بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَنَسِ بنِ مَالِك رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2170
صفحہ 56 از 109
حدیث نمبر: 13042 مسند احمد
حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ ، سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: جَاءَ أَبُو طَلْحَةَ يَوْمَ حُنَيْنٍ يُضْحِكُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أُمِّ سُلَيْمٍ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَمْ تَرَ إِلَى أُمِّ سُلَيْمٍ مُتَقَلِّدَةً خِنْجَرًا؟! فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا تَصْنَعِينَ بِهِ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ؟" قَالَتْ: أَرَدْتُ إِنْ دَنَا مِنِّي أَحَدٌ مِنْهُمْ طَعَنْتُهُ بِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ حنین کے دن حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ہنسانے کے لئے آئے اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! ام سلیم کو دیکھیں کہ ان کے پاس خنجر ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ اے ام سلیم! تم اس کا کیا کرو گی؟ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی مشرک میرے قریب آیا تو میں اس سے اس کا پیٹ پھاڑ دوں گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13042]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1809
الحكم: إسناده صحيح، م: 1809
حدیث نمبر: 13043 مسند احمد
مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، هِلَالُ بْنُ سُوَيْدٍ أَبُو مُعَلَّى ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي هِلَالُ بْنُ سُوَيْدٍ أَبُو مُعَلَّى ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، وَهُوَ يَقُولُ: أُهْدِيَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةُ طَوَائِرَ، فَأَطْعَمَ خَادِمَهُ طَائِرًا، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ أَتَتْهُ بِهِ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَمْ أَنْهَكِ أَنْ تَرْفَعِي شَيْئًا لِغَدٍ؟ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَأْتِي بِرِزْقِ كُلِّ غَدٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس ہدیہ کے طور پر تین پرندے آئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان میں سے ایک پرندہ اپنی ایک خادمہ کو دے دیا، اگلے دن اس نے وہی پرندہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا میں نے تمہیں اگلے دن کے لئے کوئی چیز اٹھا رکھنے سے منع نہیں کیا تھا؟ ہر دن کا رزق اللہ خود دیتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13043]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف هلال بن سويد أبى المعلى الأحمري وهو والد المعلي بن هلال الكذاب -
الحكم: إسناده ضعيف لضعف هلال بن سويد أبى المعلى الأحمري وهو والد المعلي بن هلال الكذاب -
حدیث نمبر: 13044 مسند احمد
مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، حَنْظَلَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ السَّدُوسِيُّ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ السَّدُوسِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَحَدُنَا يَلْقَى صَدِيقَهُ، أَيَنْحَنِي لَهُ؟ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا" قَالَ: فَيَلْتَزِمُهُ وَيُقَبِّلُهُ؟ قَالَ" لَا" قَالَ: فَيُصَافِحُهُ؟ قَالَ: نَعَمْ، إِنْ شَاءَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! ہم میں سے جب کوئی اپنے دوست سے ملے تو کیا اس سے جھک کر مل سکتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا نہیں، سائل نے پوچھا کیا اس سے چمٹ کر اسے بوسہ دے سکتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا نہیں، سائل نے پوچھا کہ مصافحہ کرسکتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں! اگر چاہے تو مصافحہ کرسکتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13044]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف حنظلة بن عبدالله السدوسي
الحكم: إسناده ضعيف لضعف حنظلة بن عبدالله السدوسي
حدیث نمبر: 13045 مسند احمد
الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبُو قِلَابَةَ الْجَرْمِيُّ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو قِلَابَةَ الْجَرْمِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِيَةُ نَفَرٍ مِنْ عُكْلٍ، فَأَسْلَمُوا، فَاجْتَوَوْا الْمَدِينَةَ،" فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْتُوا إِبِلَ الصَّدَقَةِ، فَيَشْرَبُوا مِنْ أَبْوَالِهَا وَأَلْبَانِهَا، فَفَعَلُوا فَصَحُّوا، فَارْتَدُّوا، وَقَتَلُوا رُعَاتَهَا أَوْ رِعَاءَهَا وَسَاقُوهَا، فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَلَبِهِمْ قَافَةً، فَأُتِيَ بِهِمْ، فَقَطَّعَ أَيْدِيَهُمْ، وَأَرْجُلَهُمْ، وَلَمْ يَحْسِمْهُمْ حَتَّى مَاتُوا، وَسَمَلَ أَعْيُنَهُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قبیلہ عکل کے آٹھ آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آکر مسلمان ہوگئے، لیکن انہیں مدینہ منورہ کی آب و ہوا موافق نہ آئی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اگر تم ہمارے اونٹوں کے پاس جا کر ان کا دودھ پیو تو شاید تندرست ہوجاؤ، چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا، لیکن جب وہ صحیح ہوگئے تو دوبارہ مرتد ہو کر کفر کی طرف لوٹ گئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مسلمان چرواہے کو قتل کردیا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اونٹوں کو بھگا کرلے گئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے پیچھے صحابہ کو بھیجا، انہیں پکڑ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دئیے، ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھر وادیں اور انہیں پتھریلے علاقوں میں چھوڑ دیا یہاں تک کہ وہ مرگئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13045]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6802، م: 1671
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6802، م: 1671
حدیث نمبر: 13046 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ حَدَّثَهُمْ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَادَ أَنْ يَكْتُبَ إِلَى الْأَعَاجِمِ، فَقِيلَ: إِنَّهُمْ لَا يَقْبَلُونَ كِتَابًا إِلَّا بِنَقْشٍ، فَاتَّخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ، وَنَقَشَ فِيهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عجمیوں کو خط لکھنے کا ارادہ کیا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ وہ لوگ صرف مہر شدہ خطوط ہی پڑھتے ہیں، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چاندی کی انگوٹھی بنوالی، اس کی سفیدی اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے، اس پر یہ عبارت نقش تھی، " محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم " [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13046]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7162، م: 2092
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7162، م: 2092
حدیث نمبر: 13047 مسند احمد
زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ ، ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَتَى السَّاعَةُ؟، قَالَ:" مَا قَدَّمْتَ لَهَا؟" قَالَ حُبَّ اللَّهِ وَرَسُولِهِ، قَالَ:" أَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک دیہاتی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! قیامت کب قائم ہوگی؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم نے قیامت کے لئے کیا تیاری کر رکھی ہے؟ اس نے کہا کہ میں نے کوئی بہت زیادہ اعمال تو مہیا نہیں کر رکھے، البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ تم اس کے ساتھ ہوگے جس کے ساتھ محبت کرتے ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13047]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 3688، م: 2639، وهذا إسناد قوي
الحكم: حديث صحيح، خ: 3688، م: 2639، وهذا إسناد قوي
حدیث نمبر: 13048 مسند احمد
زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، عَلِيُّ بْنُ مَسْعَدَةَ الْبَاهِلِيُّ ، قَتَادَةُ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ مَسْعَدَةَ الْبَاهِلِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَسْتَقِيمُ إِيمَانُ عَبْدٍ حَتَّى يَسْتَقِيمَ قَلْبُهُ، وَلَا يَسْتَقِيمُ قَلْبُهُ حَتَّى يَسْتَقِيمَ لِسَانُهُ، وَلَا يَدْخُلُ رَجُلٌ الْجَنَّةَ لَا يَأْمَنُ جَارُهُ بَوَائِقَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی شخص کا ایمان اس وقت تک مستقیم نہیں ہوسکتا جب تک اس کا دل مستقیم نہ ہو اور دل اس وقت تک مستقیم نہیں ہوسکتا جب تک زبان مستقیم نہ ہو اور کوئی ایسا شخص جنت میں داخل نہیں ہوگا جس کا پڑوسی اس کی ایذاء رسانی سے محفوظ نہ ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13048]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف على بن مسعدة الباهلي، وقد سلف قصة الجار بإسناد صحيح، برقم: 12561
الحكم: إسناده ضعيف لضعف على بن مسعدة الباهلي، وقد سلف قصة الجار بإسناد صحيح، برقم: 12561
حدیث نمبر: 13049 مسند احمد
زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، عَلِيُّ بْنُ مَسْعَدَةَ الْبَاهِلِيُّ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ مَسْعَدَةَ الْبَاهِلِيُّ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كُلُّ ابْنِ آدَمَ خَطَّاءٌ، فَخَيْرُ الْخَطَّائِينَ التَّوَّابُونَ، وَلَوْ أَنَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَيْنِ مِنْ مَالٍ، لَابْتَغَى لَهُمَا ثَالِثًا، وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہر انسان خطاکار ہے اور بہترین خطاکار وہ لوگ ہیں جو توبہ کرنے والے ہوں اور اگر ابن آدم کے پاس مال سے بھری ہوئی دو وادیاں بھی ہوتیں تو وہ تیسری کی تمنا کرتا اور ابن آدم کا پیٹ صرف قبر کی مٹی ہی بھر سکتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13049]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف على بن مسعدة الباهلي، وقوله فى آخر الحديث: «ولو أن لابن آدم ... » روي بأسانید اُخری صحیحۃ عن قتادۃ عن أنس، انظر: 12228
الحكم: إسناده ضعيف لضعف على بن مسعدة الباهلي، وقوله فى آخر الحديث: «ولو أن لابن آدم ... » روي بأسانید اُخری صحیحۃ عن قتادۃ عن أنس، انظر: 12228
حدیث نمبر: 13050 مسند احمد
زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ الْأَزْدِيُّ أَبُو النَّضْرِ ، قَتَادَةُ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ الْأَزْدِيُّ أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ" قِرَاءَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ مَدًّا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قرأت کے متعلق مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی آواز کو کھینچا کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13050]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5045
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5045
حدیث نمبر: 13051 مسند احمد
هِشَامُ بْنُ سَعِيدٍ وَهُوَ أَبُو أَحْمَدَ الطَّالَقَانِيُّ ، مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ ، مَكْحُولًا ، مُوسَى بْنِ أَنَسٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعِيدٍ وَهُوَ أَبُو أَحْمَدَ الطَّالَقَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ مَكْحُولًا يُحَدِّثُ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ:" لَمْ يَبْلُغْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الشَّيْبِ مَا يَخْضِبُ، وَلَكِنَّ أَبَا بَكْرٍ كَانَ يَخْضِبُ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ حَتَّى يَقْنَأَ شَعَرُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خضاب لگاتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ یہاں تک نوبت ہی نہیں آئی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی کنپٹیوں میں چند بال سفید تھے، البتہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ مہندی اور وسمہ کا خضاب لگاتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13051]
حکم دارالسلام
إسناده قوي، خ: 5895، م: 2341
الحكم: إسناده قوي، خ: 5895، م: 2341
حدیث نمبر: 13052 مسند احمد
زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، عَمْرُو بْنُ حَمْزَةَ ، خَلَفٌ أَبُو الرَّبِيعِ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) قَالَ عَبْد اللَّهِ وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ حَمْزَةَ ، حَدَّثَنَا خَلَفٌ أَبُو الرَّبِيعِ إِمَامُ مَسْجِدِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ هَذَا الدِّينَ مَتِينٌ، فَأَوْغِلُوا فِيهِ بِرِفْقٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا یہ دین بڑا سنجیدہ اور مضبوط ہے، لہٰذا اس میں نرمی کو شامل رکھا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13052]
حکم دارالسلام
حسن بشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف عمرو بن حمزة
الحكم: حسن بشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف عمرو بن حمزة
حدیث نمبر: 13053 مسند احمد
عَبْدُ الْأَعْلَى ، مَعْمَرٍ ، الزُّهْرِيِّ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا تَبَاغَضُوا، وَلَا تَقَاطَعُوا، وَلَا تَدَابَرُوا، وَلَا تَحَاسَدُوا، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا، وَلَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا آپس میں قطع تعلقی، بغض، پشت پھیرنا اور حسد نہ کیا کرو اور اللہ کے بندو! بھائی بھائی بن کر رہا کرو اور کسی مسلمان کے لئے اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع کلامی کرنا حلال نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13053]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6076، م: 2559
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6076، م: 2559
حدیث نمبر: 13054 مسند احمد
عَبْدُ الْأَعْلَى ، مَعْمَرٍ ، الزُّهْرِيِّ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنِ مَعْمَرٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كَانَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ أَشْبَهَهُمْ وَجْهًا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے حضرت امام حسن سب سے بڑھ کر نبی کے مشابہہ تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13054]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3752
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3752
حدیث نمبر: 13055 مسند احمد
عَبْدُ الْأَعْلَى ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ سَأَلَتْ نبي الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: تَرَى الْمَرْأَةُ مَا يَرَى الرَّجُلُ فِي مَنَامِهَا؟ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا رَأَتْ مَا يَرَى الرَّجُلُ يَعْنِي الْمَاءَ فَلْتَغْتَسِلْ" قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ أَوَيَكُونُ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَعَمْ، مَاءُ الرَّجُلِ غَلِيظٌ أَبْيَضُ، وَمَاءُ الْمَرْأَةِ رَقِيقٌ أَصْفَرُ، فَمِنْ أَيِّهِمَا سَبَقَ أَوْ عَلَا قَالَ سَعِيدٌ نَحْنُ نَشُكُّ يَكُونُ الشَّبَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ اگر عورت بھی اسی طرح "" خواب دیکھے "" جسے مرد دیکھتا ہے تو کیا حکم ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو عورت ایسا "" خواب دیکھے "" اور اسے انزال ہوجائے تو اسے غسل کرنا چاہئے۔ ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! کیا ایسا بھی ہو سکتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہاں! مرد کا پانی گاڑھا اور سفید ہوتا ہے اور عورت کا پانی پیلا اور پتلا ہوتا ہے، دونوں میں سے جو غالب آجائے بچہ اسی کے مشابہہ ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13055]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 310
الحكم: إسناده صحيح، م: 310
حدیث نمبر: 13056 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَبْدُ اللَّهِ ، حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، فَإِذَا شَهِدُوا، وَاسْتَقْبَلُوا قِبْلَتَنَا، وَأَكَلُوا ذَبِيحَتَنَا، وَصَلَّوْا صَلَاتَنَا، فَقَدْ حَرُمَتْ عَلَيْنَا دِمَاؤُهُمْ وَأَمْوَالُهُمْ، إِلَّا بِحَقِّهَا، لَهُمْ مَا لِلْمُسْلِمِينَ، وَعَلَيْهِمْ مَا عَلَيْهِمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا مجھے اس بات کا حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے اس وقت تک قتال کرتا رہوں جب تک وہ اس بات کی گواہی نہ دینے لگیں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، جب وہ اس بات کی گواہی دینے لگیں، ہمارے قبلے کا رخ کرنے لگیں، ہمارا ذبیحہ کھانے لگیں اور ہماری طرح نماز پڑھنے لگیں تو ہم پر ان کی جان و مال کا احترام واجب ہوگیا، سوائے اس کلمے کے حق کے، ان کے حقوق بھی عام مسلمانوں کی طرح ہوں گے اور ان کے فرائض بھی دیگر مسلمانوں کی طرح ہوں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13056]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 392
الحكم: إسناده صحيح، خ: 392
حدیث نمبر: 13057 مسند احمد
عَبْدُ الْوَاحِدِ أَبُو عُبَيْدَةَ ، سَلَّامٍ أَبِي الْمُنْذِرِ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ أَبُو عُبَيْدَةَ ، عَنْ سَلَّامٍ أَبِي الْمُنْذِرِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" حُبِّبَ إِلَيَّ النِّسَاءُ وَالطِّيبُ، وَجُعِلَ قُرَّةُ عَيْنِي فِي الصَّلَاةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا دنیا میں میرے نزدیک صرف عورت اور خوشبو کی محبت ڈالی گئی اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13057]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 13058 مسند احمد
عَبْدُ الْوَاحِدِ أَبُو عُبَيْدَةَ الْحَدَّادُ ، الْمُعَلَّى بْنُ جَابِرٍ يَعْنِي اللَّقِيطِيَّ ، مُوسَى بْنُ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ أَبُو عُبَيْدَةَ الْحَدَّادُ ، حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ جَابِرٍ يَعْنِي اللَّقِيطِيَّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ:" كَانَ إِذَا قَامَ الْمُؤَذِّنُ فَأَذَّنَ صَلَاةَ الْمَغْرِبِ فِي مَسْجِدٍ بِالْمَدِينَةِ، قَامَ مَنْ شَاءَ فَصَلَّى حَتَّى تُقَامَ الصَّلَاةُ، وَمَنْ شَاءَ رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قَعَدَ، وَذَلِكَ بِعَيْنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مسجد نبوی میں جب مؤذن کھڑا ہو کر اذان مغرب دیتا تھا تو اس کے بعد جو چاہتا وہ دو رکعتیں پڑھ لیتا تھا، یہاں تک کہ نماز کھڑی ہوجاتی اور جو چاہتا وہ دو رکعتیں پڑھ کر بیٹھ جاتا اور یہ سب کچھ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نگاہوں کے سامنے ہوتا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13058]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، قاله أحمد شاكر، خ: 625، م: 836
الحكم: إسناده صحيح، قاله أحمد شاكر، خ: 625، م: 836
حدیث نمبر: 13059 مسند احمد
عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" كُنَّا نُصَلِّي الْمَغْرِبَ مَعَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ يَنْطَلِقُ الرَّجُلُ إِلَى بَنِي سَلِمَةَ وَهُوَ يَرَى مَوْقِعَ سَهْمِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھتے تھے، پھر ہم میں سے کوئی شخص بنو سلمہ کے پاس جاتا تو اس وقت تک وہ اپنا تیر گرنے کی جگہ کو بخوبی دیکھ سکتا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13059]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13060 مسند احمد
عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حُمَيْدٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ، فَخَرَجَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَرَضَ لَهُ رَجُلٌ، فَحَبَسَهُ حَتَّى كَادَ بَعْضُ الْقَوْمِ أَنْ يَنْعَسَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نماز کا وقت ہوگیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک آدمی کے ساتھ مسجد میں تنہائی میں گفتگو فرما رہے تھے، جس وقت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز کے لئے اٹھے تو لوگ سو چکے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13060]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح كسابقه، خ: 643، م: 376
الحكم: إسناده صحيح كسابقه، خ: 643، م: 376
حدیث نمبر: 13061 مسند احمد
عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، سَلْمٍ الْعَلَوِيِّ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ سَلْمٍ الْعَلَوِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ:" يَا بُنَيَّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے " اے میرے پیارے بیٹے " کہہ کر مخاطب کیا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13061]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 2151
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 2151