بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 12415
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 12415
حدیث نمبر: 12415 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَبُو النَّضْرِ ، الْمُبَارَكُ ، حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ ، حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: كَانَ رَجُلٌ يَلْحَدُ، وَآخَرُ يَضْرَحُ، فَقَالُوا: نَسْتَخِيرُ رَبَّنَا، فَبَعَثَ إِلَيْهِمَا، فَأَيُّهُمَا سَبَقَ تَرَكْنَاهُ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِمَا، فَسَبَقَ صَاحِبُ اللَّحْدِ، فَأَلْحَدُوا لَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دنیا سے رخصت ہوگئے تو اس وقت مدینہ میں ایک صاحب بغلی قبر بناتے تھے اور دوسرے صاحب صندوقی قبر، لوگوں نے سوچا کہ ہم اپنے رب سے خیر طلب کرتے ہیں اور دونوں کے پاس ایک ایک آدمی بھیج دیتے ہیں، جو نہ مل سکا اسے چھوڑ دیں گے، چنانچہ انہوں نے دونوں کے پاس ایک ایک آدمی بھیج دیا، لحد بنانے والے صاحب مل گئے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے لحد کھودی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12415]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن من أجل المبارك بن فضالة
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن من أجل المبارك بن فضالة
← پچھلی حدیث (12414) باب پر واپس اگلی حدیث (12416) →