بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَنَسِ بنِ مَالِك رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2170
صفحہ 75 از 109
حدیث نمبر: 13422 مسند احمد
أَبُو سَلَمَةَ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْمَاجِشُونُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْمَاجِشُونُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" زَارَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دَارِنَا، فَحَلَبْنَا لَهُ دَاجِنًا لَنَا، وَشُبْنَا لَبَنَهَا مِنْ مَاءِ الدَّارِ، وَعَنْ يَمِينِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ، وَمِنْ وَرَاءِ الرَّجُلِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، وَعَنْ يَسَارِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ، فَشَرِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا نَزَعَ الْقَدَحَ عَنْ فِيهِ، أَوْ هَمَّ بِنَزْعِهِ، قَالَ لَهُ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَعْطِ أَبَا بَكْرٍ، فَأَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقَدَحَ الْأَعْرَابِيَّ، ثُمَّ قَالَ: الْأَيْمَنَ فَالْأَيْمَنَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو میں دس سال کا تھا، جب دنیا سے رخصت ہوئے تو بیس سال کا تھا، میری والدہ مجھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت کی ترغیب دیا کرتی تھیں، ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے گھر تشریف لائے، ہم نے ایک پالتو بکری کا دودھ دوہا اور گھر کے کنویں میں سے پانی لے کر اس میں ملایا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں پیش کردیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دائیں جانب ایک دیہاتی تھا اور بائیں جانب حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب اسے نوش فرما چکے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یہ ابوبکر کو دے دیجئے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دودھ کا وہ برتن دیہاتی کو دے دیا اور فرمایا پہلے دائیں ہاتھ والے کو، پھر اس کے بعد والے کو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13422]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2352، م: 2029.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2352، م: 2029.
حدیث نمبر: 13423 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ يَعْنِي السَّلُولِيَّ ، عُمَارَةُ يَعْنِي ابْنَ زَاذَانَ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ يَعْنِي السَّلُولِيَّ ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ يَعْنِي ابْنَ زَاذَانَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَقِيلُ عِنْدَ أُمِّ سُلَيْمٍ، وَكَانَ مِنْ أَكْثَرِ النَّاسِ عَرَقًا، فَاتَّخَذَتْ لَهُ نِطَعًا، فَكَانَ يَقِيلُ عَلَيْهِ، وَخَطَّتْ بَيْنَ رِجْلَيْهِ خَطًّا فَكَانَتْ تُنَشِّفُ الْعَرَقَ، فَتَأْخُذُهُ، فَقَالَ: مَا هَذَا يَا أُمَّ سُلَيْمٍ؟ فَقَالَتْ: عَرَقُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَجْعَلُهُ فِي طِيبِي، فَدَعَا لَهَا بِدُعَاءٍ حَسَنٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ کے یہاں قیلولہ کے لئے تشریف لاتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پسینہ بہت آتا تھا، حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے چمڑے کا ایک بستر بنوا رکھا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسی پر قیلولہ فرماتے تھے، بعد میں وہ اس پسینے کو نچوڑ لیا کرتی تھیں، ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کہ ام سلیم! یہ کیا کر رہی ہو؟ انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہ! آپ کے اس پسینے کو ہم اپنی خوشبو میں شامل کریں گے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں دعاء دی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13423]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 6281، م: 2331، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل عمارة بن زاذان.
الحكم: حديث صحيح، خ: 6281، م: 2331، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل عمارة بن زاذان.
حدیث نمبر: 13424 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، عُمَارَةُ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَرْسَلَ أُمَّ سُلَيْمٍ تَنْظُرُ إِلَى جَارِيَةٍ، فَقَالَ: شُمِّي عَوَارِضَهَا، وَانْظُرِي إِلَى عُرْقُوبَيْهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ کو ایک باندی دیکھنے کے لئے بھیجا اور فرمایا اس کے جسم کی خوشبو کو سونگھ کر دیکھنا اور اس کی ایڑی کے پٹھے پر غور کرنا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13424]
حکم دارالسلام
حديث حسن ، وإسناده كسابقه.
الحكم: حديث حسن ، وإسناده كسابقه.
حدیث نمبر: 13425 مسند احمد
عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ أَبُو نَصْرٍ الْعِجْلِيُّ الْخَفَّافُ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ أَبُو نَصْرٍ الْعِجْلِيُّ الْخَفَّافُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ أَنْبَأَهُمْ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" بَيْنَمَا أَنَا أَسِيرُ فِي الْجَنَّةِ، إِذْ عُرِضَ لِي نَهَرٌ حَافَتَاهُ قِبَابُ اللُّؤْلُؤِ الْمُجَوَّفِ، قَالَ: فَقُلْتُ: يَا جِبْرِيلُ، مَا هَذَا؟ قَالَ: هَذَا الْكَوْثَرُ الَّذِي أَعْطَاكَ رَبُّكَ، قَالَ: فَضَرَبْتُ بِيَدَيَّ فِيهِ، فَإِذَا طِينُهُ الْمِسْكُ الْأَذْفَرُ، وَإِذَا رَضْرَاضُهُ اللُّؤْلُؤُ"، وقَالَ عَبْدُ الْوَهَّابِ مِنْ كِتَابِهِ: قَرَأْتُ:" قَالَ الْمَلَكُ الَّذِي مَعِي: أَتَدْرِي مَا هَذَا؟ هَذَا الْكَوْثَرُ الَّذِي أَعْطَاكَ رَبُّكَ، فَضَرَبَ بِيَدَيْهِ إِلَى أَرْضِهِ، فَأَخْرَجَ مِنْ طِينِهِ الْمِسْكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں جنت میں داخل ہوا تو اچانک ایک نہر پر نظر پڑی، جس کے دونوں کناروں پر موتیوں کے خیمے لگے ہوئے تھے، میں نے اس میں ہاتھ ڈال کر پانی میں بہنے والی چیز کو پکڑا تو وہ مہکتی ہوئی مشک تھی، میں نے جبرائیل سے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ تو انہوں نے بتایا کہ یہ نہر کوثر ہے جو اللہ نے آپ کو عطاء فرمائی ہے۔ اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ میرے ساتھی فرشتے نے کہا کہ کیا آپ کو معلوم ہے کہ یہ کیا چیز ہے؟ یہ کوثر ہے جو آپ کو آپ کے رب نے عطاء فرمائی ہے، پھر اس نے اپنا ہاتھ اس کی زمین پر مارا اور اس کی مٹی میں سے مشک نکال کر دکھائی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13425]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 4946، وهذا إسناد قوي.
الحكم: حديث صحيح، خ: 4946، وهذا إسناد قوي.
حدیث نمبر: 13426 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَنَسٍ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَنَسٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ:" مَا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمِ فِطْرٍ قَطُّ، حَتَّى يَأْكُلَ تَمَرَاتٍ"، قَالَ: وَكَانَ أَنَسٌ يَأْكُلُ قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ ثَلَاثًا، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَزْدَادَ أَكَلَ خَمْسًا، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَزْدَادَ أَكَلَ وِتْرًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عیدالفطر کے دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عیدگاہ کی طرف اس وقت تک نہیں نکلتے تھے، جب تک ایک ایک کرکے چند کھجوریں نہ کھالیتے، حضرت انس رضی اللہ عنہ بھی نکلنے سے پہلے تین یا پانچ یا زیادہ ہونے کی صورت میں طاق عدد میں کھجوریں کھالیتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13426]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن عاصم.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن عاصم.
حدیث نمبر: 13427 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، حُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، أَخْبَرَنَا حُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" أَتَى أَبُو طَلْحَةَ بِمُدَّيْنِ مِنْ شَعِيرٍ، فَأَمَرَ بِهِ، فَصُنِعَ طَعَامًا، ثُمَّ قَالَ لِي: يَا أَنَسُ، انْطَلِقْ، ائْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَادْعُهُ، وَقَدْ تَعْلَمُ مَا عِنْدَنَا، قَالَ: فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ عِنْدَهُ، فَقُلْتُ: إِنَّ أَبَا طَلْحَةَ يَدْعُوكَ إِلَى طَعَامِهِ، فَقَامَ، وَقَالَ لِلنَّاسِ: قُومُوا، فَقَامُوا، فَجِئْتُ أَمْشِي بَيْنَ يَدَيْهِ حَتَّى دَخَلْتُ عَلَى أَبِي طَلْحَةَ، فَأَخْبَرْتُهُ، قَالَ: فَضَحْتَنَا، قُلْتُ إِنِّي لَمْ أَسْتَطِعْ أَنْ أَرُدَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْرَهُ، فَلَمَّا انْتَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْبَابِ، قَالَ لَهُمْ: اقْعُدُوا، وَدَخَلَ عَاشِرَ عَشَرَةٍ، فَلَمَّا جَلَسَ أُتِيَ بِالطَّعَامِ، تَنَاوَلَ فَأَكَلَ، وَأَكَلَ مَعَهُ الْقَوْمُ حَتَّى شَبِعُوا، ثُمَّ قَالَ لَهُمْ: قُومُوا وَلْيَدْخُلْ عَشَرَةٌ مَكَانَكُمْ، حَتَّى دَخَلَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ وَأَكَلُوا. قَالَ: قُلْتُ: كَمْ كَانُوا؟ قَالَ: كَانُوا نَيِّفًا وَثَمَانِينَ، قَالَ: وَأَفْضَلَ لِأَهْلِ الْبَيْتِ مَا أَشْبَعَهُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ دو مد جو لے کر آئے اور کھانا تیار کرنے کے لئے کہا، پھر مجھ سے کہا انس! جا کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بلا لاؤ اور تمہیں معلوم ہے کہ ہمارے پاس کیا ہے، میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس پہنچا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان رونق افروز تھے، میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا کہ مجھے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے آپ کے پاس کھانے کی دعوت دے کر بھیجا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مجھے اور میرے ساتھیوں کو بھی؟ یہ کہہ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے ساتھیوں کو لے کر روانہ ہوگئے۔ میں نے جلدی سے گھر پہنچ کر حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تو اپنے ساتھیوں کو بھی لے آئے، یہ سن کر حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا تو نے ہمیں رسوا کردیا، میں نے کہا کہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بات کو رد نہیں کرسکا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب ان کے گھر پہنچے تو فرمایا بیٹھ جاؤ، پھر دس آدمی اندر آئے اور انہوں نے خوب سیر ہو کر کھانا کھایا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے ہمراہ تھے، پھر دس دس کر کے سب لوگوں نے وہ کھانا کھالیا اور خوب سیراب ہو کر سب نے کھایا۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ وہ کتنے لوگ تھے؟ انہوں نے بتایا کہ اسی سے کچھ اوپر اور اہل خانہ کے لئے بھی اتنا بچ گیا تھا کہ جس سے وہ سیراب ہوجائیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13427]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 5450، م: 2040، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن عاصم.
الحكم: حديث صحيح، خ: 5450، م: 2040، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن عاصم.
حدیث نمبر: 13428 مسند احمد
عَلِيٌّ ، حُمَيْدٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيٌّ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" أَقَامَ بِلَالٌ الصَّلَاةَ، فَعَرَضَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ، قَالَ: فَأَقَامَهُ حَتَّى نَعَسَ بَعْضُ الْقَوْمِ، ثُمَّ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى بِالنَّاسِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نماز کا وقت ہوگیا، حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اقامت کہی، اسی دوران نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے ایک آدمی آگیا، جس وقت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز کے لئے اٹھے تو بعض لوگ سو چکے تھے، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آکر لوگوں کو نماز پڑھائی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13428]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن عاصم.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن عاصم.
حدیث نمبر: 13429 مسند احمد
عَلِيٌّ ، حُمَيْدٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيٌّ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" سَافَرَ فِي رَمَضَانَ، فَرَكِبَ رَاحِلَتَهُ، فَدَعَا بِمَاءٍ عَلَى يَدِهِ، ثُمَّ بَعَثَهَا، فَلَمَّا اسْتَوَتْ قَائِمَةً شَرِبَ وَالنَّاسُ يَنْظُرُونَ إِلَيْهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ماہ رمضان میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سفر پر تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے ایک برتن لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے اپنے ہاتھ پر رکھا تاکہ لوگ دیکھ لیں اور اسے نوش فرمالیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13429]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن عاصم.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن عاصم.
حدیث نمبر: 13430 مسند احمد
عَلِيٌّ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيٌّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ:" ثَارَتْ أَرْنَبٌ فَتَبِعَهَا النَّاسُ، فَكُنْتُ فِي أَوَّلِ مَنْ سَبَقَ إِلَيْهَا، فَأَخَذْتُهَا، فَأَتَيْتُ بِهَا أَبَا طَلْحَةَ، قَالَ: فَأَمَرَ بِهَا، فَذُبِحَتْ ثُمَّ شُوِّيَتْ، قَالَ: ثُمَّ أَخَذَ عَجُزَهَا، فَقَالَ: ائْتِ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَأَتَيْتُهُ بِهِ، قَالَ: قُلْتُ: إِنَّ أَبَا طَلْحَةَ أَرْسَلَ إِلَيْكَ بِعَجُزِ هَذِهِ الْأَرْنَبِ، قَالَ: فَقَبِلَهُ مِنِّي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی جگہ پر اچانک ہمارے سامنے ایک خرگوش آگیا، بچے اس کی طرف دوڑے، لیکن اسے پکڑ نہ سکے یہاں تک کہ تھک گئے، میں نے اسے پکڑ لیا اور حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس لے آیا، انہوں نے اسے ذبح کیا اور اس کا ایک پہلو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں میرے ہاتھ بھیج دیا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے قبول فرما لیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13430]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن عاصم الواسطي.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن عاصم الواسطي.
حدیث نمبر: 13431 مسند احمد
عَلِيٌّ ، حَنْظَلَةَ السَّدُوسِيِّ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيٌّ ، عَنْ حَنْظَلَةَ السَّدُوسِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَنَتَ شَهْرًا بَعْدَ الرُّكُوعِ فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ يَدْعُو".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مہنے تک فجر کی نماز میں رکوع کے بعد قنوت نازلہ پڑھی اور رعل، ذکوان، عصیہ اور بنو لحیان کے قبائل پر بددعاء کرتے رہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13431]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1001، م: 677، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن عاصم و حنظلة السدوسي.
الحكم: حديث صحيح، خ: 1001، م: 677، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن عاصم و حنظلة السدوسي.
حدیث نمبر: 13432 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَاقِدٍ ، الثَّوْرِيِّ ، جَابِرٍ ، أَبِي نَصْرٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَاقِدٍ ، عَنِ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِي نَصْرٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" كَنَّانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَقْلَةٍ كُنْتُ أَجْتَنِيهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میری کنیت اس سبزی کے نام پر رکھی تھی جو میں چنتا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13432]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف جدا، أبو نصر خيثمة البصري لين الحديث، وجابر الجعفي و عبدالله بن واقد الحراني ضعيفان.
الحكم: إسناده ضعيف جدا، أبو نصر خيثمة البصري لين الحديث، وجابر الجعفي و عبدالله بن واقد الحراني ضعيفان.
حدیث نمبر: 13433 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ ، هِشَامٍ الدَّسْتُوائِيِّ ، وَشُعْبَةَ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوائِيِّ ، وَشُعْبَةَ جميعًا، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْبُزَاقُ فِي الْمَسْجِدِ خَطِيئَةٌ، وَكَفَّارَتُهَا دَفْنُهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مسجد میں تھوکنا گناہ ہے اور اس کا کفارہ اسے دفن کردینا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13433]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 415، م: 552.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 415، م: 552.
حدیث نمبر: 13434 مسند احمد
مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، زَائِدَةُ ، مَنْصُورٍ ، رِبْعِيٍّ ، أَبُو الْأَبْيَضِ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِيٍّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَبْيَضِ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُصَلِّي بِنَا الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ مُحَلِّقَةٌ، ثُمَّ أَرْجِعُ إِلَى قَوْمِي وَهُمْ فِي نَاحِيَةِ الْمَدِينَةِ فَأَجِدُهُمْ جُلُوسًا، فَأَقُولُ لَهُمْ: قُومُوا فَصَلُّوا، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ صَلَّى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عصر کی نماز اس وقت پڑھتے تھے جب سورج روشن اور اپنے حلقے کی شکل میں ہوتا تھا، میں مدینہ منورہ کے ایک کونے میں واقع اپنے محلے اور گھر میں پہنچتا اور ان سے کہتا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز پڑھ چکے ہیں، لہٰذا تم بھی اٹھ کر نماز پڑھ لو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13434]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي.
حدیث نمبر: 13435 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ ، هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" ذَهَبْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخُبْزِ شَعِيرٍ، وَإِهَالَةٍ سَنِخَةٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس میں ایک مرتبہ جو کی روٹی اور پرانا روغن لے کر آیا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13435]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2069.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2069.
حدیث نمبر: 13436 مسند احمد
أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، مَالِكٌ ، ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ أَخْبَرَهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" دَخَلَ مَكَّةَ وَعَلَى رَأْسِهِ مِغْفَرٌ، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ ابْنَ خَطَلٍ مُتَعَلِّقٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَة، فَقَالَ: اقْتُلُوهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خود پہن رکھا تھا، جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے اتارا تو کسی شخص نے آکر بتایا کہ ابن خطل خانہ کعبہ کے پردوں کے ساتھ چمٹا ہوا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پھر بھی اسے قتل کردو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13436]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1846، م: 1357.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1846، م: 1357.
حدیث نمبر: 13437 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنِ الْإِقْعَاءِ وَالتَّوَرُّكِ فِي الصَّلَاةِ"، قَالَ عَبْد اللَّهِ: كَانَ أَبِي قَدْ تَرَكَ هَذَا الْحَدِيثَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز میں اکڑوں بیٹھنے سے اور کو لہوں پر بیٹھ کر دونوں پاؤں ایک طرف نکال لینے سے منع فرمایا ہے۔ عبداللہ کہتے ہیں کہ میرے والد امام احمد رحمہ اللہ نے یہ حدیث ترک کردی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13437]
حکم دارالسلام
صحيح دون النهي عن التورك، والنهي عن التورك غريب منكر، وقد ثبت هذا عند البخاري برقم: 828، والإقعاء نوعان: أحدهما كإقعاء الكلب وهو ممنوع، انظر حديث عائشة فى مسلم: 498، والنوع الثاني: الإقعاء على القدمين وهو سنة، انظر حديث ابن عباس فى مسلم: 536.
الحكم: صحيح دون النهي عن التورك، والنهي عن التورك غريب منكر، وقد ثبت هذا عند البخاري برقم: 828، والإقعاء نوعان: أحدهما كإقعاء الكلب وهو ممنوع، انظر حديث عائشة فى مسلم: 498، والنوع الثاني: الإقعاء على القدمين
حدیث نمبر: 13438 مسند احمد
عَبْدُ الْوَهَّابِ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَمْ يُبْعَثْ نَبِيٌّ قَبْلِي إِلَّا حَذَّرَ قَوْمَهُ مِنَ الدَّجَّالِ الْكَذَّابِ، فَاحْذَرُوهُ فَإِنَّهُ أَعْوَرُ، أَلَا وَإِنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی مکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا دنیا میں جو نبی بھی مبعوث ہو کر آئے، انہوں نے اپنی امت کو کانے کذاب سے ضرور ڈرایا، یاد رکھو! دجال کانا ہوگا اور تمہارا رب کانا نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13438]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 7131، م: 2933، وهذا إسناد قوي.
الحكم: حديث صحيح، خ: 7131، م: 2933، وهذا إسناد قوي.
حدیث نمبر: 13439 مسند احمد
عَبْدُ الْوَهَّابِ ، سَعِيدٍ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَتِمُّوا الصَّفَّ الْمُقَدَّمَ، ثُمَّ الَّذِي يَلِيهِ، فَمَا كَانَ مِنْ نَقْصٍ، فَلْيَكُنْ فِي الصَّفِّ الْمُؤَخَّرِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پہلے اگلی پھر اس کے بعد والی صفوں کو مکمل کیا کرو اور کوئی کمی ہو تو وہ آخری صف میں ہونی چاہئے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پہلے اگلی پھر اس کے بعد والی صفوں کو مکمل کیا کرو اور کوئی کمی ہو تو وہ آخری صف میں ہونی چاہئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13439]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي كسابقه.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي كسابقه.
حدیث نمبر: 13440 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، شَيْبَانُ ، قَتَادَةَ
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، فَذَكَرَ حَدِيثًا، وَقَالَ قَتَادَةُ: كَانَ يُقَالُ:" أَتِمُّوا الصَّفَّ الْمُقَدَّمَ، ثُمَّ الَّذِي يَلِيهِ فَإِنْ كَانَ نَقْصٌ، فَلْيَكُنْ فِي الصَّفِّ الْمُؤَخَّرِ".
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، قاله أحمد شاكر، وانظر ما قبله.
الحكم: إسناده صحيح، قاله أحمد شاكر، وانظر ما قبله.
حدیث نمبر: 13441 مسند احمد
عَبْدُ الْوَهَّابِ ، سَعِيدٍ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" جَمَعَ الْقُرْآنَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَةُ نَفَرٍ، كُلُّهُمْ مِنَ الْأَنْصَارِ: أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، وَأَبُو زَيْدٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں چار صحابہ رضی اللہ عنہ نے پورا قرآن یاد کرلیا تھا اور وہ چاروں انصار سے تعلق رکھتے تھے، حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ عنہ، حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ عنہ، حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ عنہ، حضرت ابو زید رضی اللہ عنہ عنہ۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13441]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، خ: 5003، م: 2465.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، خ: 5003، م: 2465.