بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 12482
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 12482
حدیث نمبر: 12482 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
حَسَنٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَجُلًا، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِفُلَانٍ نَخْلَةً، وَأَنَا أُقِيمُ حَائِطِي بِهَا، فَأْمُرْهُ أَنْ يُعْطِيَنِي حَتَّى أُقِيمَ حَائِطِي بِهَا، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَعْطِهَا إِيَّاهُ بِنَخْلَةٍ فِي الْجَنَّةِ" فَأَبَى، فَأَتَاهُ أَبُو الدَّحْدَاحِ، فَقَالَ: بِعْنِي نَخْلَتَكَ بِحَائِطِي، فَفَعَلَ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي قَدْ ابْتَعْتُ النَّخْلَةَ بِحَائِطِي، قَالَ: فَاجْعَلْهَا لَهُ، فَقَدْ أَعْطَيْتُكَهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَمْ مِنْ عَذْقٍ رَدَاحٍ لِأَبِي الدَّحْدَاحِ فِي الْجَنَّةِ"، قَالَهَا: مِرَارًا، قَالَ: فَأَتَى امْرَأَتَهُ، فَقَالَ: يَا أُمَّ الدَّحْدَاحِ، اخْرُجِي مِنَ الْحَائِطِ، فَإِنِّي قَدْ بِعْتُهُ بِنَخْلَةٍ فِي الْجَنَّةِ، فَقَالَتْ: رَبِحَ الْبَيْعُ، أَوْ كَلِمَةً تُشْبِهُهَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! فلاں آدمی کا ایک باغ ہے، میں وہاں اپنی دیوار قائم کرنا چاہتا ہوں، آپ اسے حکم دیجئے کہ وہ مجھے یہ جگہ دے دے تاکہ میں اپنی دیوار کھڑی کرلوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے متعلقہ آدمی سے کہہ دیا کہ جنت میں ایک درخت کے بدلے تم اسے یہ جگہ دے دو، لیکن اس نے انکار کردیا، حضرت ابوالدحداح رضی اللہ عنہ کو پتہ چلا تو وہ اس کے پاس گئے اور کہنے لگے کہ اپنا باغ میرے باغ کے عوض فروخت کردو، اس نے بیچ دیا، وہ اسے خریدنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ میں نے وہ باغ اپنے باغ کے بدلے خرید لیا ہے، آپ یہ اس شخص کو دے دیجئے، کہ میں نے یہ باغ آپ کو دے دیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ سن کر کئی مرتبہ فرمایا کہ ابوالدحداح کے لئے جنت میں کتنے بہترین گھچے ہیں، اس کے بعد وہ اپنی بیوی کے پاس پہنچے اور اس سے فرمایا کہ اے ام دحداح! اس باغ سے نکل چلو کہ میں نے اسے جنت کے باغ کے عوض فروخت کردیا ہے، ان کی بیوی نے کہا کہ کامیاب تجارت کی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12482]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر قوله صلي الله علیه وسلم: "كم من عذق....." في حدیث جابر بن سمرة عند مسلم : 965
الحكم: إسناده صحيح، وانظر قوله صلي الله علیه وسلم: "كم من عذق....." في حدیث جابر بن سمرة عند مسلم : 965
← پچھلی حدیث (12481) باب پر واپس اگلی حدیث (12483) →