بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَنَسِ بنِ مَالِك رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2170
صفحہ 70 از 109
حدیث نمبر: 13322 مسند احمد
هَاشِمٌ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْأَنْصَارِ:" أَفِيكُمْ أَحَدٌ مِنْ غَيْرِكُمْ؟ قَالُوا: ابْنُ أُخْتٍ لَنَا، قَالَ: ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ، أَوْ مِنْ أَنْفُسِهِمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انصار سے فرمایا کیا تم میں تمہارے علاوہ بھی کوئی ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہمارا ایک بھانجا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قوم کا بھانجا ان ہی میں شمار ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13322]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6762، م: 1059
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6762، م: 1059
حدیث نمبر: 13323 مسند احمد
هَاشِمٌ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةُ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: قَتَادَةُ أَنْبَأَنِي، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ: قُلْتُ: أَنْتَ سَمِعْتَهُ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ، وَيُسَمِّي وَيُكَبِّرُ، وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَذْبَحُهُمَا بِيَدِهِ وَاضِعًا عَلَى صِفَاحِهِمَا قَدَمَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دو چتکبرے سینگ دار مینڈھے قربانی میں پیش کرتے تھے اور اللہ کا نام لے کر تکبیر کہتے تھے، میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم انہیں اپنے ہاتھ سے ذبح کرتے تھے اور ان کے پہلو پر اپنا پاؤں رکھتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13323]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5558، م: 1966
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5558، م: 1966
حدیث نمبر: 13324 مسند احمد
هَاشِمٌ ، سُلَيْمَانُ ، ثَابِتٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" كَانَ مِنَّا رَجُلٌ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ قَدْ قَرَأَ الْبَقَرَةَ، وَآلَ عِمْرَانَ، وَكَانَ يَكْتُبُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَانْطَلَقَ هَارِبًا حَتَّى لَحِقَ بِأَهْلِ الْكِتَابِ، قَالَ: فَرَفَعُوهُ، وَقَالُوا: هَذَا كَانَ يَكْتُبُ لِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأُعْجِبُوا بِهِ، فَمَا لَبِثَ أَنْ قَصَمَ اللَّهُ عُنُقَهُ فِيهِمْ، فَحَفَرُوا لَهُ، فَوَارَوْهُ، فَأَصْبَحَتْ الْأَرْضُ قَدْ نَبَذَتْهُ عَلَى وَجْهِهَا، ثُمَّ عَادُوا فَحَفَرُوا لَهُ، فَوَارَوْهُ، فَأَصْبَحَتْ الْأَرْضُ قَدْ نَبَذَتْهُ عَلَى وَجْهِهَا، ثُمَّ عَادُوا فَحَفَرُوا لَهُ، فَوَارَوْهُ، فَأَصْبَحَتِ الْأَرْضُ قَدْ نَبَذَتْهُ عَلَى وَجْهِهَا، فَتَرَكُوهُ مَنْبُوذًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم بنو نجار میں سے ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا کاتب تھا، اس نے سورت بقرہ اور آل عمران بھی پڑھ رکھی تھی، کچھ عرصے کے بعد وہ آدمی مرتد ہو کر مشرکین سے جا کر مل گیا، مشرکین نے اسے بڑا اچھالا اور کہنے لگے کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہی لکھ لکھ کردیا کرتا تھا، کچھ ہی عرصے بعد اللہ نے اس کی گردن توڑ دی اور وہ مرگیا، لوگوں نے اس کے لئے قبر کھودی اور اسے قبر میں اتار دیا لیکن اگلا دن ہوا تو دیکھا کہ زمین نے اسے باہر نکال پھینکا ہے، انہوں نے کئی مرتبہ اسے دفن کیا، ہر مرتبہ زمین نے اسے نکال باہر پھینکا حتیٰ کہ لوگوں نے اسے یہیں پڑا چھوڑ دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13324]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3617، م: 2781
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3617، م: 2781
حدیث نمبر: 13325 مسند احمد
هَاشِمٌ ، سُلَيْمَانُ ، ثَابِتٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" كَانَ ابْنٌ لِأَبِي طَلْحَةَ لَهُ نُغَرٌ يَلْعَبُ بِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا أَبَا عُمَيْرٍ، مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ؟".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا ایک بیٹا جس کا نام ابوعمیر تھا اس کے پاس ایک چڑیا تھی جس سے وہ کھیلتا تھا، ایک دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اے ابوعمیر! کیا کیا نغیر؟ (چڑیا، جو مرگئی تھی) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13325]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6129
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6129
حدیث نمبر: 13326 مسند احمد
هَاشِمٌ ، سُلَيْمَانُ ، ثَابِتٍ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، قَالَ: وَصَفَ لَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ" قَامَ يُصَلِّي بِنَا، فَرَكَعَ، فَاسْتَوَى قَائِمًا حَتَّى رَأَى بَعْضُنَا أَنَّهُ قَدْ نَسِيَ، ثُمَّ سَجَدَ فَاسْتَوَى قَاعِدًا حَتَّى رَأَى بَعْضُنَا أَنَّهُ قَدْ نَسِيَ، ثُمَّ اسْتَوَى قَاعِدًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سجدہ یا رکوع سے سر اٹھاتے اور ان دونوں کے درمیان اتنا لمبا وقفہ فرماتے کہ ہمیں یہ خیال ہونے لگتا کہ کہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھول تو نہیں گئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13326]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 821، م: 473.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 821، م: 473.
حدیث نمبر: 13327 مسند احمد
هَاشِمٌ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةُ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: قَتَادَةُ أَخْبَرَنِي، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" لَمَّا أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَكْتُبَ إِلَى الرُّومِ، قِيلَ لَهُ: إِنَّ كِتَابَكَ لَا يُقْرَأُ حَتَّى يَكُونَ مَخْتُومًا، فَاتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ، فَنَقَشَهُ أَوْ نَقَشَ: مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ، قَالَ: فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِهِ فِي يَدِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رومیوں کو خط لکھنے کا ارادہ کیا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ وہ لوگ صرف مہر شدہ خطوط ہی پڑھتے ہیں، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چاندی کی انگوٹھی بنوالی، اس کی سفیدی اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے، اس پر یہ عبارت نقش تھی، " محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13327]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7162، م: 2092.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7162، م: 2092.
حدیث نمبر: 13328 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: لَمَّا أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَكْتُبَ إِلَى الرُّومِ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13328]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر ما قبله.
الحكم: إسناده صحيح، وانظر ما قبله.
حدیث نمبر: 13329 مسند احمد
هَاشِمٌ ، وَحُسَيْنٌ ، مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ ، مَكْحُولٍ ، مُوسَى بْنِ أَنَسٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، وَحُسَيْنٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ:" لَمْ يَبْلُغْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الشَّيْبِ مَا يَخْضِبُهُ، وَلَكِنْ أَبُو بَكْرٍ كَانَ يَخْضِبُ رَأْسَهُ وَلِحْيَتَهُ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ". قَالَ هَاشِمٌ: حَتَّى يَقْنَأَ شَعْرُهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مبارک ڈاڑھی میں اتنے بال سفید نہ تھے جنہیں خضاب لگانے کی ضرورت پڑتی، البتہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اپنے سر اور ڈاڑھی پر مہندی اور وسمہ کا خضاب لگاتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13329]
حکم دارالسلام
إسناده قوي، خ: 5895، م: 2341.
الحكم: إسناده قوي، خ: 5895، م: 2341.
حدیث نمبر: 13330 مسند احمد
هَاشِمٌ ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، الزُّهْرِيَّ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ :" أَنَّهُ رَأَى فِي يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ يَوْمًا وَاحِدًا، فَصَنَعَ النَّاسُ الْخَوَاتِيمَ مِنْ وَرِقٍ، فَلَبِسُوهَا، فَطَرَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمَهُ، فَطَرَحَ النَّاسُ خَوَاتِيمَهُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہاتھ میں چاندی کی ایک انگوٹھی دیکھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھ کر لوگوں نے بھی چاندی کی انگوٹھیاں بنوالیں، اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی انگوٹھی اتار کر پھینک دی اور لوگوں نے بھی اپنی اپنی انگوٹھیاں اتار پھینکیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13330]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5868، م: 2093.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5868، م: 2093.
حدیث نمبر: 13331 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، وَهَاشِمٌ ، لَيْثٌ ، ابْنُ شِهَابٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، وَهَاشِمٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ حَيَّةٌ، فَيَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى الْعَوَالِي، فَيَأْتِي الْعَوَالِيَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عصر کی نماز اس وقت پڑھتے تھے کہ نماز کے بعد کوئی جانے والا عوالی جانا چاہتا تو وہ جا کر واپس آجاتا پھر بھی سورج بلند ہوتا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13331]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7329، م: 621
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7329، م: 621
حدیث نمبر: 13332 مسند احمد
إِسْحَاقُ ، لَيْثٌ ، ابْنُ شِهَابٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنِي لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ" مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ قَالَ: حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ: مُتَعَمِّدًا، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کسی جھوٹی بات کی نسبت کرے، اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالینا چاہئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13332]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 108، م: فى المقدمة: 2.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 108، م: فى المقدمة: 2.
حدیث نمبر: 13333 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٌ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، قَالَ: قَالَ أَنَسٌ :" لَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَعْجَبُوا لِعَمَلِ رَجُلٍ، حَتَّى تَعْلَمُوا بمَا يُخْتَمُ لَهُ بِهِ، فَقَدْ يَعْمَلُ الرَّجُلُ بُرْهَةً مِنْ دَهْرِهِ، أَوْ زَمَانًا مِنْ عُمْرِهِ، عَمَلًا سَيِّئًا، لَوْ مَاتَ عَلَيْهِ مَاتَ عَلَى شَرٍّ، فَيَتَحَوَّلُ إِلَى عَمَلٍ صَالِحٍ، فَيُخْتَمُ لَهُ بِهِ، وَقَدْ يَعْمَلُ الْعَبْدُ بُرْهَةً مِنْ دَهْرِهِ، أَوْ زَمَانًا مِنْ عُمْرِهِ عَمَلًا صَالِحًا، لَوْ مَاتَ عَلَيْهِ مَاتَ عَلَى خَيْرٍ، فَيَتَحَوَّلُ إِلَى عَمَلٍ سَيِّئٍ، فَيُخْتَمُ لَهُ بِهِ"، قَالَ: وَقَدْ رَفَعَهُ حُمَيْدٌ مَرَّةً، ثُمَّ كَفَّ عَنْهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک آدمی ایک طویل عرصے تک ایسے گناہوں میں مبتلا رہتا ہے کہ اگر اسی حال میں مرجائے تو جہنم میں داخل ہو، لیکن پھر اس میں تبدیلی پیدا ہوجاتی ہے اور وہ نیک اعمال میں مصروف ہوجاتا ہے، اسی طرح کسی شخص پر اس وقت تک تعجب نہ کیا کرو جب تک یہ نہ دیکھ لو کہ اس کا خاتمہ کس عمل پر ہو رہا ہے؟ کیونکہ بعض اوقات ایک شخص ساری زندگی یا ایک طویل عرصہ اپنے نیک اعمال پر گذار دیتا ہے کہ اگر اسی حال میں فوت ہوجائے تو جنت میں داخل ہوجائے لیکن پھر اس میں تبدیلی پیدا ہوتی ہے اور وہ گناہوں میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13333]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وقد سلف مرفوعا برقم:12214
الحكم: إسناده صحيح، وقد سلف مرفوعا برقم:12214
حدیث نمبر: 13334 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سَيَقْدَمُ عَلَيْكُمْ قَوْمٌ، هُمْ أَرَقُّ قُلُوبًا لِلْإِسْلَامِ مِنْكُمْ"، قَالَ: فَقَدِمَ الْأَشْعَرِيُّونَ مِنْهُمْ أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ، فَلَمَّا قَرُبُوا مِنَ الْمَدِينَةِ، جَعَلُوا يَرْتَجِزُونَ، وَجَعَلُوا يَقُولُونَ: غَدًا نَلْقَى الْأَحِبَّةَ مُحَمَّدًا وَحِزْبَهُ قَالَ: وَكَانَ هُمْ أَوَّلَ مَنْ أَحْدَثَ الْمُصَافَحَةَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تمہارے پاس ایسی قومیں آئیں گی جن کے دل تم سے زیادہ نرم ہوں گے، چنانچہ ایک مرتبہ اشعریین آئے، ان میں حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے، جب وہ مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو یہ رجزیہ شعر پڑھنے لگے کہ کل ہم اپنے دوستوں یعنی محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ان کے ساتھیوں سے ملاقات کریں گے اور یہی وہ پہلے لوگ تھے جنہوں نے مصافحہ کا رواج ڈالا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13334]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن.
حدیث نمبر: 13335 مسند احمد
عَفَّانُ ، عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، حَفْصَةُ بِنْتُ سِيرِينَ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، حَدَّثَتْنِي حَفْصَةُ بِنْتُ سِيرِينَ ، قَالَتْ: قَالَ لِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ: بِمَ مَاتَ يَحْيَى بْنُ أَبِي عَمْرَةَ؟ فَقُلْتُ: بِالطَّاعُونِ، فَقَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الطَّاعُونُ شَهَادَةٌ لِكُلِّ مُسْلِمٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حفصہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے مجھ سے پوچھا کہ ابن ابی عمرہ کیسے فوت ہوئے؟ میں نے بتایا کہ طاعون کی بیماری سے، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا طاعون ہر مسلمان کے لئے شہادت ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13335]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2830، م: 1916.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2830، م: 1916.
حدیث نمبر: 13336 مسند احمد
أَبُو الْمُغِيرَةِ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَدِمَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ عَلَى الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ فَسَأَلَهُ: مَاذَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ بِهِ السَّاعَةَ؟ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ، يَقُولُ:" أَنْتُمْ وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ حضرت انس رضی اللہ عنہ ولید بن عبدالملک کے پاس تشریف لے گئے، اس نے ان سے پوچھا کہ آپ نے قیامت کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کیا فرماتے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم اور قیامت ان دو انگلیوں کی طرح ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13336]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 13337 مسند احمد
أَبُو الْمُغِيرَةِ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، قَتَادَةُ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ: كَتَبَ إِلَيَّ قَتَادَةُ ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ:" صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، فَكَانُوا يَسْتَفْتِحُونَ الْقِرَاءَةَ بِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سورة الفاتحة آية 2، لَا يَذْكُرُونَ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سورة الفاتحة آية 1 فِي أَوَّلِ الْقِرَاءَةِ، وَلَا فِي آخِرِهَا".
حدیث نمبر: 13338 مسند احمد
أَبُو الْمُغِيرَةِ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، قَتَادَةُ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَبُو الْمُغِيرَةِ ، أَنَسٍ ، أَبِي سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، وَقَدْ حَدَّثَنَاهُ أَبُو الْمُغِيرَةِ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، ثُمَّ رَجَعَ أَنَّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي خِلَافٌ وَفُرْقَةٌ قَوْمٌ يُحْسِنُونَ الْقِيلَ، وَيُسِيئُونَ الْفِعْلَ، يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، يَحْقِرُ أَحَدُكُمْ صَلَاتَهُ مَعَ صَلَاتِهِمْ، وَصِيَامَهُ مَعَ صِيَامِهِمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ مُرُوقَ السَّهْمِ مِنَ الرَّمِيَّةِ، ثُمَّ لَا يَرْجِعُونَ حَتَّى يَرْتَدَّ عَلَى فُوقِهِ، هُمْ شَرُّ الْخَلْقِ وَالْخَلِيقَةِ، طُوبَى لِمَنْ قَتَلَهُمْ وَقَتَلُوهُ، يَدْعُونَ إِلَى كِتَابِ اللَّهِ، وَلَيْسُوا مِنْهُ فِي شَيْءٍ، مَنْ قَاتَلَهُمْ كَانَ أَوْلَى بِاللَّهِ مِنْهُمْ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا سِيمَاهُمْ؟ قَالَ:" التَّحْلِيقُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا عنقریب میری امت میں اختلاف اور تفرقہ بازی ہوگی اور ان میں سے ایک قوم ایسی نکلے گی جو قرآن پڑھتی ہوگی لیکن وہ اس کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، تم ان کی نمازوں کے آگے اپنی نمازوں کو اور ان کے روزوں کے آگے اپنے روزوں کو حقیر سمجھو گے، وہ لوگ دین سے اسی طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے، جس طرح تیر اپنی کمان میں کبھی واپس نہیں آسکتا یہ لوگ بھی دین میں کبھی واپس نہ آئیں گے، یہ لوگ بدترین مخلوق ہوں گے، اس شخص کے لئے خوشخبری ہے جو انہیں قتل کرے اور وہ اسے قتل کریں، وہ کتاب اللہ کی دعوت دیتے ہوں گے لیکن ان کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہوگا، جو ان سے قتال کرے گا وہ اللہ کے اتنا قریب ہوجائے گا، صحابہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! ان کی علامت کیا ہوگی؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ان کی علامت سر منڈوانا ہوگا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13338]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 13339 مسند احمد
أَبُو الْمُغِيرَةِ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ:" دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ، وَعَلَيْهِ رِدَاءٌ نَجْرَانِيٌّ غَلِيظُ الصَّنِفَةُ، فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ مِنْ خَلْفِهِ، فَجَذَبَ بِطَرَفِ رِدَائِهِ جَذْبَةً شَدِيدَةً، حَتَّى أَثَّرَتْ الصَّنِفَةُ فِي صَفْحِ عُنُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، أَعْطِنَا مِنْ مَالِ اللَّهِ الَّذِي عِنْدَكَ، قَالَ: فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَبَسَّمَ، ثُمَّ قَالَ:" مُرُوا لَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ چلا جارہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے موٹے کنارے والی ایک نجرانی چادر اوڑھ رکھی تھی، راستے میں ایک دیہاتی مل گیا اور اس نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی چادر کو ایسے گھسیٹا کہ اس کے نشانات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی گردن مبارک پر پڑگئے اور کہنے لگا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! اللہ کا جو مال آپ کے پاس ہے اس میں سے مجھے بھی دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی طرف دیکھا اور صرف مسکرا دیئے، پھر اسے کچھ دینے کا حکم دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13339]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3149، م: 1057.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3149، م: 1057.
حدیث نمبر: 13340 مسند احمد
أَبُو الْمُغِيرَةِ ، صَفْوَانُ ، رَاشِدُ بْنُ سَعْدٍ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ ، حَدَّثَنِي رَاشِدُ بْنُ سَعْدٍ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَمَّا عَرَجَ بِي رَبِّي، مَرَرْتُ بِقَوْمٍ لَهُمْ أَظْفَارٌ مِنْ نُحَاسٍ، يَخْمُشُونَ وُجُوهَهُمْ وَصُدُورَهُمْ، فَقُلْتُ: مَنْ هَؤُلَاءِ يَا جِبْرِيلُ؟ قَالَ: هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ لُحُومَ النَّاسِ، وَيَقَعُونَ فِي أَعْرَاضِهِمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب مجھے پروردگار عالم نے معراج پر بلایا تو میرا گذر ایک ایسی قوم پر ہوا جن کے ناخن تانبے کے تھے اور وہ ان سے اپنے چہرے اور سینے نوچ رہے تھے، میں نے پوچھا جبریل! یہ کون لوگ ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ یہ لوگوں کا گوشت کھانے والے (غیبت کرنے والے اور لوگوں کی طرف انگلیاں اٹھانے والے لوگ ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13340]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 13341 مسند احمد
أَبُو الْمُغِيرَةِ ، صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو ، عُثْمَانَ بْنِ جَابِرٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ جَابِرٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْحَرْبُ خُدْعَةٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جنگ تو چال کا نام ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13341]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عثمان بن جابر ، وانظر ما بعده.
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عثمان بن جابر ، وانظر ما بعده.