بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَنَسِ بنِ مَالِك رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2170
صفحہ 16 از 109
حدیث نمبر: 12241 مسند احمد
بَهْزٌ ، سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، ثَابِتٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: صَارَتْ صَفِيَّةُ لِدِحْيَةَ فِي قَسْمِهِ فَذَكَرَ نَحْوَهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" حَتَّى إِذَا جَعَلَهَا فِي ظَهْرِهِ نَزَلَ، ثُمَّ ضَرَبَ عَلَيْهَا الْقُبَّةَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12241]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، م: 1365
الحكم: إسناده صحيح ، م: 1365
حدیث نمبر: 12242 مسند احمد
يَزِيدُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَبِي التَّيَّاحِ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كَانَ مَوْضِعُ مَسْجِدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبَنِي النَّجَّارِ، وَكَانَ فِيهِ نَخْلٌ وَحَرْثٌ وَقُبُورٌ مِنْ قُبُورِ الْجَاهِلِيَّةِ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ثَامِنُونِي"، فَقَالُوا: لَا نَبْغِي بِهِ ثَمَنًا إِلَّا عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ،" فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّخْلِ فَقُطِعَ، وَبِالْحَرْثِ فَأُفْسِدَ، وَبِالْقُبُورِ فَنُبِشَتْ"، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ ذَلِكَ" يُصَلِّي فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ"، وحَيْثُ أَدْرَكَتْهُ الصَّلَاةُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مسجد نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جگہ در اصل بنو نجار کی تھی، ایک درخت، کھیت اور مشرکین کی چند قبریں ہوا کرتی تھیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بنو نجار سے فرمایا کہ میرے ساتھ اس کی قیمت طے کرلو، انہوں نے عرض کیا کہ ہم اس کی قیمت نہیں لیں گے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم پر درختوں کو کاٹ دیا گیا، کھیت اجاڑ دیا گیا اور قبروں کو اکھاڑ دیا گیا اور مسجد نبوی کی تعمیر سے پہلے جہاں بھی نماز کا وقت ہوجاتا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وہیں نماز پڑھ لیتے اور بکریوں کے باڑے میں بھی نماز پڑھ لیتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12242]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 234 ، م: 524
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 234 ، م: 524
حدیث نمبر: 12243 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ جَارًا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَارِسِيًّا كَانَ طَيِّبَ الْمَرَقِ، فَصَنَعَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ جَاءَهُ يَدْعُوهُ، فَقَالَ:" وَهَذِهِ؟ لِعَائِشَةَ"، فَقَالَ: لَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا"، ثُمَّ عَادَ يَدْعُوهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَهَذِهِ؟"، قَالَ: لَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَهَذِهِ؟"، قَالَ: نَعَمْ فِي الثَّالِثَةِ، فَقَامَا يَتَدَافَعَانِ حَتَّى أَتَيَا مَنْزِلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ایک پڑوسی فارس کا رہنے والا تھا، وہ سالن بڑا اچھا پکاتا تھا، ایک دن اس نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے کھانا پکایا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دعوت دینے کے لئے آیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ یہ بھی میرے ساتھ ہوں گی، اس نے انکار کردیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی اس کے ساتھ جانے سے انکار کردیا اور وہ چلا گیا، پھر تین مرتبہ اسی طرح چکر لگائے بالآخر اس نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بھی ساتھ لانے کے لئے ہامی بھر لی، چنانچہ وہ دونوں آگے پیچھے چلتے ہوئے اس کے گھر چلے گئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12243]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، م: 2037
الحكم: إسناده صحيح ، م: 2037
حدیث نمبر: 12244 مسند احمد
يَزِيدُ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" المدينة يَأْتِيهَا الدَّجَّالُ، فَيَجِدُ الْمَلَائِكَةَ يَحْرُسُونَهَا، فَلَا يَدْخُلُهَا الدَّجَّالُ، وَلَا الطَّاعُونُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی مکرم سرور دو عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: دجال مدینہ منورہ کی طرف آئے گا لیکن وہاں فرشتوں کو اس کا پہرہ دیتے ہوئے پائے گا، ان شاء اللہ مدینہ میں دجال داخل ہو سکے گا اور نہ ہی طاعون کی وباء۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12244]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 7134
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 7134
حدیث نمبر: 12245 مسند احمد
يَزِيدُ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ"، وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں اور قیامت ان دو انگلیوں کی طرح اکٹھے بھیجے گئے ہیں، یہ کہہ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے شہادت والی انگلی اور درمیانی انگلی کی طرف اشارہ فرمایا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12245]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 6504 ، م: 2951
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 6504 ، م: 2951
حدیث نمبر: 12246 مسند احمد
يَزِيدُ ، حَمَّادٌ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" جَاهِدُوا الْمُشْرِكِينَ بِأَمْوَالِكُمْ، وَأَنْفُسِكُمْ، وَأَلْسِنَتِكُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا مشرکین کے ساتھ اپنی جان، مال اور زبان کے ذریعے جہاد کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12246]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12247 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ ، وَقَالَ مَرَّةً: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كَانَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ يَؤُمُّ قَوْمَهُ، فَدَخَلَ حَرَامٌ وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يَسْقِيَ نَخْلَهُ، فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ لِيُصَلِّيَ مَعَ الْقَوْمِ، فَلَمَّا رَأَى مُعَاذًا طَوَّلَ، تَجَوَّزَ فِي صَلَاتِهِ وَلَحِقَ بِنَخْلِهِ يَسْقِيهِ، فَلَمَّا قَضَى مُعَاذٌ الصَّلَاةَ، قِيلَ لَهُ: إِنَّ حَرَامًا دَخَلَ الْمَسْجِدَ، فَلَمَّا رَآكَ طَوَّلْتَ تَجَوَّزَ فِي صَلَاتِهِ وَلَحِقَ بِنَخْلِهِ يَسْقِيهِ، قَالَ: إِنَّهُ لَمُنَافِقٌ، أَيَعْجَلُ عَنِ الصَّلَاةِ مِنْ أَجْلِ سَقْيِ نَخْلِهِ!، قَالَ: فَجَاءَ حَرَامٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمُعَاذٌ عِنْدَهُ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنِّي أَرَدْتُ أَنْ أَسْقِيَ نَخْلًا لِي، فَدَخَلْتُ الْمَسْجِدَ لِأُصَلِّيَ مَعَ الْقَوْمِ، فَلَمَّا طَوَّلَ، تَجَوَّزْتُ فِي صَلَاتِي وَلَحِقْتُ بِنَخْلِي أَسْقِيهِ، فَزَعَمَ أَنِّي مُنَافِقٌ، فَأَقْبَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مُعَاذٍ، فَقَالَ:" أَفَتَّانٌ أَنْتَ، أَفَتَّانٌ أَنْتَ؟! لَا تُطَوِّلْ بِهِمْ، اقْرَأْ ب سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى، وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا، وَنَحْوِهِمَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ اپنی قوم کی امامت فرماتے تھے، ایک مرتبہ وہ نماز پڑھا رہے تھے کہ حضرت حرام رضی اللہ عنہ " جو اپنے باغ کو پانی لگانے جا رہے تھے " نماز پڑھنے کے لئے مسجد میں داخل ہوئے، جب انہوں نے دیکھا کہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ تو نماز لمبی کر رہے ہیں تو وہ اپنی نماز مختصر کر کے اپنے باغ کو پانی لگانے چلے گئے، حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کے منہ سے نکل گیا کہ وہ منافق ہے اپنے باغ کو سیراب کرنے کے لئے نماز سے جلدی کرتا ہے۔ اتفاق سے حضرت حرام رضی اللہ عنہ بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئے تو وہاں حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے، حضرت حرام رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ اے اللہ کے نبی! میں اپنے باغ کو پانی لگانے کے لئے جا رہا تھا، باجماعت نماز پڑھنے کے لئے مسجد میں داخل ہوا، جب انہوں نے نماز لمبی کردی تو میں مختصر نماز پڑھ کر اپنے باغ کو پانی لگانے چلا گیا، اب ان کا خیال یہ ہے کہ میں منافق ہوں۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہو کردو مرتبہ فرمایا کیا تم لوگوں کو امتحان ڈالتے ہو؟ انہیں لمبی نماز نہ پڑھایا کرو، سورت اعلیٰ اور سورت شمس وغیرہ سورتیں پڑھ لیا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12247]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12248 مسند احمد
ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، حُمَيْدٍ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: وَاصَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آخِرَ الشَّهْرِ، وَوَاصَلَ نَاسٌ مِنَ النَّاسِ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" لَوْ مُدَّ لَنَا الشَّهْرُ، لَوَاصَلْتُ وِصَالًا يَدَعُ الْمُتَعَمِّقُونَ تَعَمُّقَهُمْ، إِنِّي لَسْتُ مِثْلَكُمْ، إِنِّي أَظَلُّ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کسی مہینے کے آخر میں صوم وصال فرمایا: کچھ لوگوں نے بھی ایسا ہی کیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو خبر ہوئی تو فرمایا کہ اگر یہ مہینہ لمبا ہوجاتا تو میں اتنے دن مسلسل روزہ رکھتا کہ دین میں تعمق کرنے والے اپنا تعمق چھوڑ دیتے، میں تمہاری طرح نہیں ہوں، مجھے تو میرا رب کھلاتا پلاتا رہتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12248]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 7241 ، م: 1104
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 7241 ، م: 1104
حدیث نمبر: 12249 مسند احمد
أَبُو الْمُغِيرَةِ ، صَفْوَانُ ، شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ الْحَضْرَمِيِّ ، الزُّبَيْرَ بْنَ الْوَلِيدِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ الْحَضْرَمِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ الزُّبَيْرَ بْنَ الْوَلِيدِ يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا غَزَا، أَوْ سَافَرَ، فَأَدْرَكَهُ اللَّيْلُ، قَالَ:" يَا أَرْضُ، رَبِّي وَرَبُّكِ اللَّهُ، أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّكِ، وَشَرِّ مَا خُلِقَ فِيكِ، وَشَرِّ مَا فِيكِ، وَشَرِّ مَا دَبَّ عَلَيْكِ، أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ سَاكِنِ الْبَلَدِ، وَمِنْ شَرِّ وَالِدٍ وَمَا وَلَدَ، وَمِنْ شَرِّ أَسَدٍ وَأَسْوَدَ، وَحَيَّةٍ وَعَقْرَبٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اگر کسی سفر یا غزوہ میں ہوتے اور رات کا وقت آجاتا تو یہ دعاء فرماتے کہ اے زمین! میرا اور تیرا رب اللہ ہے، میں تیرے شر سے، تجھ میں موجود شر، تیرے اندر پیدا کی گئی چیزوں کے شر اور تجھ پر چلنے والوں کے شر سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں، میں ہر شیر اور کالی چیز سے، سانپ اور بچھو سے، اہلیان شہر کے شر سے اور والد اور اولاد کے شر سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12249]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة الزبير بن الوليد، وهذا الحديث من مسند ابن عمر، وقد سلف عنه من هذا الطريق برقم: 6161
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة الزبير بن الوليد، وهذا الحديث من مسند ابن عمر، وقد سلف عنه من هذا الطريق برقم: 6161
حدیث نمبر: 12250 مسند احمد
مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حُمَيْدٍ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، أنَّ أَنَسٍ بن مالك" عَمَّرَ مِائَةَ سَنَةٍ غَيْرَ سَنَةٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حمید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی عمر ایک کم سو سال تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12250]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12251 مسند احمد
يَزِيدُ ، حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: أَخَذَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ بِيَدِي مَقْدَمَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، فَأَتَتْ بِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا ابْنِي، وَهُوَ غُلَامٌ كَاتِبٌ، قَالَ:" فَخَدَمْتُهُ تِسْعَ سِنِينَ، فَمَا قَالَ لِي لِشَيْءٍ قَطُّ صَنَعْتُهُ أَسَأْتَ أَوْ بِئْسَ مَا صَنَعْتَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مدینہ منورہ تشریف آوری پر حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ میرا ہاتھ پکڑ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئیں اور کہنے لگیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! یہ میرا بیٹا ہے اور لکھنا جانتا ہے، چنانچہ میں نے نو سال تک نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت کی، میں نے جس کام کو کرلیا ہو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کبھی مجھ سے یہ نہیں فرمایا کہ تم نے بہت برا کیا، یا غلط کیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12251]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 2768 ، م: 2309
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 2768 ، م: 2309
حدیث نمبر: 12252 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ حَارِثَةَ خَرَجَ نَظَّارًا، فَأَتَاهُ سَهْمٌ، فَقَتَلَهُ، فَقَالَتْ أُمُّهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ عَرَفْتَ مَوْقِعَ حَارِثَةَ مِنِّي، فَإِنْ كَانَ فِي الْجَنَّةِ صَبَرْتُ، وَإِلَّا رَأَيْتَ مَا أَصْنَعُ، قَالَ:" يَا أُمَّ حَارِثَةَ، إِنَّهَا لَيْسَتْ بِجَنَّةٍ وَاحِدَةٍ، وَلَكِنَّهَا جِنَانٌ كَثِيرَةٌ، وَإِنَّ حَارِثَةَ لَفِي أَفْضَلِهَا، أَوْ قَالَ: فِي أَعَلَى الْفِرْدَوْسِ"، شَكَّ يَزِيدُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت حارثہ رضی اللہ عنہ سیر پر نکلے، راستے میں کہیں سے ناگہانی تیر ان کے آکر لگا اور وہ شہید ہوگئے، ان کی والدہ نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! آپ جانتے ہیں کہ مجھے حارثہ سے کتنی محبت تھی، اگر تو وہ جنت میں ہے تو میں صبر کرلوں گی ورنہ پھر جو میں کروں گی وہ آپ بھی دیکھ لیں گے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اے ام حارثہ! جنت صرف ایک تو نہیں ہے، وہ تو بہت سی جنتیں ہیں اور حارثہ ان میں سب سے افضل جنت میں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12252]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 6567
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 6567
حدیث نمبر: 12253 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ ، سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْأَرْضَ جَعَلَتْ تَمِيدُ، فَخَلَقَ الْجِبَالَ فَأَلْقَاهَا عَلَيْهَا، فَاسْتَقَرَّتْ، فَتَعَجَّبَتْ الْمَلَائِكَةُ مِنْ خَلْقِ الْجِبَالِ، فَقَالَتْ: يَا رَبِّ، هَلْ مِنْ خَلْقِكَ شَيْءٌ أَشَدُّ مِنَ الْجِبَالِ؟، قَالَ: نَعَمْ، الْحَدِيدُ، قَالَتْ: يَا رَبِّ، فَهَلْ مِنْ خَلْقِكَ شَيْءٌ أَشَدُّ مِنَ الْحَدِيدِ؟، قَالَ: نَعَمْ، النَّارُ، قَالَتْ: يَا رَبِّ، فهَلْ مِنْ خَلْقِكَ شَيْءٌ أَشَدُّ مِنَ النَّارِ؟، قَالَ: نَعَمْ، الْمَاءُ، قَالَتْ: يَا رَبِّ، فَهَلْ مِنْ خَلْقِكَ شَيْءٌ أَشَدُّ مِنَ الْمَاءِ؟، قَالَ: نَعَمْ، الرِّيحُ، قَالَتْ: يَا رَبِّ، فَهَلْ مِنْ خَلْقِكَ شَيْءٌ أَشَدُّ مِنَ الرِّيحِ؟ قَالَ: نَعَمْ، ابْنُ آدَمَ، يَتَصَدَّقُ بِيَمِينِهِ يُخْفِيهَا مِنْ شِمَالِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب اللہ نے زمین کو پیدا کیا تو وہ ڈانواں ڈول ہونے لگی، اللہ نے پہاڑوں کو پیدا کر کے اس پر رکھ دیا تو وہ اپنی جگہ ٹھہر گئی، ملائکہ کو پہاڑوں کی تخلیق پر تعجب ہوا اور وہ کہنے لگے کہ پروردگار! کیا آپ نے پہاڑوں سے بھی زیادہ سخت کوئی چیز پیدا کی ہے؟ اللہ نے فرمایا ہاں! لوہا، انہوں نے پوچھا کہ پروردگار! کیا لوہے سے بھی زیادہ کوئی سخت چیز آپ نے پیدا کی ہے؟ فرمایا ہاں! آگ، فرشتوں نے پوچھا کہ کیا آپ نے آگ سے بھی زیادہ کوئی سخت چیز پیدا کی ہے؟ فرمایا ہاں! ہوا، فرشتوں نے پوچھا کہ پروردگار! کیا آپ نے ہوا سے بھی زیادہ کوئی سخت چیز پیدا کی ہے؟ انہوں نے فرمایا ہاں! ابن آدم، جو دائیں ہاتھ سے خرچ کرتا ہے تو بائیں ہاتھ کو پتہ بھی نہیں چلتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12253]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة سليمان بن أبى سليمان، وهو مولي ابن عباس
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة سليمان بن أبى سليمان، وهو مولي ابن عباس
حدیث نمبر: 12254 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ،" أَنَّ ثَمَانِينَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ هَبَطُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ جَبَلِ التَّنْعِيمِ، مُتَسَلِّحِينَ، يُرِيدُونَ غِرَّةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ، فَأَخَذَهُمْ سَلَمًا، فَاسْتَحْيَاهُمْ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ بَعْدِ أَنْ أَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ سورة الفتح آية 24".
حدیث نمبر: 12255 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ أَبُو خَالِدٍ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ أَبُو خَالِدٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقْبِلُ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ قَبْلَ أَنْ يُكَبِّرَ، فَيَقُولُ:" تَرَاصُّوا وَاعْتَدِلُوا، فَإِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نماز کھڑی ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا صفیں سیدھی کرلو اور جڑ کر کھڑے ہو کیونکہ میں تمہیں اپنے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12255]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا اسناد قوي، خ: 725، م: 434
الحكم: حديث صحيح، وهذا اسناد قوي، خ: 725، م: 434
حدیث نمبر: 12256 مسند احمد
يَحْيَى ، حُمَيْدٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" دَخَلْتُ الْجَنَّةَ، فَسَمِعْتُ بَيْنَ يَدَيَّ خَشَفَةً، فَقُلْتُ مَا هَذَا؟، قَالُوا: الْغُمَيْصَاءُ بِنْتُ مِلْحَانَ، أُمُّ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں جنت میں داخل ہوا تو اپنے آگے کسی کی آہٹ سنی، دیکھا تو وہ غمیصاء بنت ملحان تھیں جو کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی والدہ تھیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12256]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12257 مسند احمد
يَحْيَى ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٌ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ حُمَيْدٍ ، قَالَ:" اطَّلَعَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ مِنْ خَلَلٍ، فَسَدَّدَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِشْقَصًا حَتَّى أَخََّرَ رَأْسَهُ"، قَالَ يَحْيَى: قُلْتُ: مَنْ حَدَّثَكَ يَا أَبَا عُبَيْدَةَ؟ يَعْنِي حُمَيْدًا، قَالَ: أَنَسٌ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے گھر میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آدمی آکر کسی سوراخ سے اندر جھانکنے لگا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی کنگھی اسے دے ماری (تو وہ آدمی پیچھے ہٹ گیا)۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12257]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 6889 ، م: 2157
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 6889 ، م: 2157
حدیث نمبر: 12258 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، يَزِيدَ ، وَرَوْحٌ ، يَزِيدُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ يَزِيدَ ، وَرَوْحٌ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، الْمَعْنَى، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" يَدْخُلُ النَّارَ أَقْوَامٌ مِنْ أُمَّتِي، حَتَّى إِذَا كَانُوا حُمَمًا أُدْخِلُوا الْجَنَّةَ، فَيَقُولُ أَهْلُ الْجَنَّةِ مَنْ هَؤُلَاءِ؟، فَيُقَالُ: هُمْ الْجَهَنَّمِيُّونَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میری امت کے کچھ لوگ جہنم میں داخل کئے جائیں گے جب وہ جل کو کوئلہ بن جائیں گے تو انہیں جنت میں داخل کردیا جائے گا، اہل جنت پوچھیں گے کہ یہ کون لوگ ہیں؟ انہیں بتایا جائے گا کہ یہ جہنمی ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12258]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 7450
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 7450
حدیث نمبر: 12259 مسند احمد
يَحْيَى ، سُفْيَانَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَصَمِّ ، أَنَسًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَصَمِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا ، يقول:" إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَعُثْمَانَ، كَانُوا يُتِمُّونَ التَّكْبِيرَ، يُكَبِّرُونَ إِذَا سَجَدُوا، وَإِذَا رَفَعُوا"، قَالَ يَحْيَى:" أَوْ خَفَضُوا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر و عمر و عثمان رضی اللہ عنہ تکبیر مکمل کیا کرتے تھے، جب سجدے میں جاتے یا سر اٹھاتے تب بھی تکبیر کہا کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12259]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12260 مسند احمد
أَبُو الْمُثَنَّى مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْمُثَنَّى مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى فَلَمَّا تَجَلَّى رَبُّهُ لِلْجَبَلِ سورة الأعراف آية 143، قَالَ: قَالَ:" هَكَذَا، يَعْنِي أَنَّهُ أَخْرَجَ طَرَفَ الْخِنْصَرِ"، قَالَ أَبِي: أَرَانَاه مُعَاذٌ، قَالَ: فَقَالَ لَهُ حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ: مَا تُرِيدُ إِلَى هَذَا يَا أَبَا مُحَمَّدٍ؟ قَالَ: فَضَرَبَ صَدْرَهُ ضَرْبَةً شَدِيدَةً، وَقَالَ: مَنْ أَنْتَ يَا حُمَيْدُ، وَمَا أَنْتَ يَا حُمَيْدُ؟ يُحَدِّثُنِي بِهِ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَقُولُ: أَنْتَ مَا تُرِيدُ إِلَيْهِ؟.