بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَنَسِ بنِ مَالِك رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2170
صفحہ 6 از 109
حدیث نمبر: 12041 مسند احمد
ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: كَانَ رَجُلٌ يَسُوقُ بِأُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ، يُقَالُ لَهُ: أَنْجَشَةُ، فَاشْتَدَّ فِي السِّيَاقَةِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أَنْجَشَةُ، رُوَيْدَكَ سَوْقًا بِالْقَوَارِيرِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی " جس کا نام انحشہ تھا " امہات المومنین رضی اللہ عنہ عنہن کی سواریوں کو ہانک رہا تھا، اس نے جانوروں کو تیزی سے ہانکنا شروع کردیا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا انجشہ! ان آبگینوں کو آہستہ لے چلو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12041]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 6209 ، م: 2323
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 6209 ، م: 2323
حدیث نمبر: 12042 مسند احمد
ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: أَسْلَمَ نَاسٌ مِنْ عُرَيْنَةَ، فَاجْتَوَوْا الْمَدِينَةَ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ خَرَجْتُمْ إِلَى ذَوْدٍ لَنَا فَشَرِبْتُمْ مِنْ أَلْبَانِهَا"، قَالَ حُمَيْدٌ: وَقَالَ قَتَادَةُ: عَنْ أَنَسٍ" وَأَبْوَالِهَا"، فَفَعَلُوا، فَلَمَّا صَحُّوا كَفَرُوا بَعْدَ إِسْلَامِهِمْ، وَقَتَلُوا رَاعِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُؤْمِنًا أَوْ مُسْلِمًا، وَسَاقُوا ذَوْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهَرَبُوا مُحَارِبِينَ، فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي آثَارِهِمْ فَأُخِذُوا، فَقَطَّعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ، وَسَمَرَ أَعْيُنَهُمْ، وَتَرَكَهُمْ فِي الْحَرَّةِ حَتَّى مَاتُوا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قبیلہ عرینہ کے کچھ لوگ مسلمان ہوگئے، لیکن انہیں مدینہ منورہ کی آب و ہوا موافق نہ آئی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اگر تم ہمارے اونٹوں کے پاس جا کر ان کا دودھ پیو تو شاید تندرست ہوجاؤ، چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا، لیکن جب وہ صحیح ہوگئے تو دوبارہ مرتد ہو کر کفر کی طرف لوٹ گئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مسلمان چرواہے کو قتل کردیا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اونٹوں کو بھگا کرلے گئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے پیچھے صحابہ کو بھیجا، انہیں پکڑ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دیئے، ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھروا دیں اور انہیں پتھریلے علاقوں میں چھوڑ دیا یہاں تک کہ وہ مرگئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12042]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 5685 ، م: 1671
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 5685 ، م: 1671
حدیث نمبر: 12043 مسند احمد
ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى لَا يُقَالَ فِي الْأَرْضِ اللَّهُ اللَّهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت اس دن تک قائم نہیں ہوگی، جب تک زمین میں اللہ اللہ کہنے والا کوئی شخص باقی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12043]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 148
الحكم: إسناده صحيح، م: 148
حدیث نمبر: 12044 مسند احمد
ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَسْأَلُونِي عَنْ شَيْءٍ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ إِلَّا حَدَّثْتُكُمْ"، قَالَ: فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُذَافَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ أَبِي؟، قَالَ" أَبُوكَ حُذَافَةُ"، فَقَالَتْ أُمُّهُ: مَا أَرَدْتَ إِلَى هَذَا؟، قَالَ: أَرَدْتُ أَنْ أَسْتَرِيحَ، قَالَ: وَكَانَ يُقَالُ فِيهِ، قَالَ حُمَيْدٌ: وَأَحْسَبُ هَذَا عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ عُمَرُ: رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيًّا، نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ غَضِبِ اللَّهِ وَغَضِبِ رَسُولِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت تک ہونے والی کسی چیز کے متعلق تم مجھ سے اس وقت تک سوال نہ کیا کرو جب تک میں تم سے خود بیان نہ کر دوں، اس کے باوجود عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ نے پوچھ لیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! میرا باپ کون ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تمہارا باپ حذافہ ہے، ان کی والدہ نے ان سے کہا کہ تمہارا اس سے کیا مقصد تھا؟ انہوں نے کہا کہ میں لوگوں کی باتوں سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتا تھا، دراصل ان کے متعلق کچھ باتیں مشہور تھیں۔ بہرحال! ان کے سوال پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ناراض ہوگئے، اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ ہم اللہ کو اپنا رب مان کر، اسلام کو اپنا دین قرار دے کر اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنا نبی مان کر خوش اور مطمئن ہیں اور ہم اللہ اور اس کے رسول کی ناراضگی سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12044]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 93 ، م: 2359
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 93 ، م: 2359
حدیث نمبر: 12045 مسند احمد
ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" خَيْرُ مَا تَدَاوَيْتُمْ بِهِ الْحِجَامَةُ، وَالْقُسْطُ الْبَحْرِيُّ، وَلَا تُعَذِّبُوا صِبْيَانَكُمْ بِالْغَمْزِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بہترین علاج سینگی لگوانا اور قسط بحری کا استعمال ہے اور تم اپنے بچوں کے گلے میں انگلیاں ڈال کر انہیں تکلیف نہ دیا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12045]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 5696 ، م: 1577
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 5696 ، م: 1577
حدیث نمبر: 12046 مسند احمد
ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" دَخَلْتُ الْجَنَّةَ، فَإِذَا أَنَا بِقَصْرٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَقُلْتُ لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ؟، قَالُوا: لِشَابٍّ مِنْ قُرَيْشٍ، قُلْتُ: لِمَنْ؟، قَالُوا: لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ"، قَالَ: فَلَوْلَا مَا عَلِمْتُ مِنْ غَيْرَتِكَ لَدَخَلْتُهُ، فَقَالَ عُمَرُ: عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَغَارُ؟.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ میں جنت میں داخل ہوا تو وہاں سونے کا ایک محل نظر آیا، میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ ایک قریشی نوجوان کا ہے، میں نے پوچھا وہ کون ہے؟ لوگوں نے بتایا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ عنہ، مجھے اگر تمہاری غیرت کے بارے معلوم نہ ہوتا تو میں ضرور اس میں داخل ہوجاتا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! کیا میں آپ پر غیرت کا اظہار کروں گا؟ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12046]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12047 مسند احمد
ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ، وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ"، قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كُلُّنَا نَكْرَهُ الْمَوْتَ، قَالَ:" لَيْسَ ذَاكَ كَرَاهِيَةَ الْمَوْتِ، وَلَكِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا حُضِرَ، جَاءَهُ الْبَشِيرُ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ بِمَا هُوَ صَائِرٌ إِلَيْهِ، فَلَيْسَ شَيْءٌ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَكُونَ قَدْ لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، فَأَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ، وَإِنَّ الْفَاجِرَ أَوْ الْكَافِرَ إِذَا حُضِرَ، جَاءَهُ بِمَا هُوَ صَائِرٌ إِلَيْهِ مِنَ الشَّرِّ، أَوْ مَا يَلْقَاهُ مِنَ الشَّرِّ، فَكَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ، وَكَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اللہ سے ملنے کو پسند کرتا ہے، اللہ بھی اس سے ملنے کو پسند کرتا ہے اور جو اللہ سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے اللہ بھی اس سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے، یہ سن کر ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! ہم میں سے تو ہر ایک موت کو ناپسند کرتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس سے موت کی ناپسندیدگی مراد نہیں ہے، بلکہ مومن کے پاس جب اللہ کی طرف سے ایک فرشتہ اس کے بہترین انجام کی خوش خبری لے کر آتا ہے تو اس کے نزدیک اللہ کی ملاقات سے بڑھ کر کوئی چیز محبوب نہیں ہوتی، پھر اللہ بھی اس سے ملنے کو پسند کرتا ہے اور جب کافر کے پاس اللہ کی طرف سے ایک فرشتہ اس کے بدترین انجام کی خبر لے کر آتا ہے تو وہ اللہ سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہے، پھر اللہ بھی اس سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12047]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12048 مسند احمد
ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، قَالَ: قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ " مَا مَسِسْتُ شَيْئًا قَطُّ خَزًّا وَلَا حَرِيرًا أَلْيَنَ مِنْ كَفِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا شَمَمْتُ رَائِحَةً أَطْيَبَ مِنْ رِيحِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ہتھیلی سے نرم کوئی ریشم بھی نہیں چھوا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مہک سے عمدہ کوئی مہک نہیں سونگھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12048]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 1973 ، م: 2330
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 1973 ، م: 2330
حدیث نمبر: 12049 مسند احمد
ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، حُمَيْدٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ السَّهْمِيُّ ، حُمَيْدٌ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ السَّهْمِيُّ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَادَ رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ قَدْ صَارَ مِثْلَ الْفَرْخِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ كُنْتَ تَدْعُو بِشَيْءٍ أَوْ تَسْأَلُهُ إِيَّاهُ؟"، قَالَ: نَعَمْ، كُنْتُ أَقُولُ: اللَّهُمَّ مَا كُنْتَ مُعَاقِبِي بِهِ فِي الْآخِرَةِ، فَعَجِّلْهُ لِي فِي الدُّنْيَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سُبْحَانَ اللَّهِ! لَا تُطِيقُهُ، وَلَا تَسْتَطِيعُهُ، فَهَلَّا قُلْتَ: اللَّهُمَّ آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً، وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ"، قَالَ: فَدَعَا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، فَشَفَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کسی مسلمان کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے، وہ چوزے کی طرح ہوچکا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے پوچھا کیا تم کوئی دعا مانگتے تھے؟ اس نے کہا جی ہاں! میں یہ دعاء مانگتا تھا کہ اے اللہ! تو نے مجھے آخرت میں جو سزا دینی ہے وہ دنیا ہی میں دے دے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا سبحان اللہ! تمہارے اندر اس کی ہمت ہے اور نہ طاقت، تم نے یہ دعاء کیوں نہ کی کہ اے اللہ! مجھے دنیا میں بھی بھلائی عطاء فرما اور آخرت میں بھی بھلائی عطاء فرما اور ہمیں عذاب جہنم سے محفوظ فرما، راوی کہتے ہیں کہ اس نے اللہ سے یہ دعاء مانگی اور اللہ نے اسے شفا عطاء فرما دی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12049]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2688
الحكم: إسناده صحيح، م: 2688
حدیث نمبر: 12050 مسند احمد
ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" كَانَ الرَّجُلُ يَأْتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيُسْلِمُ لِشَيْءٍ يُعْطَاهُ مِنَ الدُّنْيَا، فَلَا يُمْسِي حَتَّى يَكُونَ الْإِسْلَامُ أَحَبَّ إِلَيْهِ وَأَعَزَّ عَلَيْهِ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں کوئی شخص آکر اسلام قبول کرتا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسے دنیا کا مال و دولت عطاء فرمائیں گے اور شام تک اس کے نزدیک اسلام دنیا ومافیہا سے زیادہ محبوب اور معزز ہوچکا ہوتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12050]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2312، وانظر مابعده
الحكم: إسناده صحيح، م: 2312، وانظر مابعده
حدیث نمبر: 12051 مسند احمد
ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، حُمَيْدٍ ، مُوسَى بْنِ أَنَسٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لَمْ يَكُنْ يُسْأَلُ شَيْئًا عَلَى الْإِسْلَامِ إِلَّا أَعْطَاهُ، قَالَ: فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَسَأَلَهُ، فَأَمَرَ لَهُ بِشَاءٍ كَثِيرٍ بَيْنَ جَبَلَيْنِ مِنْ شَاءِ الصَّدَقَةِ، قَالَ: فَرَجَعَ إِلَى قَوْمِهِ، فَقَالَ: يَا قَوْمِ، أَسْلِمُوا، فَإِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي عَطَاءً مَا يَخْشَى الْفَاقَةَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قبول اسلام پر جو آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جس چیز کا بھی سوال کرتا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسے عطاء فرما دیتے، اسی تناظر میں ایک آدمی آیا اور اس نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کچھ مانگا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے صدقہ کی بکریوں میں سے بہت سی بکریاں " جو دو پہاڑوں کے درمیان آسکیں " دینے کا حکم دیا، وہ آدمی اپنی قوم کے پاس آکر کہنے لگا لوگو! اسلام قبول کرلو، کیونکہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اتنی بخشش دیتے ہیں کہ انسان کو فقر وفاقہ کا کوئی اندیشہ نہیں رہتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12051]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2312، وانظر ماقبله
الحكم: إسناده صحيح، م: 2312، وانظر ماقبله
حدیث نمبر: 12052 مسند احمد
ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" بَعَثَتْ مَعِي أُمُّ سُلَيْمٍ بِمِكْتَلٍ فِيهِ رُطَبٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ أَجِدْهُ وَخَرَجَ قَرِيبًا إِلَى مَوْلًى لَهُ دَعَاهُ، صَنَعَ لَهُ طَعَامًا، قَالَ: فَأَتَيْتُهُ، فَإِذَا هُوَ يَأْكُلُ، فَدَعَانِي لِآكُلَ مَعَهُ، قَالَ: وَصَنَعَ لَهُ ثَرِيدًا بِلَحْمٍ وَقَرْعٍ، قَالَ: وَإِذَا هُوَ يُعْجِبُهُ الْقَرْعُ، قَالَ: فَجَعَلْتُ أَجْمَعُهُ فَأُدْنِيهِ مِنْهُ، قَالَ: فَلَمَّا طَعِمَ رَجَعَ إِلَى مَنْزِلِهِ، قَالَ: وَوَضَعْتُ الْمِكْتَلَ بَيْنَ يَدَيْهِ، قَالَ: فَجَعَلَ يَأْكُلُ، وَيَقْسِمُ حَتَّى فَرَغَ مِنْ آخِرِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ نے میرے ہاتھ ایک تھیلی میں تر کھجوریں بھر کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں بھیجیں، میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو گھر میں نہ پایا، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قریب ہی اپنے ایک آزاد کردہ غلام کے یہاں گئے ہوئے تھے جس نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دعوت کی تھی، میں وہاں پہنچا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھانا تناول فرما رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے بھی کھانے کے لئے بلا لیا، دعوت میں صاحب خانہ نے گوشت اور کدو کا ثرید تیار کر رکھا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کدو بہت پسند تھا، اس لئے میں اسے الگ کر کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے کرتا رہا، جب کھانے سے فارغ ہو کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے گھر واپس تشریف لائے تو میں نے وہ تھیلی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے رکھ دی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسے کھاتے گئے اور تقسیم کرتے گئے یہاں تک کہ وہ تھیلی خالی ہوگئی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12052]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 5420 ، م: 2041
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 5420 ، م: 2041
حدیث نمبر: 12053 مسند احمد
ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أُمِّ سُلَيْمٍ، فَأَتَتْهُ بِتَمْرٍ وَسَمْنٍ، وَكَانَ صَائِمًا، فَقَالَ:" أَعِيدُوا تَمْرَكُمْ فِي وِعَائِهِ، وَسَمْنَكُمْ فِي سِقَائِهِ"، ثُمَّ قَامَ إِلَى نَاحِيَةِ الْبَيْتِ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَصَلَّيْنَا مَعَهُ، ثُمَّ دَعَا لِأُمِّ سُلَيْمٍ وَلِأَهْلِهَا بِخَيْرٍ، فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي خُوَيْصَّةً، قَالَ: وَمَا هِيَ؟، قَالَتْ: خَادِمُكَ أَنَسٌ، قَالَ: فَمَا تَرَكَ خَيْرَ آخِرَةٍ، وَلَا دُنْيَا، إِلَّا دَعَا لِي بِهِ، وَقَالَ:" اللَّهُمَّ ارْزُقْهُ مَالًا وَوَلَدًا وَبَارِكْ لَهُ فِيهِ"، قَالَ: فَمَا مِنَ الْأَنْصَارِ إِنْسَانٌ أَكْثَرُ مَالًا مِنِّي، وَذَكَرَ أَنَّهُ لَا يَمْلِكُ ذَهَبًا، وَلَا فِضَّةً غَيْرَ خَاتَمِهِ، قَالَ: وَذَكَرَ أَنَّ ابْنَتَهُ الْكُبْرَى أُمَيْنَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهُ دَفَنَ مِنْ صُلْبِهِ إِلَى مَقْدَمِ الْحَجَّاجِ نَيِّفًا عَلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ کے یہاں تشریف لائے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے کھجوریں اور گھی پیش کیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس دن روزے سے تھے اس لئے فرمایا کہ کھجوریں اس کے برتن میں اور گھی اس کی بالٹی میں ڈال دو، پھر گھر کے ایک کونے میں کھڑے ہو کر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو رکعت نماز پڑھی، ہم نے بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ اور ان کے اہل خانہ کے لئے دعاء فرمائی، حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! میری ایک خاص چیز بھی ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا وہ کیا ہے؟ عرض کیا آپ کا خادم انس، اسی پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دنیا و آخرت کی کوئی خیر ایسی نہ چھوڑی جو میرے لئے نہ مانگی ہو اور فرمایا اے اللہ! اسے مال اور اولاد عطاء فرما اور ان میں برکت عطاء فرما، چنانچہ اس کے بعد انصار میں سے کوئی شخص مجھ سے زیادہ مالدار نہ تھا، حالانکہ قبل ازیں وہ اپنی انگوٹھی کے علاوہ کسی سونا چاندی کے مالک نہ تھے اور خود کہتے ہیں کہ مجھے میری بڑی بیٹی امینہ نے بتایا ہے کہ حجاج بن یوسف کے آنے تک میری نسل میں سے ایک سو بیس سے زائد آدمی فوت ہو کر دفن ہوچکے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12053]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 1982 ، م: 2480
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 1982 ، م: 2480
حدیث نمبر: 12054 مسند احمد
ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٌ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ , عَنْ حُمَيْدٍ ، قَالَ: سُئِلَ أَنَسٌ هَلْ خَضَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، قَالَ: إِنَّهُ" لَمْ يَرَ مِنَ الشَّيْبِ إِلَّا نَحْوًا مِنْ سَبْعَ عَشْرَةَ، أَوْ عِشْرِينَ شَعْرَةً فِي مُقَدَّمِ لِحْيَتِهِ"، وَقَالَ: إِنَّهُ لَمْ يُشَنْ بِالشَّيْبِ، فَقِيلَ لِأَنَسٍ: أَشَيْنٌ هُوَ؟، قَالَ: كُلُّكُمْ يَكْرَهُهُ، وَلَكِنْ خَضَبَ أَبُو بَكْرٍ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ، وَخَضَبَ عُمَرُ بِالْحِنَّاءِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حمید کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خضاب لگاتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مبارک ڈاڑھی کے اگلے حصے میں صرف سترہ یا بیس بال سفید تھے اور ان پر بڑھاپے کا عیب نہیں آیا، کسی نے پوچھا کہ کیا بڑھاپا عیب ہے؟ انہوں نے فرمایا تم میں سے ہر شخص اسے ناپسند سمجھتا ہے، البتہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ مہندی اور وسمہ کا خضاب لگاتے تھے، جب کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ صرف مہندی کا خضاب لگاتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12054]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 5894 ، م: 2341، وقد جاء عن غير واحد من الصحابة أن النبى صلى الله عليه و آله وسلم قد خضب، ففي البخاري: 166، و مسلم : 1187 عن ابن عمر قال: «وأما الصفرة فاني رأيت رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم يصبغ بها» وقد جمع النووي بين هذه الأحديث وبين حديث أنس بقوله: «والمختار أنه صلى الله عليه و آله وسلم سبغ فى وقت وتركه فى معظم الاوقات فأخبر كل بما رأي وهو صادق.» شرح مسلم تحت رقم الحديث: 2341
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 5894 ، م: 2341، وقد جاء عن غير واحد من الصحابة أن النبى صلى الله عليه وسلم قد خضب، ففي البخاري: 166، و مسلم : 1187 عن ابن عمر قال: «وأما الصفرة فاني رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم
حدیث نمبر: 12055 مسند احمد
ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِهِ، فَاطَّلَعَ إِلَيْهِ رَجُلٌ، فَأَهْوَى إِلَيْهِ بِمِشْقَصٍ مَعَهُ، فَتَأَخَّرَ الرَّجُلُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے گھر میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آدمی آکر کسی سوراخ سے اندر جھانکنے لگا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی کنگھی اسے دے ماری تو وہ آدمی پیچھے ہٹ گیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12055]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 6889 ، م: 2157
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 6889 ، م: 2157
حدیث نمبر: 12056 مسند احمد
ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ أَبَا مُوسَى اسْتَحْمَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَافَقَ مِنْهُ شُغْلًا، فَقَالَ:" وَاللَّهِ لَا أَحْمِلُكَ"، فَلَمَّا قَفَّى دَعَاهُ، فَحَمَلَهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ حَلَفْتَ أَنْ لا تَحْمِلَنِي!، قَالَ:" فَأَنَا أَحْلِفُ لَأَحْمِلَنَّكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سواری کے لئے کوئی جانور مانگا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس وقت کسی کام میں مصروف تھے، اس لئے فرما دیا کہ بخدا! میں تمہیں کوئی سواری نہیں دوں گا، لیکن جب وہ پلٹ کر جانے لگے تو انہیں واپس بلایا اور ایک سواری مرحمت فرما دی، وہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! آپ نے تو قسم کھائی تھی کہ مجھے کوئی سواری نہیں دیں گے؟ فرمایا اب قسم کھالیتا ہوں کہ تمہیں سواری ضرور دوں گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12056]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12057 مسند احمد
ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَامٍ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقْدَمَهُ الْمَدِينَةَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي سَائِلُكَ عَنْ ثَلَاثِ خِصَالٍ لَا يَعْلَمُهُنَّ إِلَّا نَبِيٌّ؟، قَالَ: سَلْ، قَالَ: مَا أَوَّلُ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ؟ وَمَا أَوَّلُ مَا يَأْكُلُ مِنْهُ أَهْلُ الْجَنَّةِ؟ وَمِنْ أَيْنَ يُشْبِهُ الْوَلَدُ أَبَاهُ وَأُمَّهُ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَخْبَرَنِي بِهِنَّ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام آنِفًا، قَالَ: ذَلِكَ عَدُوُّ الْيَهُودِ مِنَ الْمَلَائِكَةِ، قَالَ: أَمَّا أَوَّلُ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ فَنَارٌ تَخْرُجُ مِنَ الْمَشْرِقِ، فَتَحْشُرُ النَّاسَ إِلَى الْمَغْرِبِ، وَأَمَّا أَوَّلُ مَا يَأْكُلُ مِنْهُ أَهْلُ الْجَنَّةِ، زِيَادَةُ كَبِدِ حُوتٍ، وَأَمَّا شَبَهُ الْوَلَدِ أَبَاهُ وَأُمَّهُ، فَإِذَا سَبَقَ مَاءُ الرَّجُلِ مَاءَ الْمَرْأَةِ نَزَعَ إِلَيْهِ الْوَلَدُ، وَإِذَا سَبَقَ مَاءُ الْمَرْأَةِ مَاءَ الرَّجُلِ نَزَعَ إِلَيْهَا، قَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ، وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ الْيَهُودَ قَوْمٌ بُهْتٌ، وَإِنَّهُمْ إِنْ يَعْلَمُوا بِإِسْلَامِي يَبْهَتُونِي عِنْدَكَ، فَأَرْسِلْ إِلَيْهِمْ، فَاسْأَلْهُمْ عَنِّي أَيُّ رَجُلٍ ابْنُ سَلَامٍ فِيكُمْ؟، قَالَ: فَأَرْسَلَ إِلَيْهِمْ، فَقَالَ: أَيُّ رَجُلٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ فِيكُمْ؟، قَالُوا: خَيْرُنَا، وَابْنُ خَيْرِنَا، وَعَالِمُنَا، وَابْنُ عَالِمِنَا، وَأَفْقَهُنَا، وَابْنُ أَفْقَهِنَا، قَالَ: أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَسْلَمَ تُسْلِمُونَ؟، قَالُوا: أَعَاذَهُ اللَّهُ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: فَخَرَجَ ابْنُ سَلَامٍ، فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، قَالُوا: شَرُّنَا، وَابْنُ شَرِّنَا، وَجَاهِلُنَا، وَابْنُ جَاهِلِنَا، فَقَالَ ابْنُ سَلَامٍ: هَذَا الَّذِي كُنْتُ أَتَخَوَّفُ مِنْهمُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مدینہ منورہ تشریف آوری کے بعد حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! میں آپ سے تین باتیں پوچھتا ہوں جنہیں کسی نبی کے علاوہ کوئی نہیں جانتا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پوچھو، انہوں نے کہا کہ قیامت کی سب سے پہلی علامت کیا ہے؟ اہل جنت کا سب سے پہلا کھانا کیا چیز ہوگی؟ اور بچہ اپنے ماں باپ کے مشابہہ کیسے ہوتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ان کا جواب مجھے ابھی ابھی حضرت جبرئیل امین علیہ السلام نے بتایا ہے، عبداللہ کہنے لگے وہ تو فرشتوں میں یہودیوں کا دشمن ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قیامت کی سب سے پہلی علامت تو وہ آگ ہوگی جو مشرق سے نکل کر تمام لوگوں کو مغرب میں جمع کرلے گی اور اہل جنت کا سب سے پہلا کھانا مچھلی کا جگر ہوگا اور بچے کے اپنے ماں باپ کے ساتھ مشابہہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اگر مرد کا " پانی '' عورت کے پانی پر غالب آجائے تو وہ بچے کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے اور اگر عورت کا پانی مرد کے پانی پر غالب آجائے تو وہ بچے کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے، یہ سن کر عبداللہ کہنے لگے کہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور آپ اللہ کے رسول ہیں، پھر کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! یہودی بہتان باندھنے والی قوم ہیں، اگر انہیں میرے اسلام کا پتہ چل گیا تو وہ آپ کے سامنے مجھ پر طرح طرح کے الزام لگائیں گے، اس لئے آپ ان کے پاس پیغام بھیج کر انہیں بلائیے اور میرے متعلق ان سے پوچھئے کہ تم میں ابن سلام کیسا آدمی ہے؟ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں بلا بھیجا اور ان سے پوچھا کہ عبداللہ بن سلام تم میں کیسا آدمی ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم میں سب سے بہتر ہے اور سب سے بہتر کا بیٹا ہے، ہمارا عالم اور عالم کا بیٹا ہے، ہم میں سب سے بڑا فقیہہ ہے اور سب سے بڑے فقیہہ کا بیٹا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ بتاؤ، اگر وہ اسلام قبول کرلے تو کیا تم بھی اسلام قبول کرلو گے؟ وہ کہنے لگے اللہ اسے بچا کر رکھے، اس پر حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ باہر نکل آئے اور ان کے سامنے کلمہ پڑھا، یہ سن کر وہ کہنے لگے کہ یہ ہم میں سب سے بدتر ہے اور سب سے بدتر کا بیٹا ہے اور ہم میں جاہل اور جاہل کا بیٹا ہے، حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے فرمایا اسی چیز کا مجھے اندیشہ تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12057]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 3329
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 3329
حدیث نمبر: 12058 مسند احمد
ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: لَمَّا انْهَزَمَ الْمُسْلِمُونَ يَوْمَ حُنَيْنٍ، نَادَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ، اقْتُلْ مَنْ بَعْدَنَا انْهَزَمُوا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أُمَّ سُلَيْمٍ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ كَفَى"، قَالَ: فَأَتَاهَا أَبُو طَلْحَةَ وَمَعَهَا مِعْوَلٌ، فَقَالَ: مَا هَذَا يَا أُمَّ سُلَيْمٍ؟، قَالَتْ: إِنْ دَنَا مِنِّي أَحَدٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ بَعَجْتُهُ، قَالَ: فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، انْظُرْ مَا تَقُولُ أُمُّ سُلَيْمٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب غزوہ حنین کے دن مسلمان ابتدائی طور پر شکست خوردہ ہو کر بھاگنے لگے تو حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ نے پکار کر عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! جو لوگ ہمیں چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں، انہیں قتل کروا دیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اے ام سلیم! اللہ تعالیٰ کافی ہے، تھوڑی دیر بعد حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے تو ام سلیم رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں ایک کدال تھی، انہوں نے پوچھا ام سلیم! یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی مشرک میرے قریب آیا تو میں اس سے اس کا پیٹ پھاڑ دوں گی، یہ سن کر وہ کہنے لگے: یا رسول اللہ! دیکھیں تو سہی کہ ام سلیم کیا کہہ رہی ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12058]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1809 ، قوله: «اقتل من بعدنا انهزموا» يوضحه رواية اسحاق برقم : 12977 ففيها : «اقتل من بعدنا من الطلقاء، انهزموا بك»
الحكم: إسناده صحيح، م: 1809 ، قوله: «اقتل من بعدنا انهزموا» يوضحه رواية اسحاق برقم : 12977 ففيها : «اقتل من بعدنا من الطلقاء، انهزموا بك»
حدیث نمبر: 12059 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ ، قَالَ: لَمَّا أَرَدْتُ أَنْ أُسْلِمَ، أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: إِنِّي سَائِلُكَ، فَقَالَ:" سَلْ عَمَّا بَدَا لَكَ"، قَالَ: قُلْتُ: مَا أَوَّلُ مَا يَأْكُلُ أَهْلُ الْجَنَّةِ؟ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مدینہ منورہ تشریف آوری کے بعد حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے: یا رسول اللہ! میں آپ سے تین باتیں پوچھتا ہوں۔۔۔۔۔۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12059]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا اسناد حسن ، خ: 3329
الحكم: حديث صحيح، وهذا اسناد حسن ، خ: 3329
حدیث نمبر: 12060 مسند احمد
ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، حُمَيْدٍ ، وَيَزِيدُ ، حُمَيْدٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، وَيَزِيدُ ، قَالَا: أَخبرنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" كُنْتُ أَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ، فَأَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ، قَالَ يَزِيدُ فِي حَدِيثِهِ: عَلَيْنَا وَأَخَذَ بِيَدِي، فَبَعَثَنِي فِي حَاجَةٍ، وَقَعَدَ فِي ظِلِّ حَائِطٍ أَوْ جِدَارٍ حَتَّى رَجَعْتُ إِلَيْهِ، فَبَلَّغْتُ الرِّسَالَةَ الَّتِي بَعَثَنِي فِيهَا، فَلَمَّا أَتَيْتُ أُمَّ سُلَيْمٍ، قَالَتْ: مَا حَبَسَكَ؟، قُلْتُ: بَعَثَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ لَهُ، قَالَتْ: وَمَا هِيَ؟، قُلْتُ: سِرٌّ، قَالَتْ: احْفَظْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِرَّهُ، قَالَ: فَمَا حَدَّثْتُ بِهِ أَحَدًا بَعْدُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا، اسی دوران نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لے آئے اور ہمیں سلام کیا، پھر میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے کسی کام سے بھیج دیا اور خود ایک دیوار کے سائے میں بیٹھ گئے، یہاں تک کہ میں واپس آگیا اور وہ پیغام پہنچا دیا جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دے کر مجھے بھیجا تھا، جب میں گھر واپس پہنچا تو ام سلیم رضی اللہ عنہ (میری والدہ) کہنے لگیں کہ اتنی دیر کیوں لگا دی؟ میں نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے کسی کام سے بھیجا تھا، انہوں نے پوچھا کیا کام تھا؟ میں نے کہا یہ ایک راز ہے، انہوں نے کہا کہ پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے راز کی حفاظت کرنا، چنانچہ اس کے بعد میں نے کبھی وہ کسی کے سامنے بیان نہ کیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12060]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2482
الحكم: إسناده صحيح، م: 2482