عَبْدُ الصَّمَدِ ، أَبِي ، أَبُو التَّيَّاحِ ، أَنَسٌ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو التَّيَّاحِ ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ النَّاسِ خُلُقًا، وَكَانَ لِي أَخٌ يُقَالُ لَهُ: أَبُو عُمَيْرٍ، قَالَ: أَحْسِبُهُ قَالَ: فَطِيمًا فَقَالَ: وَكَانَ إِذَا جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَآهُ قَالَ:" أَبَا عُمَيْرٍ، مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ؟" قَالَ: نُغَرٌ كَانَ يَلْعَبُ بِهِ، قَالَ: فَرُبَّمَا تَحْضُرُهُ الصَّلَاةُ وَهُوَ فِي بَيْتِنَا، فَيَأْمُرُ بِالْبِسَاطِ الَّذِي تَحْتَهُ فَيُكْنَسُ، ثُمَّ يُنْضَحُ بِالْمَاءِ، ثُمَّ يَقُومُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَقُومُ خَلْفَهُ فَيُصَلِّي بِنَا، قَالَ: وَكَانَ بِسَاطُهُمْ مِنْ جَرِيدِ النَّخْلِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تمام لوگوں میں سب سے اچھے اخلاق والے تھے، میرا ایک بھائی تھا جس کا نام ابو عمیر تھا، غالباً یہ بھی فرمایا کہ اس کا دودھ چھڑا دیا گیا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب تشریف لاتے تو اس سے فرماتے ابوعمیر! کیا ہوا نغیر، یہ ایک پرندہ تھا جس سے وہ کھیلتا تھا، بعض اوقات ہمارے گھر ہی میں نماز کا وقت ہوجاتا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے نیچے بستر کو صاف کرتے اور اس پر پانی چھڑک دینے کا حکم دیتے اور نماز کے لئے کھڑے ہوجاتے، ہم لوگ پیچھے کھڑے ہوجاتے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمیں نماز پڑھا دیتے، یاد رہے کہ ہمارا بستر کھجور کی شاخوں سے بنا ہوا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13209]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6203، م: 659
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6203، م: 659