مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، زَائِدَةُ ، مَنْصُورٍ ، رِبْعِيٍّ ، أَبُو الْأَبْيَضِ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِيٍّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَبْيَضِ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُصَلِّي بِنَا الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ مُحَلِّقَةٌ، ثُمَّ أَرْجِعُ إِلَى قَوْمِي وَهُمْ فِي نَاحِيَةِ الْمَدِينَةِ فَأَجِدُهُمْ جُلُوسًا، فَأَقُولُ لَهُمْ: قُومُوا فَصَلُّوا، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ صَلَّى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عصر کی نماز اس وقت پڑھتے تھے جب سورج روشن اور اپنے حلقے کی شکل میں ہوتا تھا، میں مدینہ منورہ کے ایک کونے میں واقع اپنے محلے اور گھر میں پہنچتا اور ان سے کہتا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز پڑھ چکے ہیں، لہٰذا تم بھی اٹھ کر نماز پڑھ لو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13434]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي.