بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَنَسِ بنِ مَالِك رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2170
صفحہ 32 از 109
حدیث نمبر: 12561 مسند احمد
حَسَنٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، وَيُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، وَحُمَيْدٍ ، أَنَسٍ يَعْنِي ابْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، وَيُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، وَحُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ يَعْنِي ابْنَ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" الْمُؤْمِنُ مَنْ أَمِنَهُ النَّاسُ، وَالْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ، وَالْمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ السُّوءَ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَبْدٌ لَا يَأْمَنُ جَارُهُ بَوَائِقَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مومن وہ ہے جس سے لوگ مامون ہوں، مسلمان وہ ہوتا ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان سلامت رہیں، مہاجر وہ ہوتا ہے جو گناہوں سے ہجرت کرلے اور اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، کوئی شخص اس وقت تک جنت میں داخل نہ ہوگا جب تک اس کے پڑوسی اس کی ایذاء رسانی سے محفوظ نہ ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12561]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر ما بعده
الحكم: إسناده صحيح، وانظر ما بعده
حدیث نمبر: 12562 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، وَيُونُسَ ، وَحُمَيْدٍ ، الْحَسَنِ
حَدَّثَنَاه عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، وَيُونُسَ ، وَحُمَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْمُؤْمِنُ مَنْ أَمِنَهُ النَّاسُ"، فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12562]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وھذا إسناد ضعیف لضعف علي بن زيد بن جدعان، وھو مرسل، وانظر ما بعده
الحكم: حديث صحيح، وھذا إسناد ضعیف لضعف علي بن زيد بن جدعان، وھو مرسل، وانظر ما بعده
حدیث نمبر: 12563 مسند احمد
حَسَنٌ بن موسى ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ بن موسى ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَادَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ:" يَا خَالُ، قُلْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ" فَقَالَ: أَخَالٌ أَمْ عَمٌّ؟ فَقَالَ" لَا بَلْ خَالٌ" قَالَ: فَخَيْرٌ لِي أَنْ أَقُولَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَعَمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بنو نجار کے ایک آدمی کے پاس اس کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے اور اس سے فرمایا ماموں جان! لا الہ الا اللہ کا اقرار کرلیجئے، اس نے کہا ماموں یا چچا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا نہیں، ماموں! لا الہ الا اللہ کہہ لیجئے، اس نے پوچھا کہ کیا یہ میرے حق میں بہتر ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12563]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12564 مسند احمد
عَبْدُ الْوَهَّابِ ، هِشَامٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ، وَيُعْجِبُنِي الْفَأْلُ" قَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، مَا الْفَأْلُ؟ قَالَ:" الْكَلِمَةُ الْحَسَنَةُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بدشگونی کی کوئی حیثیت نہیں، البتہ مجھے فال یعنی اچھا اور پاکیزہ کلمہ اچھا لگتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12564]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، خ : 5756، م : 2224
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، خ : 5756، م : 2224
حدیث نمبر: 12565 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، شَرِيكٌ ، عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ الْأَنْصَارِيِّ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: سَأَلْنَاهُ عَنِ الْوُضُوءِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ، فَقَالَ: أَمَّا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فكَانَ يَتَوَضَّأُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ، وَأَمَّا نَحْنُ فَكُنَّا نُصَلِّي الصَّلَوَاتِ بِطُهُورٍ وَاحِدٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عمرو بن عامر نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ہر نماز کے وقت وضو کے متعلق پوچھا تو انہوں نے جواب دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہر نماز کے وقت نیا وضو فرماتے تھے اور ہم بےوضو ہونے تک ایک ہی وضو سے کئی کئی نمازیں بھی پڑھ لیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12565]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 214، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك لكنه متابع
الحكم: حديث صحيح، خ: 214، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك لكنه متابع
حدیث نمبر: 12566 مسند احمد
حَسَنٌ ، سُكَيْنٌ ، أَبِي ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا سُكَيْنٌ ، قَالَ: ذَكَرَ ذَاكَ أَبِي ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَمْ يَلْقَ ابْنُ آدَمَ شَيْئًا قَطُّ مُذْ خَلَقَهُ اللَّهُ أَشَدَّ عَلَيْهِ مِنَ الْمَوْتِ، ثُمَّ إِنَّ الْمَوْتَ لَأَهْوَنُ مِمَّا بَعْدَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابن آدم کو جب سے اللہ نے پیدا کیا ہے، اس نے موت سے زیادہ سخت کوئی چیز نہیں دیکھی، لیکن اس کے بعد یہی موت اس کے لئے انتہائی آسان ہوجائے گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12566]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، عبدالعزيز بن قيس العبدي والد سكين جهله أبو حاتم وابن خزيمة، ووثقة ابن حبان والعجلي، وقال الحافظ مقبول، يعني عند المتابعة، وهو هنا لم يتابع، وأما ابنه سكين فمختلف فيه
الحكم: إسناده ضعيف، عبدالعزيز بن قيس العبدي والد سكين جهله أبو حاتم وابن خزيمة، ووثقة ابن حبان والعجلي، وقال الحافظ مقبول، يعني عند المتابعة، وهو هنا لم يتابع، وأما ابنه سكين فمختلف فيه
حدیث نمبر: 12567 مسند احمد
حَسَنٌ ، أَبُو هِلَالٍ الرَّاسِبِيُّ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو هِلَالٍ الرَّاسِبِيُّ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَلَّمَا خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا قَالَ:" لَا إِيمَانَ لِمَنْ لَا أَمَانَةَ لَهُ، وَلَا دِينَ لِمَنْ لَا عَهْدَ لَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بہت کم ہمیں کوئی خطبہ ایسا دیا ہے جس میں یہ نہ فرمایا ہو کہ اس شخص کا ایمان نہیں جس کے پاس امانت داری نہ ہو اور اس شخص کا دین نہیں جس کے پاس وعدہ کی پاسداری نہ ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12567]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى هلال الراسبي، وسلف الكلام على إسناده برقم: 12383
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى هلال الراسبي، وسلف الكلام على إسناده برقم: 12383
حدیث نمبر: 12568 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، زُهَيْرٌ ، الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ ، أَنَسًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسًا عَنْ ظُرُوفِ النَّبِيذِ، فَقَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمَّا زُفِّتَ مِنْ شَيْءٍ، قَالَ: وَقَالَ لِي نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هُوَ الْمُقَيَّرُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
مختار بن قلفل رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ برتنوں میں پینے کا کیا حم ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مزفت سے منع فرمایا ہے، میں نے پوچھا کہ مزفت سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے فرمایا لک لگا ہوا برتن۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12568]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، انظر: 12099
الحكم: إسناده صحيح، انظر: 12099
حدیث نمبر: 12569 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، زُهَيْرٌ ، الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ حَدَّثَهُمْ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي لَكُمْ إِمَامٌ، فَلَا تَسْبِقُونِي بِالرُّكُوعِ، وَلَا بِالسُّجُودِ، وَلَا بِالْقِيَامِ، فَإِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ أَمَامِي وَمِنْ خَلْفِي، وَايْمُ الَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَوْ رَأَيْتُمْ مَا رَأَيْتُ، لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا" قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه و آله وسلم، مَا رَأَيْتَ؟ قَالَ:" رَأَيْتُ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں تمہارا امام ہوں لہذا رکوع، سجدہ، قیام میں مجھ سے آگے نہ بڑھا کرو، کیونکہ میں تمہیں اپنے آگے سے بھی دیکھتا ہوں اور پیچھے سے بھی اور اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جان ہے، جو میں دیکھ چکا ہوں، اگر تم نے وہ دیکھا ہوتا تو تم بہت تھوڑا ہنستے اور کثرت سے رویا کرتے، صحابہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آپ نے کیا دیکھا ہے؟ فرمایا میں نے اپنی آنکھوں سے جنت اور جہنم کو دیکھا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12569]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 419، م: 426
الحكم: إسناده صحيح، خ: 419، م: 426
حدیث نمبر: 12570 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثُمَامَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثُمَامَةَ ، عَنْ أَنَسٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَيْهِمْ فِي رَمَضَانَ فَخَفَّفَ بِهِمْ، ثُمَّ دَخَلَ فَأَطَالَ، ثُمَّ خَرَجَ فَخَفَّفَ بِهِمْ، ثُمَّ دَخَلَ فَأَطَالَ، فَلَمَّا أَصْبَحْنَا قُلْنَا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، جَلَسْنَا اللَّيْلَةَ فَخَرَجْتَ إِلَيْنَا فَخَفَّفْتَ ثُمَّ دَخَلْتَ فَأَطَلْتَ! قَالَ:" مِنْ أَجْلِكُمْ فَعَلْتُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ماہ رمضان میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم باہر تشریف لائے اور مختصر سی نماز پڑھا کر چلے گئے، کافی دیر گذر نے کے بعد دوبارہ آئے اور مختصر سی نماز پڑھا کر دوبارہ واپس چلے گئے اور کافی دیر تک اندر رہے، جب صبح ہوئی تو ہم نے عرض کیا اے اللہ کے نبی! ہم آج رات بیٹھے ہوئے تھے، آپ تشریف لائے اور مختصر سی نماز پڑھائی اور کافی دیر تک کے لئے گھر چلے گئے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں نے تمہاری وجہ سے ہی ایسا کیا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12570]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1104
الحكم: إسناده صحيح، م: 1104
حدیث نمبر: 12571 مسند احمد
حَسَنٌ ، أَبُو هِلَالٍ ، قَتَادَةُ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو هِلَالٍ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: كَانَتْ شَجَرَةٌ فِي طَرِيقِ النَّاسِ تُؤْذِي النَّاسَ، فَأَتَاهَا رَجُلٌ فَعَزَلَهَا عَنْ طَرِيقِ النَّاسِ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَتَقَلَّبُ فِي ظِلِّهَا فِي الْجَنَّةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ا کی درخت سے راستے میں گذر نے والوں کو اذیت ہوتی تھی، ایک آدمی نے اسے آکر ہٹا دیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں نے جنت میں اسے درختوں کے سائے میں پھرتے ہوئے دیکھا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12571]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن فى الشواهد، فإن أبا هلال الراسبي يعتبر به على ضعف فيه
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن فى الشواهد، فإن أبا هلال الراسبي يعتبر به على ضعف فيه
حدیث نمبر: 12572 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، جَعْفَرٌ يَعْنِي الْأَحْمَرَ ، عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أخبرنا جَعْفَرٌ يَعْنِي الْأَحْمَرَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" رَاصُّوا الصُّفُوفَ، فَإِنَّ الشَّيَاطِينَ تَقُومُ فِي الْخَلَلِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا صفوں کو پر کیا کرو، کیونکہ درمیان کی خالی جگہ میں شیاطین گھس جاتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12572]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، عطاء بن السائب كان قد اختلط، ولم ينص أحد فيما نعلم على رواية جعفر عنه قبل الاختلاط هي أم بعده؟ لكنه متابع، انظر: 13735
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، عطاء بن السائب كان قد اختلط، ولم ينص أحد فيما نعلم على رواية جعفر عنه قبل الاختلاط هي أم بعده؟ لكنه متابع، انظر: 13735
حدیث نمبر: 12573 مسند احمد
حَسنٌ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، سَلْمٍ الْعَلَوِيِّ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسنٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ سَلْمٍ الْعَلَوِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: دَخَلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ وَعَلَيْهِ صُفْرَةٌ فَكَرِهَهَا، فَلَمَّا قَامَ الرَّجُلُ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبَعْضِ أَصْحَابِهِ" لَوْ أَمَرْتُمْ هَذَا أَنْ يَدَعَ هَذِهِ الصُّفْرَةَ"، قَالَهَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، قَالَ أَنَسٌ: وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَلَّمَا يُوَاجِهُ الرَّجُلاَ بِشَيْءٍ يَكْرَهُهُ فِي وَجْهِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے یہاں ایک آدمی آیا، اس پر پیلا رنگ لگا ہوا دیکھا تو اس پر ناگواری ظاہر فرمائی جب وہ چلا گیا تو کسی صحابی سے دو تین فرمایا کہ اگر تم اس شخص کو یہ رنگ دھو دینے کا حکم دیتے تو کیا ہی اچھا ہوتا؟ اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ عادت مبارکہ تھی کہ کسی کے سامنے اس طرح کا چہرہ لے کر نہ آتے تھے جس سے ناگواری کا اظہار ہوتا ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12573]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 12574 مسند احمد
أَسْوَدُ ، عُمَارَةُ الصَّيْدَلَانِيُّ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ الصَّيْدَلَانِيُّ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَائِلٌ، فَأَمَرَ لَهُ بِتَمْرَةٍ فَلَمْ يَأْخُذْهَا، أَوْ وَحَّشَ بِهَا، قَالَ: وَأَتَاهُ آخَرُ، فَأَمَرَ لَهُ بِتَمْرَةٍ، قَالَ: فَقَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ، تَمْرَةٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَقَالَ لِلْجَارِيَةِ:" اذْهَبِي إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ، فَأَعْطِيهِ الْأَرْبَعِينَ دِرْهَمًا الَّتِي عِنْدَهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس ایک سائل آیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے کھجوریں دینے کا حکم دیا لیکن اس نے انہیں ہاتھ نہ لگایا، دوسرا آیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے کھجوریں دینے کا حکم دیا، اس نے خوش ہو کر انہیں قبول کرلیا اور کہنے لگا سبحان اللہ! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف سے کھجوریں، اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی باندی سے فرمایا کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ اور اسے ان کے پاس رکھے ہوئے چالیس ہزار درہم دلوا دو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12574]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف عمارة الصيدلاني، يعتبر بحديثه فى المتابعات والشواهد
الحكم: إسناده ضعيف لضعف عمارة الصيدلاني، يعتبر بحديثه فى المتابعات والشواهد
حدیث نمبر: 12575 مسند احمد
أَسْوَدُ ، الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ ، خَالِدِ بْنِ الْفَرْزِ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الْفَرْزِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَلَا إِنَّ الْمُزَّاتِ حَرَامٌ"، وَالْمُزَّاتُ خَلْطُ التَّمْرِ وَالْبُسْرِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یاد رکھو! مزات (یعنی کچی اور پکی کھجوروں کو ملا کر بنائی ہوئی نبیذ) حرام ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12575]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة خالد بن الفزر، ويغني عنه حديث أنس 12378، أن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم نهى أن ينبذ البسر والتمر جميعا، وإسناده صحيح
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة خالد بن الفزر، ويغني عنه حديث أنس 12378، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى أن ينبذ البسر والتمر جميعا، وإسناده صحيح
حدیث نمبر: 12576 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، شَرِيكٌ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، قَالَ: رَأَيْتُ عِنْدَ أَنَسٍ قَدَحًا كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ ضَبَّةُ فِضَّةٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مومن وہ ہے جس سے لوگ مامون ہوں، مسلمان وہ ہوتا ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان سلامت رہیں، مہاجر وہ ہوتا ہے جو گناہوں سے ہجرت کرلے اور اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، کوئی شخص اس وقت تک جنت میں داخل نہ ہوگا جب تک اس کے پڑوسی اس کی ایذاء رسانی سے محفوظ نہ ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12576]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 3109، وهذا إسناد ضعيف من أجل شريك النخعي
الحكم: حديث صحيح، خ: 3109، وهذا إسناد ضعيف من أجل شريك النخعي
حدیث نمبر: 12577 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، شَرِيكٌ ، عَاصِمٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَاصِمٍ ، نَحْوَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12577]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف كسابقه، وانظر ماقبله
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف كسابقه، وانظر ماقبله
حدیث نمبر: 12578 مسند احمد
هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، جَسْرٌ ، ثَابِتٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَسْرٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" طُوبَى لِمَنْ آمَنَ بِي وَرَآنِي مَرَّةً، وَطُوبَى لِمَنْ آمَنَ بِي وَلَمْ يَرَنِي سَبْعَ مِرَارٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ طوبی (خوشخبری) ہے ان لوگوں کے لئے جنہوں نے مجھے دیکھا اور مجھ پر ایمان لائے اور سات مرتبہ طوبی ہے ان لوگوں کے لئے جو مجھ پر بن دیکھے ایمان لائیں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12578]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف جسر - وهو ابن فرقد
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف جسر - وهو ابن فرقد
حدیث نمبر: 12579 مسند احمد
هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، جَسْرٌ ، ثَابِتٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا جَسْرٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَدِدْتُ أَنِّي لَقِيتُ إِخْوَانِي" قَالَ: فَقَالَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَوَلَيْسَ نَحْنُ إِخْوَانَكَ؟ قَالَ: أَنْتُمْ أَصْحَابِي، وَلَكِنْ إِخْوَانِي الَّذِينَ آمَنُوا بِي وَلَمْ يَرَوْنِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کاش! میں اپنے بھائیوں سے مل پاتا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم میرے صحابہ ہو، میرے بھائی وہ لوگ ہیں جو مجھ پر ایمان لائے ہوں گے لیکن میری زیارت نہ کرسکے ہوں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12579]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 12580 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ أَبُو وَهْبٍ ، سِنَانُ بْنُ رَبِيعَةَ ، الْحَضْرَمِيِّ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ أَبُو وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا سِنَانُ بْنُ رَبِيعَةَ ، عَنِ الْحَضْرَمِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ابْنَةٌ لِي كَذَا وَكَذَا ذَكَرَتْ مِنْ حُسْنِهَا وَجَمَالِهَا، فَآثَرْتُكَ بِهَا، فَقَالَ: قَدْ قَبِلْتُهَا، فَلَمْ تَزَلْ تَمْدَحُهَا حَتَّى ذَكَرَتْ أَنَّهَا لَمْ تَصْدَعْ وَلَمْ تَشْتَكِ شَيْئًا قَطُّ، قَالَ: لَا حَاجَةَ لِي فِي ابْنَتِكِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک خاتون نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اپنی بیٹی کے حسن و جمال کی تعریف کر کے کہنے لگی کہ وہ میں نے آپ کی نذر کی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مجھے قبول ہے، تعریف کرتے کرتے اس کے منہ یہ یہ نکل گیا کہ کبھی اس کے سر میں درد ہوا اور نہ کبھی وہ بیمار ہوئی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پھر مجھے تمہاری بیٹی کی ضرورت نہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12580]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، سنان ابن ربيعة ضعفه ابن معين، وقال أبو حاتم: شيخ مضطرب الحديث، وذكره ابن حبان فى الثقات، وقال ابن عدي أرجو أنه لا بأس به
الحكم: إسناده ضعيف، سنان ابن ربيعة ضعفه ابن معين، وقال أبو حاتم: شيخ مضطرب الحديث، وذكره ابن حبان فى الثقات، وقال ابن عدي أرجو أنه لا بأس به