حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ ، سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: جَاءَ أَبُو طَلْحَةَ يَوْمَ حُنَيْنٍ يُضْحِكُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أُمِّ سُلَيْمٍ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَمْ تَرَ إِلَى أُمِّ سُلَيْمٍ مُتَقَلِّدَةً خِنْجَرًا؟! فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا تَصْنَعِينَ بِهِ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ؟" قَالَتْ: أَرَدْتُ إِنْ دَنَا مِنِّي أَحَدٌ مِنْهُمْ طَعَنْتُهُ بِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ حنین کے دن حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ہنسانے کے لئے آئے اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! ام سلیم کو دیکھیں کہ ان کے پاس خنجر ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ اے ام سلیم! تم اس کا کیا کرو گی؟ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی مشرک میرے قریب آیا تو میں اس سے اس کا پیٹ پھاڑ دوں گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13042]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1809
الحكم: إسناده صحيح، م: 1809