بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَنَسِ بنِ مَالِك رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2170
صفحہ 39 از 109
حدیث نمبر: 12701 مسند احمد
عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ الْعَمِّيُّ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ الْعَمِّيُّ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَطُوفُ عَلَى نِسَائِهِ فِي لَيْلَةٍ وَاحِدَةٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کبھی کبھار اپنی تمام ازواج مطہرات کے پاس ایک ہی رات میں ایک ہی غسل سے چلے جایا کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12701]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 284
الحكم: إسناده صحيح، خ: 284
حدیث نمبر: 12702 مسند احمد
مُعْتَمِرٌ ، أَبِيهِ ، أَنَسًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص میری طرف سے جان بوجھ کر کسی جھوٹی بات کی نسبت کرے، اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالینا چاہئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12702]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 108، م: فى المقدمة: 2
الحكم: إسناده صحيح، خ: 108، م: فى المقدمة: 2
حدیث نمبر: 12703 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، لَيْثٌ ، سَعِيدٌ يَعْنِي الْمَقْبُرِيَّ ، شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدٌ يَعْنِي الْمَقْبُرِيَّ ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فَحَذَّرَ النَّاسَ، فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: مَتَى السَّاعَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَبَسَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجْهِهِ، فَقُلْنَا لَهُ: اقْعُدْ، فَإِنَّكَ قَدْ سَأَلْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَكْرَهُ، ثُمَّ قَامَ الثَّانِيَةَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَتَى السَّاعَةُ؟ قَالَ: فَبَسَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجْهِهِ أَشَدَّ مِنَ الْأُولَى، فَأَجْلَسْنَاهُ، قَالَ ثُمَّ قَامَ الثَّالِثَةَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَتَى السَّاعَةُ؟ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" وَيْحَكَ، وَمَا أَعْدَدْتَ لَهَا؟" قَالَ الرجلُ: أَعْدَدْتُ لَهَا حُبَّ اللَّهِ وَرَسُولِهِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اجْلِسْ، فَإِنَّكَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کھڑے ہو کر لوگوں کو ڈرایا، اسی اثناء میں ایک آدمی نے کھڑے ہو کر پوچھا یا رسول اللہ! قیامت کب آئے گی؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے روئے انور پر ناگواری کے آثار نظر آئے تو ہم نے اس سے کہا کہ بیٹھ جاؤ، تم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ایسا سوال پوچھا ہے جو انہیں اچھا نہیں لگا، تین مرتبہ اسی طرح ہوا، بالآخر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے پوچھا اے بھئی! تم نے قیامت کے لئے کیا تیاری کر رکھی ہے؟ اس نے کہا کہ میں نے یہ تیاری کی ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ تم قیامت کے دن اس شخص کے ساتھ ہوگے جس کے ساتھ تم محبت کرتے ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12703]
حکم دارالسلام
إسناده قوي، وانظر: 12013
الحكم: إسناده قوي، وانظر: 12013
حدیث نمبر: 12704 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُثَنَّى ، حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ الرُّبَيِّعَ بِنْتَ النَّضْرِ عَمَّةَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ كَسَرَتْ ثَنِيَّةَ جَارِيَةٍ، فَعَرَضُوا عَلَيْهِمْ الْأَرْشَ، فَأَبَوْا، وَطَلَبُوا الْعَفْوَ، فَأَبَوْا، فَأَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِالْقِصَاصِ فَجَاءَ أَخُوهَا أَنَسُ ابْنُ النَّضْرِ، عَمُّ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتُكْسَرُ ثَنِيَّةُ الرُّبَيِّعِ؟ لَا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، لَا تُكْسَرُ ثَنِيَّتُهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أَنَسُ، كِتَابُ اللَّهِ الْقِصَاصُ" قَالَ: فَعَفَا الْقَوْمُ، قَالَ: وقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ، مَنْ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ربیع " جو حضرت انس رضی اللہ عنہ کی پھوپھی تھیں " نے ایک لڑکی کا دانت توڑ دیا، پھر ان کے اہل خانہ نے لڑکی والوں کو تاوان کی پیشکش کی لیکن انہوں نے انکار کردیا، پھر انہوں نے ان سے معافی مانگی لیکن انہوں نے معاف کرنے سے انکار کردیا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آکر قصاص کا مطالبہ کرنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قصاص کا حکم دے دیا، اسی اثناء میں ان کے بھائی اور حضرت انس رضی اللہ عنہ کے چچا انس بن نضر آگئے اور وہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! کیا ربیع کا دانت توڑ دیا جائے گا؟ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے اس کا دانت نہیں توڑا جائے گا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا انس! کتاب اللہ کا فیصلہ قصاص ہی کا ہے، اسی اثناء میں وہ راضٰی ہوگئے اور انہوں نے انہیں معاف کردیا اور قصاص کا مطالبہ ترک کردیا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ کے بعض بندے ایسے ہوتے ہیں جو اگر کسی کام پر اللہ کی قسم کھا لیں تو اللہ انہیں ان کی قسم میں ضرور سچا کرتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12704]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2703، م: 1675
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2703، م: 1675
حدیث نمبر: 12705 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: سَأَلْتُهُ عَنِ الْقُنُوتِ، أَقَبْلَ الرُّكُوعِ أَوْ بَعْدَ الرُّكُوعِ؟ فَقَالَ: قَبْلَ الرُّكُوعِ، قَالَ: قُلْتُ: فَإِنَّهُمْ يَزْعُمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَنَتَ بَعْدَ الرُّكُوعِ، فَقَالَ كَذَبُوا، إِنَّمَا قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا يَدْعُو عَلَى نَاسٍ قَتَلُوا نَاسًا مِنْ أَصْحَابِهِ، يُقَالُ لَهُمْ: الْقُرَّاءُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عاصم احول رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ قنوت رکوع سے پہلے ہے یا رکوع کے بعد؟ انہوں نے فرمایا رکوع سے پہلے، میں نے کہا کہ بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رکوع کے بعد قنوت پڑھی ہے؟ انہوں نے فرمایا وہ غلط کہتے ہیں، وہ تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صرف ایک ماہ تک پڑھی تھی، جس میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے قراء صحابہ کو شہید کرنے والے لوگوں کے خلاف بددعاء فرماتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12705]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1002، م: 677
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1002، م: 677
حدیث نمبر: 12706 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" دَعَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَكْتُبَ لَنَا بِالْبَحْرَيْنِ قَطِيعَةً، قَالَ: فَقُلْنَا، لَا، إِلَّا أَنْ تَكْتُبَ لِإِخْوَانِنَا مِنَ الْمُهَاجِرِينَ مِثْلَهَا، فَقَالَ: إِنَّكُمْ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً، فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي" قَالُوا: فَإِنَّا نَصْبِرُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں بلایا تاکہ بحرین سے آئے ہوئے مال کا حصہ ہمیں تقسیم کردیں، لیکن ہم لوگ کہنے لگے کہ پہلے ہمارے مہاجر بھائیوں کا ہمارے برابر حصہ الگ کیجئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے جذبہ ایثار کو دیکھ کر فرمایا میرے بعد تمہیں ترجیحات کا سامنا کرنا پڑگا لیکن تم صبر کرنا تاآنکہ مجھ سے آملو، صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ ہم صبر کریں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12706]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3794
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3794
حدیث نمبر: 12707 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي إِسْمَاعِيلَ ، عُمَارَةَ بْنِ عَاصِمٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عَاصِمٍ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ بِالْكُوفَةِ، فَسَأَلْتُهُ عَنِ النَّبِيذِ، فَقَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عمار بن عاصم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں کوفہ میں حضرت انس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے نبیذ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دباء اور مزفت سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12707]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 5587، م: 1992، وهذا إسناد ضعيف، عمارة بن عاصم مختلف فى اسمه، وهو عاصم بن عمير العنزي، ذكره ابن حبان فى « الثقات » قال البزار: هو غير معروف
الحكم: حديث صحيح، خ: 5587، م: 1992، وهذا إسناد ضعيف، عمارة بن عاصم مختلف فى اسمه، وهو عاصم بن عمير العنزي، ذكره ابن حبان فى « الثقات » قال البزار: هو غير معروف
حدیث نمبر: 12708 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ ، نُفَيْعٍ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نُفَيْعٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يقول: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى وُجُوهِهِمْ؟ قَالَ:" إِنَّ الَّذِي أَمْشَاهُمْ عَلَى أَرْجُلِهِمْ، قَادِرٌ عَلَى أَنْ يُمْشِيَهُمْ عَلَى وُجُوهِهِمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! لوگوں کو ان کے چہروں کے بل کیسے اٹھایا جائے گا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو ذات انہیں پاؤں کے بل چلانے پر قادر ہے وہ انہیں چہروں کے بل چلانے پر بھی قادر ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12708]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 4760، م: 2806، وهذا إسناد ضعيف جداً، نفيع الأعمى متروك الحديث، وإسماعيل بن عمر لم نجد فى هذه الطبقة من يسمى هكذا
الحكم: حديث صحيح، خ: 4760، م: 2806، وهذا إسناد ضعيف جداً، نفيع الأعمى متروك الحديث، وإسماعيل بن عمر لم نجد فى هذه الطبقة من يسمى هكذا
حدیث نمبر: 12709 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، يَحْيَى ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَضَى حَاجَتَهُ، ثُمَّ قَامَ إِلَى جَانِبِ الْمَسْجِدِ، قَالَ: فَصَاحَ بَعْضُ النَّاسِ، فَكَفَّهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ أَمَرَ بِذَنُوبٍ مِنْ مَاءٍ فَصُبَّ عَلَى بَوْلِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ دور نبوت میں ایک دیہاتی نے آکر مسجد نبوی میں پیشاب کردیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اسے چھوڑ دو اور حکم دیا کہ اس پر پانی کا ایک ڈول بہا دو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12709]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 221، م:284
الحكم: إسناده صحيح، خ: 221، م:284
حدیث نمبر: 12710 مسند احمد
يَعْلَى ، إِسْمَاعِيلُ ، نُفَيْعٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْلَى ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ نُفَيْعٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مِنْ أَحَدٍ، غَنِيٍّ وَلَا فَقِيرٍ، إِلَّا يَوَدُّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنَّهُ كَانَ أُوتِيَ فِي الدُّنْيَا قُوتًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن ہر فقیر اور مالدار کی تمنا یہی ہوگی کہ اسے دنیا میں بقدر گذارہ دیا گیا ہوتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12710]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف جداً، نفيع بن الحارث الأعمى متروك الحديث
الحكم: إسناده ضعيف جداً، نفيع بن الحارث الأعمى متروك الحديث
حدیث نمبر: 12711 مسند احمد
يَعْلَى ، مِسْعَرٌ ، بُكَيْرِ بْنِ الْأَخْنَسِ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْلَى ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَخْنَسِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: مُرَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَدَنَةٍ أَوْ هَدِيَّةٍ فَقَالَ لِصَاحِبِهَا:" ارْكَبْهَا" فَقَالَ: إِنَّهَا بَدَنَةٌ أَوْ هَدِيَّةٌ! قَالَ" وَإِنْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا گذر ایک آدمی پر ہوا جو قربانی کا جانور ہانکتے ہوئے چلا جا رہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے سوار ہونے کے لئے فرمایا: اس نے کہا کہ یہ قربانی کا جانور ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اگرچہ قربانی کا جانور ہی ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12711]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1323
الحكم: إسناده صحيح، م: 1323
حدیث نمبر: 12712 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ، قَالَ:" الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا، وَكَفَانَا وَآوَانَا، فَكَمْ مَنْ لَا كَافِيَ لَهُ وَلَا مُؤْوِيَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب اپنے بستر پر تشریف لاتے تو یوں کہتے کہ اس اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں کھلایا پلایا، ہماری کفایت کی اور ٹھکانہ دیا، کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جن کی کوئی کفایت کرنے والا یا انہیں ٹھکانہ دینے والا کوئی نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12712]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2715
الحكم: إسناده صحيح، م: 2715
حدیث نمبر: 12713 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، قَتَادَةَ ، وَثَابِتٍ ، وَحُمَيْدٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، وَثَابِتٍ ، وَحُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ، وَقَدْ حَفَزَهُ النَّفَسُ، فَقَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ، فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ، قَالَ: أَيُّكُمْ الْمُتَكَلِّمُ بِالْكَلِمَاتِ؟ فَإِنَّهُ لَمْ يَقُلْ بَأْسًا" فَقَالَ الرَّجُلُ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، جَلَسْتُ وَقَدْ حَفَزَنِي النَّفَسُ، فَقُلْتُهُنَّ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَقَدْ رَأَيْتُ اثْنَيْ عَشَرَ مَلَكًا يَبْتَدِرُونَهَا أَيُّهُمْ يَرْفَعُهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نماز کھڑی ہوئی تو ایک آدمی تیزی سے آیا، اس کا سانس پھولا ہوا تھا، صف تک پہنچ کر وہ کہنے لگا " الحمد للہ حمدا کثیر طیبا مبارکا فیہ " نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز سے فارغ ہو کر پوچھا کہ تم میں سے کون بولا تھا؟ اس نے اچھی بات کہی تھی، چنانچہ وہ آدمی کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! میں بولا تھا، میں تیزی سے آرہا تھا اور صف کے قریب پہنچ کر میں نے یہ جملہ کہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں نے بارہ فرشتوں کو اس کی طرف تیزی سے بڑھتے ہوئے دیکھا کہ کون اس جملے کا پہلے اٹھاتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12713]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12714 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، حَمَّادٌ ، قَتَادَةُ ، وَثَابِتٌ ، وَحُمَيْدٌ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حدثنا حَمَّادٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ ، وَثَابِتٌ ، وَحُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَعُثْمَانَ، كَانُوا يَسْتَفْتِحُونَ الْقُرْآنَ بِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سورة الفاتحة آية 2".
حدیث نمبر: 12715 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قِيَامِ السَّاعَةِ؟ وَأُقِيمَتْ الصَّلَاةُ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ، قَالَ:" أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ السَّاعَةِ؟" فَقَالَ الرَّجُلُ: هَا أَنَا ذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ" وَمَا أَعْدَدْتَ لَهَا؟ فَإِنَّهَا قَائِمَةٌ" قَالَ: مَا أَعْدَدْتُ لَهَا مِنْ كَبِيرِ عَمَلٍ، غَيْرَ أَنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، قَالَ:" فَأَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ" قَالَ: فَمَا فَرِحَ الْمُسْلِمُونَ بِشَيْءٍ بَعْدَ الْإِسْلَامِ أَشَدَّ مِمَّا فَرِحُوا بِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! قیامت کب قائم ہوگی؟ اس وقت اقامت ہوچکی تھی اس لئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز پڑھانے لگے، نماز سے فارغ ہو کر فرمایا کہ قیامت کے متعلق سوال کرنے والا آدمی کہاں ہے؟ اس نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! میں یہاں ہوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم نے قیامت کے لئے کیا تیاری کر رکھی ہے؟ اس نے کہا کہ میں نے کوئی بہت زیادہ اعمال، نماز، روزہ تو مہیا نہیں کر رکھے البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ انسان قیامت کے دن اس شخص کے ساتھ ہوگا جس کے ساتھ وہ محبت کرتا ہے، حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے مسلمانوں کو اسلام قبول کرنے کے بعد اس دن جتنا خوش دیکھا اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12715]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3688، م: 2639
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3688، م: 2639
حدیث نمبر: 12716 مسند احمد
حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، لَيْثٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، عُقَيْلٌ ، ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيُّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ قَالَ: حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيُّ ، أَنَّهُ كَانَ ابْنَ عَشْرِ سِنِينَ مَقْدِمَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، قَالَ: وَكَانَ أُمَّهَاتِي يُوطِْنَنِي عَلَى خِدْمَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكُنْتُ أَعْلَمَ النَّاسِ بِشَأْنِ الْحِجَابِ حِينَ أُنْزِلَ، وَكَانَ أَوَّلَ مَا أُنْزِلَ ابْتَنَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِزَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَا عَرُوسًا، فَدَعَا الْقَوْمَ، فَأَصَابُوا مِنَ الطَّعَامِ، ثُمَّ خَرَجُوا، وَبَقِيَ رَهْطٌ مِنْهُمْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَطَالُوا الْمُكْثَ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ، وَخَرَجْتُ مَعَهُ، لِكَيْ يَخْرُجُوا، فَمَشَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَشَيْنَا مَعَهُ، حَتَّى جَاءَ عَتَبَةَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ، وَظَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ قَدْ خَرَجُوا، فَرَجَعَ وَرَجَعْتُ مَعَهُ، فَإِذَا هُمْ قَدْ خَرَجُوا، فَضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُمْ بِسِتْرٍ، وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْحِجَابَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مدینہ منورہ تشریف آوری کے وقت ان کی عمر دس سال تھی، وہ فرماتے ہیں کہ میری والدہ مجھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت کی ترغیب دیا کرتی تھیں، اس لئے پردہ کا حکم جب نازل ہوا اس وقت کی کیفیت تمام لوگوں میں سب سے زیادہ مجھے معلوم ہے۔ اس رات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت زینب رضی اللہ عنہ کے ساتھ خلوت فرمائی تھی اور صبح کے وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دولہا تھے، اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لوگوں کو دعوت دی، انہوں نے آکر کھانا کھایا اور چلے گئے، لیکن کچھ لوگ وہیں بیٹھ رہے اور کافی دیر تک بیٹھے رہے حتیٰ کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خود ہی اٹھ کر باہر چلے گئے، میں بھی باہر چلا گیا تاکہ وہ بھی چلے جائیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور میں چلتے ہوئے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کی چوکھٹ پر جا کر رک گئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا خیال تھا کہ شاید اب وہ لوگ چلے گئے ہوں گے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم واپس آگئے، میں بھی ہمراہ تھا، دیکھا تو واقعی وہ لوگ جاچکے تھے، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اندر داخل ہو کر پردہ لٹکا لیا اور اللہ نے آیت حجاب نازل فرما دی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12716]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5166، م: 1428
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5166، م: 1428
حدیث نمبر: 12717 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، لَيْثٌ ، عُقَيْلٌ ، ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنَا عُقَيْلٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَوْ أَنَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِيًا مِنْ ذَهَبٍ، لَأَحَبَّ أَنْ يَكُونَ لَهُ وَادٍ آخَرُ، وَلَا يَمْلَأُ فَاهُ إِلَّا التُّرَابُ، وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر ابن آدم کے پاس سونے سے بھرئی ہوئی دو وادیاں بھی ہوتیں تو وہ تیسری کی تمنا کرتا اور ابن آدم کا منہ صرف قبر کی مٹی ہی بھر سکتی ہے اور جو توبہ کرتا ہے اللہ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12717]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6440، م: 1048، وانظر: 12228
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6440، م: 1048، وانظر: 12228
حدیث نمبر: 12718 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، لَيْثٌ ، بُكَيْرٌ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي بُكَيْرٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ قَالَ:" صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى رَكْعَتَيْنِ، وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ رَكْعَتَيْنِ، وَمَعَ عُمَرَ رَكْعَتَيْنِ، وَمَعَ عُثْمَانَ رَكْعَتَيْنِ، صَدْرًا مِنْ إِمَارَتِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے میدان منیٰ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ دو رکعتیں پڑھی ہیں، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ابتدائی دور خلافت میں بھی دو رکعتیں پڑھی ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12718]
حکم دارالسلام
صحيح لغیرہ، وھذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغیرہ، وھذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 12719 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، لَيْثٌ ، سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُلُوسًا فِي الْمَسْجِدِ، دَخَلَ رَجُلٌ عَلَى جَمَلٍ، فَأَنَاخَهُ فِي الْمَسْجِدِ، فَعَقَلَهُ، ثُمَّ قَالَ: أَيُّكُمْ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ؟ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَّكِئٌ بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ، قَالَ: فَقُلْنَا: هَذَا الرَّجُلُ الْأَبْيَضُ الْمُتَّكِئُ، فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا ابْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ أَجَبْتُكَ"، فَقَالَ الرَّجُلُ: إِنِّي يَا مُحَمَّدُ، سَائِلُكَ، فَمُشَدِّدٌ عَلَيْكَ فِي الْمَسْأَلَةِ، فَلَا تَجِدْ عَلَيَّ فِي نَفْسِكَ، فَقَالَ:" سَلْ مَا بَدَا لَكَ" فَقَالَ الرَّجُلُ: نَشَدْتُكَ بِرَبِّكَ وَرَبِّ مَنْ كَانَ قَبْلَكَ، آللَّهُ أَرْسَلَكَ إِلَى النَّاسِ كُلِّهِمْ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللَّهُمَّ نَعَمْ" قَالَ: فَأَنْشُدُكَ اللَّهَ، آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ نُصَلِّيَ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ؟ قَالَ:" اللَّهُمَّ نَعَمْ" قَالَ: فَأَنْشُدُكَ اللَّهَ، آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ نَصُومَ هَذَا الشَّهْرَ مِنَ السَّنَةِ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللَّهُمَّ نَعَمْ" قَالَ: أَنْشُدُكَ اللَّهَ، آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ تَأْخُذَ هَذِهِ الصَّدَقَةَ مِنْ أَغْنِيَائِنَا فَتُقَسِّمَهَا عَلَى فُقَرَائِنَا؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللَّهُمَّ نَعَمْ" قَالَ الرَّجُلُ: آمَنْتُ بِمَا جِئْتَ بِهِ، وَأَنَا رَسُولُ مَنْ وَرَائِي مِنْ قَوْمِي، قَالَ: وَأَنَا ضِمَامُ بْنُ ثَعْلَبَةَ، أَخُو بَنِي سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے اتنے میں ایک شخص اونٹ پر سوار آیا، آکر مسجد میں اونٹ بٹھایا اور (اتر کر) اونٹنی کو رسی سے باندھا، پھر پوچھنے لگا تم میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کون ہیں اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تکیہ لگائے ہوئے درمیان میں بیٹھے ہوئے تھے ہم نے جواب دیا کہ یہ گورے آدمی تکیہ لگائے ہوئے جو بیٹھے ہوئے ہیں یہی محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہیں۔ وہ شخص آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگا اے عبدالمطلب کے بیٹے! آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں سن رہا ہوں (مدعا کہو) اس شخص نے کہا میں آپ سے کچھ پوچھنا چاہتا ہوں اور پوچھنے میں ذرا سختی سے کام لوں گا، آپ مجھ سے ناراض نہ ہوں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو چاہتے ہو دریافت کرو، وہ بولا میں آپ کے اور گز شتہ لوگوں کے پروردگار کی قسم دے کر دریافت کرتا ہوں کہ کیا اللہ نے آپ کو سب لوگوں کے لئے پیغمبر بنا کر بھیجا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں اللہ کی قسم! (سب کے لئے اسی نے مجھے پیغمبر بنا کر بھیجا ہے) وہ بولا میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا اللہ نے آپ کو شبانہ روز میں پانچ نمازیں پڑھنے کا حکم دیا؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں اللہ کی قسم، وہ بولا میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں بتائے کہ کیا اللہ نے آپ کو ہر سال ماہ رمضان میں روزے رکھنے کا حکم دیا؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں! اللہ کی قسم، وہ بولا میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں بتائے کہ کیا اللہ نے آپ کو یہ حکم دیا ہے کہ آپ ہمارے مال داروں سے زکوٰۃ وصول کر کے غرباء میں تقسیم کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں اللہ کی قسم! یہ سن کر وہ شخص بولا آپ جو کچھ (اللہ کی طرف سے) لائے ہیں میں سب پر ایمان لایا اور میں اپنی قوم کا نمائندہ ہوں اور میرا نام ضمام بن ثعلبہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12719]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، خ: 63، وانظر: 12457
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، خ: 63، وانظر: 12457
حدیث نمبر: 12720 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ:" لَمَّا أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَكْتُبَ إِلَى الرُّومِ، قَالُوا: إِنَّهُمْ لَا يَقْرَءُونَ كِتَابًا إِلَّا مَخْتُومًا، قَالَ: فَاتَّخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ، كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِهِ فِي يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَقْشُهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رومیوں کو خط لکھنے کا ارادہ کیا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ وہ لوگ صرف مہر شدہ خطوط ہی پڑھتے ہیں، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چاندی کی انگوٹھی بنوالی، اس کی سفیدی اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے، اس پر یہ عبارت نقش تھی، " محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم " [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12720]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7162، م: 2092
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7162، م: 2092