بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَنَسِ بنِ مَالِك رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2170
صفحہ 28 از 109
حدیث نمبر: 12481 مسند احمد
حَسَنٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ أَهْلَ الْيَمَنِ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: ابْعَثْ مَعَنَا رَجُلًا يُعَلِّمُنَا، فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ، فَأَرْسَلَهُ مَعَهُمْ، فَقَالَ:" هَذَا أَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب اہل یمن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے درخواست کی کہ ان کے ساتھ ایک آدمی بھیج دیں، جو انہیں دین کی تعلیم دے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے ساتھ حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو بھیج دیا اور فرمایا یہ اس امت کے امین ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12481]
حکم دارالسلام
صحيح، م: 2419
الحكم: صحيح، م: 2419
حدیث نمبر: 12482 مسند احمد
حَسَنٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَجُلًا، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِفُلَانٍ نَخْلَةً، وَأَنَا أُقِيمُ حَائِطِي بِهَا، فَأْمُرْهُ أَنْ يُعْطِيَنِي حَتَّى أُقِيمَ حَائِطِي بِهَا، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَعْطِهَا إِيَّاهُ بِنَخْلَةٍ فِي الْجَنَّةِ" فَأَبَى، فَأَتَاهُ أَبُو الدَّحْدَاحِ، فَقَالَ: بِعْنِي نَخْلَتَكَ بِحَائِطِي، فَفَعَلَ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي قَدْ ابْتَعْتُ النَّخْلَةَ بِحَائِطِي، قَالَ: فَاجْعَلْهَا لَهُ، فَقَدْ أَعْطَيْتُكَهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَمْ مِنْ عَذْقٍ رَدَاحٍ لِأَبِي الدَّحْدَاحِ فِي الْجَنَّةِ"، قَالَهَا: مِرَارًا، قَالَ: فَأَتَى امْرَأَتَهُ، فَقَالَ: يَا أُمَّ الدَّحْدَاحِ، اخْرُجِي مِنَ الْحَائِطِ، فَإِنِّي قَدْ بِعْتُهُ بِنَخْلَةٍ فِي الْجَنَّةِ، فَقَالَتْ: رَبِحَ الْبَيْعُ، أَوْ كَلِمَةً تُشْبِهُهَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! فلاں آدمی کا ایک باغ ہے، میں وہاں اپنی دیوار قائم کرنا چاہتا ہوں، آپ اسے حکم دیجئے کہ وہ مجھے یہ جگہ دے دے تاکہ میں اپنی دیوار کھڑی کرلوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے متعلقہ آدمی سے کہہ دیا کہ جنت میں ایک درخت کے بدلے تم اسے یہ جگہ دے دو، لیکن اس نے انکار کردیا، حضرت ابوالدحداح رضی اللہ عنہ کو پتہ چلا تو وہ اس کے پاس گئے اور کہنے لگے کہ اپنا باغ میرے باغ کے عوض فروخت کردو، اس نے بیچ دیا، وہ اسے خریدنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ میں نے وہ باغ اپنے باغ کے بدلے خرید لیا ہے، آپ یہ اس شخص کو دے دیجئے، کہ میں نے یہ باغ آپ کو دے دیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ سن کر کئی مرتبہ فرمایا کہ ابوالدحداح کے لئے جنت میں کتنے بہترین گھچے ہیں، اس کے بعد وہ اپنی بیوی کے پاس پہنچے اور اس سے فرمایا کہ اے ام دحداح! اس باغ سے نکل چلو کہ میں نے اسے جنت کے باغ کے عوض فروخت کردیا ہے، ان کی بیوی نے کہا کہ کامیاب تجارت کی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12482]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر قوله صلي الله علیه وسلم: "كم من عذق....." في حدیث جابر بن سمرة عند مسلم : 965
الحكم: إسناده صحيح، وانظر قوله صلي الله علیه وسلم: "كم من عذق....." في حدیث جابر بن سمرة عند مسلم : 965
حدیث نمبر: 12483 مسند احمد
حَسَنٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" لَمَّا أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَحْلِقَ الْحَجَّامُ رَأْسَهُ، أَخَذَ أَبُو طَلْحَةَ بِشَعْرَ أَحَدِ شِقَّيْ رَأْسِهِ بِيَدِهِ، فَأَخَذَ شَعْرَهُ، فَجَاءَ بِهِ إِلَى أُمِّ سُلَيْمٍ، قَالَ: فَكَانَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ تَدُوفُهُ فِي طِيبِهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (حجۃ الوداع کے موقع پر) جب حلاق سے سر منڈوانے کا ارادہ کیا تو حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے سر کے ایک حصے کے بال اپنے ہاتھوں میں لے لئے، پھر وہ بال ام سلیم اپنے ساتھ لے گئیں اور وہ انہیں اپنی خوشبو میں ڈال کر ہلا لیا کرتی تھیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12483]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر: 12000
الحكم: إسناده صحيح، وانظر: 12000
حدیث نمبر: 12484 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، بَكْرُ بْنُ سَوَادَةَ ، وَفَاءٍ الْخَوْلَانِيِّ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَوَادَةَ ، عَنْ وَفَاءٍ الْخَوْلَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ نَقْرَأُ، فِينَا الْعَرَبِيُّ، وَالْعَجَمِيُّ، وَالْأَسْوَدُ وَالْأَبْيَضُ، إِذْ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَنْتُمْ فِي خَيْرٍ، تَقْرَءُونَ كِتَابَ اللَّهِ، وَفِيكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَيَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يُثَقِّفُونَهُ كَمَا يُثَِّقفُونَ الْقَدَحَ، يَتَعَجَّلُونَ أُجُورَهُمْ وَلَا، يَتَأَجَّلُونَهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ قرآن کریم کی تلاوت کر رہے تھے، ہم میں عربی، عجمی اور کالے گورے، ہر طرح کے لوگ موجود تھے، اسی دوران نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لے آئے اور فرمانے لگے کہ تم بھلائی پر ہو (اور بہترین زمانے میں ہو) کہ تم کتاب اللہ کی تلاوت کر رہے ہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تمہارے درمیان موجود ہیں، عنقریب لوگوں پر ایک زمانہ ایسا بھی آئے گا جس میں لوگ ایسے کھڑ کھڑائیں گے جیسے برتن کھڑ کھڑاتے ہیں، وہ اپنا اجر فوری وصول کرلیں گے، آگے کے لئے کچھ نہ رکھیں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12484]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة وفاء الخولاني و ضعف ابن الهيعة
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة وفاء الخولاني و ضعف ابن الهيعة
حدیث نمبر: 12485 مسند احمد
هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، ابْنُ وَهْبٍ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، مَوْهُوبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَزْهَرَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ مَوْهُوبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَزْهَرَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ كَانَ يُخَالِفُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: مَا يَحْمِلُكَ عَلَى هَذَا؟، فَقَالَ: إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُصَلِّي صَلَاةً، مَتَى تُوَافِقُهَا أُصَلِّي مَعَكَ، وَمَتَى تُخَالِفُهَا أُصَلِّي وَأَنْقَلِبُ إِلَى أَهْلِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
مروی ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے خلاف کیا کرتے تھے، ایک مرتبہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے ان سے اس کی وجہ پوچھی تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو جو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، اگر تم اس کی موافقت کرو گے تو میں تمہارے ساتھ نماز پڑھوں گا اور اگر تم اس کے خلاف کرو گے تو میں اپنی نماز اکیلے پڑھ کر گھر چلا جاؤں گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12485]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة موهوب بن عبدالرحمن بن أزهر القرشي، ولو صح السند، كان لا بد من حمله على ما قاله السندي بخصوص وقت الصلاة، لأن أنسا كان يثني على صلاة عمر بن عبدالعزيز ويشبهها بصلاة رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم كما سلف برقم: 12465
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة موهوب بن عبدالرحمن بن أزهر القرشي، ولو صح السند، كان لا بد من حمله على ما قاله السندي بخصوص وقت الصلاة، لأن أنسا كان يثني على صلاة عمر بن عبدالعزيز ويشبهها بصلاة رسول الله صلى الله
حدیث نمبر: 12486 مسند احمد
هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ ، الضَّحَّاكَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْقُرَشِيّ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ ، أَنَّ الضَّحَّاكَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْقُرَشِيّ حَدَّثَهُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ صَلَّى سُبْحَةَ الضُّحَى ثَمَانَ رَكَعَاتٍ، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ:" إِنِّي صَلَّيْتُ صَلَاةَ رَغْبَةٍ وَرَهْبَةٍ، سَأَلْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ ثَلَاثًا، فَأَعْطَانِي ثِنْتَيْنِ وَمَنَعَنِي وَاحِدَةً سَأَلْتُهُ أَنْ لَا يَبْتَلِيَ أُمَّتِي بِالسِّنِينَ، فَفَعَلَ، وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يُظْهِرَ عَلَيْهِمْ عَدُوَّهُمْ، فَفَعَلَ، وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يَلْبِسَهُمْ شِيَعًا، فَأَبَى عَلَيَّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سفر میں چاشت کی آٹھ رکعتیں پڑھتے ہوئے دیکھا ہے اور نماز سے فارغ ہو کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں نے شوق اور خوف والی نماز پڑھی، میں نے اپنے پروردگار سے تین چیزوں کی درخواست کی، اس نے مجھے دو چیزیں عطاء فرما دیں اور ایک سے روک دیا، میں نے یہ درخواست کی کہ میری امت قحط سالی میں مبتلاء ہو کر ہلاک نہ ہو، اللہ نے منظور کرلیا، میں نے دوسری درخواست کی کہ دشمن کو ان پر مکمل غلبہ نہ دیا جائے، اللہ نے اسے بھی منظور کرلیا، پھر میں نے تیسری درخواست یہ پیش کی کہ انہیں مختلف فرقوں میں تقسیم نہ ہونے دیا جائے لیکن اللہ نے اسے منظور نہیں کیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12486]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الضحاك بن عبدالله القرشي
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الضحاك بن عبدالله القرشي
حدیث نمبر: 12487 مسند احمد
هَارُونُ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، قَتَادَةَ بْنَ دِعَامَةَ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَارُونُ ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ هَارُونَ غَيْرَ مَرَّةٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ قَتَادَةَ بْنَ دِعَامَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ تَوَضَّأَ وَتَرَكَ عَلَى قَدَمِهِ مِثْلَ مَوْضِعِ الظُّفُرِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ارْجِعْ فَأَحْسِنْ وُضُوءَكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا، اس نے وضو کر رکھا تھا لیکن پاؤں پر ناخن برابر جگہ چھوٹ گئی تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے فرمایا واپس جا کر اچھی طرح وضو کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12487]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وله شاهد من حديث عمر بن الخطاب عند مسلم: 243 سلف برقم: 134
الحكم: إسناده صحيح، وله شاهد من حديث عمر بن الخطاب عند مسلم: 243 سلف برقم: 134
حدیث نمبر: 12488 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، سُفْيَانُ ، سَلَمَةُ بْنُ وَرْدَانَ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ وَرْدَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يقول: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قُلْ يَأَيُّهَا الْكَافِرُونَ رُبُعُ الْقُرْآنِ، و إِذَا زُلْزِلَتِ الأَرْضُ رُبُعُ الْقُرْآنِ، و إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ رُبُعُ الْقُرْآنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا سورت کافرون چوتھائی قرآن کے برابر ہے، سورت زلزال چوتھائی قرآن کے برابر ہے اور سورت نصر بھی چوتھائی قرآن کے برابر ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12488]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف سلمة بن وردان
الحكم: إسناده ضعيف لضعف سلمة بن وردان
حدیث نمبر: 12489 مسند احمد
أَزْهَرُ بْنُ الْقَاسِمِ ، هِشَامٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَيُصِيبَنَّ أَقْوَامًا سَفْعٌ مِنَ النَّارِ عُقُوبَةً بِذُنُوبٍ عَمِلُوهَا، ثُمَّ لَيُدْخِلُهُمْ اللَّهُ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ، فَيُقَالُ لَهُمْ: الْجَهَنَّمِيُّونَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کچھ لوگ اپنے گناہوں کی وجہ سے جہنم میں داخل کئے جائیں گے جب وہ جل کو کوئلہ بن جائیں گے تو انہیں جنت میں داخل کردیا جائے گا، اہل جنت پوچھیں گے کہ یہ کون لوگ ہیں؟ انہیں بتایا جائے گا کہ یہ جہنمی ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12489]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 7450، وهذا إسناد قوي
الحكم: حديث صحيح، خ: 7450، وهذا إسناد قوي
حدیث نمبر: 12490 مسند احمد
أَزْهَرُ بْنُ الْقَاسِمِ الراسبي ، هِشَامٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ الْقَاسِمِ الراسبي ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى أَنْ يَشْرَبَ الرَّجُلُ وَهُوَ قَائِمٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کھڑے ہو کر پانی پینے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12490]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 2024، وهذا إسناد قوي كسابقه
الحكم: حديث صحيح، م: 2024، وهذا إسناد قوي كسابقه
حدیث نمبر: 12491 مسند احمد
يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، هِشَامٍ ، مُحَمَّدٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ حَمَّادٌ: وَالْجَعْدُ قد ذكره، قَالَ: عَمَدَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ إِلَى نِصْفِ مُدٍّ شَعِيرٍ فَطَحَنَتْهُ، ثُمَّ عَمَدَتْ إِلَى عُكَّةٍ كَانَ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ سَمْنٍ، فَاتَّخَذَتْ مِنْهُ خَطِيفَةً، قَالَ: ثُمَّ أَرْسَلَتْنِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ فِي أَصْحَابِهِ، فَقُلْتُ: إِنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ أَرْسَلَتْنِي إِلَيْكَ تَدْعُوكَ، فَقَالَ:" أَنَا وَمَنْ مَعِي"، قَالَ: فَجَاءَ هُوَ وَمَنْ مَعَهُ، قَالَ: فَدَخَلْتُ، فَقُلْتُ لِأَبِي طَلْحَةَ: قَدْ جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ مَعَهُ، فَخَرَجَ أَبُو طَلْحَةَ، فَمَشَى إِلَى جَنْبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّمَا هِيَ خَطِيفَةٌ اتَّخَذَتْهَا أُمُّ سُلَيْمٍ مِنْ نِصْفِ مُدٍّ شَعِيرٍ، قَالَ: فَدَخَلَ فَأَتِيَ بِهِ، قَالَ: فَوَضَعَ يَدَهُ فِيهَا، ثُمَّ قَالَ:" أَدْخِلْ عَشَرَةً،"، قَالَ: فَدَخَلَ عَشَرَةٌ، فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا، ثُمَّ دَخَلَ عَشَرَةٌ فَأَكَلُوا، ثُمَّ عَشَرَةٌ فَأَكَلُوا، ثُمَّ عَشَرَةٌ فَأَكَلُوا، حَتَّى أَكَلَ مِنْهَا أَرْبَعُونَ، كُلُّهُمْ أَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا، قَالَ: وَبَقِيَتْ كَمَا هِيَ، قَالَ: فَأَكَلْنَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ نے نصف مد کے برابر جو پیسے، پھر گھی کا ڈبہ اٹھایا، اس میں سے تھوڑا سا جو گھی تھا وہ نکالا اور ان دونوں چیزوں کا ملا کر "" خطیفہ "" (ایک قسم کا کھانا) تیار کیا اور مجھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بلانے کے لئے بھیج دیا، میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس پہنچا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان رونق افروز تھے، میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا کہ مجھے حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ نے آپ کے پاس کھانے کی دعوت دے کر بھیجا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مجھے اور میرے ساتھیوں کو بھی؟ یہ کہہ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے ساتھیوں کو لے کر روانہ ہوگئے۔ میں نے جلدی سے گھر پہنچ کر حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تو اپنے ساتھیوں کو بھی لے آئے، یہ سن کر حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف چلے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پہلو میں چلتے چلتے کہہ دیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! یہاں تو تھوڑا سا "" خطیفہ "" ہے جو ام سلیم نے نصف مد کے برابر جو سے بنایا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب ان کے گھر پہنچے تو وہ کھانا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس لایا گیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس پر اپنا دست مبارک رکھا اور فرمایا دس آدمیوں کو بلاؤ، چنانچہ دس آدمی اندر آئے اور انہوں نے خوب سیر ہو کر کھانا کھایا، پھر دس دس کر کے چالیس آدمیوں نے وہ کھانا کھالیا اور خوب سیر ہو کر سب نے کھایا اور وہ کھانا جیسے تھا، ویسے ہی باقی رہا، ہم نے بھی اسے کھایا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12491]
حکم دارالسلام
إسناداه صحيحان، خ: 5450، م: 2040، وفيه: "والقوم سبعون رجلا أو ثمانون"
الحكم: إسناداه صحيحان، خ: 5450، م: 2040، وفيه: "والقوم سبعون رجلا أو ثمانون"
حدیث نمبر: 12492 مسند احمد
حُجَيْنٌ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُجَيْنٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَوْ اطَّلَعَتْ امْرَأَةٌ مِنْ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ عَلَى أَهْلِ الْأَرْضِ، لَأَضَاءَتْ مَا بَيْنَهُمَا، وَلَمَلَأَتْ مَا بَيْنَهُمَا بِرِيحِهَا، وَلَنَصِيفُهَا عَلَى رَأْسِهَا خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، اگر کوئی جنتی عورت زمین کی طرف جھانک کر دیکھ لے تو ان دونوں کی درمیانی جگہ روشن ہوجائے اور خوشبو سے بھر جائے اور اس کا سر کا دوپٹہ دنیا ومافیہا سے بہتر ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12492]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر: 12436
الحكم: إسناده صحيح، وانظر: 12436
حدیث نمبر: 12493 مسند احمد
حُجَيْنٌ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ ، مُحَمَّدٍ بنْ أَبِي بَكْرٍ الثَّقَفِيِّ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُجَيْنٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ مُحَمَّدٍ بنْ أَبِي بَكْرٍ الثَّقَفِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةَ عَرَفَةَ، مِنَّا الْمُكَبِّرُ، وَمِنَّا الْمُهِلُّ، لَا يُعَابُ عَلَى الْمُكَبِّرِ تَكْبِيرُهُ، وَلَا عَلَى الْمُهِلِّ إِهْلَالُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عرفہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ہم میں سے کچھ لوگ تہلیل کہہ رہے تھے اور بعض تکبیر کہہ رہے تھے اور ان میں سے کوئی کسی پر عیب نہیں لگاتا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12493]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 970، م: 1285
الحكم: إسناده صحيح، خ: 970، م: 1285
حدیث نمبر: 12494 مسند احمد
يُونُسُ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ النَّاسِ، وَكَانَ أَجْوَدَ النَّاسِ، وَكَانَ أَشْجَعَ النَّاسِ، قَالَ: وَلَقَدْ فَزِعَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ لَيْلَةً، فَانْطَلَقَ قِبَلَ الصَّوْتِ، فَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاجِعًا، قَدْ اسْتَبْرَأَ لَهُمْ الصَّوْتَ، وَهُوَ عَلَى فَرَسٍ لِأَبِي طَلْحَةَ عُرْيٍ مَا عَلَيْهِ سَرْجٌ، وَفِي عُنُقِهِ السَّيْفُ، وَهُوَ يَقُولُ لِلنَّاسِ: لَمْ تُرَاعُوا، لَمْ تُرَاعُوا، وَقَالَ لِلْفَرَسِ: وَجَدْنَاهُ بَحْرًا أَوْ إِنَّهُ لَبَحْرٌ"، قَالَ أَنَسٌ: وَكَانَ الْفَرَسُ قَبْلَ ذَلِكَ يُبَطَّأُ، قَالَ: مَا سُبِقَ بَعْدَ ذَلِكَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تمام لوگوں میں سب سے زیادہ خوبصورت، سخی اور بہادر تھے، ایک مرتبہ رات کے وقت اہل مدینہ دشمن کے خوف سے گھبرا اٹھے اور اس آواز کے رخ پر چل پڑے، دیکھا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم واپس چلے آرہے ہیں اور حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے بےزین گھوڑے پر سوار ہیں، گردن میں تلوار لٹکا رکھی ہے اور لوگوں سے کہتے جا رہے ہیں کہ گھبرانے کی کوئی بات نہیں، مت گھبراؤ اور گھوڑے کے متعلق فرمایا کہ ہم نے اسے سمندر جیسا رواں پایا، حالانکہ پہلے وہ گھوڑا سست تھا لیکن اس کے بعد اس سے کوئی گھوڑا آگے نہ بڑھ سکا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12494]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2820، م: 2307
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2820، م: 2307
حدیث نمبر: 12495 مسند احمد
يُونُسُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَزْرَعُ زَرْعًا، أَوْ يَغْرِسُ غَرْسًا، فَيَأْكُلُ مِنْهُ طَيْرٌ، أَوْ إِنْسَانٌ، أَوْ بَهِيمَةٌ، إِلَّا كَانَ لَهُ بِهِ صَدَقَةٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو مسلمان کوئی کھیت اگاتا ہے، یا کوئی پودا اگاتا ہے اور اس سے کسی پرندے، انسان یا درندے کو رزق ملتا ہے تو وہ اس کے لئے صدقہ کا درجہ رکھتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12495]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2320، م: 1553
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2320، م: 1553
حدیث نمبر: 12496 مسند احمد
يُونُسُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَصَمِّ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَصَمِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ بِجُبَّةِ سُنْدُسٍ، فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَعَثْتَ بِهَا إِلَيَّ وَقَدْ قُلْتَ فِيهَا مَا قُلْتَ؟! فَقَالَ:" إِنِّي لَمْ أَبْعَثْ بِهَا إِلَيْكَ لِتَلْبَسَهَا، وَإِنَّمَا بَعَثْتُ بِهَا إِلَيْكَ لِتَنْتَفِعَ بِثَمَنِهَا أَوْ تَبِيعَهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک ریشمی جبہ بھیجا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی تو وہ کہنے لگے کہ آپ نے مجھے ریشمی جبہ بھجوایا ہے حالانکہ اس کے متعلق آپ نے جو فرمایا ہے وہ فرمایا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں نے وہ تمہارے پاس پہننے کے لئے نہیں بھیجا، میں نے تو صرف اس لئے بھیجا تھا کہ تم اسے بیچ دو یا اس سے کسی اور طرح نفع حاصل کرلو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12496]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2072
الحكم: إسناده صحيح، م: 2072
حدیث نمبر: 12497 مسند احمد
يُونُسُ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" دَعَا بِمَاءٍ فِي قَدَحٍ رَحْرَاحٍ، فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَابِعَهُ فِي الْقَدَحِ، فَجَعَلَ الْمَاءُ يَنْبُعُ، وَجَعَلَ الْقَوْمُ يَتَوَضَّئُونَ مِنْهُ، وَيَخْرُجُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ، قَالَ: وَجَعَلَ الْقَوْمُ يَتَوَضَّئُونَ، قَالَ: فَحَزَرْتُ الْقَوْمَ، فَإِذَا مَا بَيْنَ السَّبْعِينَ إِلَى الثَّمَانِينَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک کشادہ پیالے میں پانی منگوایا اور اپنی انگلیاں اس پیالے میں رکھ دیں، میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی انگلیوں کے نیچے سے پانی ابل رہا ہے اور لوگ اس سے وضو کرتے رہے میں نے اندازہ کیا تو لوگوں کی تعداد ستر سے اسی کے درمیان تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12497]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 200، م: 2279
الحكم: إسناده صحيح، خ: 200، م: 2279
حدیث نمبر: 12498 مسند احمد
يُونُسُ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَوْ غَيْرِهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ عَالَ ابْنَتَيْنِ، أَوْ ثَلَاثَ بَنَاتٍ، أَوْ أُخْتَيْنِ، أَوْ ثَلَاثَ أَخَوَاتٍ، حَتَّى يَمُتْنَ، أَوْ يَمُوتَ عَنْهُنَّ، كُنْتُ أَنَا وَهُوَ كَهَاتَيْنِ"، وَأَشَارَ بِأُصْبُعَيْهِ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص دو یا تین بیٹیوں یا بہنوں کا ذمہ دار بنا (اور ذمہ داری نبھائی) یہاں تک کہ وہ فوت ہوگئیں، یا وہ شخص خود فوت ہوگیا تو میں اور وہ ان دو انگلیوں کی طرح ساتھ ہوں گے، یہ کہہ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے شہادت والی اور درمیانی انگلی کی طرف اشارہ فرمایا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12498]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2631
الحكم: إسناده صحيح، م: 2631
حدیث نمبر: 12499 مسند احمد
يُونُسُ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ جَدِّهِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، يَرْفَعُ الْحَدِيثَ، قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ وَكَّلَ بِالرَّحِمِ مَلَكًا، فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ، نُطْفَةٌ، أَيْ رَبِّ، عَلَقَةٌ، أَيْ رَبِّ، مُضْغَةٌ، فَإِذَا أَرَادَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَقْضِيَ خَلْقَهَا"، قَالَ:" يَقُولُ: أَيْ رَبِّ، ذَكَرٌ أَوْ أُنْثَى؟ شَقِيٌّ أَوْ سَعِيدٌ؟ فَمَا الرِّزْقُ؟ فَمَا الْأَجَلُ؟"، قَالَ:" فَيُكْتَبُ كَذَلِكَ فِي بَطْنِ أُمِّهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے ماں کے رحم پر ایک فرشتہ مقرر کر رکھا ہے، جو اپنے اپنے وقت پر یہ کہتا رہتا ہے کہ پروردگار! اب نطفہ بن گیا، پروردگار! اب گوشت کی بوٹی بن گیا، پھر جب اللہ اسے پیدا کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو وہ پوچھتا ہے کہ پروردگار! یہ شقی ہوگا یا سعید؟ مذکر ہوگا یا مونث؟ اور عمر کتنی ہوگی؟ یہ سب چیزیں ماں کے پیٹ میں لکھ دی جاتی ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12499]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3333، م: 2646
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3333، م: 2646
حدیث نمبر: 12500 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَنَسٍ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ.
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر ما قبله
الحكم: إسناده صحيح، وانظر ما قبله