أَبُو الْمُغِيرَةِ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ:" دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ، وَعَلَيْهِ رِدَاءٌ نَجْرَانِيٌّ غَلِيظُ الصَّنِفَةُ، فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ مِنْ خَلْفِهِ، فَجَذَبَ بِطَرَفِ رِدَائِهِ جَذْبَةً شَدِيدَةً، حَتَّى أَثَّرَتْ الصَّنِفَةُ فِي صَفْحِ عُنُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، أَعْطِنَا مِنْ مَالِ اللَّهِ الَّذِي عِنْدَكَ، قَالَ: فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَبَسَّمَ، ثُمَّ قَالَ:" مُرُوا لَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ چلا جارہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے موٹے کنارے والی ایک نجرانی چادر اوڑھ رکھی تھی، راستے میں ایک دیہاتی مل گیا اور اس نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی چادر کو ایسے گھسیٹا کہ اس کے نشانات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی گردن مبارک پر پڑگئے اور کہنے لگا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! اللہ کا جو مال آپ کے پاس ہے اس میں سے مجھے بھی دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی طرف دیکھا اور صرف مسکرا دیئے، پھر اسے کچھ دینے کا حکم دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13339]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3149، م: 1057.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3149، م: 1057.