ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: أَسْلَمَ نَاسٌ مِنْ عُرَيْنَةَ، فَاجْتَوَوْا الْمَدِينَةَ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ خَرَجْتُمْ إِلَى ذَوْدٍ لَنَا فَشَرِبْتُمْ مِنْ أَلْبَانِهَا"، قَالَ حُمَيْدٌ: وَقَالَ قَتَادَةُ: عَنْ أَنَسٍ" وَأَبْوَالِهَا"، فَفَعَلُوا، فَلَمَّا صَحُّوا كَفَرُوا بَعْدَ إِسْلَامِهِمْ، وَقَتَلُوا رَاعِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُؤْمِنًا أَوْ مُسْلِمًا، وَسَاقُوا ذَوْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهَرَبُوا مُحَارِبِينَ، فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي آثَارِهِمْ فَأُخِذُوا، فَقَطَّعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ، وَسَمَرَ أَعْيُنَهُمْ، وَتَرَكَهُمْ فِي الْحَرَّةِ حَتَّى مَاتُوا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قبیلہ عرینہ کے کچھ لوگ مسلمان ہوگئے، لیکن انہیں مدینہ منورہ کی آب و ہوا موافق نہ آئی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اگر تم ہمارے اونٹوں کے پاس جا کر ان کا دودھ پیو تو شاید تندرست ہوجاؤ، چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا، لیکن جب وہ صحیح ہوگئے تو دوبارہ مرتد ہو کر کفر کی طرف لوٹ گئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مسلمان چرواہے کو قتل کردیا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اونٹوں کو بھگا کرلے گئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے پیچھے صحابہ کو بھیجا، انہیں پکڑ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دیئے، ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھروا دیں اور انہیں پتھریلے علاقوں میں چھوڑ دیا یہاں تک کہ وہ مرگئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12042]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 5685 ، م: 1671
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 5685 ، م: 1671