بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَنَسِ بنِ مَالِك رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2170
صفحہ 92 از 109
حدیث نمبر: 13762 مسند احمد
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، مِثْلَهُ.
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر ما قبله
الحكم: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 13763 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ ، الْحَسَنِ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَكَّأُ عَلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ" مُتَوَشِّحًا فِي ثَوْبٍ قِطْرِيٍّ، فَصَلَّى بِهِمْ، أَوْ قَالَ: مُشْتَمِلًا، فَصَلَّى بِهِمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کا سہارا لئے باہر تشریف لائے، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے جسم اطہر پر ایک کپڑا تھا، جس کے دونوں کنارے مخالف سمت سے کندھے پر ڈال رکھے تھے اور پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13763]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13764 مسند احمد
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّيْمِيُّ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّيْمِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ مُوسَى بْنَ عِمْرَانَ عَلَيْهِ السَّلَام كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَدْخُلَ الْمَاءَ، لَمْ يُلْقِ ثَوْبَهُ، حَتَّى يُوَارِيَ عَوْرَتَهُ فِي الْمَاءِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا حضرت موسیٰ علیہ السلام جب نہر کے پانی میں غوطہ لگانے کا ارادہ کرتے تو اس وقت تک کپڑے نہ اتارتے تھے جب تک پانی میں اپنا ستر چھپا نہ لیتے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13764]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف على بن زيد بن جدعان، ويشهد لمعناه حديث أبى هريرة السالف برقم: 9091
الحكم: إسناده ضعيف لضعف على بن زيد بن جدعان، ويشهد لمعناه حديث أبى هريرة السالف برقم: 9091
حدیث نمبر: 13765 مسند احمد
أَبُو نُعَيْمٍ ، سُفْيَانُ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَصَمِّ ، أَنَسًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَصَمِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا ، يَقُولُ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ" يُتِمُّونَ التَّكْبِيرَ إِذَا رَفَعُوا، وَإِذَا وَضَعُوا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور حضرت ابوبکر وعمر و عثمان رضی اللہ عنہ تکبیر مکمل کیا کرتے تھے، جب سجدے میں جاتے یا سر اٹھاتے (تب بھی تکبیر کہا کرتے تھے) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13765]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13766 مسند احمد
سُوَيْدُ بْنُ عَمْرٍو الْكَلْبِيُّ ، أَبَانُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ عَمْرٍو الْكَلْبِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدًا فِي أَصْحَابِهِ، إِذْ مَرَّ بِهِمْ يَهُودِيٌّ فَسَلَّمَ، فَلَمَّا مَضَى دَعَاهُ، فَقَالَ: كَيْفَ قُلْتَ؟ قَالَ: قُلْتُ: سَامٌ عَلَيْكُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ، فَقُولُوا: وَعَلَيْكُمْ"، أَيْ: مَا قُلْتُمْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک یہودی نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سلام کرتے ہوئے " السام علیک " کہا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا اسے میرے پاس بلا کر لاؤ اور اس سے پوچھا کہ کیا تم نے " السام علیک " کہا تھا؟ اس نے اقرار کیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (اپنے صحابہ رضی اللہ عنہ سے) فرمایا جب تمہیں کوئی کتابی سلام کرے تو " صرف وعلیک " کہا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13766]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13767 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ ، حُمَيْدٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ سورة آل عمران آية 92، أَوْ: مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا سورة البقرة آية 245، قَالَ أَبُو طَلْحَةَ: وَكَانَ لَهُ حَائِطٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، حَائِطِي لِلَّهِ، وَلَوْ اسْتَطَعْتُ أَنْ أُسِرَّهُ لَمْ أُعْلِنْهُ، فَقَالَ:" اجْعَلْهُ فِي قَرَابَتِكَ، أَوْ أَقْرَبِيكَ".
حدیث نمبر: 13768 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ ، حُمَيْدٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَقْدَمُ عَلَيْكُمْ قَوْمٌ، هُمْ أَرَقُّ أَفْئِدَةً مِنْكُمْ"، فَلَمَّا دَنَوْا مِنَ الْمَدِينَةِ، جَعَلُوا يَرْتَجِزُونَ: غَدًا نَلْقَى الْأَحِبَّهْ مُحَمَّدًا وَحِزْبَهْ فَقَدِمَ الْأَشْعَرِيُّونَ، فِيهِمْ أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تمہارے پاس ایسی قومیں آئیں گی جن کے دل تم سے بھی زیادہ نرم ہوں گے، چنانچہ ایک مرتبہ اشعریین آئے، ان میں حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے، جب وہ مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو یہ رجزیہ شعر پڑھنے لگے کہ کل ہم اپنے دوستوں یعنی محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ان کے ساتھیوں سے ملاقات کریں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13768]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13769 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ ، حُمَيْدٌ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" أَوْلَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ بَنَى بِزَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، فَأَشْبَعَ النَّاسَ خُبْزًا وَلَحْمًا، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى حُجَرِ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ كَمَا كَانَ يَصْنَعُ صَبِيحَةَ بِنَائِهِ، فَيُسَلِّمُ عَلَيْهِنَّ، وَيَدْعُو لَهُنَّ، وَيُسَلِّمْنَ عَلَيْهِ، وَيَدْعُونَ لَهُ، فَلَمَّا رَجَعَ إِلَى بَيْتِهِ رَأَى رَجُلَيْنِ جَرَى بَيْنَهُمَا الْحَدِيثُ، فَلَمَّا رَآهُمَا رَجَعَ عَنْ بَيْتِهِ، فَلَمَّا رَأَى الرَّجُلاَن نَبِيَّ الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجَعَ عَنْ بَيْتِهِ، وَثَبَا مُسْرِعَيْنِ، قَالَ: فَمَا أَدْرِي أَنَا أَخْبَرْتُهُ بِخُرُوجِهِمَا، أَمْ أُخْبِرَ، فَرَجَعَ حَتَّى دَخَلَ الْبَيْتَ وَأَرْخَى السِّتْرَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ، وَأُنْزِلَتْ آيَةُ الْحِجَابِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جس پہلی رات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہ کے یہاں رہے، اس کی صبح نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دعوت ولیمہ دی اور مسلمانوں کو خوب پیٹ بھر کر روٹی اور گوشت کھلایا، پھر حسب معمول واپس تشریف لے گئے اور ازواجِ مطہرات کے گھر میں جا کر انہیں سلام کیا اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے دعائیں کیں، پھر واپس تشریف لائے، جب گھر پہنچے تو دیکھا کہ دو آدمیوں کے درمیان گھر کے ایک کونے میں باہم گفتگو جاری ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان دونوں کو دیکھ کر واپس چلے گئے، جب ان دونوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنے گھر سے واپس پلٹتے ہوئے دیکھا تو وہ جلدی سے اٹھ کھڑے ہوئے، اب مجھے یاد نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ان کے جانے کی خبر میں نے دی یا کسی اور نے، بہرحال! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے گھر واپس آکر میرے اور اپنے درمیان پردہ لٹکالیا اور آیت حجاب نازل ہوگئی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13769]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4794، م: 1428
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4794، م: 1428
حدیث نمبر: 13770 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ ، حُمَيْدٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" أَرَادَ بَنُو سَلِمَةَ أَنْ يَتَحَوَّلُوا عَنْ مَنَازِلِهِمْ إِلَى قُرْبِ الْمَسْجِدِ، فَكَرِهَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَعْرَى الْمَدِينَةُ، فَقَالَ: يَا بَنِي سَلِمَةَ، أَلَا تَحْتَسِبُونَ آثَارَكُمْ؟".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بنو سلمہ نے ایک مرتبہ یہ ارادہ کیا کہ اپنی پرانی رہائش گاہ سے منتقل ہو کر مسجد کے قریب آکر سکونت پذیر ہوجائیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مدینہ منورہ کا خالی ہونا اچھا نہ لگا، اس لئے فرمایا اے بنو سلمہ! کیا تم مسجد کی طرف اٹھنے والے قدموں کا ثواب حاصل نہیں کرنا چاہتے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13770]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 655
الحكم: إسناده صحيح، خ: 655
حدیث نمبر: 13771 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ ، حُمَيْدٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: سَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَيْبَرَ، فَانْتَهَيْنَا إِلَيْهَا، فَلَمَّا أَصْبَحْنَا الْغَدَاةَ، رَكِبَ وَرَكِبَ الْمُسْلِمُونَ، وَرَكِبْتُ خَلْفَ أَبِي طَلْحَةَ، وَإِنَّ قَدَمِي لَتَمَسُّ قَدَمَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَخَرَجَ أَهْلُ خَيْبَرَ بِمَكَاتِلِهِمْ وَمَسَاحِيهِمْ إِلَى زُرُوعِهِمْ وَأَرَاضِيهِمْ، فَلَمَّا رَأَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمُسْلِمِينَ رَجَعُوا هِرَابَا، وَقَالُوا: مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللَّهُ أَكْبَرُ، خَرِبَتْ خَيْبَرُ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ، فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ خیبر کے دن میں حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے سواری پر بیٹھا ہوا تھا اور میرے پاؤں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاؤں کو چھو رہے تھے، ہم وہاں پہنچے تو سورج نکل چکا تھا اور اہل خیبر اپنے مویشیوں کو نکال کر کلہاڑیاں اور کدالیں لے کر نکل چکے تھے، ہمیں دیکھ کر کہنے لگے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور لشکر آگئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اللہ اکبر کہہ کر فرمایا کہ خیبر برباد برباد ہوگیا، جب ہم کسی قوم کے صحن میں اترتے ہیں تو ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح بڑی بدترین ہوتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13771]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2945
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2945
حدیث نمبر: 13772 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ ، حُمَيْدٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ عِنْدَ بَعْضِ نِسَائِهِ، فَأَرْسَلَتْ إِحْدَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ بِقَصْعَةٍ فِيهَا طَعَامٌ، فَضَرَبَتْ يَدَ الْخَادِمِ، فَسَقَطَتْ الْقَصْعَةُ فَانْفَلَقَتْ، فَأَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَضَمَّ الْكَسْرَيْنِ وَجَعَلَ يَجْمَعُ فِيهَا الطَّعَامَ، وَيَقُولُ: غَارَتْ أُمُّكُمْ، غَارَتْ أُمُّكُمْ، وَيَقُولُ لِلْقَوْمِ: كُلُوا، وَحَبَسَ الرَّسُولَ حَتَّى جَاءَتْ الْأُخْرَى بِقَصْعَتِهَا، فَدَفَعَ الْقَصْعَةَ الصَّحِيحَةَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الَّتِي كُسِرَتْ قَصْعَتُهَا، وَتَرَكَ الْمَكْسُورَةُ لِلَّتِي كَسَرَتْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی کسی اہلیہ (غالباً حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھے، دوسری اہلیہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس اپنے خادم کے ہاتھ ایک پیالہ بھجوایا جس میں کھانے کی کوئی چیز تھی، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس خادم کے ہاتھ پر مارا، جس سے اس کے ہاتھ سے پیالہ نیچے گر کر ٹوٹ گیا اور دو ٹکڑے ہوگیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ دیکھ کر فرمایا کہ تمہاری ماں نے اسے برباد کردیا، پھر برتن کے دونوں ٹکڑے لے کر انہیں جوڑا اور ایک دوسرے کے ساتھ ملا کر کھانا اس میں سمیٹا اور فرمایا اسے کھاؤ اور فارغ ہونے تک اس خادم کو روکے رکھا، اس کے بعد خادم کو دوسرا پیالہ دے دیا اور ٹوٹا ہوا پیالہ اسی گھر میں چھوڑ دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13772]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2481
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2481
حدیث نمبر: 13773 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ ، حُمَيْدٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: سَمِعَ الْمُسْلِمُونَ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُنَادِي مِنَ اللَّيْلِ: يَا أَبَا جَهْلِ بْنَ هِشَامٍ، وَيَا عُتْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ، وَيَا شَيْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ، وَيَا أُمَيَّةَ بْنَ خَلَفٍ، هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَكُمْ رَبُّكُمْ حَقًّا؟ فَإِنِّي قَدْ وَجَدْتُ مَا وَعَدَنِي رَبِّي حَقًّا، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تُنَادِي أَقْوَامًا قَدْ جَيَّفُوا؟ قَالَ: مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ، غَيْرَ أَنَّهُمْ لَا يَسْتَطِيعُونَ أَنْ يُجِيبُوا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مسلمانوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بدر کے کنوئیں پر یہ آواز لگاتے ہوئے سنا اے ابوجہل بن ہشام! اے عتبہ بن ربیعہ! اے شیبہ بن خلف! کیا تم سے تمہارے رب نے جو وعدہ کیا تھا اسے تم نے سچا پایا؟ مجھ سے تو میرے رب نے جو وعدہ کیا تھا میں نے اسے سچا پایا۔ صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! آپ ان لوگوں کو آواز دے رہے ہیں جو مردہ ہوچکے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں جو بات کہہ رہا ہوں تم ان سے زیادہ نہیں سن رہے، البتہ وہ اس کا جواب نہیں دے سکتے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13773]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13774 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ ، حُمَيْدٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ" يُحِبُّ أَنْ يَلِيَهُ الْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ لِيَحْفَظُوا عَنْهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس بات کو پسند فرماتے تھے کہ نماز میں مہاجرین اور انصار مل کر ان کے قریب کھڑے ہوں تاکہ احکام نماز سیکھ سکیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13774]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13775 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ ، حُمَيْدٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَرَأَيْتُ قَصْرًا مِنْ ذَهَبٍ، فَقُلْتُ: لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ؟ فَقَالُوا: لِشَابٍّ مِنْ قُرَيْشٍ، فَظَنَنْتُ أَنِّي أَنَا هُوَ، فَقُلْتُ: مَنْ؟ قَالُوا: عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ میں جنت میں داخل ہوا تو وہاں سونے کا ایک محل نظر آیا، میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ ایک قریشی نوجوان کا ہے، میں نے سمجھا کہ وہ میں ہوں اس لئے پوچھا وہ کون ہے؟ لوگوں نے بتایا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ عنہ،۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13775]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13776 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ ، حُمَيْدٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" دَخَلْتُ الْجَنَّةَ، فَإِذَا أَنَا بِنَهَرٍ يَجْرِي، حَافَّتَاهُ خِيَامُ اللُّؤْلُؤِ، فَضَرَبْتُ بِيَدِي إِلَى مَا يَجْرِي فِيهِ، فَإِذَا هُوَ مِسْكٌ أَذْفَرُ، فَقُلْتُ يَا جِبْرِيلُ، مَا هَذَا؟ قَالَ: هَذَا الْكَوْثَرُ الَّذِي أَعْطَاكَ اللَّهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں جنت میں داخل ہوا تو اچانک ایک نہر پر نظر پڑی، جس کے دونوں کناروں پر موتیوں کے خیمے لگے ہوئے تھے، میں نے اس میں ہاتھ ڈال کر پانی میں بہنے والی چیز کو پکڑا تو وہ مہکتی ہوئی مشک تھی، میں نے جبرائیل سے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ تو انہوں نے بتایا کہ یہ نہر کوثر ہے جو اللہ نے آپ کو عطاء فرمائی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13776]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4964
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4964
حدیث نمبر: 13777 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ ، حُمَيْدٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: أَقْبَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَجْهِهِ قَبْلَ أَنْ يُكَبِّرَ فِي الصَّلَاةِ، فَقَالَ:" أَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ وَتَرَاصُّوا، فَإِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نماز کھڑی ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا صفیں سیدھی کرلو اور جڑ کر کھڑے ہو کیونکہ میں تمہیں اپنے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13777]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 725، م: 434
الحكم: إسناده صحيح، خ: 725، م: 434
حدیث نمبر: 13778 مسند احمد
مُعَاوِيَةُ ، زَائِدَةُ ، حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ: أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ، فَأَقْبَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَجْهِهِ، فَقَالَ:" أَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ وَتَرَاصُّوا، فَإِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نماز کھڑی ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا صفیں سیدھی کرلو اور جڑ کر کھڑے ہو کیونکہ میں تمہیں اپنے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں۔ حدیث نمبر (١٢٤٦٣) اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13778]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 719، م: 434 ، وانظر ما قبله
الحكم: إسناده صحيح، خ: 719، م: 434 ، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 13779 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ ، حُمَيْدٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَغَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ رَوْحَةٌ"، فَذَكَرَ. يَعْنِي ذَكَرَ حَدِيثَ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کے راستے میں ایک صبح یا شام جہاد کرنا، دنیا و مافیھا سے بہتر ہے اور تم میں سے کسی کے کمان یا کوڑا رکھنے کی جنت میں جو جگہ ہوگی وہ دنیا ومافیہا سے بہتر ہے اور اگر کوئی جنتی عورت زمین کی طرف جھانک کر دیکھ لے تو ان دونوں کے درمیانی جگہ خوشبو سے بھر جائے اور مہک پھیل جائے اور اس کے سر کا دوپٹہ دنیا ومافیہا سے بہتر ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13779]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2792، م: 1880
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2792، م: 1880
حدیث نمبر: 13780 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، حُمَيْدٌ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَغَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَوْ رَوْحَةٌ، خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا، وَلَقَابُ قَوْسِ أَحَدِكُمْ أَوْ مَوْضِعُ قَدَمِهِ مِنَ الْجَنَّةِ، خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا، وَلَوْ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ اطَّلَعَتْ إِلَى الْأَرْضِ لَأَضَاءَتْ مَا بَيْنَهُمَا وَلَمَلَأَتْ مَا بَيْنَهُمَا رِيحًا، وَلَنَصِيفُهَا عَلَى رَأْسِهَا خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا".
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6568، م: 1880
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6568، م: 1880
حدیث نمبر: 13781 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ ، حُمَيْدٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: مَا كُنَّا نَشَاءُ أَنْ نَرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُصَلِّيًا إِلَّا رَأَيْنَاهُ، أَوْ نَائِمًا إِلَّا رَأَيْنَاهُ، قَالَ:" وَكَانَ يَصُومُ مِنَ الشَّهْرِ حَتَّى نَقُولَ: لَا نَرَاهُ يُرِيدُ أَنْ يُفْطِرَ مِنْهُ شَيْئًا، وَيُفْطِرُ مِنَ الشَّهْرِ حَتَّى نَقُولَ: لَا نَرَاهُ يُرِيدُ أَنْ يَصُومَ مِنْهُ شَيْئًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حمید کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رات کی نماز کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ ہم رات کے جس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھنا چاہتے تھے، دیکھ سکتے تھے اور جس وقت سوتا ہوا دیکھنے کا ارادہ ہوتا تو وہ بھی دیکھ لیتے تھے، اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کسی مہینے میں اس تسلسل کے ساتھ روزے رکھتے کہ ہم یہ سوچنے لگتے کہ اب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کوئی روزہ نہیں چھوڑیں گے اور بعض اوقات روزے چھوڑتے تو ہم کہتے کہ شاید اب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کوئی روزہ نہیں رکھیں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13781]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1141، م: 1158
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1141، م: 1158