بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَنَسِ بنِ مَالِك رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2170
صفحہ 53 از 109
حدیث نمبر: 12982 مسند احمد
بَهْزٌ ، حَمَّادٌ ، هِشَامُ بْنُ زَيْدٍ ، جَدِّي
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ جَدِّي دَارَ الْإِمَارَةِ، فَإِذَا دَجَاجَةٌ مَصْبُورَةٌ تُرْمَى، فَكُلَّمَا أَصَابَهَا سَهْمٌ صَاحَتْ، فَقَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُصْبَرَ الْبَهَائِمُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ہشام بن زید کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنے دادا کے ساتھ دارالامارۃ میں داخل ہوا، وہاں ایک مرغی کو باندھ کر اس پر نشانہ بازی کی جا رہی تھی، اسے جب تیر لگتا تو وہ چیخ مارتی، انہوں نے یہ دیکھ کر فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جانور کو باندھ کر اس پر نشانہ درست کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12982]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5513، م: 1956
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5513، م: 1956
حدیث نمبر: 12983 مسند احمد
بَهْزٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ، وَحُمَيْدٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ، وَحُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" دَخَلْتُ الْجَنَّةَ، فَرَأَيْتُ قَصْرًا مِنْ ذَهَبٍ، فَقُلْتُ: لِمَنْ هَذَا؟ قَالُوا: لِفَتًى مِنْ قُرَيْشٍ، فَظَنَنْتُهُ لِي، فَإِذَا هُوَ لِعُمَرَ" قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مَنَعَنِي يَا أَبَا حَفْصٍ أَنْ أَدْخُلَهُ إِلَّا مَا أَعْرِفُ مِنْ غَيْرَتِكَ" قَالَ: قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ كُنْتُ أَغَارُ عَلَيْهِ، فَإِنِّي لَمْ أَكُنْ أَغَارُ عَلَيْكَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ میں جنت میں داخل ہوا تو وہاں سونے کا ایک محل نظر آیا، میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ ایک قریشی نوجوان کا ہے، میں نے پوچھا وہ کون ہے؟ لوگوں نے بتایا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ عنہ، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مجھے اگر تمہاری غیرت کے بارے معلوم نہ ہوتا تو میں ضرور اس میں داخل ہوجاتا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! میں جس کسی کے سامنے غیرت کا اظہار کروں، آپ کے سامنے نہیں کرسکتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12983]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12984 مسند احمد
بَهْزٌ ، عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيُّ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيُّ ، عَنْ عَمِّهِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا فِي الْمَسْجِدِ وَأَصْحَابُهُ مَعَهُ إِذْ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَبَالَ فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ أَصْحَابُهُ: مَهْ، مَهْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تُزْرِمُوهُ، دَعُوهُ" ثُمَّ دَعَاهُ، فَقَالَ لَهُ:" إِنَّ هَذِهِ الْمَسَاجِدَ لَا تَصْلُحُ لِشَيْءٍ مِنَ الْقَذَرِ وَالْبَوْلِ وَالْخَلَاءِ" أَوْ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا هِيَ لِقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ وَذِكْرِ اللَّهِ وَالصَّلَاةِ" فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ مِنَ الْقَوْمِ:" قُمْ فَأْتِنَا بِدَلْوٍ مِنْ مَاءٍ، فَشُنَّهُ عَلَيْهِ" فَأَتَاهُ بِدَلْوٍ مِنْ مَاءٍ فَشَنَّهُ عَلَيْهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مسجد میں اپنے صحابہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تشریف فرما تھے، کہ ایک دیہاتی آیا اور مسجد میں پیشاب کرنے لگا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اسے خبردار کرنے کے لئے روکا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اسے مت روکو، اسے چھوڑ دو، پھر اس کے فارغ ہونے کے بعد اسے بلا کر فرمایا کہ ان مساجد میں کسی قسم کی گندگی، پیشاب اور پاخانہ کرنا مناسب نہیں ہے، یہ مساجد تو قرآن کریم کی تلاوت، ذکر اللہ اور نماز کے لئے ہوتی ہیں، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک آدمی سے فرمایا جا کر پانی کا ایک ڈول لے کر آؤ اور اس پر بہا دو، چنانچہ اس آدمی نے پانی کا ایک ڈول لا کر اس پیشاب پر بہا دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12984]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 219، م: 285
الحكم: إسناده صحيح، خ: 219، م: 285
حدیث نمبر: 12985 مسند احمد
بَهْزٌ ، وَعَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ قَائِمًا يُصَلِّي فِي بَيْتِهِ، فَجَاءَ رَجُلٌ فَاطَّلَعَ فِي الْبَيْتِ وَقَالَ عَفَّانُ فِي بَيْتِهِ: فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَهْمًا مِنْ كِنَانَتِهِ، فَسَدَّدَهُ نَحْوَ عَيْنَيْهِ حَتَّى انْصَرَفَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے گھر میں کھڑے نماز پڑھ رہے تھے کہ ایک آدمی آکر سوراخ سے اندر جھانکنے لگا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے ترکش سے ایک تیر نکال کر اس کی طرف سیدھا کیا تو وہ آدمی پیچھے ہٹ گیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12985]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، انظر: 12055
الحكم: إسناده صحيح، انظر: 12055
حدیث نمبر: 12986 مسند احمد
بَهْزٌ ، وَعَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَجِيءُ الدَّجَّالُ فَيَطَأُ الْأَرْضَ، إِلَّا مَكَّةَ وَالْمَدِينَةَ، فَيَأْتِي الْمَدِينَةَ، فَيَجِدُ بِكُلِّ نَقْبٍ مِنْ نِقَابِهَا صُفُوفًا مِنَ الْمَلَائِكَةِ، فَيَأْتِي سَبْخَةَ الْجَرْفِ، فَيَضْرِبُ رِوَاقَهُ، فَتَرْجُفُ الْمَدِينَةُ ثَلَاثَ رَجَفَاتٍ، فَيَخْرُجُ إِلَيْهِ كُلُّ مُنَافِقٍ وَمُنَافِقَةٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا دجال آئے گا تو مکہ اور مدینہ کے علاوہ ساری زمین کو اپنے پیروں سے روند ڈالے گا، وہ مدینہ آنے کی بھی کوشش کرے گا لیکن اس کے ہر دروازے پر فرشتوں کی صفیں پائے گا، پھر وہ " جرف " کے ویرانے میں پہنچ کر اپنا خیمہ لگائے گا، اس وقت مدینہ منورہ میں تین زلزلے آئیں گے اور ہر منافق مرد و عورت مدینہ سے نکل کر دجال سے جاملے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12986]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1881، م: 2943
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1881، م: 2943
حدیث نمبر: 12987 مسند احمد
بَهْزٌ ، حَمَّادٌ ، إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَثَابِتٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنَ الْأَنْصَارِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار ہی کا ایک فرد ہوتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12987]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر: 12594
الحكم: إسناده صحيح، وانظر: 12594
حدیث نمبر: 12988 مسند احمد
بَهْزٌ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، أَنَسٍ
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ، فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ، فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ، قَالَ:" أَيُّكُمْ الْقَائِلُ كَذَا وَكَذَا؟" قَالَ: فَأَرَمَّ الْقَوْمُ، قَالَ: فَأَعَادَهَا ثَلَاثَ مَرَّار، فَقَالَ رَجُلٌ أَنَا قُلْتُهَا، وَمَا أَرَدْتُ بِهَا إِلَّا الْخَيْرَ، قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَقَدْ ابْتَدَرَهَا اثْنَا عَشَرَ مَلَكًا، فَمَا دَرَوْا كَيْفَ يَكْتُبُونَهَا حَتَّى سَأَلُوا رَبَّهُمْ عَزَّ وَجَلَّ، قَالَ: اكْتُبُوهَا كَمَا قَالَ عَبْدِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نماز کھڑی ہوئی تو ایک آدمی تیزی سے آیا، اس کا سانس پھولا ہوا تھا، صف تک پہنچ کر وہ کہنے لگا " الحمد للہ حمدا کثیر طیبا مبارکا فیہ " نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز سے فارغ ہو کر پوچھا کہ تم میں سے کون بولا تھا؟ اس نے اچھی بات کہی تھی، چنانچہ وہ آدمی کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! میں بولا تھا، میں تیزی سے آرہا تھا اور صف کے قریب پہنچ کر میں نے یہ جملہ کہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں نے بارہ فرشتوں کو اس کی طرف تیزی سے بڑھتے ہوئے دیکھا کہ کون اس جملے کو پہلے اٹھاتا ہے، لیکن انہیں سمجھ نہ آئی کہ اس کا کتنا ثواب لکھیں چنانچہ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے پوچھا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ کلمات اسی طرح لکھ لو جیسے میرے بندے نے کہے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12988]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12989 مسند احمد
بَهْزٌ ، وَعَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" بَيْنَمَا أَنَا أَسِيرُ فِي الْجَنَّةِ، فَإِذَا أَنَا بِنَهَرٍ، حَافَّتَاهُ قِبَابُ الدُّرِّ الْمُجَوَّفِ، قَالَ: فَقُلْتُ: مَا هَذَا يَا جِبْرِيلُ؟ قَالَ: هَذَا الْكَوْثَرُ الَّذِي أَعْطَاكَ رَبُّكَ" عَزَّ وَجَلَّ، قَالَ:" فَضَرَبْتُ بِيَدِي، فَإِذَا طِينُهُ مِسْكٌ أَذْفَرُ"، وَقَالَ عَفَّانُ:" الْمُجَوَّفُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میں جنت میں داخل ہوا تو اچانک ایک نہر پر نظر پڑی جس کے دونوں کناروں پر موتیوں کے خیمے لگے ہوئے تھے، میں نے اس میں ہاتھ ڈال کر پانی میں بہنے والی چیز کو پکڑا تو وہ مہکتی ہوئی مشک تھی میں نے جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ تو انہوں نے بتایا کہ یہ نہر کوثر ہے جو اللہ نے آپ کو عطاء فرمائی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12989]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ:4964
الحكم: إسناده صحيح، خ:4964
حدیث نمبر: 12990 مسند احمد
بَهْزٌ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي قَتَادَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَنَتَ شَهْرًا ثُمَّ تَرَكَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مہینہ تک قنوت نازلہ پڑھی ہے پھر اسے ترک فرما دیا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12990]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4089 ، م: 677
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4089 ، م: 677
حدیث نمبر: 12991 مسند احمد
بَهْزٌ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةَ ، عَفَّانُ ، يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَتَادَةُ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، وحَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اعْتَدِلُوا فِي السُّجُودِ، وَلَا يَبْسُطْ أَحَدُكُمْ ذِرَاعَيْهِ كَالْكَلْبِ، وَلَا يَبْزُقْ بَيْنَ يَدَيْهِ وَلَا عَنْ يَمِينِهِ، فَإِنَّمَا يُنَاجِي رَبَّهُ، وَلَكِنْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا سجدوں میں اعتدال برقرار رکھا کرو اور تم میں سے کوئی شخص کتے کی طرح اپنے ہاتھ نہ بچھائے۔ اور جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہوتا ہے تو وہ اپنے رب سے مناجات کر رہا ہوتا ہے، اس لئے اس حالت میں تم میں سے کوئی شخص اپنے دائیں جانب نہ تھوکا کرے بلکہ بائیں جانب یا پاؤں کے نیچے تھوکا کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12991]
حکم دارالسلام
إسناده صحيحان، خ: 532، 822، م: 493، 551
الحكم: إسناده صحيحان، خ: 532، 822، م: 493، 551
حدیث نمبر: 12992 مسند احمد
بَهْزٌ ، عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، أَنَسًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، وَحَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ: قال: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، أَنَّ أَنَسًا أَخْبَرَهُ، أَنَّ الزُّبَيْرَ وَعَبْدَ الَّرحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ شَكَوَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقَمْلَ، فَاسْتَأْذَنَا فِي غَزَاةٍ لَهُمَا، فَرَخَّصَ لَهُمَا فِي قَمِيصِ الْحَرِيرِ، قَالَ بَهْزٌ: قَالَ أَنَسٌ: فَرَأَيْتُ عَلَى كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا قَمِيصًا مِنْ حَرِيرٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ اور عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جوؤں کی شکایت کی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں ریشمی کپڑے پہننے کی اجازت مرحمت فرما دی، چنانچہ میں نے ان میں سے ہر ایک کو ریشمی قمیص پہنے ہوئے دیکھا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12992]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2920، م: 2076
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2920، م: 2076
حدیث نمبر: 12993 مسند احمد
بَهْزٌ ، عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، وَحَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَا: حدثنا هَمَّامٌ ، قَالَ عَفَّانُ حَدَّثَنَا، وَقَالَ بَهْزٌ: أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَتَى السَّاعَةُ؟ قَالَ:" وَيْلَكَ، وَمَا أَعْدَدْتَ لِلسَّاعَةِ؟" قَالَ: مَا أَعْدَدْتُ لَهَا شَيْئًا، إِلَّا أَنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَإِنَّكَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ" قَالَ: قَالَ أَصْحَابُهُ: نَحْنُ كَذَلِكَ؟ قَالَ:" نَعَمْ، وَأَنْتُمْ كَذَلِكَ" قَالَ: فَفَرِحُوا يَوْمَئِذٍ فَرَحًا شَدِيدًا، قَالَ: فَمَرَّ غُلَامٌ لِلْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ أَنَسٌ وَكَانَ مِنْ أَقْرَانِي، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنْ يُؤَخَّرْ هَذَا، فَلَنْ يُدْرِكَهُ الْهَرَمُ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ"، وَقَالَ عَفَّانُ فَفَرِحْنَا بِهِ يَوْمَئِذٍ فَرَحًا شَدِيدًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک دیہاتی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! قیامت کب قائم ہوگی؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم نے قیامت کے لئے کیا تیاری کر رکھی ہے؟ اس نے کہا کہ میں نے کوئی بہت زیادہ اعمال تو مہیا نہیں کر رکھے، البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ تم اس کے ساتھ ہوگے جس کے ساتھ محبت کرتے ہو، حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ صحابہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا ہمارا بھی یہی حکم ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں! تمہارا بھی یہی حکم ہے، چنانچہ میں نے مسلمانوں کو اسلام قبول کرنے کے بعد اس دن جتنا خوش دیکھا، اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا، اسی دوران حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کا ایک غلام " جو میرا ہم عمر تھا " تھا، وہاں سے گذرا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر اس کی زندگی ہوئی تو یہ بڑھاپے کو نہیں پہنچے گا کہ قیامت قائم ہوجائے گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12993]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6167، م: 2953
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6167، م: 2953
حدیث نمبر: 12994 مسند احمد
بَهْزٌ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ أَخَضَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: لَمْ يَبْلُغْ ذَلِكَ، إِنَّمَا كَانَ شَيْءٌ فِي صُدْغَيْهِ، وَلَكِنْ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ خَضَبَ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خضاب لگاتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ یہاں تک نوبت ہی نہیں آئی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی کنپٹیوں میں چند بال سفید تھے، البتہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ مہندی اور وسمہ کا خضاب لگاتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12994]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3550، م: 2341
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3550، م: 2341
حدیث نمبر: 12995 مسند احمد
بَهْزٌ ، وَعَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ يَهُودِيًّا مَرَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ، فَقَالَ: السَّامُ عَلَيْكُمْ، فَرَدَّ عَلَيْهِ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا قَالَ:" السَّامُ عَلَيْكُمْ" فَأُخِذَ الْيَهُودِيُّ، فَجِيءَ بِهِ، فَاعْتَرَفَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" رُدُّوا عَلَيْهِمْ مَا قَالُوا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک یہودی نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنہ کو سلام کرتے ہوئے " السام علیکم " کہا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا اس نے " السام علیک " کہا ہے، یہودی کو پکڑ کر لایا گیا تو اس نے اس کا اقرار کیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تمہیں کوئی کتابی سلام کرے تو اسے اسی کا جملہ لوٹا دیا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12995]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، انظر: 12427
الحكم: إسناده صحيح، انظر: 12427
حدیث نمبر: 12996 مسند احمد
بَهْزٌ ، وَعَفَّانُ ، أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ، قَتَادَةُ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، حدثنا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ:" لَوْ أَنَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَيْنِ مِنْ مَالٍ، إذا لَابْتَغَى وَادِيًا ثَالِثًا، وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ"، قَالَ عَفَّانُ" ثُمَّ يَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ"، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنِ قَتَادَةَ ، عَنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَيْنِ" فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے تھے کہ اگر ابن آدم کے پاس مال سے بھری ہوئی دو وادیاں بھی ہوتیں تو وہ تیسری کی تمنا کرتا اور ابن آدم کا پیٹ صرف قبر کی مٹی ہی بھر سکتی ہے اور جو توبہ کرتا ہے، اللہ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12996]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6440، م: 1048، وانظر: 12228
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6440، م: 1048، وانظر: 12228
حدیث نمبر: 12997 مسند احمد
حَدَّثَنَا عَفَّانُ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنِ قَتَادَةَ، عَنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه و آله وسلم: «لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَانِ فَذَكَرَ مِثْلَهُ
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12997]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر ما قبله
الحكم: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 12998 مسند احمد
عَفَّانُ ، بَهْزٌ ، أَبُو عَوَانَةَ ، قَتَادَةُ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، وَحَدَّثَنِي بَهْزٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، وَقَالَ عَفَّانُ: عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" يَهْرَمُ ابْنُ آدَمَ وَيَشِبُّ مِنْهُ اثْنَتَانِ الْحِرْصُ عَلَى الْمَالِ، وَالْحِرْصُ عَلَى الْعُمُرِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا انسان تو بوڑھا ہوجاتا ہے لیکن دو چیزیں اس میں جوان رہ جاتی ہیں، مال کی حرص اور لمبی عمر کی امید۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12998]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6421، م: 1047
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6421، م: 1047
حدیث نمبر: 12999 مسند احمد
بَهْزٌ ، عَفَّانُ ، أَبَانُ ، قَتَادَةُ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، وَحَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبَانُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ نَخْلًا لِأُمِّ مُبَشِّرٍ، امْرَأَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ:" مَنْ غَرَسَ هَذَا الْغَرْسَ؟ أَمُسْلِمٌ أَمْ كَافِرٌ؟" قَالُوا: مُسْلِمٌ، قَالَ:" لَا يَغْرِسُ مُسْلِمٌ غَرْسًا، فَيَأْكُلُ مِنْهُ إِنْسَانٌ أَوْ دَابَّةٌ أَوْ طَائِرٌ، إِلَّا كَانَ لَهُ صَدَقَةً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مبشر نامی انصاری خاتون کے باغ میں تشریف لے گئے اور فرمایا کہ یہ باغ کسی مسلمان نے لگایا ہے یا کافر نے؟ لوگوں نے بتایا مسلمان نے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو مسلمان کوئی پودا اگاتا ہے اور اس سے کسی پرندے، انسان یا درندے کو رزق ملتا ہے تو وہ اس کے لئے صدقہ کا درجہ رکھتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12999]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2320، م: 1553
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2320، م: 1553
حدیث نمبر: 13000 مسند احمد
بَهْزٌ ، أَبُو الْعَوَّامِ الْقَطَّانُ وَهُوَ عِمْرَانُ بْنُ دَاوَرَ ، قَتَادَةُ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْعَوَّامِ الْقَطَّانُ وَهُوَ عِمْرَانُ بْنُ دَاوَرَ وَهُوَ أَعْمَى، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" اسْتَخْلَفَ ابْنَ أُمِّ مَكْتُومٍ عَلَى الْمَدِينَةِ مَرَّتَيْنِ، يُصَلِّي بِهِمْ وَهُوَ أَعْمَى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو مدینہ منورہ میں اپنا جانشین دو مرتبہ بنایا تھا وہ نابینا تھے اور لوگوں کو نماز پڑھایا کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13000]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 13001 مسند احمد
بَهْزٌ ، جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْتَجِمُ ثَلَاثًا: وَاحِدَةً عَلَى كَاهِلِهِ، وَاثْنَتَيْنِ عَلَى الْأَخْدَعَيْنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دو مرتبہ اخدعین اور ایک مرتبہ کاہل نامی کندھوں کے درمیان مخصوص جگہوں پر سینگی لگواتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13001]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح