إِسْمَاعِيلُ ، أَيُّوبُ ، مُحَمَّدٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ:" مَنْ كَانَ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلَاةِ فَلْيُعِدْ"، فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا يَوْمٌ يُشْتَهَى فِيهِ اللَّحْمُ، وَذَكَرَ هَنَةً مِنْ جِيرَانِهِ، فَكَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَّقَهُ، قَالَ: وَعِنْدِي جَذَعَةٌ هِيَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ شَاتَيْ لَحْمٍ، قَالَ: فَرَخَّصَ لَهُ، فَلَا أَدْرِي بَلَغَتْ رُخْصَتُهُ مَنْ سِوَاهُ، أَمْ لَا؟، قَالَ: ثُمَّ انْكَفَأَ رَسُولُ اللَّهِ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ إِلَى كَبْشَيْنِ فَذَبَحَهُمَا، وَقَامَ النَّاسُ إِلَى غُنَيْمَةٍ فَتَوَزَّعُوهَا، أَوْ قَالَ فَتَجَزَّعُوهَا، هَكَذَا قَالَ أَيُّوبُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عیدالاضحی کے دن فرمایا کہ جس شخص نے نماز سے پہلے قربانی کرلی ہو، اسے دوبارہ قربانی کر لینی چاہئے، ایک آدمی یہ سن کر کھڑا ہوگیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! یہ دن ایسا ہے جس میں لوگوں کو عام طور پر گوشت کی خواہش ہوتی ہے پھر اس نے اپنے کسی پڑوسی کے اس معاملے کا تذکرہ کیا تو ایسا محسوس ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کی تصدیق کر رہے ہیں، پھر اس نے کہا کہ میرے پاس ایک چھ ماہ کا بچہ ہے، جو مجھے دو بکریوں کے گوشت سے بھی زیادہ محبوب ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے اس ہی کی قربانی کرنے کی اجازت دے دی، اب مجھے نہیں معلوم کہ یہ اجازت دوسروں کے لئے بھی ہے یا نہیں، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے دو مینڈھوں کی طرف متوجہ ہوئے اور انہیں ذبح فرمایا: لوگ " مال غنیمت " کے انتظار میں کھڑے تھے، سو انہوں نے اسے تقسیم کرلیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12120]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 945 ، م: 1962
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 945 ، م: 1962