بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَنَسِ بنِ مَالِك رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2170
صفحہ 9 از 109
حدیث نمبر: 12101 مسند احمد
سُفْيَانَ ، ابْنَ جُدْعَانَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) قُرِئَ عَلَى سُفْيَانَ ، سَمِعْتُ ابْنَ جُدْعَانَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَصَوْتُ أَبِي طَلْحَةَ فِي الْجَيْشِ خَيْرٌ مِنْ فِئَةٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا لشکر میں ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کی اواز ہی کئی لوگوں سے بہتر ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12101]
حکم دارالسلام
حديث صحيح ، وهذا اسناد ضعيف لضعف ابن جدعان، وهو على بن زيد
الحكم: حديث صحيح ، وهذا اسناد ضعيف لضعف ابن جدعان، وهو على بن زيد
حدیث نمبر: 12102 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، أَيُّوبُ ، عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: مَا رَأَيْتُ أَحَدًا كَانَ أَرْحَمَ بِالْعِيَالِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ إِبْرَاهِيمُ مُسْتَرْضَعًا فِي عَوَالِي الْمَدِينَةِ، فَكَانَ يَنْطَلِقُ وَنَحْنُ مَعَهُ، فَيَدْخُلُ الْبَيْتَ وَإِنَّهُ لَيُدَّخَنُ، وَكَانَ ظِئْرُهُ قَيْنًا، فَيَأْخُذُهُ فَيُقَبِّلُهُ، ثُمَّ يَرْجِعُ، قَالَ عَمْرٌو: فَلَمَّا تُوُفِّيَ إِبْرَاهِيمُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ إِبْرَاهِيمَ ابْنِي، وَإِنَّهُ مَاتَ فِي الثَّدْيِ، فَإِنَّ لَهُ ظِئْرَيْنِ يُكْمِلَانِ رَضَاعَهُ فِي الْجَنَّةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے اپنے اہل و عیال پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بڑھ کر کسی کو شفیق نہیں پایا، حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ عوالی مدینہ میں دودھ پیتے بچے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم انہیں ملنے جایا کرتے تھے، ہم بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ہوتے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب اس گھر میں داخل ہوتے تو وہ دھوئیں سے بھرا ہوتا تھا کیونکہ خاتونِ خانہ کا شوہر لوہار تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم انہیں پکڑ کر پیار کرتے اور کچھ دیر بعد واپس آجاتے، جب حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کی وفات ہوگئی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ابراہیم میرا بیٹا تھا، جو بچپن میں ہی فوت ہوگیا، اس کے لئے دو دائیاں مقرر کی گئی ہیں جو جنت میں اس کی مدت رضاعت کی تکمیل کریں گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12102]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2316
الحكم: إسناده صحيح، م: 2316
حدیث نمبر: 12103 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، ابْنُ عَوْنٍ ، أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ ، عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ الْمُنْذِرِ بْنِ الْجَارُودِ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، أَخْبَرَنَا أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ الْمُنْذِرِ بْنِ الْجَارُودِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: صَنَعَ بَعْضُ عُمُومَتِي لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُحِبُّ أَنْ تَأْكُلَ فِي بَيْتِي، وَتُصَلِّيَ فِيهِ، قَالَ:" فَأَتَاهُ وَفِي الْبَيْتِ فَحْلٌ مِنْ تِلْكَ الْفُحُولِ، فَأَمَرَ بِجَانِبٍ مِنْهُ، فَكُنِسَ وَرُشَّ، فَصَلَّى وَصَلَّيْنَا مَعَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میرے ایک چچا نے ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی کھانے پر دعوت کی اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! میری خواہش ہے کہ آپ میرے گھر میں کھانا کھائیں اور اس میں نماز پڑھیں، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لائے، وہاں گھر میں ایک چٹائی پڑی ہوئی تھی جو پرانی ہو کر کالی ہوچکی تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے ایک کونے میں رکھنے کا حکم دیا، اسے جھاڑا گیا اور اس پر پانی چھڑک دیا گیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وہاں نماز پڑھی اور ہم نے بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12103]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا اسناد قوي
الحكم: حديث صحيح، وهذا اسناد قوي
حدیث نمبر: 12104 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، سَعِيدٍ ، قَتَادَةَ ، أَنَسًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، أَنَّ أَنَسًا حَدَّثَهُمْ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَرْفَعُونَ أَبْصَارَهُمْ فِي صَلَاتِهِمْ"، فَاشْتَدَّ قَوْلُهُ فِي ذَلِكَ حَتَّى قَالَ:" لَيَنْتَهُنَّ عَنْ ذَلِكَ، أَوْ لَتُخْطَفَنَّ أَبْصَارُهُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ دورانِ نماز آسمان کی طرف نگاہیں اٹھا کر دیکھتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے شدت سے اس کی ممانعت کرتے ہوئے فرمایا کہ لوگ اس سے باز آجائیں، ورنہ ان کی بصارت اچک لی جائے گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12104]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 750
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 750
حدیث نمبر: 12105 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، شُعْبَةَ ، وَابْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، وَابْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمَرْأَةُ مِنْ نِسَائِهِ يَغْتَسِلَانِ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ، وَكَانَ يَغْتَسِلُ بِخَمْسِ مَكَاكِيَّ، وَيَتَوَضَّأُ بِمَكُّوكٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ان کی اہلیہ محترمہ ایک ہی برتن سے غسل کیا کرتے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پانچ مکوک پانی سے غسل اور ایک مکوک پانی سے وضو فرمالیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12105]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، وانظر قصة الغسل من اناء واحد فى البخاري: 264، والغسل بخمس مكاكي (أمداد) والوضوء بمكوك (بمد) فى البخاري: 201 ومسلم: 325، قال الحافظ فى الفتح 305/1: «....كأن أنسا لم يطلع على أنه استعمل فى الغسل أكثر من ذلك لأنه جعلها النهاية ، وقد روي مسلم من حديث عائشة رضي الله عنها كانت تغسل هي والنبي من إناء واحد هو الفرق.......» ، وانظر فى مسلم : 319، 321
الحكم: إسناده صحيح ، وانظر قصة الغسل من اناء واحد فى البخاري: 264، والغسل بخمس مكاكي (أمداد) والوضوء بمكوك (بمد) فى البخاري: 201 ومسلم: 325، قال الحافظ فى الفتح 305/1: «....كأن أنسا لم يطلع على أنه استعمل فى
حدیث نمبر: 12106 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةُ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ حَدَّثَهُمْ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَعِدَ أُحُدًا، فَتَبِعَهُ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ، فَرَجَفَ بِهِمْ الْجَبَلُ، فَقَالَ:" اسْكُنْ، عَلَيْكَ نَبِيٌّ، وَصِدِّيقٌ، وَشَهِيدَانِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم احد پہاڑ پر چڑھے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے پیچھے حضرت ابوبکر و عمر و عثمان رضی اللہ عنہ بھی تھے، ایک دم پہاڑ ہلنے لگا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اے پہاڑ! تھم جا کہ تجھ پر ایک نبی، ایک صدیق اور دو شہید ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12106]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 3675
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 3675
حدیث نمبر: 12107 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي سُفْيَانَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ:" يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ، ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ"، قَالَ: فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، آمَنَّا بِكَ، وَبِمَا جِئْتَ بِهِ، فَهَلْ تَخَافُ عَلَيْنَا؟، قَالَ: فَقَالَ:" نَعَمْ، إِنَّ الْقُلُوبَ بَيْنَ أُصْبُعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ يُقَلِّبُهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بکثرت یہ دعاء مانگا کرتے تھے، کہ اے دلوں کے پھیرنے والے، میرے دل کو اپنے دین پر ثابت قدمی عطاء فرما، ایک مرتبہ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! ہم آپ پر اور آپ کی تعلیمات پر ایمان لائے ہیں، کیا آپ کو ہمارے متعلق کسی چیز سے خطرہ ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں! کیونکہ دل اللہ کی انگلیوں میں سے صرف دو انگلیوں کے درمیان ہے، وہ جیسے چاہتا ہے انہیں بدل دیتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12107]
حکم دارالسلام
اسناد قوي
الحكم: اسناد قوي
حدیث نمبر: 12108 مسند احمد
أَبُو أُسَامَةَ ، سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: جَاءَ أَبُو طَلْحَةَ يَوْمَ حُنَيْنٍ يُضْحِكُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أُمِّ سُلَيْمٍ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَمْ تَرَ إِلَى أُمِّ سُلَيْمٍ مَعَهَا خِنْجَرٌ!، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا تَصْنَعِينَ بِهِ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ؟، قَالَتْ: أَرَدْتُ إِنْ دَنَا مِنِّي أَحَدٌ مِنْهُمْ طَعَنْتُهُ بِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ حنین کے دن حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ہنسانے کے لئے آئے اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! ام سلیم کو دیکھیں کہ ان کے پاس خنجر ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ اے ام سلیم! تم اس کا کیا کرو گی؟ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی مشرک میرے قریب آیا تو میں اس سے اس کا پیٹ پھاڑ دوں گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12108]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1809
الحكم: إسناده صحيح، م: 1809
حدیث نمبر: 12109 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عُقْبَةُ بْنُ عُبَيْدٍ ، بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ ، لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ ، قَالَ: قُلْنَا لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : مَا أَنْكَرْتَ مِنْ حَالِنَا فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، قَالَ:" أَنْكَرْتُ أَنَّكُمْ لَا تُقِيمُونَ الصُّفُوفَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
بشیر بن یسار رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ آپ کو دور نبوت کے حالات سے ہمارے حالات میں کیا تبدیلی محسوس ہو رہی ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ مجھے یہ چیز عجیب لگتی ہے کہ تم لوگ صفیں سیدھی نہیں رکھتے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12109]
حکم دارالسلام
حديث صحيح ، خ : 724، وهذا اسناد متحمل للتحسين
الحكم: حديث صحيح ، خ : 724، وهذا اسناد متحمل للتحسين
حدیث نمبر: 12110 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص میری طرف جان بوجھ کر کسی جھوٹی بات کی نسبت کرے، اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لینا چاہئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12110]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 108، م فى المقدمة : 2
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 108، م فى المقدمة : 2
حدیث نمبر: 12111 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، مِسْحَاجٌ الضَّبِّيُّ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا مِسْحَاجٌ الضَّبِّيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ:" كُنَّا إِذَا كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ فِي سَفَرٍ، فَقُلْنَا: زَالَتْ الشَّمْسُ، أَوْ لَمْ تَزُلْ، صَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ ارْتَحَلَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں ہوتے تو کہتے تھے کہ زوال شمس ہوگیا یا نہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ظہر پڑھ کر کوچ فرماتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12111]
حکم دارالسلام
إسناد صحيح، والحديث محمول على التعجيل بالصلاة، لا على أدائها قبل وقتها، إنه صلى فى أول الوقت بحيث إن بعض الناس لم يظهر لهم زوال الشمس بنظرهم
الحكم: إسناد صحيح، والحديث محمول على التعجيل بالصلاة، لا على أدائها قبل وقتها، إنه صلى فى أول الوقت بحيث إن بعض الناس لم يظهر لهم زوال الشمس بنظرهم
حدیث نمبر: 12112 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي سُفْيَانَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: جَاءَ جِبْرِيلُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ وَهُوَ جَالِسٌ حَزِينٌ قَدْ خُضِبَ بِالدِّمَاءِ، ضَرَبَهُ بَعْضُ أَهْلِ مَكَّةَ، قَالَ: فَقَالَ لَهُ: مَا لَكَ؟، قَالَ: فَقَالَ لَهُ: فَعَلَ بِي هَؤُلَاءِ وَفَعَلُوا، قَالَ: فَقَالَ لَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام: أَتُحِبُّ أَنْ أُرِيَكَ آيَةً؟، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَنَظَرَ إِلَى شَجَرَةٍ مِنْ وَرَاءِ الْوَادِي، فَقَالَ: ادْعُ بِتِلْكَ الشَّجَرَةِ، فَدَعَاهَا فَجَاءَتْ تَمْشِي، حَتَّى قَامَتْ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ: مُرْهَا فَلْتَرْجِعْ، فَأَمَرَهَا فَرَجَعَتْ إِلَى مَكَانِهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" حَسْبِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن حضرت جبرئیل علیہ السلام نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس وقت غمگین بیٹھے تھے اور خون میں لت پٹ تھے، کچھ اہل مکہ نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مارا تھا، حضرت جبرئیل علیہ السلام نے پوچھا کہ آپ کو کیا ہوا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ان لوگوں نے میرے ساتھ یہ سلوک کیا ہے، حضرت جبرئیل علیہ السلام نے عرض کیا کہ کیا آپ چاہیں گے کہ میں آپ کو ایک معجزہ دکھاؤں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اثبات میں جواب دیا، حضرت جبرئیل علیہ السلام نے وادی کے پیچھے ایک درخت کی طرف دیکھا اور کہا کہ اس درخت کو بلائیے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے آواز دی تو وہ چلتا ہوا آیا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے کھڑا ہوگیا، حضرت جبرئیل علیہ السلام نے عرض کیا کہ اب اسے واپس جانے کا حکم دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے حکم دیا تو وہ واپس چلا گیا، یہ دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میرے لئے یہی کافی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12112]
حکم دارالسلام
اسناد قوي
الحكم: اسناد قوي
حدیث نمبر: 12113 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَقُولُ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، وَالْجُبْنِ وَالْهَرَمِ، وَالْبُخْلِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ دعاء کیا کرتے تھے کہ اے اللہ! میں لاچاری، سستی، بزدلی، بڑھاپے، بخل اور عذاب قبر سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں اور زندگی اور موت کی آزمائش سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12113]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 2823 ، م: 2706
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 2823 ، م: 2706
حدیث نمبر: 12114 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، أَيُّوبُ ، حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" أَخَذَ الرَّايَةَ زَيْدٌ فَأُصِيبَ، ثُمَّ أَخَذَهَا جَعْفَرٌ فَأُصِيبَ، ثُمَّ أَخَذَهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ فَأُصِيبَ، وَإِنَّ عَيْنَيْهِ لَتَذْرِفَانِ، ثُمَّ أَخَذَهَا خَالِدٌ مِنْ غَيْرِ إِمْرَةٍ فَفَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ، وَمَا يَسُرُّنِي أَنَّهُمْ عِنْدَنَا"، أَوْ قَالَ:" مَا يَسُرُّهُمْ أَنَّهُمْ عِنْدَنَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے ہمیں خبر دی کہ زید نے جھنڈا پکڑا لیکن شہید ہوگئے، پھر جعفر نے پکڑا لیکن وہ بھی شہید ہوگئے، پھر عبداللہ بن رواحہ نے اسے پکڑا لیکن وہ بھی شہید ہوگئے، پھر خالد بن ولید نے کسی سالاری کے بغیر جھنڈا پکڑا اور اللہ نے ان کے ہاتھوں پر مسلمانوں کو فتح عطاء فرمائی اور مجھے اس بات کی خوشی نہیں ہے کہ وہ ہمارے پاس ہی رہتے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12114]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 2798
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 2798
حدیث نمبر: 12115 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ ، ابْنُ عَوْنٍ ، حُمَيْدِ بْنِ زَاذَوَيْهِ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ زَاذَوَيْهِ ، قَالَ: قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ :" نُهِينَا، أَوْ قَالَ: أُمِرْنَا أَنْ لَا نَزِيدَ أَهْلَ الْكِتَابِ عَلَى وَعَلَيْكُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ اہل کتاب کے سلام کے جواب میں وعلیکم سے زیادہ کچھ نہ کہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12115]
حکم دارالسلام
حديث صحيح ، وهذا اسناد ضعيف لجهالة حميد بن زادويه الأزرق، وانظر ما سلف برقم: 11948
الحكم: حديث صحيح ، وهذا اسناد ضعيف لجهالة حميد بن زادويه الأزرق، وانظر ما سلف برقم: 11948
حدیث نمبر: 12116 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَقَارِبَةً، وَصَلَاةُ أَبِي بَكْرٍ، حَتَّى مَدَّ عُمَرُ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ساری نمازیں قریب قریب برابر ہوتی تھیں، اسی طرح حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی نمازیں بھی، لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فجر کی نماز طویل کرنا شروع فرمائی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12116]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 473
الحكم: إسناده صحيح، م: 473
حدیث نمبر: 12117 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، أَيُّوبُ ، ابْنِ سِيرِينَ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ ، قَالَ: سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : هَلْ قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، قَالَ: نَعَمْ، بَعْدَ الرُّكُوعِ، ثُمَّ سُئِلَ بَعْدَ ذَلِكَ مَرَّةً أُخْرَى هَلْ قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ؟، قَالَ: نَعَمْ، بَعْدَ الرُّكُوعِ يَسِيرًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قنوت نازلہ پڑھی ہے؟ انہوں نے فرمایا ہاں! رکوع کے بعد، دوبارہ یہی سوال ہوا کہ نماز فجر میں قنوت نازلہ پڑھی ہے؟ تو فرمایا ہاں! کچھ عرصے کے لئے رکوع کے بعد پڑھی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12117]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 1001 ، م: 677
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 1001 ، م: 677
حدیث نمبر: 12118 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" كَانَ شَعْرُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَنْصَافِ أُذُنَيْهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بال نصف کان تک ہوتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12118]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2338
الحكم: إسناده صحيح، م: 2338
حدیث نمبر: 12119 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ , عَنْ أَنَسٍ , قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ وَقْتِ صَلَاةِ الصُّبْحِ؟، قَالَ:" فَأَمَرَ بِلَالًا حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ فَأَقَامَ الصَّلَاةَ، ثُمَّ أَسْفَرَ مِنَ الْغَدِ حَتَّى أَسْفَرَ، ثُمَّ قَالَ: أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ وَقْتِ صَلَاةِ الْغَدَاةِ؟ مَا بَيْنَ هَاتَيْنِ، أَوْ قَالَ: هَذَيْنِ وَقْتٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے فجر کا وقت پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو طلوع فجر کے وقت حکم دیا اور نماز کھڑی کردی، پھر اگلے دن خوب روشنی میں کر کے نماز پڑھائی اور فرمایا نماز فجر کا وقت پوچھنے والا کہاں ہے؟ ان دو وقتوں کے درمیان نماز فجر کا وقت ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12119]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12120 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، أَيُّوبُ ، مُحَمَّدٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ:" مَنْ كَانَ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلَاةِ فَلْيُعِدْ"، فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا يَوْمٌ يُشْتَهَى فِيهِ اللَّحْمُ، وَذَكَرَ هَنَةً مِنْ جِيرَانِهِ، فَكَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَّقَهُ، قَالَ: وَعِنْدِي جَذَعَةٌ هِيَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ شَاتَيْ لَحْمٍ، قَالَ: فَرَخَّصَ لَهُ، فَلَا أَدْرِي بَلَغَتْ رُخْصَتُهُ مَنْ سِوَاهُ، أَمْ لَا؟، قَالَ: ثُمَّ انْكَفَأَ رَسُولُ اللَّهِ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ إِلَى كَبْشَيْنِ فَذَبَحَهُمَا، وَقَامَ النَّاسُ إِلَى غُنَيْمَةٍ فَتَوَزَّعُوهَا، أَوْ قَالَ فَتَجَزَّعُوهَا، هَكَذَا قَالَ أَيُّوبُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عیدالاضحی کے دن فرمایا کہ جس شخص نے نماز سے پہلے قربانی کرلی ہو، اسے دوبارہ قربانی کر لینی چاہئے، ایک آدمی یہ سن کر کھڑا ہوگیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! یہ دن ایسا ہے جس میں لوگوں کو عام طور پر گوشت کی خواہش ہوتی ہے پھر اس نے اپنے کسی پڑوسی کے اس معاملے کا تذکرہ کیا تو ایسا محسوس ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کی تصدیق کر رہے ہیں، پھر اس نے کہا کہ میرے پاس ایک چھ ماہ کا بچہ ہے، جو مجھے دو بکریوں کے گوشت سے بھی زیادہ محبوب ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے اس ہی کی قربانی کرنے کی اجازت دے دی، اب مجھے نہیں معلوم کہ یہ اجازت دوسروں کے لئے بھی ہے یا نہیں، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے دو مینڈھوں کی طرف متوجہ ہوئے اور انہیں ذبح فرمایا: لوگ " مال غنیمت " کے انتظار میں کھڑے تھے، سو انہوں نے اسے تقسیم کرلیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12120]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 945 ، م: 1962
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 945 ، م: 1962