بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَنَسِ بنِ مَالِك رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2170
صفحہ 64 از 109
حدیث نمبر: 13202 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، هِشَامٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ، يَذْبَحُهُمَا بِيَدِهِ، وَيَضَعُ رِجْلَهُ عَلَى صِفَاحِهِمَا، وَيُسَمِّي وَيُكَبِّرُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دو چتکبرے سینگ دار مینڈھے قربانی میں پیش کرتے تھے اور اللہ کا نام لے کر تکبیر کہتے تھے، میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم انہیں اپنے ہاتھ سے ذبح کرتے تھے اور ان کے پہلو پر اپنا پاؤں رکھتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13202]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7399 م: 1966
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7399 م: 1966
حدیث نمبر: 13203 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، سُلَيْمَانُ ، ثَابِتٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: مُرَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجِنَازَةٍ، فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا خَيْرًا، فَقَالَ:" وَجَبَتْ" وَمُرَّ بِجِنَازَةٍ فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا شَرًّا، فَقَالَ:" وَجَبَتْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے سے ایک جنازہ گذرا، لوگوں نے اس کی تعریف کی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا واجب ہوگئی، پھر دوسرا جنازہ گذرا اور لوگوں نے اس کی مذمت کی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا واجب ہوگئی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13203]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2642 م: 949
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2642 م: 949
حدیث نمبر: 13204 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، أَبِي ، عَبْدُ الْعَزِيزِ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: لَمْ يَخْرُجْ إِلَيْنَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثًا، فأُقِيمَتْ الصَّلَاةُ، فَذَهَبَ أَبُو بَكْرٍ يَتَقَدَّمُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحِجَابِ فَرَفَعَهُ، فَلَمَّا وَضَحَ لَنَا وَجْهُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا نَظَرْنَا مَنْظَرًا قَطُّ كَانَ أَعْجَبَ إِلَيْنَا مِنْ وَجْهِ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ وَضَحَ لَنَا، فَأَوْمَأَ بِيَدِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ أَنْ يَتَقَدَّمَ، وَأَرْخَى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحِجَابَ، فَلَنْ يَقْدِرَ عَلَيْهِ حَتَّى مَاتَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب مرض الوفات میں مبتلاء ہوئے تو تین دن تک باہر نہیں آئے، ایک مرتبہ نماز کھڑی ہوئی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز پڑھانے کے لئے آگے بڑھے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے گھر کا پردہ ہٹایا، ہم نے ایسا منظر کبھی نہیں دیکھا تھا جیسے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا رخ تاباں کھلتا ہوا صفحہ تھا، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اشارے سے فرمایا کہ آگے بڑھ کر نماز مکمل کریں اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پردہ لٹکا لیا، پھر وصال تک نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز کے لئے نہ آسکے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13204]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 681، م: 419
الحكم: إسناده صحيح، خ: 681، م: 419
حدیث نمبر: 13205 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، أَبِي ، عَبْدُ الْعَزِيزِ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ: أَقْبَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَدِينَةِ وَهُوَ مُرْدِفٌ أَبَا بَكْرٍ، وَأَبُو بَكْرٍ شَيْخٌ يُعْرَفُ، وَنَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَابٌّ لَا يُعْرَفُ، قَالَ: فَيَلْقَى الرَّجُلُ أَبَا بَكْرٍ، فَيَقُولُ يَا أَبَا بَكْرٍ، مَنْ هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي بَيْنَ يَدَيْكَ؟ فَيَقُولُ: هَذَا الرَّجُلُ يَهْدِينِي إِلَى السَّبِيلِ، فَيَحْسِبُ الْحَاسِبُ أَنَّهُ إِنَّمَا يَهْدِيهِ الطَّرِيقَ، وَإِنَّمَا يَعْنِي سَبِيلَ الْخَيْرِ، فَالْتَفَتَ أَبُو بَكْرٍ فَإِذَا هُوَ بِفَارِسٍ قَدْ لَحِقَهُمْ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، هَذَا فَارِسٌ قَدْ لَحِقَ بِنَا، قَالَ: فَالْتَفَتَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" اللَّهُمَّ اصْرَعْهُ" فَصَرَعَتْهُ فَرَسُهُ، ثُمَّ قَامَتْ تُحَمْحِمُ، قَالَ: ثُمَّ قَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، مُرْنِي بِمَا شِئْتَ، قَالَ:" قِفْ مَكَانَكَ، لَا تَتْرُكَنَّ أَحَدًا يَلْحَقُ بِنَا"، قَالَ: فَكَانَ أَوَّلُ النَّهَارِ جَاهِدًا عَلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ آخِرُ النَّهَارِ مَسْلَحَةً لَهُ، قَالَ: فَنَزَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَانِبَ الْحَرَّةِ، ثُمَّ بَعَثَ إِلَى الْأَنْصَارِ فَجَاءُوا نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَلَّمُوا عَلَيْهِمَا، وَقَالُوا: ارْكَبَا آمِنَيْنِ مُطْمَئِنَّيْنِ، قَالَ: فَرَكِبَ رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَحَفُّوا حَوْلَهُمَا بِالسِّلَاحِ، قَالَ: فَقِيلَ: بِالْمَدِينَةِ جَاءَ نَبِيُّ اللَّهِ، فَاسْتَشْرَفُوا نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُونَ إِلَيْهِ، وَيَقُولُونَ: جَاءَ نَبِيُّ اللَّهِ، قال: فَأَقْبَلَ يَسِيرُ حَتَّى جَاءَ إِلَى جَانِبِ دَارِ أَبِي أَيُّوبَ، قال: فَإِنَّهُ لَيُحَدِّثُ أَهْلَهَا، إِذْ سَمِعَ بِهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ وَهُوَ فِي نَخْلٍ لِأَهْلِهِ يَخْتَرِفُ لَهُمْ مِنْهُ، فَعَجِلَ أَنْ يَضَعَ الَّذِي يَخْتَرِفُ فِيهَا، فَجَاءَ وَهِيَ مَعَهُ، فَسَمِعَ مِنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيُّ بُيُوتِ أَهْلِنَا أَقْرَبُ؟" قَالَ: فَقَالَ أَبُو أَيُّوبَ: أَنَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ، هَذِهِ دَارِي، وَهَذَا بَابِي، قَالَ:" فَانْطَلِقْ فَهَيِّئْ لَنَا مَقِيلًا"، قَالَ: فَذَهَبَ فَهَيَّأَ لَهُمَا مَقِيلًا، ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، قَدْ هَيَّأْتُ لَكُمَا مَقِيلًا، فَقُومَا عَلَى بَرَكَةِ اللَّهِ فَقِيلَا، فَلَمَّا جَاءَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ، فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ حَقًّا، وَأَنَّكَ جِئْتَ بِحَقٍّ، وَلَقَدْ عَلِمَتْ الْيَهُودُ أَنِّي سَيِّدُهُمْ، وَابْنُ سَيِّدِهِمْ، وَأَعْلَمُهُمْ وَابْنُ أَعْلَمِهِمْ، فَادْعُهُمْ فَاسْأَلْهُمْ، فَدَخَلُوا عَلَيْهِ، فَقَالَ لَهُمْ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا مَعْشَرَ الْيَهُودِ، وَيْلَكُمْ، اتَّقُوا اللَّهَ، فَوَالَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ إِنَّكُمْ لَتَعْلَمُونَ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ حَقًّا، وَأَنِّي جِئْتُكُمْ بِحَقٍّ، أَسْلِمُوا"، قَالُوا: مَا نَعْلَمُهُ، ثَلَاثًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو اپنے پیچھے بٹھائے ہوئے تھے، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ بوڑھے اور جانے پہچانے تھے، جب کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جوان اور غیر معروف تھے، اس لئے راستے میں اگر کوئی آدمی ملتا اور یہ پوچھتا کہ ابوبکر! آپ کے آگے یہ کون صاحب ہیں؟ تو وہ جواب دیتے کہ یہ مجھے راستہ دکھا رہے ہیں، سمجھنے والا یہ سمجھتا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم انہیں راستہ دکھا رہے ہیں اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اس سے خیر کا راستہ مراد لے رہے تھے۔ ایک مرتبہ راستہ میں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو ایک شہسوار ان کے انتہائی قریب پہنچ چکا تھا، وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کہنے لگے اے اللہ کے نبی! یہ سوار تو ہم تک پہنچ چکا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا اے اللہ! اسے گرا دے، اسی لمحے اس کے گھوڑے نے اسے اپنی پشت سے گرا دیا اور ہنہناتا ہوا کھڑا ہوگیا، وہ شہسوار کہنے لگا کہ اے اللہ کے نبی! مجھے کوئی حکم دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اپنی جگہ پر ہی جا کر رکو اور کسی کو ہمارے پاس پہنچنے نہ دو، دن کے ابتدائی حصے میں وہ شخص نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے خلاف کوششیں کر رہا تھا، اس طرح دن کے آخری حصے میں وہی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ہتھیار بن گیا۔ اس طرح سفر کرتے کرتے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پتھریلے علاقے کی جانب پہنچ کر پڑاؤ کیا اور انصار کو بلا بھیجا، وہ لوگ آئے اور دونوں حضرات کو سلام کیا اور کہنے لگے کہ امن و اطمینان کے ساتھ سوار ہو کر تشریف لے آئیے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سوار ہوئے اور انصار نے ان دونوں کے گرد مسلح سپاہیوں سے حفاظتی حصار کرلیا، ادھر مدینہ منورہ میں اعلان ہوگیا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لے آئے ہیں، چنانچہ لوگ جھانک جھانک کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھنے اور اللہ کے نبی آگئے، کے نعرے لگانے لگے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم چلتے چلتے حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے گھر کے پاس پہنچ کر اتر گئے۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اہل خانہ سے باتیں کر ہی رہے تھے کہ عبداللہ بن سلام کو یہ خبر سننے کو ملی، اس وقت وہ اپنے کھجور کے باغ میں اپنے اہل خانہ کے لئے کھجوریں کاٹ رہے تھے، انہوں نے جلدی جلدی کھجوریں کاٹیں اور اپنے ساتھ ہی لے کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی باتیں سنیں اور واپس گھر چلے گئے، ادھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لوگوں سے پوچھا کہ ہمارے رشتہ داروں میں سب سے زیادہ قریب کس کا گھر ہے؟ حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے اپنے آپ کو پیش کیا اور عرض کیا کہ یہ میرا مکان ہے اور یہ میرا دروازہ ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ پھر جا کر ہمارے لئے آرام کرنے کا انتظام کرو، حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے جا کر انتظام کیا اور واپس آکر کہنے لگے کہ اے اللہ کے نبی! آرام کا انتظام ہوگیا ہے، آپ دونوں چل کر " اللہ کی برکت پر " آرام کیجئے۔ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لائے تو ان کی خدمت میں عبداللہ بن سلام بھی حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں اور حق لے کر آئے ہیں، یہودی جانتے ہیں کہ میں ان کا سردار ابن سردار اور عالم بن عالم ہوں، آپ انہیں بلا کر ان سے پوچھئے، چنانچہ وہ آئے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا اے گروہ یہود! اللہ سے ڈرو، اس اللہ کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، تم جانتے ہو کہ میں اللہ کا سچا رسول ہوں اور میں تمہارے پاس حق لے کر آیا ہوں، اس لئے تم اسلام قبول کرلو، انہوں نے کہا کہ ہمیں کچھ معلوم نہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13205]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ:3911
الحكم: إسناده صحيح، خ:3911
حدیث نمبر: 13206 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، أَبِي ، شُعَيْبُ بْنُ الْحَبْحَابِ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ الْحَبْحَابِ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الدَّجَّالُ مَمْسُوحُ الْعَيْنِ، مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كافرٌ يُهَجَّاهَا يَقْرَؤُهُ كُلُّ مُسْلِمٍ ك ف ر".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا دجال کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوگا جسے ہر مسلمان پڑھ لے گا خواہ وہ ان پڑھ ہو یا پڑھا لکھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13206]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2933.
الحكم: إسناده صحيح، م: 2933.
حدیث نمبر: 13207 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، أَبِي ، أَبُو عِصَام ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا أَبُو عِصَام ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَنَفَّسُ فِي الشَّرَابِ ثَلَاثًا، وَيَقُولُ:" إِنَّهُ أَرْوَأُ، وَأَبْرَأُ، وَأَمْرَأُ"، قَالَ أَنَسٌ وَأَنَا أَتَنَفَّسُ ثَلَاثًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تین سانسوں میں پانی پیتے تھے اور فرماتے تھے کہ یہ طریقہ زیاہ آسان، خوشگوار اور مفید ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13207]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 2028.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 2028.
حدیث نمبر: 13208 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، أَبِي ، أَبُو التَّيَّاحِ يَزِيدُ بْنُ حُمَيْدٍ الضُّبَعِيُّ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا أَبُو التَّيَّاحِ يَزِيدُ بْنُ حُمَيْدٍ الضُّبَعِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ المدينة نَزَلَ فِي عُلُوِّ الْمَدِينَةِ فِي حَيٍّ يُقَالُ لَهُم: بَنُو عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، فَأَقَامَ فِيهِمْ أَرْبَعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً، ثُمَّ إِنَّهُ أَرْسَلَ إِلَى مَلَإٍ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ، قَالَ: فَجَاءُوا مُتَقَلِّدِينَ سُيُوفَهُمْ، قَالَ: فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَاحِلَتِهِ وَأَبُو بَكْرٍ رِدْفُهُ وَمَلَأُ بَنِي النَّجَّارِ حَوْلَهُ، حَتَّى أَلْقَى بِفِنَاءِ أَبِي أَيُّوبَ، قَالَ: فَكَانَ يُصَلِّي حَيْثُ أَدْرَكَتْهُ الصَّلَاةُ، وَيُصَلِّي فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ، ثُمَّ إِنَّهُ أَمَرَ بِالْمَسْجِدِ، فَأَرْسَلَ إِلَى مَلَإٍ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ، فَجَاءُوا فَقَالَ:" يَا بَنِي النَّجَّارِ، ثَامِنُونِي حَائِطَكُمْ هَذَا"، فَقَالُوا: لا وَاللَّهِ، لَا نَطْلُبُ ثَمَنَهُ إِلَّا إِلَى اللَّهِ، قَالَ: وَكَانَ فِيهِ مَا أَقُولُ لَكُمْ، كَانَتْ فِيهِ قُبُورُ الْمُشْرِكِينَ، وَكَانَ فِيهِ خِرَبٌ، وَكَانَ فِيهِ نَخْلٌ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقُبُورِ الْمُشْرِكِينَ فَنُبِشَتْ، وَبِالخِرَب فَسُوِّيَتْ، وَبِالنَّخْلِ فَقُطِعَ، قَالَ: فَصَفُّوا النَّخْلَ إِلَى قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ، وَجَعَلُوا عِضَادَتَيْهِ حِجَارَةً، قَالَ: وَجَعَلُوا يَنْقُلُونَ ذَلِكَ الصَّخْرَ وَهُمْ يَرْتَجِزُونَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُمْ يَقُولُ:" اللَّهُمَّ إنَّه لَا خَيْرَ إِلَّا خَيْرُ الْآخِرَهْ فَانْصُرْ الْأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَهْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو مدینہ کے بالائی حصے میں بنو عمرو بن عوف کے محلے میں پڑاؤ کیا اور وہاں چودہ راتیں مقیم رہے، پھر نبو نجار کے سرداروں کو بلا بھیجا، وہ اپنی تلواریں لٹکائے ہوئے آئے، وہ منظر اب بھی میرے سامنے ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی سواری پر سوار تھے، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ان کے پیچھے تھے اور بنو نجار ان کے ارد گرد تھے، یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ کے صحن میں پہنچ گئے، ابتداء جہاں بھی نماز کا وقت ہوجاتا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وہیں نماز پڑھ لیتے اور بکریوں کے باڑے میں بھی نماز پڑھ لیتے تھے، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مسجد تعمیر کرنے کا حکم دے دیا اور بنو نجار کے لوگوں کو بلا کر ان سے فرمایا اے بنو نجار! اپنے اس باغ کی قیمت کا معاملہ میرے ساتھ طے کرلو، وہ کہنے لگے کہ ہم تو اس کی قیمت اللہ ہی سے لیں گے، اس وقت وہاں مشرکین کی کچھ قبریں، ویرانہ اور ایک درخت تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم پر مشرکین کی قبروں کو اکھیڑ دیا گیا، ویرانہ برابر کردیا گیا اور درخت کو کاٹ دیا گیا، قبلہ مسجد کی جانب درخت لگا دیا اور اس کے دروازوں کے کواڑ پتھر کے بنا دیئے، لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اینٹیں پکڑاتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے جا رہے تھے کہ اے اللہ! اصل خیر تو آخرت کی ہے، اے اللہ! انصار اور مہاجرین کی نصرت فرما۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13208]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2774، م: 524.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2774، م: 524.
حدیث نمبر: 13209 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، أَبِي ، أَبُو التَّيَّاحِ ، أَنَسٌ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو التَّيَّاحِ ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ النَّاسِ خُلُقًا، وَكَانَ لِي أَخٌ يُقَالُ لَهُ: أَبُو عُمَيْرٍ، قَالَ: أَحْسِبُهُ قَالَ: فَطِيمًا فَقَالَ: وَكَانَ إِذَا جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَآهُ قَالَ:" أَبَا عُمَيْرٍ، مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ؟" قَالَ: نُغَرٌ كَانَ يَلْعَبُ بِهِ، قَالَ: فَرُبَّمَا تَحْضُرُهُ الصَّلَاةُ وَهُوَ فِي بَيْتِنَا، فَيَأْمُرُ بِالْبِسَاطِ الَّذِي تَحْتَهُ فَيُكْنَسُ، ثُمَّ يُنْضَحُ بِالْمَاءِ، ثُمَّ يَقُومُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَقُومُ خَلْفَهُ فَيُصَلِّي بِنَا، قَالَ: وَكَانَ بِسَاطُهُمْ مِنْ جَرِيدِ النَّخْلِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تمام لوگوں میں سب سے اچھے اخلاق والے تھے، میرا ایک بھائی تھا جس کا نام ابو عمیر تھا، غالباً یہ بھی فرمایا کہ اس کا دودھ چھڑا دیا گیا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب تشریف لاتے تو اس سے فرماتے ابوعمیر! کیا ہوا نغیر، یہ ایک پرندہ تھا جس سے وہ کھیلتا تھا، بعض اوقات ہمارے گھر ہی میں نماز کا وقت ہوجاتا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے نیچے بستر کو صاف کرتے اور اس پر پانی چھڑک دینے کا حکم دیتے اور نماز کے لئے کھڑے ہوجاتے، ہم لوگ پیچھے کھڑے ہوجاتے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمیں نماز پڑھا دیتے، یاد رہے کہ ہمارا بستر کھجور کی شاخوں سے بنا ہوا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13209]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6203، م: 659
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6203، م: 659
حدیث نمبر: 13210 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ حِينَ وُلِدَ وَهُوَ يَهْنَأُ بَعِيرًا لَهُ، وَعَلَيْهِ عَبَاءَةٌ، فَقَالَ:" مَعَكَ تَمْرٌ؟" فَنَاوَلْتُهُ تَمَرَاتٍ، فَأَلْقَاهُنَّ فِي فِيهِ فَلَاكَهُنَّ، ثُمَّ فَغَرَ فَاهُ، ثُمَّ أَوْجَرَهُنَّ إِيَّاهُ، فَجَعَلَ يَتَلَمَّظُ الصَّبِيُّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" حُبُّ الْأَنْصَارِ التَّمْرَ" وَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے بیٹے عبداللہ کو لے کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے اونٹوں کو قطران مل رہے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا تمہارے پاس کچھ ہے؟ میں نے عرض کیا عجوہ کھجوریں ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک کھجور لے کر اسے منہ میں چبا کر نرم کیا اور تھوک جمع کر کے اس کے منہ میں ٹپکا دیا، جسے وہ چاٹنے لگا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کھجور انصار کی محبوب چیز ہے، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کا نام عبداللہ رکھ دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13210]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5470، م: 2144.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5470، م: 2144.
حدیث نمبر: 13211 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَمَّادٌ ، قَتَادَةَ ، وَالْقَاسِمِ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، وَالْقَاسِمِ جميعا، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ أَهْلُ الْكِتَابِ فَقُولُوا: عَلَيْكُمْ" وَقَالَ الْآخَرُ:" وَعَلَيْكُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تمہیں کوئی کتابی سلام کرے تو صرف علیکم کہا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13211]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6257، م: 2163.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6257، م: 2163.
حدیث نمبر: 13212 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَمَّادٌ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَتَاكُمْ أَهْلُ الْيَمَنِ، وَهُمْ أَرَقُّ قُلُوبًا مِنْكُمْ" وَهُمْ أَوَّلُ مَنْ جَاءَ بِالْمُصَافَحَةِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تمہارے پاس یمن سے لوگ آئے ہیں جو تم سے بھی زیادہ رقیق القلب ہیں اور یہی وہ پہلے لوگ ہیں جو مصافحہ کا رواج اپنے ساتھ لے کر آئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13212]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 13213 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَمَّادٌ ، ثُمَامَةُ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا ثُمَامَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَوْهُ لَيْلَةً فِي رَمَضَانَ، فصَلَّى لَهُمْ فَخَفَّفَ، ثُمَّ دَخَلَ فَأَطَالَ الصَّلَاةَ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى بِهِمْ، ثُمَّ دَخَلَ فَأَطَالَ الصَّلَاةَ، فَفَعَلَ ذَلِكَ مِرَارًا، فَلَمَّا أَصْبَحَ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتَيْنَاكَ فَفَعَلْتَ كَذَا وَكَذَا!! فَقَالَ:" مِنْ أَجْلِكُمْ فَعَلْتُ ذَلِكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ماہ رمضان میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم باہر تشریف لائے اور مختصر سی نماز پڑھا کر چلے گئے، کافی دیر گذرنے کے بعد دوبارہ آئے اور مختصر سی نماز پڑھا کر دوبارہ واپس چلے گئے اور کافی دیر تک اندر رہے، جب صبح ہوئی تو ہم نے عرض کیا اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! ہم آج رات حاضر ہوئے تھے، آپ تشریف لائے اور مختصر سی نماز پڑھائی اور کافی دیر تک کے لئے گھر چلے گئے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں نے تمہاری وجہ سے ایسا ہی کیا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13213]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1104.
الحكم: إسناده صحيح، م: 1104.
حدیث نمبر: 13214 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَعَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، سِمَاكٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، الْمَعْنَى، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بِبَرَاءَةٌ مَعَ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَلَمَّا بَلَغَ ذَا الْحُلَيْفَةِ، قَالَ عَفَّانُ:" لَا يُبَلِّغُهَا إِلَّا أَنَا، أَوْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي" فَبَعَثَ بِهَا مَعَ عَلِيٍّ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو سورت برأت کے ساتھ مکہ مکرمہ کی طرف بھیجا، لیکن جب وہ ذوالحلیفہ کے قریب پہنچے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں کہلوایا کہ عرب کے دستور کے مطابق یہ پیغام صرف میں یا میرے اہل خانہ کو کوئی فرد ہی پہنچا سکتا ہے۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو وہ پیغام دے کر بھیجا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13214]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لنكارة متنه، سماك بن حرب ليس بذاك القوي، وقد استنكر الحديث الخطابي وابن تيمية.
الحكم: إسناده ضعيف لنكارة متنه، سماك بن حرب ليس بذاك القوي، وقد استنكر الحديث الخطابي وابن تيمية.
حدیث نمبر: 13215 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ أُمَّ أَيْمَنَ بَكَتْ لَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقِيلَ لَهَا: مَا يُبْكِيكِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَتْ: إِنِّي قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَيَمُوتُ، وَلَكِنْ إِنَّمَا أَبْكِي عَلَى الْوَحْيِ الَّذِي رُفِعَ عَنَّا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات پر حضرت ام ایمن رضی اللہ عنہ رونے لگیں، کسی نے پوچھا کہ تم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر کیوں رو رہی ہو؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں جانتی ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دنیا سے رخصت ہوگئے ہیں، میں تو اس وحی پر رو رہی ہوں جو منقطع ہوگئی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13215]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م:2454
الحكم: إسناده صحيح، م:2454
حدیث نمبر: 13216 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ، فَحَكَّهَا بِيَدِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مسجد میں قبلہ کی جانب ناک کی ریزش لگی ہوئی دیکھی تو اسے اپنے ہاتھ سے صاف کردیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13216]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 405، م: 551.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 405، م: 551.
حدیث نمبر: 13217 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ أَهْلُ الْيَمَنِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا: ابْعَثْ مَعَنَا رَجُلًا يُعَلِّمُنَا كِتَابَ رَبِّنَا وَالسُّنَّةَ، قَالَ: فَأَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِ أَبِي عُبَيْدَةَ فَدَفَعَهُ إِلَيْهِمْ، وَقَالَ:" هَذَا أَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب اہل یمن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے درخواست کی کہ ان کے ساتھ ایک آدمی بھیج دیں، جو انہیں دین کی تعلیم دے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے ساتھ حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو بھیج دیا اور فرمایا یہ اس امت کے امین ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13217]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م:2419
الحكم: إسناده صحيح، م:2419
حدیث نمبر: 13218 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَرَادَ أَنْ يَحْلِقَ رَأْسَهُ، قَبَضَ أَبُو طَلْحَةَ عَلَى أَحَدِ شِقَّيْ رَأْسِهِ، فَلَمَّا حَلَقَهُ الْحَجَّامُ أَخَذَهُ، فَجَاءَ بِهِ أُمَّ سُلَيْمٍ، فَجَعَلَتْ تَجْعَلُهُ فِي طِيبِهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (حجۃ الوداع کے موقع پر) جب حلاق سے سر منڈوانے کا ارادہ کیا تو حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے سر کے ایک حصے کے بال اپنے ہاتھوں میں لے لئے، پھر وہ بال ام سلیم رضی اللہ عنہ اپنے ساتھ لے گئیں اور وہ انہیں اپنی خوشبو میں ڈال لیا کرتی تھیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13218]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر:12483
الحكم: إسناده صحيح، وانظر:12483
حدیث نمبر: 13219 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَحَسَنٌ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَحَسَنٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" رَأَيْتُ كَأَنِّي اللَّيْلَةَ فِي دَارِ رَافِعِ بْنِ عُقْبَةَ، قَالَ حَسَنٌ فِي دَارِ عُقْبَةَ بْنِ رَافِعٍ، فَأُوتِينَا بِتَمْرٍ مِنْ تَمْرِ ابْنِ طَابٍ، فَأَوَّلْتُ أَنَّ لَنَا الرِّفْعَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْعَاقِبَةَ فِي الْآخِرَةِ، وَأَنَّ دِينَنَا قَدْ طَابَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا آج رات میں نے یہ خواب دیکھا کہ گویا میں رافع بن عقبہ کے گھر میں ہوں اور وہاں " ابن طاب " نامی کھجوریں ہمارے سامنے پیش کی گئیں، میں نے اس کی تعبیر یہ لی کہ (رافع کے لفظ سے) دنیا میں رفعت (عقبہ کے لفظ سے) آخرت کا بہترین انجام ہمارے لئے ہی ہے اور (طاب کے لفظ سے) ہمارا دین پاکیزہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13219]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2270.
الحكم: إسناده صحيح، م: 2270.
حدیث نمبر: 13220 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ بَكْرٍ الْمُزَنِيَّ ، عَطَاءُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ بَكْرٍ الْمُزَنِيَّ ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ ، قَالَ: وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنْ أَنَسٍ قَالَ:" مَا رُفِعَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْرٌ فِيهِ الْقِصَاصُ، إِلَّا أَمَرَ فِيهِ بِالْعَفْوِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے جب بھی قصاص کا کوئی معاملہ پیش ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس میں معاف کرنے کی ترغیب ہی دی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13220]
حکم دارالسلام
إسناده قوي.
الحكم: إسناده قوي.
حدیث نمبر: 13221 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُثَنَّى ، ثُمَامَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُثَنَّى ، عَنْ ثُمَامَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ إِذَا تَكَلَّمَ بِكَلِمَةٍ رَدَّدَهَا ثَلَاثًا، وَإِذَا أَتَى قَوْمًا فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ سَلَّمَ عَلَيْهِمْ ثَلَاثًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب کوئی بات کہتے تو تین مرتبہ اسے دہراتے تھے اور جب کسی قوم کے پاس جاتے تو انہیں تین مرتبہ سلام فرماتے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13221]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 94، وإسناده حسن.
الحكم: حديث صحيح، خ: 94، وإسناده حسن.