بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَنَسِ بنِ مَالِك رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2170
صفحہ 2 از 109
حدیث نمبر: 11961 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، أَخْبَرَنَا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ , قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ , قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُلَبِّي بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ جَمِيعًا، فَحَدَّثْتُ بِِذَاكَ ابْنَ عُمَرَ , فَقَالَ: لَبَّى بِالْحَجِّ وَحْدَهُ , فَلَقِيتُ أَنَسًا، فَحَدَّثْتُهُ بِقَوْلِ ابْنِ عُمَرَ , فَقَالَ: مَا تَعُدُّونَا إِلَّا صِبْيَانًا! سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَحَجًّا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
بکر بن مزنی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو حج اور عمرہ کا تلبیہ اکٹھے پڑھتے ہوئے سنا ہے، تو میں نے یہ حدیث حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے بیان کی، وہ کہنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تو صرف حج کا تلبیہ پڑھا تھا، جب میری ملاقات حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو میں نے انہیں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کی بات بتائی، وہ کہنے لگے کہ تم لوگ ہمیں بچہ سمجھتے ہو؟ میں نے خود نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو " لبیک عمرۃ وحجا " کہتے ہوئے سنا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11961]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 4353، 4354 ، م: 1232
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 4353، 4354 ، م: 1232
حدیث نمبر: 11962 مسند احمد
مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، أَبِي ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: قَالَ أَبِي : حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، حَسِبْتُهُ، قَالَ:" عَطَسَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلَانِ، فَشَمَّتَ أَحَدَهُمَا، أَوْ قَالَ: سَمَّتَ، وَتَرَكَ الْآخَرَ , فَقِيلَ: رَجُلَانِ عَطَسَ أَحَدُهُمَا فَشَمَّتَّهُ، وَلَمْ تُشَمِّتْ الْآخَرَ!، فَقَالَ: إِنَّ هَذَا حَمِدَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مجلس میں دو آدمیوں کو چھینک آئی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان میں سے ایک کو جواب (یرحمک اللہ کہہ کر) دے دیا اور دوسرے کو چھوڑ دیا، کسی نے پوچھا کہ دو آدمیوں کو چھینک آئی، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان میں سے ایک کو جواب دیا دوسرے کو کیوں نہ دیا؟ فرمایا کہ اس نے " الحمدللہ " کہا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11962]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 6221 ، م: 2991
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 6221 ، م: 2991
حدیث نمبر: 11963 مسند احمد
مُعْتَمِرٌ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُحِبُّ أَنْ يَلِيَهُ الْمُهَاجِرُونَ، وَالْأَنْصَارُ فِي الصَّلَاةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس بات کو پسند فرماتے تھے کہ نماز میں مہاجرین اور انصار مل کر کھڑے ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11963]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 11964 مسند احمد
مُعْتَمِرٌ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا سَقَطَتْ لُقْمَةُ أَحَدِكُمْ فَلْيَأْخُذْهَا، وَلْيَمْسَحْ مَا بِهَا مِنَ الْأَذَى، وَلَا يَدَعْهَا لِلشَّيْطَانِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ نے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کے ہاتھ سے لقمہ گرجائے تو وہ اس پر لگنے والی چیز کو ہٹا دے اور اسے شیطان کے لئے نہ چھوڑے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11964]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2034
الحكم: إسناده صحيح، م: 2034
حدیث نمبر: 11965 مسند احمد
مُعْتَمِرٌ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ , عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" لَمْ يَكُنْ فِي رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِحْيَتِهِ عِشْرُونَ شَعَرَةً بَيْضَاءَ، وَخَضَبَ أَبُو بَكْرٍ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ، وَخَضَبَ عُمَرُ بِالْحِنَّاء".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مبارک ڈاڑھی میں بیس بال بھی سفید نہ تھے، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ مہندی اور وسمہ کا خضاب لگاتے تھے جبکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ صرف مہندی کا خضاب لگاتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11965]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 5894 ، م: 2341
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 5894 ، م: 2341
حدیث نمبر: 11966 مسند احمد
مُعْتَمِرٌ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ , عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" حَجَمَ أَبُو طَيْبَةَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَعْطَاهُ صَاعًا مِنْ طَعَامٍ، وَكَلَّمَ أَهْلَهُ، فَخَفَّفُوا عَنْهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابو طیبہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سینگی لگائی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے ایک صاع گندم دی اور اس کے مالک سے بات کی تو انہوں نے اس پر تخفیف کردی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11966]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 5696 ، م: 1577
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 5696 ، م: 1577
حدیث نمبر: 11967 مسند احمد
مُعْتَمِرٌ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ , قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" مِنْ أَتَمِّ النَّاسِ صَلَاةً وَأَوْجَزِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم لوگوں میں سب سے زیادہ نماز کو مکمل اور مختصر کرنے والے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11967]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 706 ، م: 469
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 706 ، م: 469
حدیث نمبر: 11968 مسند احمد
مُعْتَمِرٌ ، الْأَخْضَرَ بْنَ عَجْلَانَ ، أَبِي بَكْرٍ الْحَنَفِيِّ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْأَخْضَرَ بْنَ عَجْلَانَ , عَنْ أَبِي بَكْرٍ الْحَنَفِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" بَاعَ قَدَحًا وَحِلْسًا فِي مَنْ يَزِيدُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بولی لگا کر ایک پیالہ اور ایک ٹاٹ بیچا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11968]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة حال اب بكر الحنفي
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة حال اب بكر الحنفي
حدیث نمبر: 11969 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، الْأَخْضَرِ ، وَكِيعٌ ، عَبد الله بن عثمان ، الْأَخْضَرِ بْنِ عَجْلَانَ ، أَبِي بَكْرٍ الْحَنَفِيِّ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ الْأَخْضَرِ , قَالَ: وحَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ عَبد الله بن عثمان يعني صَاحِبَ شُعْبَةَ , عَنْ الْأَخْضَرِ بْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الْحَنَفِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , نَحْوَهُ.
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف كسابقة
الحكم: إسناده ضعيف كسابقة
حدیث نمبر: 11970 مسند احمد
بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، غَالِبٌ الْقَطَّانُ ، بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا غَالِبٌ الْقَطَّانُ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" كُنَّا نُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شِدَّةِ الْحَرِّ، فَإِذَا لَمْ يَسْتَطِعْ أَحَدُنَا أَنْ يُمَكِّنَ وَجْهَهُ مِنَ الْأَرْضِ , بَسَطَ ثَوْبَهُ فََسَجَدَ عَلَيْهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کہ ہم لوگ سخت گرمی میں بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھا کرتے تھے اگر ہم میں سے کسی میں زمین پر اپنا چہرہ رکھنے کی ہمت نہ ہوتی تو وہ اپنا کپڑا بچھا کر اس پر سجدہ کرلیتا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11970]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 358 ، م: 620
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 358 ، م: 620
حدیث نمبر: 11971 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ ، أَيُّوبُ ، أَبِي قِلَابَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ , حَدَّثَنَا أَيُّوبُ , عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا وُضِعَ الْعَشَاءُ، وَأُقِيمَتْ الصَّلَاةُ، فَابْدَءُوا بِالْعَشَاءِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب رات کا کھانا سامنے آجائے اور نماز کھڑی ہوجائے تو پہلے کھانا کھالو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11971]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا اسناد حسن كسابقة، خ: 213
الحكم: حديث صحيح، وهذا اسناد حسن كسابقة، خ: 213
حدیث نمبر: 11972 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ ، ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، وَيَزِيدَ بْنِ هَارُونَ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، وَيَزِيدَ بْنِ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ نَسِيَ صَلَاةً، أَوْ نَامَ عَنْهَا , فَإِنَّمَا كَفَّارَتُهَا أَنْ يُصَلِّيَهَا إِذَا ذَكَرَهَا"، قَالَ يَزِيدُ: فَكَفَّارَتُهَا أَنْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص نماز پڑھنا بھول جائے یا سو جائے، تو اس کا کفارہ یہی ہے کہ جب یاد آجائے، اسے پڑھ لے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11972]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2734
الحكم: إسناده صحيح، م: 2734
حدیث نمبر: 11973 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، زَكَرِيَّا ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ , حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَيَرْضَى عَنِ الْعَبْدِ أَنْ يَأْكُلَ الْأُكْلَةَ، فَيَحْمَدَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهَا، أَوْ يَشْرَبَ الشَّرْبَةَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ بندے سے صرف اتنی بات پر بھی راضی ہوجاتے ہیں کہ وہ کوئی لقمہ کھائے یا پانی کا گھونٹ پی کر اللہ کا شکر ادا کر دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11973]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 2768 ، م: 2309
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 2768 ، م: 2309
حدیث نمبر: 11974 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ ، زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ , حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" خَدَمْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعَ سِنِينَ، فَمَا أَعْلَمُهُ قَالَ لِي قَطُّ: هَلَّا فَعَلْتَ كَذَا وَكَذَا، وَلَا عَابَ عَلَيَّ شَيْئًا قَطُّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت نو سال تک کی ہے، مجھے یاد نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کبھی مجھ سے یہ فرمایا ہو کہ تم نے فلاں کام کیوں نہیں کیا؟ اور نہ ہی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کبھی مجھ میں کوئی عیب نکالا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11974]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 1653 ، م: 1309
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 1653 ، م: 1309
حدیث نمبر: 11975 مسند احمد
إِسْحَاقُ ، سُفْيَانُ ، عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ , قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قُلْتُ: أَخْبِرْنِي بِشَيْءٍ عَقِلْتَهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْنَ" صَلَّى الظُّهْرَ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ؟، قَالَ: بِمِنًى" , قلت: وَأَيْنَ" صَلَّى الْعَصْرَ يَوْمَ النَّفْرِ؟، قَالَ: بِالْأَبْطَحِ"، قَالَ: ثُمَّ قَالَ: افْعَلْ كَمَا يَفْعَلُ أُمَرَاؤُكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبدالعزیز بن رفیع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حوالے سے اگر آپ کو یہ بات معلوم ہو کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آٹھ ذی الحجہ کے دن ظہر کی نماز کہاں پڑھی تھی تو مجھے بتا دیجئے؟ انہوں نے فرمایا منیٰ میں، میں نے پوچھا کہ کوچ کے دن عصر کی نماز کہاں پڑھی تھی؟ فرمایا مقام ابطح میں، پھر فرمایا کہ تم اسی طرح کرو جیسے تہمارے امراء کرتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11975]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 386, 5850 ، م: 555
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 386, 5850 ، م: 555
حدیث نمبر: 11976 مسند احمد
عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ ، وَغَسَّانُ بْنُ مُضَرَ ، سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ أَبِي مَسْلَمَةَ ، لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ , وَغَسَّانُ بْنُ مُضَرَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ أَبِي مَسْلَمَةَ , قَالَ: قُلْتُ لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ :" أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي نَعْلَيْهِ؟، قَالَ: نَعَمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سعید بن یزید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے جوتوں میں نماز پڑھ لیتے تھے؟ انہوں نے فرمایا جی ہاں!۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11976]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 529
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 529
حدیث نمبر: 11977 مسند احمد
زِيَادُ بْنُ الرَّبِيعِ أَبُو خِدَاشٍ الْيُحْمَدِيُّ ، أَبَا عِمْرَانَ الْجَوْنِيَّ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ الرَّبِيعِ أَبُو خِدَاشٍ الْيُحْمَدِيُّ , قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عِمْرَانَ الْجَوْنِيَّ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ:" مَا أَعْرِفُ شَيْئًا الْيَوْمَ مِمَّا كُنَّا عَلَيْهِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قُلْنَا لَهُ: فَأَيْنَ الصَّلَاةُ؟، قَالَ: أَوَلَمْ تَصْنَعُوا فِي الصَّلَاةِ مَا قَدْ عَلِمْتُمْ؟".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں ہم جو کچھ کرتے تھے، آج مجھے ان میں کچھ بھی نظر نہیں آتا، لوگوں نے کہا کہ نماز کہاں گئی؟ (ہم نماز تو پڑھتے ہیں) فرمایا کہ یہ تم بھی جانتے ہو کہ تم نماز میں کیا کرتے ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11977]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 5846 ، م: 2101
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 5846 ، م: 2101
حدیث نمبر: 11978 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , قَالَ: نَهَى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنْ يَتَزَعْفَرَ الرَّجُلُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مرد کو زعفران کی خوشبو لگانے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11978]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 6351 ، م: 2680
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 6351 ، م: 2680
حدیث نمبر: 11979 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، عَبْدِ الْعَزِيزِ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ , عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَتَمَنَّى أَحَدُكُمْ الْمَوْتَ لِضُرٍّ نَزَلَ بِهِ، فَإِنْ كَانَ لَا بُدَّ مُتَمَنِّيَ الْمَوْتَ، فَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مَا كَانَتِ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي , وَتَوَفَّنِي إِذَا كَانَتِ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص اپنے اوپر آنے والی کسی تکلیف کی وجہ سے موت کی تمنا نہ کرے، اگر موت کی تمنا کرنا ہی ضروری ہو تو اسے یوں کہنا چاہئے کہ اے اللہ! جب تک میرے لئے زندگی میں کوئی خیر ہے، مجھے اس وقت تک زندہ رکھ اور جب میرے لئے موت میں بہتری ہو تو مجھے موت عطاء فرما دینا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11979]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 6338 ، م: 2678
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 6338 ، م: 2678
حدیث نمبر: 11980 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا دَعَا أَحَدُكُمْ فَلْيَعْزِمْ فِي الدُّعَاءِ، وَلَا يَقُل اللَّهُمَّ إِنْ شِئْتَ فَأَعْطِنِي، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا مُسْتَكْرِهَ لَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص دعا کرے تو یقین اور پختگی کے ساتھ دعاء کرے اور یہ نہ کہے کہ اے اللہ! اگر آپ چاہیں تو مجھے یہ عطاء فرما دیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ پر کوئی زبردستی کرنے والا نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11980]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 4522 ، م: 2690
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 4522 ، م: 2690