إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ يَعْنِي السَّلُولِيَّ ، عُمَارَةُ يَعْنِي ابْنَ زَاذَانَ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ يَعْنِي السَّلُولِيَّ ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ يَعْنِي ابْنَ زَاذَانَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَقِيلُ عِنْدَ أُمِّ سُلَيْمٍ، وَكَانَ مِنْ أَكْثَرِ النَّاسِ عَرَقًا، فَاتَّخَذَتْ لَهُ نِطَعًا، فَكَانَ يَقِيلُ عَلَيْهِ، وَخَطَّتْ بَيْنَ رِجْلَيْهِ خَطًّا فَكَانَتْ تُنَشِّفُ الْعَرَقَ، فَتَأْخُذُهُ، فَقَالَ: مَا هَذَا يَا أُمَّ سُلَيْمٍ؟ فَقَالَتْ: عَرَقُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَجْعَلُهُ فِي طِيبِي، فَدَعَا لَهَا بِدُعَاءٍ حَسَنٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ کے یہاں قیلولہ کے لئے تشریف لاتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پسینہ بہت آتا تھا، حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے چمڑے کا ایک بستر بنوا رکھا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسی پر قیلولہ فرماتے تھے، بعد میں وہ اس پسینے کو نچوڑ لیا کرتی تھیں، ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کہ ام سلیم! یہ کیا کر رہی ہو؟ انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہ! آپ کے اس پسینے کو ہم اپنی خوشبو میں شامل کریں گے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں دعاء دی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13423]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 6281، م: 2331، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل عمارة بن زاذان.
الحكم: حديث صحيح، خ: 6281، م: 2331، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل عمارة بن زاذان.