بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَنَسِ بنِ مَالِك رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2170
صفحہ 42 از 109
حدیث نمبر: 12761 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، ثَابِتٍ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسِيرُ وَحَادٍ يَحْدُو بِنِسَائِهِ، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا هُوَ قَدْ تَنَحَّى بِهِنَّ، قَالَ: فَقَالَ:" يَا أَنْجَشَةُ، وَيْحَكَ، ارْفُقْ بِالْقَوَارِيرِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سفر پر تھے اور حدی خوان امہات المومنین کی سواریوں کو ہانک رہا تھا، اس نے جانوروں کو تیزی کے ساتھ ہانکنا شروع کردیا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہنستے ہوئے فرمایا انجثہ! ان آبگینوں کو آہستہ لے کر چلو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12761]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6209، م: 2323
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6209، م: 2323
حدیث نمبر: 12762 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، مَنْصُورٍ ، سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ يُحَدِّثُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَتَى السَّاعَةُ؟، فَقَالَ:" مَا أَعْدَدْتَ لَهَا؟" فَقَالَ: مَا أَعْدَدْتُ لَهَا مِنْ كَثِيرِ صَلَاةٍ، وَلَا صَوْمٍ، وَلَا صَدَقَةٍ، إِلَّا أَنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، فَقَالَ:" فأَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ قیامت کب قائم ہوگی؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم نے قیامت کے لئے کیا تیاری کر رکھی ہے؟ اس نے کہا کہ میں نے کوئی بہت زیادہ اعمال تو مہیا نہیں کر رکھے، البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے محبت کرتا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ انسان قیامت کے دن اس شخص کے ساتھ ہوگا جس کے ساتھ وہ محبت کرتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12762]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7153، م: 2639
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7153، م: 2639
حدیث نمبر: 12763 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَتَّابًا ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَتَّابًا مَوْلَى ابْنِ هُرْمُزَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ:" بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي هَذِهِ يَعْنِي الْيُمْنَى عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِيمَا اسْتَطَعْتُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے اپنے اس دائیں ہاتھ سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بیعت بات سننے اور ماننے کی شرط پر کی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس میں " حسب طاقت " کی قید لگا دی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12763]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 12764 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، وَهَاشِمٌ ، شُعْبَةُ ، عَتَّابٍ ، هَاشِمٌ ، مَوْلَى بَنِي هُرْمُزَ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، وَهَاشِمٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَتَّابٍ ، وَقَالَ هَاشِمٌ مَوْلَى بَنِي هُرْمُزَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: لَوْلَا أَنْ أَخْشَى أَنْ أُخْطِئَ لَحَدَّثْتُكُمْ بِأَشْيَاءَ سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَكِنَّهُ قَالَ:" مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ"، قَالَ هَاشِمٌ: قَالَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اگر مجھے غلطی کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں تم سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بہت سی احادیث بیان کرتا لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص میری طرف جان بوجھ کر کسی جھوٹی بات کی نسبت کرے، اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالینا چاہئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12764]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 108، م: فى المقدمة: 2
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 108، م: فى المقدمة: 2
حدیث نمبر: 12765 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ، وَجَدَ طَعْمَ الْإِيمَانِ: مَنْ كَانَ يُحِبُّ الْمَرْءَ لَا يُحِبُّهُ إِلَّا لِلَّهِ، وَمَنْ كَانَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا، وَمَنْ كَانَ أَنْ يُلْقَى فِي النَّارِ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَرْجِعَ فِي الْكُفْرِ بَعْدَ إِذْ أَنْقَذَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تین چیزیں جس شخص میں بھی ہوں گی وہ ایمان کی حلاوت محسوس کرے گا، ایک تو یہ کہ اسے اللہ اور اس کے رسول دوسروں سے زیادہ محبوب ہوں، دوسرا یہ کہ انسان کسی سے محبت کرے تو صرف اللہ کی رضاء کے لئے اور تیسرا یہ کہ انسان کفر سے نجات ملنے کے بعد اس میں واپس جانے کو اسی طرح ناپسند کرے جیسے آگ میں چھلانگ لگانے کو ناپسند کرتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12765]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 21، م: 43
الحكم: إسناده صحيح، خ: 21، م: 43
حدیث نمبر: 12766 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَنْصَارَ فَقَالَ:" أَفِيكُمْ أَحَدٌ مِنْ غَيْرِكُمْ؟" قَالُوا: لَا، إِلَّا ابْنَ أُخْتٍ لَنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ، قَالَ حَجَّاجٌ: أَوْ مِنْ أَنْفُسِهِمْ، فَقَالَ:" إِنَّ قُرَيْشًا حَدِيثُ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ وَمُصِيبَةٍ، وَإِنِّي أَرَدْتُ أَنْ أَجْبُرَهُمْ وَأَتَأَلَّفَهُمْ، أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَرْجِعَ النَّاسُ بِالدُّنْيَا، وَتَرْجِعُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بُيُوتِكُمْ؟ لَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا، وَسَلَكَتْ الْأَنْصَارُ شِعْبًا، لَسَلَكْتُ شِعْبَ الْأَنْصَارِ"، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" فَأَرَدْتُ أَنْ أَتَأَلَّفَهُمْ وَأَجْبُرَهُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انصاری صحابہ رضی اللہ عنہ کو جمع کیا اور ان سے پوچھا کہ تم میں انصار کے علاوہ تو کوئی نہیں ہے؟ انہوں نے عرض کیا نہیں، البتہ ہمارا ایک بھانجا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کسی قوم کا بھانجا ان ہی میں شمار ہوتا ہے، پھر فرمایا قریش کا زمانہ جاہلیت اور مصیبت قریب ہی ہے اور اس کے ذریعے میں ان کی تالیف قلب کرتا ہوں، کیا تم لوگ اس بات پر خوش نہیں ہو کہ لوگ مال و دولت لے کر چلے جائیں اور تم پیغمبر اللہ کو اپنے گھروں میں لے جاؤ اگر لوگ ایک راستے پر چل رہے ہوں اور انصار دوسرے راستے پر تو میں انصار کے راستے پر چلوں گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12766]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4334، 6762، م: 1059
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4334، 6762، م: 1059
حدیث نمبر: 12767 مسند احمد
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: «فَأَرَدْتُ أَنْ أَتَأَلَّفَهُمْ وَأَجْبُرَهُمْ»
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر ما قبله
الحكم: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 12768 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، حدثنا أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ:" اللَّهُمَّ إِنَّ الْعَيْشَ عَيْشُ الْآخِرَهْ" قَالَ شُعْبَةُ: أَوْ قَالَ:" اللَّهُمَّ لَا عَيْشَ إِلَّا عَيْشُ الْآخِرَهْ فَأَكْرِمْ الْأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَهْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرمایا کرتے تھے اصل خیر آخرت ہی کی خیر ہے، یا یہ فرماتے کہ اے اللہ! آخرت کی خیر کے علاوہ کوئی خیر نہیں، پس انصار اور مہاجرین کو معزز فرما۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12768]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3795، م: 1805
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3795، م: 1805
حدیث نمبر: 12769 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ مَتَى السَّاعَةُ؟ قَالَ:" مَا أَعْدَدْتَ لَهَا؟" قَالَ: حُبَّ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولِهِ، قَالَ:" أَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک دیہاتی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قیامت کب قائم ہوگی؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم نے قیامت کے لئے کیا تیاری کر رکھی ہے؟ اس نے کہا کہ میں نے کوئی بہت زیادہ اعمال تو مہیا نہیں کر رکھے، البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے محبت کرتا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ انسان قیامت کے دن اس شخص کے ساتھ ہوگا جس کے ساتھ وہ محبت کرتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12769]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2639
الحكم: إسناده صحيح، م: 2639
حدیث نمبر: 12770 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَ: حدثنا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ: قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَقَدْ أَنْذَرَ أُمَّتَهُ الْأَعْوَرَ الْكَذَّابَ، أَلَا إِنَّهُ أَعْوَرُ، وَإِنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ، مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَ ف رَ"، قَالَ حَجَّاجٌ:" كَافِرٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی مکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا دنیا میں جو نبی بھی مبعوث ہو کر آئے، انہوں نے اپنی امت کو کانے کذاب سے ضرور ڈرایا، یاد رکھو! دجال کانا ہوگا اور تمہارا رب کانا نہیں ہے اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوگا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12770]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7131، م: 2933
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7131، م: 2933
حدیث نمبر: 12771 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" مَا مِنْ أَحَدٍ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ، يُحِبُّ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا، وَإِنَّ لَهُ مَا عَلَى الْأَرْضِ مِنْ شَيْءٍ غَيْرَ الشَّهِيدِ، فَإِنَّهُ يَتَمَنَّى أَنْ يَرْجِعَ فَيُقْتَلَ عَشْرَ مَرَّاتٍ، لِمَا يَرَى مِنَ الْكَرَامَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جنت میں داخل ہونے والا کوئی شخص بھی جنت سے نکلنا کبھی پسند نہیں کرے گا سوائے شہید کے کہ جس کی خواہش یہ ہوگی کہ وہ جنت سے نکلے اور پھر اللہ کی راہ میں شہید ہو، کیونکہ اسے اس کی عزت نظر آرہی ہوگی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12771]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2817، م: 1877
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2817، م: 1877
حدیث نمبر: 12772 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَخْرِجُوا مِنَ النَّارِ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِنَ الْخَيْرِ مَا يَزِنُ شَعِيرَةً، أَخْرِجُوا مِنَ النَّارِ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِنَ الْخَيْرِ مَا يَزِنُ ذَرَّةً، أَخْرِجُوا مِنَ النَّارِ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِنَ الْخَيْرِ مَا يَزِنُ بُرَّةً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا ہر اس شخص کو جہنم سے نکال لو جو لا الہ الا اللہ کا اقرار کرتا تھا اور اس کے دل میں جو کے دانے کے برابر بھی خیر موجود ہو، پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ ہر اس شخص کو جہنم سے نکال لو جو لا الہ الا اللہ کا اقرار کرتا تھا اور اس کے دل میں گندم کے دانے کے برابر بھی خیر موجود ہو پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا ہر اس شخص کو جہنم سے نکال لو جو لا الہ الا اللہ کا اقرار کرتا تھا اور اس کے دل میں ایک ذرے کے برابر بھی خیر موجود ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12772]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 44، م: 193
الحكم: إسناده صحيح، خ: 44، م: 193
حدیث نمبر: 12773 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَا: أخبرنا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَخَفِّ النَّاسِ صَلَاةً فِي تَمَامٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نماز سب سے زیادہ خفیف اور مکمل ہوتی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12773]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 706، م: 469
الحكم: إسناده صحيح، خ: 706، م: 469
حدیث نمبر: 12774 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، وَأَسْوَدُ يَعْنِي شَاذَانَ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةُ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، وَأَسْوَدُ يَعْنِي شَاذَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: أَنْبَأَنِي قَتَادَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ يَسُوقُ بَدَنَةً:" ارْكَبْهَا" قَالَ: إِنَّهَا بَدَنَةٌ! قَالَ:" ارْكَبْهَا" قَالَ: إِنَّهَا بَدَنَةٌ! قَالَ:" ارْكَبْهَا وَيْحَكَ" فِي الثَّالِثَةِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا گذر ایک آدمی پر ہوا جو قربانی کا جانور ہانکتے ہوئے چلا جا رہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے سوار ہونے کے لئے فرمایا: اس نے کہا کہ یہ قربانی کا جانور ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو تین مرتبہ اس سے فرمایا کہ سوار ہوجاؤ۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12774]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1690، م: 1323
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1690، م: 1323
حدیث نمبر: 12775 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، شُعْبَةَ ، لِقَتَادَةَ ، أَنَسًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ شُعْبَةَ يُحَدِّثُ، قَالَ: قُلْتُ لِقَتَادَةَ : أَسَمِعْتَ أَنَسًا يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ:" الْبُصَاقُ فِي الْمَسْجِدِ خَطِيئَةٌ"؟ قَالَ: نَعَمْ" وَكَفَّارَتُهُ دَفْنُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مسجد میں تھوکنا گناہ ہے اور اس کا کفارہ اسے دفن کردینا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12775]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 415، م: 552
الحكم: إسناده صحيح، خ: 415، م: 552
حدیث نمبر: 12776 مسند احمد
بَهْزٌ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا تُوَاصِلُوا" قَالُوا إِنَّكَ تُوَاصِلُ! قَالَ:" إِنَّكُمْ لَسْتُمْ فِي ذَلِكَ مِثْلِي، إِنِّي أَظَلُّ أَوْ قَالَ: أَبِيتُ أُطْعَمُ وَأُسْقَى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک ہی سحری سے مسلسل کئی روزے نہ رکھا کرو، کسی نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! آپ تو اس طرح کرتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں اس معاملے میں تمہاری طرح نہیں ہوں، میرا رب مجھے کھلا پلا دیتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12776]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1961
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1961
حدیث نمبر: 12777 مسند احمد
بَهْزٌ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةُ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، لِمُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، أَخْبَرَنِي عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ جَمَعَ الْأَنْصَارَ فَقَالَ:" هَلْ فِيكُمْ أَحَدٌ مِنْ غَيْرِكُمْ؟" قَالُوا: لَا، إِلَّا ابْنَ أُخْتٍ لَنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْ أَنْفُسِهِمْ" أَوْ قَالَ:" مِنَ الْقَوْمِ" قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِمُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، فَحَدَّثَنِي عَنْ أَنَسٍ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جب انصاری صحابہ رضی اللہ عنہ کو جمع کیا اور ان سے پوچھا کہ تم میں انصار کے علاوہ تو کوئی نہیں ہے؟ انہوں نے عرض کیا نہیں، البتہ ہمارا ایک بھانجا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کسی قوم کا بھانجا ان ہی میں شمار ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12777]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3528، 6761، م: 1059
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3528، 6761، م: 1059
حدیث نمبر: 12778 مسند احمد
بَهْزٌ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةُ ، أَنَسًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي قَتَادَةُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسًا قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ" قَالَ:" وَيُعْجِبُنِي الْفَأْلُ" فَقُلْتُ: مَا الْفَأْلُ؟ قَالَ:" الْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بیماری متعدی ہونے اور بدشگونی ہونے کی کوئی حیثیت نہیں، البتہ مجھے فال یعنی اچھا کلمہ اور پاکیزہ کلمہ اچھا لگتا ہے، میں نے پوچھا فال سے کیا مراد ہے؟ تو فرمایا اچھا کلمہ۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12778]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5756، م: 2224
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5756، م: 2224
حدیث نمبر: 12779 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، عِكْرِمَةَ ، أَنَسِ ابْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، أَنَّهُ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا، لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ سورة الفتح آية 1 - 2، قَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَنِيئًا مَرِيئًا لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَا لَنَا؟ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ لِيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا وَيُكَفِّرَ عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ سورة الفتح آية 5، قَالَ شُعْبَةُ: كَانَ قَتَادَةُ يَذْكُرُ هَذَا الْحَدِيثَ فِي قَصَصِهِ عَنْ أَنَسِ ابْنِ مَالِكٍ قَالَ: نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ لَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْحُدَيْبِيَةِ، إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا، لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ سورة الفتح آية 1 - 2، ثُمَّ يَقُولُ: قَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَنِيئًا لَكَ... هَذَا الْحَدِيثُ: قَالَ: فَظَنَنْتُ أَنَّهُ كُلُّهُ عَنْ أَنَسٍ، فَأَتَيْتُ الْكُوفَةَ، فَحَدَّثْتُ عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، ثُمَّ رَجَعْتُ فَلَقِيتُ قَتَادَةَ بِوَاسِطٍ، فَإِذَا هُوَ يَقُولُ أَوَّلُهُ عَنْ أَنَسٍ، وَآخِرُهُ عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: فَأَتَيْتُهُمْ بِالْكُوفَةِ فَأَخْبَرْتُهُمْ بِذَلِكَ.
حدیث نمبر: 12780 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَحَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، ابْنُ جَعْفَرٍ ، عَلِيَّ بْنَ زَيْدٍ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ فِي حَدِيثِهِ: قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ زَيْدٍ ، قَالَ: قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، إِنْ كَانَتْ الْوَلِيدَةُ مِنْ وَلَائِدِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَتَجِيءُ، فَتَأْخُذُ بِيَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَا يَنْزِعُ يَدَهُ مِنْ يَدِهَا حَتَّى تَذْهَبَ بِهِ حَيْثُ شَاءَتْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مدینہ منورہ کی ایک عام باندی بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا دست مبارک پکڑ کر اپنے کام کاج کے لئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو لے جایا کرتی تھی۔ اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس سے اپنا ہاتھ نہ چھڑاتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12780]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف علي بن زيد بن جدعان، وقد صح الحديث بغير هذا اللفظ برقم: 11941
الحكم: إسناده ضعيف لضعف علي بن زيد بن جدعان، وقد صح الحديث بغير هذا اللفظ برقم: 11941