عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ أَوْ غَيْرِهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَأْذَنَ عَلَى سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، فَقَالَ:" السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ"، فَقَالَ سَعْدٌ: وَعَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ، وَلَمْ يُسْمِعْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى سَلَّمَ ثَلَاثًا، وَرَدَّ عَلَيْهِ سَعْدٌ ثَلَاثًا، وَلَمْ يُسْمِعُوه فَرَجَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاتَّبَعَهُ سَعْدٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، مَا سَلَّمْتَ تَسْلِيمَةً إِلَّا هِيَ بِأُذُنِي، وَلَقَدْ رَدَدْتُ عَلَيْكَ، وَلَمْ أُسْمِعْكَ، أَحْبَبْتُ أَنْ أَسْتَكْثِرَ مِنْ سَلَامِكَ وَمِنْ الْبَرَكَةِ، ثُمَّ أَدْخَلَهُ الْبَيْتَ، فَقَرَّبَ لَهُ زَبِيبًا، فَأَكَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا فَرَغَ، قَالَ:" أَكَلَ طَعَامَكُمْ الْأَبْرَارُ، وَصَلَّتْ عَلَيْكُمْ الْمَلَائِكَةُ، وَأَفْطَرَ عِنْدَكُمْ الصَّائِمُونَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے یہاں تشریف لے گئے اور اجازت لے کر " السلام علیکم ورحمۃ اللہ " کہا، حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے آہستہ آواز سے " جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کانوں تک نہ پہنچی " اس کا جواب دیا، حتیٰ کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تین مرتبہ سلام کیا اور تینوں مرتبہ انہوں نے اس طرح جواب دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نہ سن سکے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم واپس لوٹ گئے، حضرت سعد رضی اللہ عنہ بھی پیچھے دوڑے اور کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ نے جتنی مرتبہ بھی سلام کیا، میں نے اپنے کانوں سے سنا اور اس کا جواب دیا لیکن آپ کو نہیں سنایا (آواز آہستہ رکھی) میں چاہتا تھا کہ آپ کی سلامتی اور برکت کی دعاء کثرت سے حاصل کروں، پھر وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنے گھر لے گئے اور کشمش پیش کی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے تناول کرنے کے بعد فرمایا تمہارا کھانا نیک لوگ کھاتے رہیں، تم پر ملائکہ رحمت کی دعائیں کرتے رہیں اور روزہ دار تمہارے یہاں افطار کرتے رہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12406]
الحكم: إسناده صحيح