِ يَتَرَاءَيْنَهُ، يَقُلْنَ: أَيُّهُمْ هُوَ؟ أَيُّهُمْ هُوَ؟ قَالَ: فَمَا رَأَيْنَا مَنْظَرًا شبيهًا بِهِ يَوْمَئِذٍ، قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ: وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَوْمَ دَخَلَ عَلَيْنَا وَيَوْمَ قُبِضَ، فَلَمْ أَرَ يَوْمَيْنِ شبيهًا بِهِمَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں بچوں کے ساتھ دوڑ رہا تھا، جب بچے یہ کہتے کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آگئے تو میں اتنا تیز دوڑتا کہ کچھ نہ دیکھتا، دوبارہ بچے یہی جملے کہتے تو میں پھر اتنا تیز دوڑنے لگتا کہ کچھ نہ دیکھتا تھا، حتیٰ کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور آپ کے رفیق محترم حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے، ہم اس وقت مدینہ کے کسی علاقے میں تھے، ہم نے ایک دیہاتی آدمی کو انصار کے پاس یہ خبر دے کر بھیجا اور پانچ سو کے قریب انصاری صحابہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا استقبال کرنے کے لئے نکل پڑے، وہ لوگ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے تو کہنے لگے کہ آپ دونوں حضرات امن وامان کے ساتھ مطاع بن کر داخل ہوجائیے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ان کے آگے آگے چلتے رہے اور سارے اہل مدینہ نکل آئے حتیٰ کہ خواتین بھی اپنے گھروں کی چھتوں پر چڑھ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھنے اور آپس میں پوچھنے لگیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کون سے ہیں؟ ہم نے اس دن جیسا منظر کبھی نہیں دیکھا، میں نے یہ دن بھی دیکھا کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مدینہ منورہ میں داخل ہوئے اور وہ دن بھی دیکھا جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دنیا سے رخصت ہوئے، ان دونوں دنوں جیسا منظر میں نے کبھی نہیں دیکھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13318]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3911
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3911
حدیث نمبر: 13319 مسند احمد
هَاشِمٌ ، شُعْبَةُ ، أَبِي التَّيَّاحِ ، وَقَتَادَةَ ، وَحَمْزَةَ الضَّبِّيِّ ، أنس بن مالك
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، وَقَتَادَةَ ، وَحَمْزَةَ الضَّبِّيِّ ، أنهم سمعوا أنس بن مالك ، يَقُولُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ هَكَذَا، وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى". وَكَانَ قَتَادَةُ، يَقُولُ: كَفَضْلِ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں اور قیامت ان دو انگلیوں کی طرح اکٹھے بھیجے گئے ہیں، یہ کہہ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے شہادت والی انگلی اور درمیانی انگلی کی طرف اشارہ فرمایا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13319]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6504، م: 2951
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6504، م: 2951
حدیث نمبر: 13320 مسند احمد
هَاشِمٌ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : قَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَصْحَابَ الْكِتَابِ يُسَلِّمُونَ عَلَيْنَا، فَكَيْفَ نَرُدُّ عَلَيْهِمْ؟ قَالَ: قُولُوا: وَعَلَيْكُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا کہ اہل کتاب ہمیں سلام کرتے ہیں، ہم انہیں کیا جواب دیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا صرف " وعلیکم " کہہ دیا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13320]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6258، م: 2163
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6258، م: 2163
حدیث نمبر: 13321 مسند احمد
هَاشِمٌ ، شُعْبَةُ ، مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ أَبِي إِيَاسٍ ، أَنَسًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ أَبِي إِيَاسٍ ، قَالَ: قُلْتُ لَهُ: سَمِعْتَ أَنَسًا يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ فِي النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ:" ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ، أَوْ: مِنْ أَنْفُسِهِمْ"؟ قَالَ: نَعَمْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
شعبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے معاویہ بن قرہ رحمہ اللہ سے پوچھا کہ کیا آپ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا کہ قوم کا بھانجا ان ہی میں شمار ہوتا ہے؟ انہوں نے جواب دیا ہاں! [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13321]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6761، م: 1059
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6761، م: 1059