بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَنَسِ بنِ مَالِك رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2170
صفحہ 24 از 109
حدیث نمبر: 12401 مسند احمد
هَاشِمٌ ، سُلَيْمَانُ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا صَلَّى الْغَدَاةَ جَاءَ خَدَمُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ بِآنِيَتِهِمْ فِيهَا الْمَاءُ، فَمَا يُؤْتَى بِإِنَاءٍ إِلَّا غَمَسَ يَدَهُ فِيهَا، فَرُبَّمَا جَاءُوهُ فِي الْغَدَاةِ الْبَارِدَةِ، فَغَمَسَ يَدَهُ فِيهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب فجر کی نماز پڑھ چکتے تو اہل مدینہ کے خدام اپنے اپنے برتن پانی سے بھر کر لاتے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہر برتن میں اپنا ہاتھ ڈال دیتے تھے۔ بعض اوقات سردی کا موسم ہوتا تب بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے اس معمول کو پورا فرماتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12401]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2324
الحكم: إسناده صحيح، م: 2324
حدیث نمبر: 12402 مسند احمد
هَاشِمٌ ، وَعَفَّانُ المعنى ، سُلَيْمَانُ ، ثَابِتٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، وَعَفَّانُ المعنى ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، فَكَتَبَ كِتَابًا بَيْنَ أَهْلِهِ، فَقَالَ: اشْهَدُوا يَا مَعْشَرَ الْقُرَّاءِ، قَالَ ثَابِتٌ: فَكَأَنِّي كَرِهْتُ ذَلِكَ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا حَمْزَةَ، لَوْ سَمَّيْتَهُمْ بِأَسْمَائِهِمْ، قَالَ: وَمَا بَأْسُ ذَلِكَ أَنْ أَقوُلَ لَكُمْ قُرَّاءٌ، أَفَلَا أُحَدِّثُكُمْ عَنْ إِخْوَانِكُمْ الَّذِينَ كُنَّا نُسَمِّيهِمْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقُرَّاءَ؟ فَذَكَرَ أَنَّهُمْ كَانُوا سَبْعِينَ، فَكَانُوا إِذَا جَنَّهُمْ اللَّيْلُ، انْطَلَقُوا إِلَى مُعَلِّمٍ لَهُمْ بِالْمَدِينَةِ، فَيَدْرُسُونَ اللَّيْلَ حَتَّى يُصْبِحُوا، فَإِذَا أَصْبَحُوا فَمَنْ كَانَتْ لَهُ قُوَّةٌ اسْتَعْذَبَ مِنَ الْمَاءِ، وَأَصَابَ مِنَ الْحَطَبِ، وَمَنْ كَانَتْ عِنْدَهُ سَعَةٌ اجْتَمَعُوا فَاشْتَرَوْا الشَّاةَ فَأَصْلَحُوهَا، فَيُصْبِحُ ذَلِكَ مُعَلَّقًا بِحُجَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا أُصِيبَ خُبَيْبٌ بَعَثَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَوْا عَلَى حَيٍّ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ وَفِيهِمْ خَالِي حَرَامٌ، فَقَالَ حَرَامٌ لِأَمِيرِهِمْ: دَعْنِي فَلْأُخْبِرْ هَؤُلَاءِ أَنَّا لَسْنَا إِيَّاهُمْ نُرِيدُ، حَتَّى يُخَلُّوا وَجْهَنَا، وَقَالَ عَفَّانُ: فَيُخَلُّونَ وَجْهَنَا، فَقَالَ لَهُمْ حَرَامٌ: إِنَّا لَسْنَا إِيَّاكُمْ نُرِيدُ، فَاسْتَقْبَلَهُ رَجُلٌ بِالرُّمْحِ، فَأَنْفَذَهُ مِنْهُ، فَلَمَّا وَجَدَ الرُّمْحَ فِي جَوْفِهِ، قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، فُزْتُ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ، قَالَ: فَانْطَوَوْا عَلَيْهِمْ، فَمَا بَقِيَ مِنْهُمْ أَحَدٌ، فَقَالَ أَنَسٌ: فَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ عَلَى شَيْءٍ قَطُّ، وَجْدَهُ عَلَيْهِمْ، فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ" رَفَعَ يَدَيْهِ فَدَعَا عَلَيْهِمْ"، فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ، إِذَا أَبُو طَلْحَةَ يَقُولُ لِي: هَلْ لَكَ فِي قَاتِلِ حَرَامٍ؟، قَالَ: قُلْتُ لَهُ: مَا لَهُ فَعَلَ اللَّهُ بِهِ وَفَعَلَ؟، قَالَ: مَهْلًا، فَإِنَّهُ قَدْ أَسْلَمَ، وَقَالَ عَفَّانُ: رَفَعَ يَدَيْهِ يَدْعُو عَلَيْهِمْ، وقَالَ أَبُو النَّضْرِ: رَفَعَ يَدَيْهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ثابت کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت انس رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، انہوں نے اپنے اہل خانہ کے لئے ایک خط لکھا اور فرمایا اے گروہ قراء! تم اس پر گواہ رہو، مجھے یہ بات اچھی نہ لگی، میں نے عرض کیا کہ اے ابوحمزہ! اگر آپ ان کے نام بتادیں تو کیا ہی اچھا ہو؟ انہوں نے فرمایا کہ اگر میں نے تمہیں قراء کہہ دیا تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے، کیا میں تمہیں اپنے ان بھائیوں کا واقعہ نہ سناؤں جنہیں ہم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں قراء کہتے تھے۔ وہ ستر افراد تھے، جو رات ہونے پر مدینہ منورہ میں اپنے ایک استاذ کے پاس چلے جاتے اور صبح ہونے تک ساری رات پڑھتے رہتے، صبح ہونے کے بعد جس میں ہمت ہوتی وہ میٹھا پانی پی کر لکڑیاں کاٹنے چلا جاتا، جن لوگوں کے پاس گنجائش نہ ہوتی وہ اکٹھے ہو کر بکری خرید کر اسے کاٹ کر صاف ستھرا کرتے اور صبح کے وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حجروں کے پاس اسے لٹکا دیتے۔ جب حضرت خبیب رضی اللہ عنہ شہید ہوگئے، تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں روانہ فرمایا: یہ لوگ بنی سلیم کے ایک قبیلے میں پہنچے، ان میں میرے ایک ماموں "" حرام "" بھی تھے، انہوں نے اپنے امیر سے کہا کہ مجھے اجازت دیجئے کہ میں انہیں جا کر بتادوں کہ ہم ان سے کوئی تعرض نہیں کرنا چاہتے تاکہ یہ ہمارا راستہ چھوڑ دیں اور اجازت لے کر ان لوگوں سے یہی کہا، ابھی وہ یہ پیغام دے ہی رہے تھے کہ سامنے سے ایک آدمی ایک نیزہ لے کر آیا اور ان کے آر پار کردیا، جب وہ نیزہ ان کے پیٹ میں گھونپا گیا تو وہ یہ کہتے ہوئے گرپڑے اللہ اکبر، رب کعبہ کی قسم! میں کامیاب ہوگیا، پھر ان پر حملہ ہوا اور ان میں سے ایک آدمی بھی باقی نہ بچا۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو میں نے اس واقعے پر جتنا غمگین دیکھا، کسی اور واقعے پر اتنا غمگین نہیں دیکھا اور میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فجر کی نماز میں ہاتھ اٹھا کر ان کے خلاف بددعاء فرماتے تھے، کچھ عرصے بعد حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا کہ کیا میں تمہیں "" حرام "" کے قاتل کا پتہ بتاؤں؟ میں نے کہا ضرور بتائیے، اللہ اس کے ساتھ ایسا ایسا کرے، انہوں نے فرمایا رکو، کیونکہ وہ مسلمان ہوگیا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12402]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4092
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4092
حدیث نمبر: 12403 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ:" أَمَرَنِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ"، قَالَ أُبَيٌّ: أَوَسَمَّانِي لَكَ؟، قَالَ:" نَعَمْ"، فَبَكَى أُبَيٌّ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مرتبہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ تمہیں قرآن پڑھ کر سناؤں، حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ کیا اللہ نے میرا نام لے کر کہا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں! یہ سن کر حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ رو پڑے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12403]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3809، م: 799
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3809، م: 799
حدیث نمبر: 12404 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ أُسَيْدَ بْنَ حُضَيْرٍ، وَرَجُلًا آخَرَ مِنَ الْأَنْصَارِ تَحَدَّثَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً فِي حَاجَةٍ لَهُمَا، حَتَّى ذَهَبَ مِنَ اللَّيْلِ سَاعَةٌ، وَلَيْلَةٌ شَدِيدَةُ الظُّلْمَةِ، ثُمَّ خَرَجَا مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْقَلِبَانِ، وَبِيَدِ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عُصَيَّةٌ، فَأَضَاءَتْ عَصَا أَحَدِهِمَا لَهُمَا حَتَّى مَشَيَا فِي ضَوْئِهَا، حَتَّى إِذَا افْتَرَقَ بِهِمَا الطَّرِيقُ، أَضَاءَتْ لِلْآخَرِ عَصَاهُ، فَمَشَى كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا فِي ضَوْءِ عَصَاهُ حَتَّى بَلَغَ إِلَى أَهْلِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رات کے وقت حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ اور ایک دوسرے صاحب اپنے کسی کام سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس بیٹھے گفتگو کر رہے تھے، اس دوران رات کا کافی حصہ بیت گیا اور وہ رات بہت تاریک تھی، جب وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے رخصت ہو کر نکلے تو ان کے ہاتھ میں ایک لاٹھی تھی، ان میں سے ایک آدمی کی لاٹھی روشن ہوگئی اور وہ اس کی روشنی میں چلنے لگے، جب دونوں اپنے اپنے راستے پر جدا ہونے لگے تو دوسرے کی لاٹھی بھی روشن ہوگئی اور ہر آدمی اپنی اپنی لاٹھی کی روشنی میں چلتا ہوا اپنے گھر پہنچ گیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12404]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3805 معلقا، وبنحوه برقم: 465
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3805 معلقا، وبنحوه برقم: 465
حدیث نمبر: 12405 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُ: يَا ابْنَ آدَمَ،" إِنْ ذَكَرْتَنِي فِي نَفْسِكَ، ذَكَرْتُكَ فِي نَفْسِي، وَإِنْ ذَكَرْتَنِي فِي مَلَإٍ، ذَكَرْتُكَ فِي مَلَإٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ، أَوْ قَالَ: فِي مَلَإٍ خَيْرٍ مِنْهُمْ، وَإِنْ دَنَوْتَ مِنِّي شِبْرًا، دَنَوْتُ مِنْكَ ذِرَاعًا، وَإِنْ دَنَوْتَ مِنِّي ذِرَاعًا، دَنَوْتُ مِنْكَ بَاعًا، وَإِنْ أَتَيْتَنِي تَمْشِي، أَتَيْتُكَ أُهَرْوِلُ"، قَالَ قَتَادَةُ: فَاللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَسْرَعُ بِالْمَغْفِرَةِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اے ابن آدم! اگر تو مجھے اپنے دل میں یاد کرے گا تو میں تجھے اپنے دل میں یاد کروں گا، اگر تو کسی مجلس میں میرا تذکرہ کرے گا تو میں اس سے بہتر فرشتوں کی مجلس میں تیرا تذکرہ کروں گا، اگر تو بالشت برابر میرے قریب آئے گا تو میں ایک گز کے برابر تیرے قریب ہوجاؤں گا اور اگر تو ایک گز کے برابر میرے قریب آئے گا تو میں ایک ہاتھ کے برابر تیرے قریب ہوجاؤں گا اور اگر تو میرے پاس چل کر آئے گا تو میں تیرے پاس دوڑ کر آؤں گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12405]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7536
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7536
حدیث نمبر: 12406 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ أَوْ غَيْرِهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَأْذَنَ عَلَى سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، فَقَالَ:" السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ"، فَقَالَ سَعْدٌ: وَعَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ، وَلَمْ يُسْمِعْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى سَلَّمَ ثَلَاثًا، وَرَدَّ عَلَيْهِ سَعْدٌ ثَلَاثًا، وَلَمْ يُسْمِعُوه فَرَجَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاتَّبَعَهُ سَعْدٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، مَا سَلَّمْتَ تَسْلِيمَةً إِلَّا هِيَ بِأُذُنِي، وَلَقَدْ رَدَدْتُ عَلَيْكَ، وَلَمْ أُسْمِعْكَ، أَحْبَبْتُ أَنْ أَسْتَكْثِرَ مِنْ سَلَامِكَ وَمِنْ الْبَرَكَةِ، ثُمَّ أَدْخَلَهُ الْبَيْتَ، فَقَرَّبَ لَهُ زَبِيبًا، فَأَكَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا فَرَغَ، قَالَ:" أَكَلَ طَعَامَكُمْ الْأَبْرَارُ، وَصَلَّتْ عَلَيْكُمْ الْمَلَائِكَةُ، وَأَفْطَرَ عِنْدَكُمْ الصَّائِمُونَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے یہاں تشریف لے گئے اور اجازت لے کر " السلام علیکم ورحمۃ اللہ " کہا، حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے آہستہ آواز سے " جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کانوں تک نہ پہنچی " اس کا جواب دیا، حتیٰ کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تین مرتبہ سلام کیا اور تینوں مرتبہ انہوں نے اس طرح جواب دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نہ سن سکے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم واپس لوٹ گئے، حضرت سعد رضی اللہ عنہ بھی پیچھے دوڑے اور کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ نے جتنی مرتبہ بھی سلام کیا، میں نے اپنے کانوں سے سنا اور اس کا جواب دیا لیکن آپ کو نہیں سنایا (آواز آہستہ رکھی) میں چاہتا تھا کہ آپ کی سلامتی اور برکت کی دعاء کثرت سے حاصل کروں، پھر وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنے گھر لے گئے اور کشمش پیش کی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے تناول کرنے کے بعد فرمایا تمہارا کھانا نیک لوگ کھاتے رہیں، تم پر ملائکہ رحمت کی دعائیں کرتے رہیں اور روزہ دار تمہارے یہاں افطار کرتے رہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12406]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12407 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يُشِيرُ فِي الصَّلَاةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز میں اشارہ کردیتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12407]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12408 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، حَفْصِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَجْمَعُ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ، فِي السَّفَرِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سفر میں نماز ظہر اور عصر اور نماز مغرب و عشاء اکٹھی پڑھ لیتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12408]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1108 معلقا، و 1110 موصولا
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1108 معلقا، و 1110 موصولا
حدیث نمبر: 12409 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، ثَابِتًا ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ ثَابِتًا يُحَدِّثُ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: لَمَّا افْتَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ، قَالَ الْحَجَّاجُ بْنُ عِلَاطٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي بِمَكَّةَ مَالًا، وَإِنَّ لِي بِهَا أَهْلًا، وَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ آتِيَهُمْ، فَأَنَا فِي حِلٍّ إِنْ أَنَا نِلْتُ مِنْكَ أَوْ قُلْتُ شَيْئًا؟" فَأَذِنَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقُولَ مَا شَاءَ"، فَأَتَى امْرَأَتَهُ حِينَ قَدِمَ، فَقَالَ: اجْمَعِي لِي مَا كَانَ عِنْدَكِ، فَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَشْتَرِيَ مِنْ غَنَائِمِ مُحَمَّدٍ وَأَصْحَابِهِ، فَإِنَّهُمْ قَدْ اسْتُبِيحُوا، وَأُصِيبَتْ أَمْوَالُهُمْ، قَالَ فَفَشَا ذَلِكَ فِي مَكَّةَ، فَانْقَمَعَ الْمُسْلِمُونَ، وَأَظْهَرَ الْمُشْرِكُونَ فَرَحًا وَسُرُورًا، قَالَ: وَبَلَغَ الْخَبَرُ الْعَبَّاسَ فَعَقِرَ، وَجَعَلَ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَقُومَ، قَالَ مَعْمَرٌ: فَأَخْبَرَنِي عُثْمَانُ الْجَزَرِيُّ عَنْ مِقْسَمٍ، قَالَ: فَأَخَذَ ابْنًا لَهُ، يُقَالُ لَهُ: قُثَمُ، فَاسْتَلْقَى فَوَضَعَهُ عَلَى صَدْرِهِ، وَهُوَ يَقُولُ: حِبِّي قُثَمْ شَبِيهُ ذِي الْأَنْفِ الْأَشَمْ نَبيِّ ذِي النِّعَمْ بَرْغَمِ مَنْ رَغَمْ، قَالَ ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ: ثُمَّ أَرْسَلَ غُلَامًا إِلَى الْحَجَّاجِ بْنِ عِلَاطٍ: وَيْلَكَ، مَا جِئْتَ بِهِ وَمَاذَا تَقُولُ؟ فَمَا وَعَدَ اللَّهُ خَيْرٌ مِمَّا جِئْتَ بِهِ، قَالَ الْحَجَّاجُ بْنُ عِلَاطٍ لِغُلَامِهِ: اقْرَأْ عَلَى أَبِي الْفَضْلِ السَّلَامَ، وَقُلْ لَهُ: فَلْيَخْلُ لِي فِي بَعْضِ بُيُوتِهِ لِآتِيَهُ، فَإِنَّ الْخَبَرَ عَلَى مَا يَسُرُّهُ، فَجَاءَ غُلَامُهُ، فَلَمَّا بَلَغَ بَابَ الدَّارِ، قَالَ: أَبْشِرْ يَا أَبَا الْفَضْلِ، قَالَ: فَوَثَبَ الْعَبَّاسُ فَرَحًا حَتَّى قَبَّلَ بَيْنَ عَيْنَيْهِ، فَأَخْبَرَهُ مَا قَالَ الْحَجَّاجُ، فَأَعْتَقَهُ، قَالَ: ثُمَّ جَاءَهُ الْحَجَّاجُ، فَأَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ افْتَتَحَ خَيْبَرَ، وَغَنِمَ أَمْوَالَهُمْ، وَجَرَتْ سِهَامُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي أَمْوَالِهِمْ، وَاصْطَفَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ فَاتَّخَذَهَا لِنَفْسِهِ، وَخَيَّرَهَا أَنْ يُعْتِقَهَا وَتَكُونَ زَوْجَتَهُ، أَوْ تَلْحَقَ بِأَهْلِهَا، فَاخْتَارَتْ أَنْ يُعْتِقَهَا وَتَكُونَ زَوْجَتَهُ، وَلَكِنِّي جِئْتُ لِمَالٍ كَانَ لِي هَاهُنَا أَرَدْتُ أَنْ أَجْمَعَهُ فَأَذْهَبَ بِهِ، فَاسْتَأْذَنْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَذِنَ لِي أَنْ أَقُولَ مَا شِئْتُ، فَأَخْفِ عَنِّي ثَلَاثًا، ثُمَّ اذْكُرْ مَا بَدَا لَكَ، قَالَ: فَجَمَعَتِ امْرَأَتُهُ مَا كَانَ عِنْدَهَا مِنْ حُلِيٍّ وَمَتَاعٍ، فَجَمَعَتْهُ فَدَفَعَتْهُ إِلَيْهِ، ثُمَّ انشَمَرَ بِهِ، فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ثَلَاثٍ أَتَى الْعَبَّاسُ امْرَأَةَ الْحَجَّاجِ، فَقَالَ: مَا فَعَلَ زَوْجُكِ؟ فَأَخْبَرَتْهُ أَنَّهُ قَدْ ذَهَبَ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا، وَقَالَتْ: لَا يُخْزِيكَ اللَّهُ يَا أَبَا الْفَضْلِ، لَقَدْ شَقَّ عَلَيْنَا الَّذِي بَلَغَكَ، قَالَ: أَجَلْ لَا يُخْزِنِي اللَّهُ، وَلَمْ يَكُنْ بِحَمْدِ اللَّهِ إِلَّا مَا أَحْبَبْنَا فَتَحَ اللَّهُ خَيْبَرَ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَرَتْ فِيهَا سِهَامُ اللَّهِ، وَاصْطَفَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ لِنَفْسِهِ، فَإِنْ كَانَتْ لَكِ حَاجَةٌ فِي زَوْجِكِ فَالْحَقِي بِهِ، قَالَتْ: أَظُنُّكَ وَاللَّهِ صَادِقًا، قَالَ: فَإِنِّي صَادِقٌ، الْأَمْرُ عَلَى مَا أَخْبَرْتُكِ، فَذَهَبَ حَتَّى أَتَى مَجَالِسَ قُرَيْشٍ وَهُمْ يَقُولُونَ: إِذَا مَرَّ بِهِمْ لَا يُصِيبُكَ إِلَّا خَيْرٌ يَا أَبَا الْفَضْلِ، قَالَ لَهُمْ: لَمْ يُصِبْنِي إِلَّا خَيْرٌ بِحَمْدِ اللَّهِ، قَدْ أَخْبَرَنِي الْحَجَّاجُ بْنُ عِلَاطٍ، أَنَّ خَيْبَرَ قَدْ فَتَحَهَا اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ وَجَرَتْ فِيهَا سِهَامُ اللَّهِ، وَاصْطَفَى صَفِيَّةَ لِنَفْسِهِ، وَقَدْ سَأَلَنِي أَنْ أُخْفِيَ عَلَيْهِ ثَلَاثًا، وَإِنَّمَا جَاءَ لِيَأْخُذَ مَالَهُ، وَمَا كَانَ لَهُ مِنْ شَيْءٍ هَاهُنَا، ثُمَّ يَذْهَبَ، قَالَ: فَرَدَّ اللَّهُ الْكَآبَةَ الَّتِي كَانَتْ بِالْمُسْلِمِينَ عَلَى الْمُشْرِكِينَ، وَخَرَجَ الْمُسْلِمُونَ، وَمَنْ كَانَ دَخَلَ بَيْتَهُ مُكْتَئِبًا حَتَّى أَتَوْا الْعَبَّاسَ، فَأَخْبَرَهُمْ الْخَبَرَ، فَسُرَّ الْمُسْلِمُونَ، وَرَدَّ مَا كَانَ مِنْ كَآبَةٍ، أَوْ غَيْظٍ، أَوْ حُزْنٍ عَلَى الْمُشْرِكِينَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب خیبر فتح کرچکے تو حجاج بن غلاط رضی اللہ عنہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! مکہ مکرمہ میں میرا کچھ مال و دولت اور اہل خانہ ہیں، میں ان کے پاس جانے کا ارادہ رکھتا ہوں (تاکہ انہیں یہاں لے آؤں) کیا مجھے آپ کی طرف سے اس بات کی اجازت ہے کہ میں آپ کے حوالے سے یونہی کوئی بات اڑا دوں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی کہ جو چاہیں کہیں، چنانچہ وہ مکہ مکرمہ پہنچ کر اپنی بیوی کے پاس آئے اور اس سے کہنے لگے کہ تمہارے پاس جو کچھ ہے، سب اکٹھا کر کے مجھے دے دو، میں چاہتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ان کے ساتھیوں کا مال غنیمت خرید لوں کیونکہ ان کا خوب قتل عام ہوا ہے اور ان کا سب مال و دولت لوٹ لیا گیا ہے، یہ خبر پورے مکہ میں پھیل گئی، مسلمانوں کی کمر ٹوٹ گئی اور مشرکین خوب خوشی کے شادیانے بجانے لگے، حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو بھی یہ خبر معلوم ہوئی تو وہ گرپڑے اور ان کے اندر کھڑا ہونے ہمت نہ رہی، پھر انہوں نے ایک بیٹے "" قثم "" کو بلایا اور چت لیٹ کر اسے اپنے سینے پر بٹھا کر یہ شعر پڑھنے لگے کہ میرا پیارا بیٹا قثم خوشبودار ناک والے کا ہم شکل ہے، جو ناز و نعمت میں پلنے والوں کا بیٹا ہے اگرچہ کسی کی ناک ہی خاک آلود ہوتی ہے۔ پھر انہوں نے ایک غلام کو حجاج بن غلاط رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا اور فرمایا کہ افسوس! یہ تم کیسی خبر لائے ہو اور یہ کیا کہہ رہے ہو؟ اللہ نے جو وعدہ کیا ہے وہ تمہاری اس خبر سے بہت بہتر ہے، حجاج نے اس غلام سے کہا کہ ابوالفضل (حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو میرا سلام کہنا اور یہ پیغام پہنچانا کہ اپنے کسی گھر میں میرے لئے تخلیہ کا موقع فراہم کریں تاکہ میں ان کے پاس آسکوں کیونکہ خبر ہی ایسی ہے کہ وہ خوش ہوجائیں گے، وہ غلام واپس پہنچ کر جب گھر کے دروازے تک پہنچا تو کہنے لگا کہ اے ابوالفضل! خوش ہوجائیے، یہ سن کر حضرت عباس رضی اللہ عنہ خوشی سے اچھل پڑے اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا، غلام نے انہیں حجاج کی بات بتائی تو انہوں نے اسے آزاد کردیا۔ تھوڑی دیر بعد حجاج ان کے پاس آئے اور انہیں بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خیبر کو فتح کرچکے ہیں، ان کے مال کو غنیمت بنا چکے، اللہ کا مقرر کردہ حصہ ان میں جاری ہوچکا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صفیہ بنت حیی کو اپنے لئے منتخب کرلیا اور انہیں اختیار دے دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم انہیں آزاد کردیں اور وہ ان کی بیوی بن جائیں یا اپنے اہل خانہ کے پاس واپس چلی جائیں، انہوں نے اس بات کو ترجیح دی کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم انہیں آزاد کردیں اور وہ ان کی بیوی بن جائیں، لیکن میں اپنے اس مال کی وجہ سے "" جو یہاں پر تھا "" آیا تھا تاکہ اسے جمع کر کے لے جاؤں، میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اجازت لی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے اس بات کی اجازت دے دی تھی کہ میں جو چاہوں کہہ سکتا ہوں، اب آپ یہ خبر تین دن تک مخفی رکھئے، اس کے بعد مناسب سمجھیں تو ذکر کردیں۔ اس کے بعد انہوں نے اپنی بیوی کے پاس جو کچھ زیورات اور سازو سامان تھا اور جو اس نے جمع کر رکھا تھا، اس نے وہ سب ان کے حوالے کیا اور وہ اسے لے کر روانہ ہوگئے، تین دن گذرنے کے بعد حضرت عباس رضی اللہ عنہ حجاج کی بیوی کے پاس آئے اور اس سے پوچھا کہ تمہارے شوہر کا کیا بنا؟ اس نے بتایا کہ وہ فلاں دن چلے گئے اور کہنے لگی کہ اے ابوالفضل! اللہ آپ کو شرمندہ نہ کرے، آپ کی پریشانی ہم پر بھی بڑی شاق گذری ہے، انہوں نے فرمایا ہاں! اللہ مجھے شرمندہ نہ کرے اور الحمدللہ! ہوا وہی کچھ ہے جو ہم چاہتے تھے، اللہ نے اپنے نبی کے ہاتھ پر خیبر کو فتح کروا دیا، مال غنیمت تقسیم ہوچکی اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صفیہ بنت حیی کو اپنے لئے منتخب فرما لیا، اب اگر تمہیں اپنے خاوند کی ضرورت ہو تو اس کے پاس چلی جاؤ، وہ کہنے لگی کہ بخدا! میں آپ کو سچا ہی سمجھتی ہوں، انہوں نے فرمایا کہ میں نے تمہیں جو کچھ بتایا ہے وہ سب سچ ہے۔ پھر حضرت عباس رضی اللہ عنہ وہاں سے چلے گئے اور قریش کی مجلسوں کے پاس سے گذرے، وہ کہنے لگے ابوالفضل! تمہیں ہمیشہ خیر ہی حاصل ہو، انہوں نے فرمایا الحمدللہ! مجھے خیر ہی حاصل ہوئی ہے، مجھے حجاج بن غلاط نے بتایا کہ خیبر کو اللہ نے اپنے پیغمبر کے ہاتھوں فتح کروادیا ہے، مال غنیمت تقسیم ہوچکا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صفیہ کو اپنے لئے منتخب کرلیا اور حجاج نے مجھ سے درخواست کی تھی کہ تین دن تک میں یہ خبر مخفی رکھوں، وہ تو صرف اپنا مال اور سازو سامان یہاں سے لینے کے لئے آئے تھے، پھر واپس چلے گئے، اس طرح مسلمانوں پر جو غم کی کیفیت تھی وہ اللہ نے مشرکین پر الٹادی اور مسلمان اور وہ تمام لوگ جو اپنے گھروں میں غمگین ہو کر پڑگئے تھے اپنے اپنے گھروں سے ببب [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12409]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12410 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، شَرِيكٌ ، عَاصِمٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَاصِمٍ ، قَالَ: رَأَيْتُ عِنْدَ أَنَسٍ " قَدَحَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ ضَبَّةٌ مِنْ فِضَّةٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عاصم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کے پاس نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ایک پیالہ دیکھا جس میں چاندی کا حلقہ لگا ہوا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12410]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 3109، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك النخعي، وقد توبع، وانظر ما بعده
الحكم: حديث صحيح، خ: 3109، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك النخعي، وقد توبع، وانظر ما بعده
حدیث نمبر: 12411 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، شَرِيكٌ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قال: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، قَالَ: رَأَيْتُ عِنْدَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ " قَدَحًا كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ ضَبَّةُ فِضَّةٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حمید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کے پاس نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ایک پیالہ دیکھا جس میں چاندی کا حلقہ لگا ہوا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12411]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف كسابقه ، وأنظر ما قبله
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف كسابقه ، وأنظر ما قبله
حدیث نمبر: 12412 مسند احمد
هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، سُلَيْمَانُ ، ثَابِتٍ ، لِأَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِأَنَسٍ يَا أَبَا حَمْزَةَ، حَدِّثْنَا مِنْ هَذِهِ الْأَعَاجِيبِ شَيْئًا شَهِدْتَهُ، لَا تُحَدِّثُهُ عَنْ غَيْرِكَ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الظُّهْرِ يَوْمًا، ثُمَّ انْطَلَقَ حَتَّى قَعَدَ عَلَى الْمَقَاعِدِ الَّتِي كَانَ يَأْتِيهِ عَلَيْهَا جِبْرِيلُ، فَجَاءَ بِلَالٌ فَنَادَاهُ بِالْعَصْرِ، فَقَامَ كُلُّ مَنْ كَانَ لَهُ بِالْمَدِينَةِ أَهْلٌ يَقْضِي الْحَاجَةَ، وَيُصِيبُ مِنَ الْوَضُوءِ، وَبَقِيَ رِجَالٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ لَيْسَ لَهُمْ أَهَالِي بِالْمَدِينَةِ، فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَدَحٍ أَرْوَحَ فِيهِ مَاءٌ،" فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَفَّهُ فِي الْإِنَاءِ، فَمَا وَسِعَ الْإِنَاءُ كَفَّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّهَا، فَقَالَ: بِهَؤُلَاءِ الْأَرْبَعِ فِي الْإِنَاءِ، ثُمَّ قَالَ: ادْنُوا فَتَوَضَّئُوا، وَيَدُهُ فِي الْإِنَاءِ، فَتَوَضَّئُوا حَتَّى مَا بَقِيَ مِنْهُمْ أَحَدٌ إِلَّا تَوَضَّأَ"، قَالَ: قُلْتُ: يَا أَبَا حَمْزَةَ، كَمْ تَرَاهُمْ؟، قَالَ: بَيْنَ السَّبْعِينَ وَالثَّمَانِينَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ثابت رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ اے ابوحمزہ! ہمیں کوئی ایسا عجیب واقعہ بتائیے، جس میں آپ خود موجود ہوں اور آپ کسی کے حوالے سے اسے بیان نہ کرتے ہوں؟ انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھائی اور جا کر اس جگہ پر بیٹھ گئے جہاں حضرت جبرائیل علیہ السلام ان کے پاس آیا کرتے تھے، پھر حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے آکر عصر کی اذان دی، ہر وہ آدمی جس کا مدینہ منورہ میں گھر تھا وہ اٹھ کر قضاء حاجت اور وضو کے لئے چلا گیا، کچھ مہاجرین رہ گئے جن کا مدینہ میں کوئی گھر نہ تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں ایک کشادہ برتن پانی کا لایا گیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی ہتھیلیاں اس میں رکھ دیں لیکن اس برتن میں اتنی گنجائش نہ تھی، لہٰذا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چار انگلیاں ہی رکھ کر فرمایا قریب آکر اس سے وضو کرو، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا دست مبارک برتن میں ہی تھا، چنانچہ ان سب نے اس سے وضو کرلیا اور ایک آدمی بھی ایسا نہ رہا جس نے وضو نہ کیا ہو۔ میں نے پوچھا اے ابوحمزہ! آپ کی رائے میں وہ کتنے لوگ تھے؟ انہوں نے فرمایا ستر سے اسی کے درمیان۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12412]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 200، م: 2279
الحكم: إسناده صحيح، خ: 200، م: 2279
حدیث نمبر: 12413 مسند احمد
عَفَّانُ ، سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، ثَابِتٍ ، لِأَنَسٍ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِأَنَسٍ حَدِّثْنَا بِشَيْءٍ مِنْ هَذِهِ الْأَعَاجِيبِ لَا تُحَدِّثُهُ عَنْ غَيْرِكَ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الظُّهْرِ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12413]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر ما قبله
الحكم: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 12414 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، الْمُبَارَكُ ، ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: شَقَّ عَلَى الْأَنْصَارِ النَّوَاضِحُ، فَاجْتَمَعُوا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُونَهُ أَنْ يُكْرِيَ لَهُمْ نَهْرًا سَيْحًا، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَرْحَبًا بِالْأَنْصَارِ، وَاللَّهِ لَا تَسْأَلُونِي الْيَوْمَ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَيْتُكُمُوهُ، وَلَا أَسْأَلُ اللَّهَ لَكُمْ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَانِيهِ"، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: اغْتَنِمُوهَا وَاطْلُبُوا الْمَغْفِرَةَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ لَنَا بِالْمَغْفِرَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ، وَلِأَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ، وَلِأَبْنَاءِ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انصار میں کچھ کھیت تقسیم ہوئے، وہ لوگ اکٹھے ہو کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس یہ درخواست لے کر آئے کہ انہیں ایک جاری نہر میں سے پانی لینے کی اجازت دی جائے، وہ اس کا کرایہ ادا کردیں گے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا انصار کو خوش آمدید! بخدا! آج تم مجھ سے جو مانگو گے میں تمہیں دوں گا اور میں اللہ سے تمہارے لئے جس چیز کا سوال کروں گا، اللہ وہ مجھے ضرور عطاء فرمائے گا، یہ سن کر وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے موقع غنیمت سمجھو اور اپنے گناہوں کی معافی کا مطالبہ کرلو، چنانچہ وہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! ہمارے لئے اللہ سے بخشش کی دعاء کردیجئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اے اللہ! انصار کی انصار کے بچوں کی اور انصار کے بچوں کے بچوں کی مغفرت فرما۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12414]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف من أجل المبارك بن فضالة، فإنه مدلس وقد عنعن، لكنه متابع، وأخرج منه الدعاء بالمغفرة فقط: مسلم: 2507
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف من أجل المبارك بن فضالة، فإنه مدلس وقد عنعن، لكنه متابع، وأخرج منه الدعاء بالمغفرة فقط: مسلم: 2507
حدیث نمبر: 12415 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، الْمُبَارَكُ ، حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ ، حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: كَانَ رَجُلٌ يَلْحَدُ، وَآخَرُ يَضْرَحُ، فَقَالُوا: نَسْتَخِيرُ رَبَّنَا، فَبَعَثَ إِلَيْهِمَا، فَأَيُّهُمَا سَبَقَ تَرَكْنَاهُ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِمَا، فَسَبَقَ صَاحِبُ اللَّحْدِ، فَأَلْحَدُوا لَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دنیا سے رخصت ہوگئے تو اس وقت مدینہ میں ایک صاحب بغلی قبر بناتے تھے اور دوسرے صاحب صندوقی قبر، لوگوں نے سوچا کہ ہم اپنے رب سے خیر طلب کرتے ہیں اور دونوں کے پاس ایک ایک آدمی بھیج دیتے ہیں، جو نہ مل سکا اسے چھوڑ دیں گے، چنانچہ انہوں نے دونوں کے پاس ایک ایک آدمی بھیج دیا، لحد بنانے والے صاحب مل گئے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے لحد کھودی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12415]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن من أجل المبارك بن فضالة
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن من أجل المبارك بن فضالة
حدیث نمبر: 12416 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، عِمْرَانُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" كَوَانِي أَبُو طَلْحَةَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا، فَمَا نُهِيتُ عَنْهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجھے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی موجودگی میں داغا لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے اس سے منع نہیں فرمایا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12416]
حکم دارالسلام
إسناده حسن، خ: 5721 معلقا و 5719 موصولا
الحكم: إسناده حسن، خ: 5721 معلقا و 5719 موصولا
حدیث نمبر: 12417 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، الْمُبَارَكُ ، الْحَسَنِ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُضْطَجِعٌ عَلَى سَرِيرٍ مُرْمَلٌ بِشَرِيطٍ، وَتَحْتَ رَأْسِهِ وَسَادَةٌ مِنْ أَدَمٍ، حَشْوُهَا لِيفٌ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، وَدَخَلَ عُمَرُ، فَانْحَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْحِرَافَةً، فَلَمْ يَرَ عُمَرُ بَيْنَ جَنْبِهِ وَبَيْنَ الشَّرِيطِ ثَوْبًا، وَقَدْ أَثَّرَ الشَّرِيطُ بِجَنْبِ النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَكَى عُمَرُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا يُبْكِيكَ يَا عُمَرُ؟"، قَالَ: وَاللَّهِ ما أَبْكي إِلَّا أَنْ أَكُونَ أَعْلَمُ أَنَّكَ أَكْرَمُ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ كِسْرَى وَقَيْصَرَ، وَهُمَا يَعِيثَانِ فِي الدُّنْيَا فِيمَا يَعِيثَانِ فِيهِ، وَأَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَكَانِ الَّذِي أَرَى! فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ لَهُمْ الدُّنْيَا وَلَنَا الْآخِرَةُ؟"، قَالَ عُمَرُ: بَلَى، قَالَ:" فَإِنَّهُ كَذَاكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی چارپائی پر لیٹے ہوئے تھے، جسے کھجور کی بٹی ہوئی رسی سے باندھا گیا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سر مبارک کے نیچے چمڑے کا ایک تکیہ تھا جس میں چھال بھری ہوئی تھی، اسی اثناء میں چند صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی آگئے جن میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پلٹ کر اٹھے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پہلو اور رسی کے درمیان کوئی کپڑا نظر نہ آیا اسی وجہ سے اس کے نشانات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مبارک پہلو پر پڑگئے تھے، یہ دیکھ کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ رونے لگے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا عمر! کیوں روتے ہو؟ انہوں نے عرض کیا بخدا! میں صرف اس لئے روتا ہوں کہ میں چاہتا ہوں کہ اللہ کی نگاہوں میں آپ قیصروکسریٰ سے کہیں زیادہ معزز ہیں اور وہ دنیا میں عیاشی کر رہے ہیں، جب کہ آپ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! اس جگہ پر ہیں جو میں دیکھ رہا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ ان کے لئے دنیا ہو اور ہمارے لئے آخرت؟ انہوں نے عرض کیا کیوں نہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تو پھر اسی طرح ہوگا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12417]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن من أجل مبارك بن فضالة، وهو وإن كان مدلسا، قد صرح بالتحديث فى بعض مصادر التخريج، انظر الأدب المفرد للبخاري: 1163
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن من أجل مبارك بن فضالة، وهو وإن كان مدلسا، قد صرح بالتحديث فى بعض مصادر التخريج، انظر الأدب المفرد للبخاري: 1163
حدیث نمبر: 12418 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، الْمُبَارَكُ ، عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيَرِدَنَّ عَلَيَّ الْحَوْضَ رَجُلَانِ مِمَّنْ قَدْ صَحِبَنِي، فَإِذَا رَأَيْتُهُمَا رُفِعَا لِي، اخْتُلِجَا دُونِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا میرے پاس حوض کوثر پر دو ایسے آدمی بھی آئیں گے جنہوں نے میری ہم نشینی پائی ہوگی، لیکن جب میں انہیں دیکھوں گا کہ وہ میرے سامنے پیش ہوئے ہیں تو انہیں اچک لیا جائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12418]
حکم دارالسلام
ضعيف بهذا اللفظ ، فقد تفرد به مبارك- وهو ابن فضالة - وهو مدلس، وقد عنعن، وسيأتي برقم: 13991 بلفظ: «ليردن الحوض على رجال .» وھو صحیح
الحكم: ضعيف بهذا اللفظ ، فقد تفرد به مبارك- وهو ابن فضالة - وهو مدلس، وقد عنعن، وسيأتي برقم: 13991 بلفظ: «ليردن الحوض على رجال .» وھو صحیح
حدیث نمبر: 12419 مسند احمد
حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، زَائِدَةَ ، الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَا أَوَّلُ شَفِيعٍ فِي الْجَنَّةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں جنت کے متعلق سب سے پہلا سفارش کرنے والا ہوں گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12419]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 196، وانظر: 12153
الحكم: إسناده صحيح، م: 196، وانظر: 12153
حدیث نمبر: 12420 مسند احمد
أَبُو عَاصِمٍ ، أَبُو عَمْرٍو مُبَارَكٌ الْخَيَّاطُ ، ثُمَامَةَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُبَارَكٌ الْخَيَّاطُ جَدُّ وَلَدِ عَبَّادِ بْنِ كَثِيرٍ، قَالَ: سَأَلْتُ ثُمَامَةَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ عَنِ الْعَزْلِ، فَقَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يقول: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَأَلَ عَنِ الْعَزْلِ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ أَنَّ الْمَاءَ الَّذِي يَكُونُ مِنْهُ الْوَلَدُ أَهْرَقْتَهُ عَلَى صَخْرَةٍ، لَأَخْرَجَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْهَا أَوْ لَخَرَجَ مِنْهَا وَلَدٌ، الشَّكُّ مِنْهُ وَلَيَخْلُقَنَّ اللَّهُ نَفْسًا هُوَ خَالِقُهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا اور عزل کے متعلق سوال کرنے لگا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا " پانی " کا وہ قطرہ جس سے بچہ پیدا ہوتا ہو، اگر کسی چٹان پر بھی بہا دیا جائے تو اللہ اس سے بھی بچہ پیدا کرسکتا ہے اور اللہ اس شخص کو پیدا کر کے رہتا ہے جسے وہ پیدا کرنا چاہتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12420]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، أبو عمرو مبارك الخياط فى عداد المجهولين
الحكم: إسناده ضعيف، أبو عمرو مبارك الخياط فى عداد المجهولين