عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَمَّادٌ ، ثُمَامَةُ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا ثُمَامَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَوْهُ لَيْلَةً فِي رَمَضَانَ، فصَلَّى لَهُمْ فَخَفَّفَ، ثُمَّ دَخَلَ فَأَطَالَ الصَّلَاةَ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى بِهِمْ، ثُمَّ دَخَلَ فَأَطَالَ الصَّلَاةَ، فَفَعَلَ ذَلِكَ مِرَارًا، فَلَمَّا أَصْبَحَ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتَيْنَاكَ فَفَعَلْتَ كَذَا وَكَذَا!! فَقَالَ:" مِنْ أَجْلِكُمْ فَعَلْتُ ذَلِكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ماہ رمضان میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم باہر تشریف لائے اور مختصر سی نماز پڑھا کر چلے گئے، کافی دیر گذرنے کے بعد دوبارہ آئے اور مختصر سی نماز پڑھا کر دوبارہ واپس چلے گئے اور کافی دیر تک اندر رہے، جب صبح ہوئی تو ہم نے عرض کیا اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! ہم آج رات حاضر ہوئے تھے، آپ تشریف لائے اور مختصر سی نماز پڑھائی اور کافی دیر تک کے لئے گھر چلے گئے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں نے تمہاری وجہ سے ایسا ہی کیا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13213]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1104.
الحكم: إسناده صحيح، م: 1104.