أَبُو كَامِلٍ ، وَعَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، مُوسَى بْنِ أَنَسٍ ، عَفَّانُ ، حُمَيْدٌ ، مُوسَى بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسٍ ، قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ: قَالَ: أخبرنا حُمَيْدٌ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَقَدْ تَرَكْتُمْ بِالْمَدِينَةِ رِجَالًا مَا سِرْتُمْ مِنْ مَسِيرٍ، وَلَا أَنْفَقْتُمْ مِنْ نَفَقَةٍ، وَلَا قَطَعْتُمْ مِنْ وَادٍ، إِلَّا وَهُمْ مَعَكُمْ فِيهِ" قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَكَيْفَ يَكُونُونَ مَعَنَا وَهُمْ بِالْمَدِينَةِ؟ قَالَ:" حَبَسَهُمْ الْعُذْرُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (جب غزوہ تبوک سے واپسی پر مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو) فرمایا کہ مدینہ منورہ میں کچھ لوگ ایسے ہیں کہ تم جس راستے پر بھی چلے اور جس وادی کو بھی طے کیا وہ اس میں تمہارے ساتھ رہے، صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! کیا وہ مدینہ میں ہونے کے باوجود ہمارے ساتھ تھے؟ فرمایا ہاں! مدینہ میں ہونے کے باوجود، کیونکہ انہیں کسی عذر نے روک دیا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12629]
حکم دارالسلام
إسناد عفان صحيح، خ: 2839، وأما إسناد أبى كامل- وهو مظفر بن مدرك- ففيه انقطاع، فإن حمادا لم يسمع من موسي بن أنس
الحكم: إسناد عفان صحيح، خ: 2839، وأما إسناد أبى كامل- وهو مظفر بن مدرك- ففيه انقطاع، فإن حمادا لم يسمع من موسي بن أنس